Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
تھا۔دونوں وکیلوں کے بیچ جرح جاری تھی۔۔آج آر یا پار۔ ’’یورآنر!میں وٹنس باکس میں اپنے سب سے اہم گواہ اور جائے حادثہ کا شکار مسٹرشیر افگن ہاشمی کوُبلانا چاہونگا۔۔ جو پپچھلے کئی ماہ سے زخموں سے چور بدن لئے،اپنے گھر فیملی سے دور ایک سرکاری ہسپتال میں لاوارثوں کی طرح زندگی اور موت کے بیچ لٹکے رہے تھے۔۔‘‘وکیل کے لفظوں نے سب ہی کو حیران کر دیا تھا۔ ’’اجازت ہے!‘‘ جبکہ احمر اور اس کے والد نے تیزی پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔جہاں وہ سب سے آخر کی نشستوں میں موجود چہرے پر سے ماسک ہٹاتا مسکراتا ہوا وٹنس باکس کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ مخالف وکیل کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئی تھیں۔مطلب ایک مرا ہوا شخص کیسے واپس آسکتا تھا۔ ’’مسٹر شیر افگن ہاشمی !کیا آپ عدالت کو بتانا چاہیں گے کہ آپ اتنا عرصہ کہاں غائب رہے ۔اور آپ کی گمشدگی کی کیا وجہ تھی۔‘‘افگن نے ایک مسکراتی نگاہ احمر کے فق چہرے پر ڈالی تھی۔۔۔ ’’یور آنر!میں شیر افگن ہاشمی!اُجالا ریپ کیس کا سب سے اہم گواہ۔۔میں اپنی صفائی میں کچھ بھی کہنے سے پہلے ،احمر صفدر کی اور اپنی دوستی سے دشمنی تک کی کہانی آپ کے گوشہ گزار کرنا چاہونگا۔‘‘وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولا۔۔۔ ’’اجازت ہے۔‘‘ جج صاحب کے اجازت دیتے ہی وہ اپنی اور احمر کی دوستی بینا کی حماقت اور اُجالا کو ٹریپ کرنا سب بتاتا چلا گیا۔اور کمرہ عدالت میں سناٹا سا چھا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (شیر افگن کے ولیمہ کا دن) ’’ہیلو اُجالا کہاں ہو تم!‘‘احمر نے اپنی پلینگ کے تحت کال ملائی تھی۔ ’’یار بس افگن کے گھر جانے کے لئے نکل رہی ہوں۔میں نے ارتضیٰ کو کہا تھا بٹ وہ بزی ہے اور شام میں سیدھا ہوٹل ہی جائے گا۔‘‘وہ اپنی تیاری پر ایک آخری نگاہ ڈالتی مصروف سی بولی۔۔۔۔ ’’اوہ ڈیٹس گریٹ!میں بھی وہیں جارہاہوں تو کیا تمہیں پِک کرلوں؟‘‘ ’’امم!اچھا آجاؤ۔میں بس ریڈی ہوں۔۔‘‘وہ تیزی سے ہامی بھر گئ جبکہ ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اپنے راستے کی جانب گامزن تھے۔ ’’پیاری لگ رہی ہو۔۔یہ بتاؤ اب تم کب شادی کر رہی ہو۔کیونکہ افگن کی تو شادی ہوگئی۔اور ارتضٰی کبھی تمہیں لفٹ نہیں کرانے والا۔‘‘وہ ڈرائیونگ میں مصروف سا بولا۔۔۔ ’’کم آن!شیر کے بارے میں،میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا،ہاں وہ ایسا چاہتا تھا۔۔بٹ اب اس کی شادی ہوچکی ہے۔۔اور وہ اپنی وائف کے ساتھ خوش ہے۔۔اور رہی ارتضیٰ کی بات ۔۔تو میری عزت نفس گوارہ نہیں کرتی کہ جو شخص بار بار میری ذات سے انکاری ہو،میں اسی کے آگئے پیچھے گھوموں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی تو وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔۔ ’’ مطلب اب افگن تمہیں اپنی زندگی میں کوئی جگہ نہیں دے سکتا رائٹ؟‘‘ وہ پر سُوچ سا بولا۔ ’’یار کیوں دے گا وہ۔۔اس کی وائف ہے اب۔فیملی ہے۔میں کہاں سے آگئی۔‘‘وہ زچ وئی۔ ’’اوہ یار!میں بتانا ہی بھول گیا۔مجھے پہلے ذرا یک کام سے اپنے دوست کے گھر جانا ہے۔کچھ سامان لینا ہے پھر میں تمہیں افگن کے چھوڑ دونگا۔آگر تم ماینڈ نہ کرو تو۔‘‘وہ بہت مکاری پن سے بولا۔وتو وہ کندھے اُچکا گئی۔جبکہ اب گاڑی ایک سنسان علاقے میں بلڈنگ کے پاس ٹھری۔ ’’چلو یارتم بھی اُپر چلو۔میرے دوست کی وائف سے بھی مل لینا۔۔‘‘اُس کے بے حد اِسرار پر وہ مان گئی تھی۔جبکہ وہ بہانہ کرتا اُسے فلیٹ نمبر بتاتا خود الٹے قدموں واپس چلا گیا تھا۔ ’’اوہ تو آپ ہیں اُجالا!جس کے پیچھے شیر افگن پاگل تھا۔‘‘ احمر کے دوست کی وائف اُسے ذرا عجیب لگی تھی۔ ’’احمر کہاں رہ گیا۔۔ہمیں اب نکلنا چاہئے‘‘ وہ بیزار ہوئی تھی۔ ’’ارے یہ کولڈرنک تو فنش کریں پہلے۔‘‘وہ جلدی سے بولے۔جبکہ اُس نے ایک سپ تک نہیں لیا۔ ’’نو تھینکس!‘‘وہ صاف انکار کر گئی۔دونوں نے نظروں کا تبادلہ کیا۔ ’’اُجالا آگر آپ ایسے کریں گی تو ہمیں لگے گا کہ آپ کو ہمارے گھر آنا اچھا نہیں لگا۔۔۔پلیز۔۔‘‘وہ لڑکی بڑی دلفریب مسکراہٹ لبوں پر سجاتی مکاری پن سے بولی تو وہ اسے دیکھتی ایک ہی گھونٹ میں ساری کولڈ ڈرنک پی چکی تھی۔ ’’چلیں میں دیکھتی ہوں احمر کہاں رہ گیا۔ورنہ اسے کہئے گا میں خود ہی چلی جاؤنگی۔۔‘‘وہ فوری کھڑی ہوئی۔عجیب گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔ ’’شیور!‘‘ وہ دونوں میاں بیوی بھی ساتھ ہی کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ابھی اُجالا نے ایک قدم ہی اُٹھایا تھا کہ اسے ایک زبردست قسم کا چکر آیا تھا اور وہ لہرا کر پیچھے کی جانب گری تھی۔کولڈ ڈرنک میں ہیوی ڈوز ڈرگز کا استعمال کیا گیا تھا۔ ’’تو پھر ہم جائیں احمر صاحب۔‘‘ اُجالا کو بےہوش دیکھ ،وہ لوگ شرارت سے بولے تھے۔جو کچھ لمحے قبل ہی فلیٹ میں انٹر ہوا تھا۔ ’’ہاں جی آپ کا کام یہیں تک کا تھا۔۔یہ فلیٹ ہے کس کا ویسے۔‘‘ وہ دو کمروں پر مشتمل لگژری فلیٹ کا جائزہ لیتا بولا۔ ’’چھوڑو ناں۔۔تم انجوئے کرو۔‘‘ وہ آنکھیں مارتے نکل چکے تھے۔جبکہ احمر اسے اُٹھا کر بیڈ روم میں لایا تھا۔۔ کتنی ہی دیر وہ نفرت سے کھڑا اُسے گھورتا رہا تھا۔جونشے کے باعث نہ مکمل بےہوش تھی،اور نہ ہی ہوش میں تھی۔وہ کچھ بڑبڑارہی تھی۔۔ڈرگز آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھا رہی تھی۔۔یہ وہی چہرہ تھا جس سے شیر افگن کو بے پناہ محبت تھی۔تو اس وجود کی تباہی تو یقینی تھی۔۔۔وہ ہر اس فرد کو برباد کرنا چاہتا تھا جس کا واسطہ شیر افگن ہاشمی سے ہو۔۔اور جب نفرت کی انتہا ہوئی تو وہ بے ہوش پڑی اُجالا پر بے حسی سے جھکا تھا۔جس کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ شیر افگن کی محبت تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا وقت تھا۔اُجالا نے آنکھیں کھولیں تو خود کو انجان جگہ پر پایا۔۔ دماغ نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔کچھ لمحوں میں زہن بیدار ہوا تو آنکھوں کے سامنے عجیب سے لمحات گزرے، کسی کی دھمکی آمیز سر گوشی۔وہ بھاری سر کے ساتھ اُٹھ بیٹھی تھی۔۔کمبل میں چھپے اپنے بکھرے سراپے پر نظر ڈالی تو اس کا سر بُری طرح گھوم گیا تھا۔۔نظروں کے سامنے احمر کا فلیٹ لانا اور پھر اس کے قریب آنا۔۔۔وہ ایک لمحے کو سانس لینا بھول گئی۔۔ وہ بھاگ کر باہر کی جانب بڑھی تو فلیٹ بالکل خالی تھا۔ مگر اس کی حالت اس پر گزری قیامت کا چیخ چیخ کر پتہ دے رہی تھی۔اِس نے فلیٹ میں پڑا اپنا بیگ اُٹھایااور اس میں سے جھٹ موبائل نکال کر کپکپاتے ہاتھوں سے کال ہسٹری میں موجود پہلا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔جو شیر افگن کا تھا۔ ’’ہیلو!‘‘ ’’افگن میں اُجالا بات کر رہی ہوں۔۔۔پلیز یہاں آجاؤ۔۔۔پلیز۔۔۔ مجھے یہاں سے لے کر جاؤ۔۔۔ میں برباد ہوگئی افگن۔۔۔تمہاری محبّت نے مجھے برباد کردیا۔۔۔۔میں۔۔پلیز۔۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔افگن جو مہمانوں کے ساتھ مصروف تھا۔اس قدر عجیب طرز تخاطب پر وہ کسی انہو نی کے ڈر سے،بغیر کسی کو بتائے ُاجالا کے بتائے گئے ایڈریس پر پہنچا تھا۔جہاں ایک الگ ہی قیامت اُس کی منتظر تھی۔ ’’یہ سب!‘‘ ’’احمر نے۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔وہ میرا ساتھ ایسا کرے گا۔۔ میں ۔۔میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔۔میں کیا کرونگی افگن۔۔۔۔۔‘‘ وہ اس کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے باآواز رو رہی تھی۔جبکہ وہ ضبط سے آنکھیں میچ کر کھڑا تھا۔ ’’اُجالا سنبھالو خود کو۔۔‘‘اُس نے دلاسہ دیا۔۔سمجھ سے باہر تھا کہ آخران کا بچپن کا دوست اُن کے ساتھ ایسا کیسا کرسکتا تھا۔۔۔ ’’کیسے سنبھالوں۔۔تم۔۔تم مجھے مار دو۔۔مجھے مار دو۔۔ورنہ میں خود کو مار لونگی۔۔میں تم پر اپنا خون معاف کرتی ہوں۔پلیز۔مجھے بربار کر دیا۔۔میں کسی کو کیا منہ دکھاؤنگی۔احمر نے مجھ سے میری شناخت،میری عزت نفس چھین لی۔میرا قصور کیا تھا صرف اتنا
