Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
سیم ڈرینگ کر رکھی تھی۔اور حیات کی طرح ہی اشتیاق سے آئیر پورٹ کا احاطہ دیکھتی پرجوش دکھائی دے رہی تھی۔اُس پر اتنے دنوں بعد ارتضیٰ سے ملنے کا احساس ہی بہت نرالا تھا۔۔ ’’چلیں لیڈیز!ذرا یہاں ویٹ کریں۔میرے ایک جاننے والے نے گاڑی بھیج وا دی ہے۔۔وہ بس آتا ہی ہوگا کچھ دیر میں۔‘‘وہ لوگ اب آئیرپورٹ سے باہر کھڑے گاڑی کا ویٹ کر رہے تھے۔جو دور سے آتی دکھائی دے رہی تھی۔کیونکہ جتنا سامان ان کے پاس تھا،وہ کم از کم اکیلے شیر افگن کے سنبھالنے کے تو بس کی بات تو ہرگز نہیں تھی۔ ’’اسلام علیکم سر!سفر کیسا رہا۔‘‘یہ ایک پاکستانی ہی لڑکا تھا جو اس کے رسٹورینٹ میں کام کرتا،افگن نے اِسے دیکھ سر ہلا کر سلام کا جواب دیا۔۔ ’’سفر اچھا رہا!یہ بتاؤ ارتضیٰ کو پتہ تو نہیں لگا ناں۔‘‘وہ فرنٹ سیٹ سنبھالتا ہشاش بشاش لہجے میں بولا تھا۔ ’’نو سر!سر کو نہیں معلوم!ویسے آج وہ ہوٹل بھی نہیں آئے تھے۔‘‘وہ مزید بتانے لگا۔حیات بچوں کی فیڈر بنانے میں مصروف ہوگئی تھی،جنہونے اب بھوک سے رونا شروع کر دیا تھا۔۔ جبکہ عابثہ آئزل کو خاموش کرا رہی تھی۔عالیحان باپ سے چپکا ہوا تھا۔وہ آئزل کی بانسبت صحت مند بچہ تھا۔اس لئے باہر زیادہ تر افگن ہی اسے اُٹھاتا تھا یا پھرحیات بچوں کو پرام میں ہی باہر لے کر جاتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’سرپرائز!‘‘ارتضیٰ جو وکٹورین طرز کے گھر کی آندرونی سیڑھیوں پربیٹھاکافی دیر سے افگن کا ہی نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔ڈور بیل پر مصروف سا اُٹھا تھا۔۔اور سامنے سے نمودار ہوتے چہرے دیکھ وہ واقعی میں سرپرائز رہ گیا تھا۔۔مگر عابثہ ابھی بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ ’’نہیں مطلب۔۔۔یار یہ کیا!مجھے بتا تو دیتا۔‘‘حیات کے سلام کرنے پر دھیرے سے سر ہلاتا افگن سے گلے ملتا وہ بچوں کے گال چٹا چٹ چوم چکا تھا۔۔جبکہ آئزل تو باپ کے ساتھ ساتھ ارتضٰی کی بھی بہت لاڈلی تھی۔تو اب وہ اُس کی گود میں تھی۔ ’’ بھئی ہم نے سوچا تجھے سرپرائز کر دیتے ہیں۔اور میں ذرا تیرا اکلوتا واحد ماموں سُسر تیری کلاس بھی تو لوں۔کہ تو واقعی یہاں کام دیکھ رہا ہے۔یہاں کسی گوری کے ساتھ سیٹنگ ویٹنگ میں مصروف ہے۔‘‘حیات تهك کر لاؤنج میں صوفوں پر گری تھی۔جبکہ وہ دونوں ابھی دروازے پر ہی کھڑے تھے۔ عابثہ بھی گھر کی سیڑھیوں پر آڑ میں کھڑی شرارت سے مسکرا رہی تھی۔ ’’ظاہر سی بات ہے بھئی۔۔اب ساری زندگی تو تیری بیوقوف بھانجی کے ساتھ نہیں گزاری جا سکتی ناں ۔‘‘وہ بھی ارتضٰی عبا س تھا۔جوجان چکا تھا کہ محترمہ بھی یہیں کہیں ہیں۔جبھی وہ بھی فل شرارت کے موڈ میں تھا۔ جبکہ عابثہ کے ہونٹوں پررقص کرتی مسکراہٹ پل میں ہوا ہوئی تھی۔ ’’کیا مطلب تو میری بچی سے بے وفائی کرے گا!‘‘وہ اس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ مزید شرارت پر آمادہ ہوا۔ ’’ظاہر سی بات ہے۔اب تو ویسے بھی تیری اور بھابھی کی وجہ سے میرا یہاں آنا جانا لگا رہے گا تو ایک پاکستان والی اور ایک امریکا والی۔۔۔ہر جگہ دل لگی کا ساماں تیار رکھنا چاہئے۔‘‘عابثہ کی بس ہوئی تھی۔جبھی وہ دانت پیستی غصہٰ سے سُرخ پڑتا چہرہ لئے تیزی سے مین گيٹ سے آندار داخل ہوتی ارتضیٰ پر چڑھ دوڑی تھی۔ ’’آپ کی ہمت کیسی ہوئی میرے علاوہ کسی اور کو دیکھنے کی بھی۔۔کہاں ہے وہ چڑیل۔‘‘ وہ قریب آتی اس کا گلا پکڑنے کو تھی۔۔۔ارتضیٰ نے قہقہہ پر قہقہہ لگاتے افگن کو دیکھ جلدی سے اسے قابوں کیا تھا۔جو شعلہ جوالا بنی ہوئی تھی۔جبھی ارتضیٰ نے شرارت سے آنکھ کا کونا دبایا۔ ’’یہ!‘‘ارتضیٰ کی بے باکی اور شیر افگن کی مسکراہٹ دیکھ اسے احساس ہوا کہ وہ دونوں مل کر اسے پاگل بنا رہے تھے۔جبکہ سامنے بیٹھی حیات بھی مسکراہٹ روک رہی تھی۔ ’’بہت بدتمیز ہیں آپ۔۔۔میں ناراض ہوں آپ سب سے۔‘‘وہ ارتضیٰ کو گھوری سے نوازتی ،شیر افگن کے بازو پر تھپڑ رسید کرتی خود بھی حیات کے نزدیک جا بیٹھی تھی۔ ’’اچھا تو یہ تھا اسپیشل والا سرپرائز!‘‘وہ خفا خفا سی عابثہ کے نزدیک بیٹھتا مزے سے بولا۔جبکہ حیات افگن کو اشارہ کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ’’بھئی ارتضیٰ بھائی یہ تو آپ کو، آپ کی بیگم ہی بتا سکتی ہیں کہ انہونے اور کتنے سرپرائز پلین کر رکھے ہیں آپ کے لئے۔البتہ ہم اپنے کمرے میں جارہے ہیں۔کیونکہ اب ان بچوں کی نیند کا ٹائم ہورہا ہے۔۔تو ہمیں تو آپ اجازت دیں۔ ڈنر پر ملاقات ہوگی۔‘‘ وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتی شرارت سے بولی۔افگن نے خفت زدہ سی عابثہ کے سر پر چپت لگاتے حیات کی پیروی میں قدم بڑھائے تھے۔۔۔پیچھے اب وہ دونوں باقی رہ گئے تھے۔ارتضیٰ بھی اس کا ہاتھ تھامتا سامنے بنے روم میں آگیا تھا۔ ’’اوہ تو میڈم میری ناراضگی دور کرنے کی خاطر اتنی دور آگئیں۔۔یا پھر میرے بغیر دل نہیں لگ رہا تھا؟‘‘وہ اسے دیوار سے لگاتا خود قریب ہوا۔ ’’خوش فہمی!‘‘عابثہ نے نظر چُراتے ناک سے مکھی اڑائی۔ ’’اوہ جبھی باہر مجھ سے لڑ رہی تھیں۔‘‘وہ آنکھیں گھومتا اس کی زلفوں سے کھیل رہا تھا۔ ’’تو ظاہر سی بات ہے۔۔خبر دار جو کسی دوسری کے بارے میں سوچا بھی تو۔‘‘وہ اسے کالر سے پکڑ کر کھینچتی گھور کر بولی تو ارتضیٰ نے اس کی جرات پر داد دینے والے آنداز میں آئی بروز اٹھائے۔ ’’ اچھا تو پھر مجھے منانے کے لئے کیا اسپیشل سرپرائز پلین کیا ہے میڈم نے۔‘‘وہ کمر کے گرد گھیرا ڈالتامعنی خیزی سے بولا۔ ’’زیادہ اِترنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔میں آگئی یہی بہت ہے۔ویسے بھی مجھے آپ کے ماموں سُسر بتا چکے ہیں کہ آپ پہلے ہی تمام حقیقت سے آگاہ تھے۔بس مجھے تنگ کرنے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔۔‘‘اس کے حصار سے نکلتی وہ سیدھی سیدھی بیڈ پر چت لیٹ گئی تھی۔۔فلائٹ کی تھکن اب بھی محسوس ہورہی تھی۔ ’’رئیلی!‘‘ایک گھٹنہ بیڈ پر ٹیکا کر اس پر جھکتا وہ آنکھوں میں چمک لئے اس کے نقوش کو دھیرے سے چھو رہا تھا۔۔سکون کے باعث جس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔ ’’اتنے دونوں بعد بیوی آئی ہے،وہ بھی اتنی دور سے ملنے آئی ہے۔۔ارتضیٰ بندہ کچھ کھانے کو ہی پوچھ لیتا ہے۔‘‘ساتھ تکیہ پرگرتے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھتی وہ نروٹھے پن سے بولی۔ ’’تو میں تو وہی کرنے جارہا تھا۔۔تم نے مجھے اپنے پاس بلا لیا۔‘‘ عابثہ نے آنکھیں پھاڑ کرا س جھوٹے شخص کو گھورا۔ ’’ میں نے بولا ہے یہاں براجمان ہونے کو۔چلیں اُٹھیں۔۔ہمارے لئے کھانے کا انتظام کریں۔ہم مہمان ہیں بھئی آپ کے۔جب تک میں ذرا اپنی نیند پوری کرلوں۔‘‘وہ جلدی سے خود پر کمبل کھینچتی مزے سے بولئ،تو وہ اس کے چہرے پر جھکتا اپنی دلی آواز پر لبیک کہتا اس کے نقوش کو محبت کی گرمی سے مہکانے لگا۔جو پرسُکون سی آنکھیں موند گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُنہیں نیویارک آئے ایک ہفتہ ہونےوالا تھا۔۔وہ لوگ ابھی ڈنر سے فارغ ہوتے اپنے اپنے روم میں آئے تھے۔۔۔نائٹ ڈریس تبدیل کرکے اب حیات بچوں کے ساتھ مصروف تھی۔جبکہ افگن نجانے اتنی دیر سے کمرے سے محلقہ ٹیرس پر کیا کر رہا تھا۔۔بچوں کو سُلانے کے بعد اس کا ارادہ افگن کی پاس ہی جانے کا تھا۔۔۔علیحان تو گہری نیند سُو چکا تھا۔۔جبکہ آئزل اپنے باپ کے انتظار میں ابھی تک جاگ رہی تھی۔۔۔ "شیر پلیز اب روم میں آجائیں۔۔آپ کی بیٹی مجھ سے نہیں بہل رہی نہ ہی سُو رہی ہے۔۔"وہ بیچارگی سے تیز آواز میں بولی۔۔پھر بستر چھوڑ کر اس کی کمر تھپکتی خود سلائڈنگ ڈور دھکیلتی ٹیرس پر آگئی۔۔مگر وہاں کا ويو دیکھ اس کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔۔۔ " ہیپی برتھڈے
