Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
کہ تم میرے دوست ہو۔۔‘‘ وہ مسلسل رُو رہی تھی۔۔خود کو نوچ رہی تھی۔کھوسٹ رہی تھی۔۔جبکہ وہ آنکھوں میں بے پناہ سُرخی لئے ضبط سے کھڑا تھا۔احمر کا رویہ سمجھ سے باہر تھا۔۔دماغ میں عجیب سی جنگ چل رہی تھی۔۔ ’’اُجالا ریلیکس کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔‘‘وہ اپنے نمبر پر ارتضیٰ اور ناصر صاحب کی کالز آتی دیکھ ٹینشن میں پاگل ہورہا تھا۔ ’’نہیں۔۔۔مجھے مار دو تم۔۔نہیں۔۔میں یہاں سے کہاں جاؤنگی۔۔میری کوئی پہچان نہیں ہے۔۔لوگوں کو کیا جواب دونگی میں۔۔میں کیا جواب دونگی۔۔۔بولو۔اور وہ کہتا ہے کہ یہ سب اس نے صرف ا سلئے کیا ہے کہ میں شیر افگن ہاشمی کی محبت ہوں۔ وہ تمہیں برباد کرنا چاہتا ہے افگن۔۔وہ تم سے بینا کی محبت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔۔۔اور مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں کچھ نہ بتاؤں۔ورنہ وہ تمہاری بیوی کو۔۔۔۔ میرا ۔۔میرا قصور کیا تھا افگن ؟‘‘وہ پاگل ہوتی وحشت کے مارے چیخنےلگی تھی۔ ’’تم یہاں سے میرے ساتھ جاؤ گی۔اور اس حقیقت کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤگی تم۔۔اور احمر کو یہ بات پتہ نہیں لگنی چاہئے کہ میں اِس کی حقیقت سے واقف ہوں۔تم بالکل ریلیکس جاؤگی میرے ساتھ۔۔۔‘‘وہ سمجھانے کی غرض سے بولا۔تو اس نے بے یقین نظروں سے افگن کو دیکھا تھا۔ ’’اور پھر سب مجھے پتھر ماریں گے مجھے۔۔کہ میں کس رشتے سے تمہارے ساتھ۔۔میں برباد ہوگئی۔۔نہیں ۔۔تم مار دونا مجھے۔۔‘‘ وہ بلک بلک کر رُوتی اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔ اُجالا پلیز سمجھنے کی کوششش کرو۔۔میرا ولیمہ ہے آج۔اور بات سُنو میری کوئی تم سے سوال نہیں کرے گا۔۔کیونکہ تم میرے ساتھ جاؤگی میری بیوی بن کر سمجھ گئیں۔‘‘اس نے یکا یک ایک فیصلہ لیا تھا۔دماغ میں ایک پُرانی فلم گھوم گئی تھی۔جہاں نادیہ کی بے بسی عروج پر تھی۔۔اور پھر ایک شیر افگن دنیا میں آیا تھا۔۔اُجالا نے بے یقینی سےاُس کی جانب دیکھا۔ ’’ دماغ خراب ہوگیا تمہارا!میں تم سے کوئی نکاح نہیں کروگی سُنا تم نے۔اور حیات۔۔میری وجہ سے اُس کو کیوں برباد کر رہے ہو۔۔‘‘ ’’میں کسی کو برباد نہیں کر رہا۔۔مگر میں تمہیں نادیہ نہیں بننے دے سکتا۔‘‘ وہ شدت سے چنگھاڑا۔تو اس کے بولتی بندھ ہوگئی تھی۔ ’’نہیں۔۔‘‘ ’’شیر افگن کیوں اپنی اور میری جان عذاب میں ڈال رہے ہو۔کیوں دوسرے کا گناہ اپنے سر لے رہے ہو۔‘‘ وہ بے بس تھی۔ ’’احمر کو تو میں چھوڑوں گا نہیں۔۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔مگر ابھی تم چلو میرے ساتھ۔‘‘وہ زبردستی اُس کی حالت دُرست کراتا،محض دو گھنٹے کی کاروائی کے بعد بینکوئیٹ میں موجود تھا۔۔جہاں حیات اور ایک جہاں اس کا منتظر تھا۔۔جبکہ سر جھکا کر کھڑی اُجالا پھر پتھر کی ہوگئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "یور آنر اس پری پلینڈ ریپ کے اہم گواہ یہ دونوں احمر سلطان کے قریبی دوست ہیں۔اور اُجالا کی میڈیکل رپورٹ!جس سے میں بات صاف ظاہر ہے کہ یہئ اصلی مجرم ہے۔جس نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ کرایا تھا۔میں آٹھ ماہ ایک نا معلوم ہسپتال میں زخمی پڑا رہا ہوں۔میرا شمار نہ زندو میں تھا نہ مردوں میں۔اور اُجالا کا قاتل ہے یہ۔۔میں معزز عدالت سے یہ درخواست کرونگا کہ وہ احمر سلطان کوسخت سے سخت سزا سنائیں۔‘‘وہ ایک ہی سانس میں ساری حقیقت گوشہ گزار کر گیا تھا۔۔۔۔جبکہ وکیل صاحب قہقہہ لگا اُٹھے تھے۔ ’’اوہ مائی گاڈ!یور آنر جب مسٹر شیر افگن ہمیں اپنی کہانی سُنا رہے تھے تو بالکل ایسا محسوس ہورہا تھا۔۔جیسے کوئی فلم کی اسٹوری ہو۔۔ویسے افگن صاحب سوری مائینڈ مت کیجیے گا۔یہ بتائیے آپ نے یہ اسٹوری کسی ایڈین یا پاکستانی موی سے انسپائیر ہوکر خود ہی گھڑ لی ہے۔‘‘ مخالف وکیل نے شیر افگن کے قریب آتے کمینگی سے پوچھا تھا۔ ’’ابجیکشن یور آنر!میرے ساتھی وکیل ایک لڑکی پر ہوئے ظلم کی داستان کو مووی سے تشبیہ دے کر نہ صرف مرحومہ کی روح کو تکلیف دے رہے ہیں۔بلکہ معزز عدالت کو اور اس میڈیکل رپورٹ کو بھی جھوٹا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ افگن کے وکیل نے تیزی سے ابجیکشن کیا تھا۔ ’’آرڈر !آرڈر۔میڈیکل رپورٹ پیش کی جائے۔‘‘جج صاحب نے رپورٹ پر طائرانہ نگاہ گھمائی تھی۔ ’’یہ عدالت ملزم احمر کو اپنی صفائی پیش کرنا کا موقع دیتی ہے۔‘‘ ’’ یور آنر! یہ سب سراسر الزام ہے مجھ پر۔جبکہ کچھ ماہ قبل اس شخص نے مجھ پر میرے ہی گھر میں آکر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کمرہ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔اور ریپ وکٹم اُجالا کا مجرم میں نہیں بلکہ شیر افگن ہاشمی خود ہے۔جس نے دوستی کی آڑ میں ہم سب کی پیٹھ میں چھر ا گھونپا ہے۔پہلے میری بہن اور اب بیچاری اُجالا۔‘‘وہ تیز لہجے میں بہت صفائی سے جھوٹ بول رہا تھا۔ ’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘افگن کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا۔ ’’آرڈر !آرڈر!‘‘گواہاں کو پیش کیا جائے۔‘‘سب سے پہلے احمر کا دوست کٹہرے میں آیا تھا۔ ’’جج صاحب!میں وٹنس باکس میں گواہ کو بلانے کی اجازت چاہونگا۔‘‘ ’’اجازت ہے۔‘‘ ’’جی مسٹر صمد!آپ بتائے کہ شیر افگن کی خود ساختہ اسٹوری میں کتنے فیصد سچائی ہے۔‘‘ وکیل صاحب اب اس کی جانب آئے۔جس نے آگے کی نشستوں میں بیٹھی اپنی گرل فرینڈ اور اب حالیہ بیوی کو دیکھا تھا۔جس کی آنکھوں میں خوف تھا۔۔ اس کی کچھ پرسنل تصاویریں افگن اور ارتضیٰ کے پاس محفوظ تھیں۔اس بار انہونے بھی بلیک میل کرنے کے لئے انہی کا حربہ آزمایہ تھا۔۔ ’’یہ۔۔یہ سچ ہے کہ اُس رات اُجالا کا ریپ احمر نے ہی کیا تھا۔۔اور اُس ڈرنک میں ڈرگز میری بیوی نے ہی ملائی تھی۔۔‘‘وہ لب چباتا تیزی سے بول گیا۔ ’’آپ جا سکتے ہیں۔ میں معزز عدالت سے دوسری اہم گواہ صمد صاحب کی بیوی کو وٹنس باکس میں بلانا کی اجازت چاہوں گا۔‘‘ اجازت ہے۔‘‘ ’’جی محترمہ تو آپ ہیں صمد صاحب کی بیوی ۔‘‘اس نے تھوک نگل کر سر ہلایا۔ ’’تو ذرا آپ معزز عدالت کو یہ بتائیے گا کہ افگن صاحب نے یہ جھوٹ بولنے کے لئے آپ کو کس طرح بلیک میل کیا ہے؟‘‘افگن اور ارتضٰی نے لب بھینچے۔ ’’یہ جھوٹ ہے۔۔میں جو کہونگی سچ کہونگی اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہونگی۔۔میں احمر اور میرے ہزبینڈ بہت اچھے دوست تھے۔صمد کے کہنے پر ہی میں نے یہ کام کیا تھا۔اس دن اس لڑکی کو احمر اسی ارادے سے فلیٹ میں لایا تھا۔اُجالا کے بے ہوش ہونے کے بعد ہم فلیٹ سے چلے گئے تھے۔۔اس کے بعد وہاں کیا ہوا ہم نہیں جانتے۔مگر احمر سلطان کے ارادے ہر گز بھی نیک نہیں تھے۔‘‘ ’’یور آنر!آپ نے گواہاں کی گواہی تو سُن لی۔۔اب میں معزز عدالت کو اُس رات کی گفتگو کی ریکارڈنگ سُننا چاہونگا۔۔جو احمر اور اُجالا اور پھر صمد صاحب کے بیچ ہوئی تھی۔‘‘ ’’اجازت ہے۔‘‘ کمرہ عدالت میں اُجالا اور احمر کی کال رکارڈنگ پلے کی گئی تھی۔،اور اسکے بعد صمد اور احمر کی جس میں ،وہ اسے تیاری مکمل رکھنے کی تلقین کر رہا تھا۔ ’’ابجیکشن یور آنر!یہ میرے بیٹے پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے۔‘‘صفدر صاحب چاروں طرف سے شکست دیکھ چیخ اُٹھے تھے۔۔ ’’ابجیکشن آور رولڈ!آپ کو جو بھی کہنا ہے وٹنس باکس میں آکر کہئے۔۔‘‘ ان کا اعتراض فوری مسترد ہوا تھا۔جبکہ وہ وکیل کے اشارے پر لب بھینچ کر اپنی نشست سنبهالی۔۔ ’’یہ عدالت ملزم احمر کو پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے ،پولیس کو کیس کی مزید چھان بین کا حکم سُناتے ہوئے عدالت کی کارروائی کو اگلے ہفتے تک کے لئے ملتوی کرتی ہے۔۔اور شیر افگن ہاشمی کو ا س بات کا پابند کرتی ہے کہ
