Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
وہ عدالت کے کسی بھی فیصلہ سے قبل یہ ملک چھوڑ کر جانے کے اہل نہیں۔‘‘عدالت برخواست ہوگئی تھی۔اور احمر چیختا چلاتا پولیس کی تحویل میں بھی افگن پر برُی طرح چلا رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل گڑُیا جلدی سے تیار ہوجاؤ۔۔پھر ہم بابا ساتھ باہر جائیں گے!‘‘ وہ چند ماہ کی آئزل کو کپڑے پہناتی اس سے باتوں میں مگن تھی۔۔ یہ خوبصورت منظر اور اپنی محبوب بیوی کی دلکش آواز سُن کر ،آہستہ سے دروازہ کھولتے افگن کے چہرے پرمسکراہٹ کھل گئی تھی۔ وہ عالیحان کو پہلے ہی تیار کر چکی تھی۔۔۔ ’’زوجہ کیا باتیں چل رہی ہیں میری ننھی سی جان کے ساتھ۔!‘‘ وہ جھولے سےعالیحان کواُٹھا کراپنے سینے پر لٹاتا ،اُس کی زلفوں سے ایک لٹ کھینچ کر شرارت سے بولا۔۔۔ ’’آگئے آپ!کیس کا کیا بنا؟‘‘اس کی شرارت پر گھورا جیسے چنداں فرق نہیں پڑا تھا ۔۔ساتھ ہی وہ آئزل کو کندھے سے لگاتی سنجیدگی سے استفساریہ بولی۔ ’’اگلی پیشی میں!‘‘وہ عالیحان کے گالوں پر بوسہ دیتا مصروف سا بولا۔تو حیات نے اس سست نظام پر منہ بسورا۔ ’’ویسے آپ تو پھر بہت تھک گئے ہونگے!‘‘وہ اس کے چہرے پر واضح تھکن کے آثار دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔آج افگن نے انہیں باہر لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔۔وہ کراچی واپس آگئے تھے۔مگر افگن ابھی تک سوشلائیز نہیں ہوا تھا۔وہ زیادہ تر گھر ہی رہتا تھا۔زیادہ تر لوگوں کو ابھی تک اس کی واپسی کا علم نہیں ہوا تھا۔وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اُٹھا رہے تھے۔انہیں احمر کے خلاف ثبوت اکھٹا کرنے میں کئی ماہ لگ گئے تھے۔۔۔ ’’ہاں!یار آج میرابالکل بھی موڈ نہیں ہے باہر جانے کا۔۔‘‘وہ اُس کو قریب آنے کا اشارہ کرتا بے چارگی سے بولا۔۔ تو وہ مسکراہٹ ضبط کرتی اس کے بازو پر سر رکھتی مزے سے لیٹ گئی تھی۔اور آئزل کو اُٹھا کر اپنے سینے پر لٹا لیا تھا۔شیر افگن نے بچوں کو سینے پر لٹا لٹا کر ان کی عادت خراب کر دی تھی۔ ۔جبکہ آئزل سر اُٹھاتی نیلی آنکھوں سے ٹکر ٹکر باپ کی جانب دیکھ رہی تھی۔جس نے آج نجانے کیوں اُسے گود میں نہیں لیا تھا۔۔ ’’میری شہزادی!بابا پاس آنا ہے میری گڑیا کو!‘‘ وہ عالیحان کو حیات کے پاس لٹاتا خود اُٹھ کر بیٹھتا اپنی بیٹی کو آغوش میں بھر چکا تھا۔ جو فوری اُس کے کندھے سے سر ٹیکاتی آنکھیں موند گئی۔نیند کی وجہ سے وہ اونگھ رہی تھی۔ ’’حیات تم میری بیٹی کو سُونے نہیں دیتی ہو کیا۔۔یہ جیسے ہی میری گود میں آتی ہے اسے نیند آنے لگتی ہے۔‘‘ حیات لیٹی ہوئی تھی۔جبکہ وہ بیٹھ کر دھیرے سے اُس کی پیٹھ تھپک رہا تھا۔ ’’یہ خود نہیں سوتی!آپ کی گود کی عادت ہوگئی ہے اسے۔۔اب آپ دیکھئے گا یہ جو آپ پندرہ پندرہ دنوں کے لئے کام کے سلسلے میں باہر جاتے ہیں ناں ۔یہ مجھے بہت تنگ کیا کرے گی۔‘‘ وہ افگن کو دیکھ گھور کر بولی تھی جو مسکراہٹ دبا رہا تھا۔ ’’تم فکر نہ کرو،میں اپنی سویٹ ہارٹ کو اپنے ساتھ لے جایا کرونگا۔ٹھیک ہے ناں۔۔بابا اور بابا کی جان ساتھ جائیں گے۔۔اور مما اور مما کا بیٹا۔۔یہیں رہیں گے۔‘‘ وہ یکدم آنکھیں کھولتی آئزل کے منہ سے چھوٹو ساہاتھ نکالتا محبت سے اس کے گال چھو کر بولا تو حیات تیزی سے اُٹھ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔ ’’کیوں ۔۔ہم یہاں کیوں اکیلے رہیں گے۔۔ہم بھی ساتھ جائیں گے۔ افگن میں دیکھ رہی ہوں۔۔جب سے یہ آئی ہے آپ نے مجھے پیار نہیں کیا۔۔بس آتے ہی اِسے گود میں اُٹھا لیتے ہیں۔‘‘ حیات کو جھٹ اپنا دُکھ یاد آیا تھا۔۔۔ ’’ُسوچ لو!کیونکہ جب میں موڈ میں ہوتا ہوں تو تمہیں فوراً سے اپنی تھکن یاد آجاتی ہے۔۔افگن میں بچوں کے ساتھ سارا دن اور ساری رات جاگتی ہوں۔ تھک جاتی ہوں۔ اب آپ اپنے بچے سنبھالیں میں چلی اپنی نیند پوری کرنے۔‘‘ وہ شرارت سے اُسی کے لہجے میں بولا تو وہ خفگی سے اُس کے کندھے پر مکّا مار کر واپس لیٹ گئی تھی۔ ’’میں اور میرا بیٹا جارہے ہیں نیچے۔۔علیحان کے دادا کے پاس!آپ دونوں باپ بیٹی اب یہاں بیٹھیں اکیلے۔۔‘‘ وہ سُنانے والے لہجے میں بولتی تیزی سے فرار ہونے لگی تھی۔تو افگن بھی سوتی ہوئی آئزل کو جھولے میں ڈال کر تیزی سے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔ ’’ابھی کہاں سویٹ ہارٹ!آج تو میں آپ کا شکوہ دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اور اب تو میری بیٹی بھی سو گئی ۔ تو کیا خیال ہے۔پھر چلیں ڈیٹ پر۔۔‘‘ اُس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھتا ،وہ آئی برو اُٹھا کر شرارت سے بولا تو اس نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔ ’’اہمم!جناب آئیڈیا تو بُرا نہیں ہےمگر۔‘‘ وہ عالیحان کو کندھے پر منتقل کرتی ذرا نزدیک ہوئی۔ جس کی تشنہ نگاہیں اِس کے تیکھے نقوش میں اُلجھ گئی تھیں۔ ’’مگر!‘‘وہ نرمی سے اس کے گالوں پر اپنے لب رکھتا آئی برو اٹُھا کر بولا۔ ’’مگر۔۔آپ کے رومینٹک موڈ اور ڈیٹ کو ستیاناس کرنے کے لیے آپ کا بیٹا ابھی جاگ رہا ہے۔‘‘ وہ اُس کی مخمور آنکھوں میں محبت سے جھانکتی تیزی سے دونوں کو ٹکر ٹکر دیکھتے عالیحان کا چہرہ اس کے چہرے سے لگاتی کھلکھلا کر فاصلے پر ہوئی۔ ’’یار!یہ غلط بات ہے۔۔‘‘وہ جھٹ عالیحان کو گود میں تھامتا اسُے بھی کمر سے تھام کر قریب کر چکا تھا۔۔ ’’تو اب آپ کیا چاہ رہے ہیں۔‘‘اس کی گردن کےگرد بازو حمائل کرتی وہ آنکھیں گھُما کر سوالیہ گویا ہوئی۔۔ ’’بتا دوں!‘‘وہ مزید نزدیک آیا تھا۔۔۔ ’’ہاں بتا دیں!‘‘ وہ شرارتی لہجے میں بولی۔۔۔ ’’کان میں بتاؤں۔ورنہ تم کہوگی،افگن آپ کے بچے سُن رہے ہیں۔‘‘ وہ کان کے نزدیک جھک کر گھبیر لہجے میں سر گوشی کرتا اُسے سُرخ کر گیا تھا۔جبھی وہ تیزی سے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کو دھکیلتی خود کھلکھلا کر نیچے کو بھاگی تھی۔ ’’ارے سُنو تو ابھی تو میری بات اَدھوری ہے۔۔۔‘‘ وہ تیز آواز میں بولتا خود بھی مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے بیٹے کے ساتھ اس کے پیچھے گیا تھا۔۔جو ایک لمحے کو سیڑھیوں کے عین وسط میں ٹھری تھی۔۔مگرافگن کو شرارت سے آنکھ کا کونا دبا کر معنی خیز مسکراہٹ پاس کرتا دیکھ گھور کر نیچے بھاگ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "جاناں اور کتنی دِیر ہے یار!!ذرا جلدی تیاری مکمل کریں حیات بیگم!میں دلہن کا ماموں اور آپ واحد مامی ہیں تو کیا ہم مہمانوں کی طرح جاتے اچھے لگے گئے۔۔"وہ حیات کو چھیڑنے کی غرض سے جان بوجھ کر اسٹائلش مہرون رنگ گاؤن میں ملبوس حیات کو پشت سے حصار میں قید کرتا شرارتی لہجے میں بولا تھا۔جوکانوں میں ڈائمنڈ اسٹڈ ڈالتی اس کے پیٹ میں کہنی مارتی اب جلدی جلدی کلائیوں میں جڑاؤ کنگن ڈال رہی تھی۔۔۔ "آئزل اور علیحان کو بابا کو دے آئے آپ۔۔"وہ بیڈ پر بیٹھتی،پاؤں میں ہیل ڈال رہی تھی۔جبھی وہ سائیڈ ڈرار سے ایک خوبصورت سا جيولری کیس نکالتا گھٹنوں کے بل نزدیک بیٹھا تھا۔۔۔ "افگن یہ کیا کر رہے ہیں۔"اُس کے اسٹریپس لگانے پر وہ گڑبڑائی۔۔ "ششش!!!"وہ خاموش رہی۔۔۔جبھی اُس نے سلور کلر کی خوبصورت سی پازیب اس کے نازک سے پاؤں میں سجائی تھی۔جو مبہوت سی سیاہ رنگ تھری پیس میں ملبوس،اپنے قدموں میں جھکے اُس نيلی آنکھوں والے شہزادے کو شدّت سے نہار رہی تھی۔۔ "یہ تحفہ تمھیں کافی عرصے سے دینا چاہتا تھا،مگر بچوں کی وجہ سے وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔۔"وہ جو ٹرانس میں دیکھتی،سحر میں جکڑی تھی کہ افگن کی آواز پر چونکی جس کی نیلی چمکتی آنکھوں میں محبّت اپنی چھاپ دکھا رہی تھی۔۔ "اہمم!!بچوں کے
