Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارتضیٰ میری بات تو سُن لیں پلیز!‘‘وہ روہانسو لہجے میں بولتی اس کے پیچھے پیچھے گھوم رہی تھی۔جوناراضگی ظاہر کرتا اپنی پیکنگ میں مصروف تھا۔۔ارلی مارننگ اس کی نیو یورک کی فلائیٹ تھی۔جبکہ عابثہ کی تو جان پر بندھ گئی تھی۔ ’’کیوں مزید کوئی اور جھوٹ بولنا ہے۔۔یا پھر سے میرا اعتبار کو ٹھیس پہنچانی ہے۔۔نئے سرے سے دھوکا دینا ہے۔‘‘وہ غصٰے سے گھورتا شدید طیش میں دکھائی دے رہا تھا۔ ’’ارتضیٰ ایسا نہیں ہے۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔ ’’ہاں میں ہی ہمیشہ غلط سمجھتا ہوں۔۔بولتا بھی غلط ہی ہوں۔سو اوکے فائن!تم یہاں رہو سکون سے۔۔بٹ مجھے جانے دو۔‘‘ وہ دُرشت لہجے میں عابثہ کی آنکھوں میں چمکتے آنسو نظر آنداز کرتا سوٹ کیس ٹرالی کھینچتا نیچے کی جانب بڑھا تھا۔ ’’ارتضیٰ پلیز سوری ناں!مجھے آپ کو بتانے کا موقع ہی نہیں ملا۔‘‘وہ جھٹ پیچھے سے حصار میں لیتی اُس کی پشت سے ماتھا ٹیکا گئی۔ ’’اوہ رئیلی!تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے اِس وجہ سے ناراض ہوں؟‘‘وہ اُسے پیچھے کرتا گھوما۔ ’’تو پھر؟‘‘اس نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ ’’اوہ مینز تمہارا ابھی بھی اپنی غلطی ماننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔ ’’مس عابثہ اسماعیل میں ارتضیٰ عباس ہوں۔۔ آپکا کھیل نہیں۔جس کا دل تم نے محض اپنے بھائی سے شرط جیتنے کی خاطر تسخیر کیا تھا۔۔مگر افسوس۔۔اب میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ وہ انتہائی درشت لہجے میں پھنکارا تھا۔عابثہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تھے۔ ’’ارتضیٰ وہ سب مذاق کی بات تھی۔اور وہ شرط میں جان بوجھ کر ہار گئی تھی۔اِس رات جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ سب میں نے جان بوجھ کر کیا تھا؟‘‘وہ آنکھوں میں ڈھیروں شکوے سموئے استفساریہ لہجے میں بولی۔ارتضیٰ نے بغور سامنے کھڑی اپنی بیوی کا جائزہ لیا تھا ۔جس کا نازک سراپا ڈارک گرین ساڑھی اورلائٹ مٹے مٹے میک اپ میں اُس کے جذبات کو بھڑکا رہا تھا۔۔دل کیا کہ جانے سے پہلے ایک بار اِس کے وجود کی نرمی کو محسوس کرئے، مگر ابھی ضبط لازمی تھا۔ ’’تو تم بتاؤ پھر!وہ سب کیا تھا؟‘‘ وہ اسے پکڑ کے ایک جھٹکے سے دیوار سے لگاتا ایک ہاتھ پکڑ کے سر سے اوپر دیوار سےلگا تا اُس کی فرار کی تمام راہیں مسدود کر گیا۔ ’’ویسا کچھ بھی نہیں تھا جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔میں آپ کو بتانا چاہتی تھی۔۔مگر افگن بھائی کی گمشدگی کی خبر سُن کر میں ڈر گئی تھی کہ کہیں آپ۔۔‘‘وہ لب چباتی لفظ اَدھورے چھوڑ گئی۔وہ سرد نگاہوں سے گھورتا اپنا چہرہ بےحد تک نزدیک لایا کہ دونوں کی سانسیں ٹکرانے لگیں۔ ’’تمہیں لگا کہ کہیں ارتضیٰ عباس تمہارا ساتھ بیچ منجھدار میں چھوڑ نہ دیں۔مطلب تمہیں مجھ پر یقین نہیں تھا۔‘‘وہ جو اس کے رویے کی سردگی دیکھ سانس روک چکی تھی۔جلدی سے نفی میں سر ہلاتی وہ ٹرپ اُٹھی۔لب آپ ہی اس کے گال سے جاٹکرائے تھے۔جسم میں سنسنی سی دُوڑ گئی تھی۔ ’’بس ٹھیک ہے پھر تم رہو یہاں!اور اب مجھے اُس وقت پکارنا جب تمہیں مجھ پر یقین آجائے سُنا تم نے۔اور خبردار جو میرے پیچھے میں تم نے ہمارے تعلقات کے بارے میں اپنے اس کالڈ بھائی سے کوئی ذکر بھی کیا تو۔‘‘وہ چہرہ مزید نزدیک کرتا اس کے بالوں میں ایک گہرا سانس بھرتا کاٹ دار لہجے میں بولا تھا۔اُس کی پلکیں لرز گئیں تھیں۔ ’’آپ مجھ سے ناراض ہوکر جارہے ہیں۔‘‘ وہ دُور ہوتا جانے کے لئے ،پلٹا اس سے قبل ہی وہ کوٹ تھامتی نزدیک آئی تھی۔ ’’تم مجھے منانا چاہتی ہو؟‘‘اپنی کنپٹی سہلاتا وہ کسی نتیجے پر پہنچا تھا۔اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اوکے مناؤ پھر!‘‘ وہ سینے پر بازؤ لپیٹتاگویا اسے پھنسا چکا تھا۔۔اس نے بے چارگی سے دیکھا۔ ’’اب مناؤ ناں!‘‘جب وہ یونہی کھڑی رہی تو وہ تیز لہجے میں بولا عابثہ سہم کر رہ گئی۔وہ بھلا کب اُس سے اِس لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔اور اس کےمنانے کے پیچھے چھپے مفہوم سے بھی بخوبی واقف تھی۔جبھی ہمت مجتمع کرتی ذرا نزدیک ہوئی تھی۔اس کے جوتوں پر اپنے ننگے پاؤں رکھتی ذرا اونچی ہوکر، گلے میں بانہیں ڈالتی ایک لمحے کو ٹھری۔نگاہیں چار ہوئیں ،وہ پلکیں جھکا گئی آنکھیں میچتی تیزی سے ہمت کرتی اُس کے گال پر اپنے لب رکھ چکی تھی۔جس کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ کھلی ضرور تھی مگر وہ اُس کے آنکھیں کھولنے سے قبل ہی چھپا گیا تھا۔ ’’تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری ان بچگانہ حرکتوں سے مان جاؤں گا۔‘‘اُسے کمر سے تھامتا وہ مزید نزدیک کر گیا تھا۔جس کے چہرے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔۔ ’’منا تو رہی ہوں۔۔اب اورکیا کروں ارتضٰی۔‘‘وہ منہ بسور گئی۔ ’’اوکے اللہ حافظ!‘‘ وہ اُسے خود سے الگ کرتا کمرے سےباہر نکلنے لگا۔ ’’ناراض ہوکر جارہے ہیں ناں ارتضیٰ!دیکھئیے گا کہ آپ کا دل نہیں لگے گا وہاں!‘‘وہ زبردستی اس کے سے سینے سے آلگی تھی۔اس بار وہ بھی اپنے جذبات پر قابوں نہیں رکھ سکا تھا۔۔چاہت سے اس کے گرد اپنی محبت کا گھیرا تنگ کیا۔۔ ’’آگر واقعی مجھے منانا چاہتی ہو تو میری واپسی تک میرے لئے کوئی اسپیشل سا سرپرائز تیار رکھنا کیا پتہ میں مان جاؤں۔‘‘ ’’اسپیشل سرپرائز!؟‘‘اس نے گردن اُٹھا کر ناسمجھی سے دیکھا۔ ’’یہ بھی میں بتاؤں۔‘‘وہ خفا ہوا۔ ’’اچھا ڈن!‘‘اس نے جلدی سے کہا۔ ’’ ویسے ایک آئیڈیا دوں!آگر تمہارے اُس ماموں کی بات، سچ ہوجائے تو۔‘‘ وہ شرارت سے بولا عابثہ نے جھینپ کر چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔۔جبکہ وہ اس کی اس ادا پر فدا ہوتا قہقہہ لگا گیا۔مگر ناراضگی ہنوز برقرار تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینا اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔احمر کی درد ناک موت دیکھنے کے بعد وہ بلکل ٹوٹ سی گئی تھی۔جس کو عدالت کے فیصلہ کے عین مطابق بیچ چوراہے میں لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی۔اُس نے اس شخص سے سچی محبت کی تھی۔اور وہ۔۔۔۔ ’’مینا تیار ہوجاؤ۔۔۔تمہارے رشتے والے آرہے ہیں۔‘‘ہالے نے دروازے پر کھڑے ہوکر ہانک لگائی تو وہ سر جھٹک کر ڈڑیسنگ روم کی جانب بڑھی۔ ’’ارتضیٰ عابثہ کی تمام جائیداد اور بزنس اپنے ہاتھ میں لے چکا تھا۔فردوس منزل کے مکین آج بھی ایسے ہی تھے بے حس،خود غرض۔ان میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔کچھ لوگوں کو زندگی پچھتاوے یا پھر اپنے گناہوں کا ازلہ کرنے کا موقع بھی فراہم نہیں کرتی۔اور فردوس منزل کے مکین بھی انہی میں سے تھے۔۔ عدیل صاحب بل آخر بہت حجت اور عدالت کے فیصلے کے بعد چار و نچار عابثہ کی جائیداد لوٹانے کو راضی ہو ہی گئے تھے۔بلکہ مان کیا گئے تھے ان کا پالا ارتضیٰ عباس سے پڑا تھا۔۔اس بار انہیں ماننا ہی پڑی تھی۔ ’’ جلدی کر و لڑکی !لڑکے والے آتے ہی ہونگے۔۔اور ذرا ڈھنگ سے پیش آنا اس کے ساتھ۔تمہاری شادی تو مسٔلہ ہی بن گئی ہے۔‘‘اس کی والدہ ہداہت کے ساتھ ساتھ بڑبڑاتی ہوئی ُالٹے قدموں واپس پلٹ گئی تھیں۔جبکہ وہ سر جھٹکتی چینج کرنے کی غرض سے ڈرسینگ روم کا دروازہ بن کر جا چکی تھی۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوئےکمینے تو باز نہیں آئے گا؟‘‘ارتضیٰ کو گئے پندرہ دن ہونے کو آئے تھے۔مگر عابثہ سے اس کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔اس کا اُداس چہرہ دیکھ شیر افگن فوری صورت حال بھانپ گیا تھا۔ ’’کیوں کیا کردیا میں نے۔‘‘ کافی شاپ میں لیپ ٹاپ سامنے رکھے بیٹھا ارتضیٰ مسکرایا۔ ’’عابثہ کو دیکھا ہے۔کتنی اُداس ہوگئی ہے۔تو فضول میں نہ تنگ کر میری بچی کو۔‘‘اُس نے جھڑکا۔ ’’بچی کے باپ،داماد ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘
