Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
لڑکیوں کو جن کی زندگی یہ آپ کے نام پر برباد کر چکا ہے۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولی تو وہ لب بھنچ گیا۔ ’’میں جو کہونگی سچ کہونگی اور سچ کہ سوا کچھ نہیں کہونگی۔۔‘‘ ’’میرا چہرہ یقیناً آپ لوگ ابھی تک نہیں بھولیں ہونگے۔۔میں وہی لڑکی ہوں جس کی چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر نازیبہ حالت میں لیک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘‘افگن کو لگا جیسے کسی نے اس کی آنکھ میں مرچیں ڈال دی ہوں۔جبکہ سب ہی نے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا۔۔اور سب کی نظروں مین وہ ویڈیو یکدم گھوم گئی تھی۔۔ ’’محترمہ آپ کو جو کہنا ہے۔۔آپ بغیر کسی ڈر اور ہچکچاہٹ کے عدالت کو بتا سکتیں ہیں۔مسٹر شیرافگن آگر اب آپ نے عدالت کو گمراہ کرنے کی،یا گواہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو آپ کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے گا ‘‘ انہونے سیخ پا ہوتے افگن کو باز رکھا تھا۔۔اور پھر حیات ایک نظر افگن کو دیکھ ’’الف سے ے ُ‘‘تک ساری رو داد عدالت کے گوشہ گزار کر گئی تھی۔احمر کا ٹریپ کرنا، اس کا کڈنیپ،اُجالا کا ریپ،بینا کی موت کا بدلہ ،حیات کی ویڈیو لیک کرنا سب کچھ۔۔۔اُس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔ جبکہ شیر افگن آنکھیں میچ کر سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔تزلیل کے باعث چہرہ سرُخ ہورہا تھا۔کتنی ہی دِیر کمرہِ عدالت میں سناٹا چھایا رہا تھا۔احمر کا وکیل اب خاموش ہوتا مزید جرح ترک کرتا اپنی نشست پر جا بیٹھا تھا۔۔اب کہنے اور سنُنے کو رہ ہی کیا گیا تھا۔۔ حیات کی ہچکی بندہ گئی تھی۔۔ ’’یہ عدالت مجرم احمر صفدر سلطان ،کو مسز حیات شیرافگن ہاشمی کو تین سال تک گمراہ کرنے اور اِن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کرنے کے جرم میں سائیبر لا، سیکشن نمبر 21 اور 24 کے تحت پانچ سال، اور مزید سات سال قید بامشقت ، پچاس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سُزا سناتی ہے۔اور سائیبر سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ وکٹم کی مزید ذاتی نوعیت کی ویڈیوز مجرم اور مجرم کے گھر والوں سے نکلوا کر سسٹم سے ڈلیٹ کرائیں ۔اور وکٹم کے ساتھ ہر طرح کاتعاون کریں۔‘‘ابھی سزا ختم نہیں ہوئی تھی ،بلکہ مزید توسیع کی گنجائش ابھی باقی تھی۔۔۔ "ساتھ یہ عدالت مجرم احمر سلطان کو اُجالا ریپ کیس میں دفعہ 376کے تحت تاعمر قید بامشقت اور پھانسی کی سزا سُناتےہوئے،سزا کو جلد از جلد عمل میں لانے کا حکم سنُاتی ہے۔۔ عدالت۔۔۔۔‘‘ اس سے قبل کے جج صاحب فیصلہ سنُا کر اپنے پین کی کی نب توڑتے حیات کی آواز نے ماحول میں چھایا قیامت خیز سکوت توڑا تھا۔۔ ’’میں حیات شیر افگن ہاشمی معزز عدالت سے یہ درخواست کرونگی کہ وہ میرے اور اُجالا جیسی کئی لڑکیوں کے مجرم کو پھانسی جیسی آسان سزا نہ سُنائیں،بلکہ اِسے عبرت ناک موت کی سزا سُنائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی احمر سلطان کسی حیات کاظمیٰ کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے سے پہلے،اُجالا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے سے پہلے اِس شخص کی عبرت ناک موت کا انجام ضرور سوچ لے۔۔میں معزز عدالت سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ مجرم احمر کو شہر کی مین شاہراہ میں بیچ سڑک پر تختہ دار پر لٹکانے کی سزا تجویز کریں۔بلکہ اس کا جسد خاکی جب تک بیچ چوراہے میں لٹکا ئے رکھنے کا حکم سنائیں، جب تک چیل کوئے اس کے جسم کی بوٹی بوٹی نہ نوچ لیں۔۔تاکہ پھر کوئی اس جیسا گندی نسل انسان کسی بنت حوا کا دامن داغدار کرنے سے قبل سو بار ضرور سوچ لے۔۔اِن جیسوں کو عبرت ناک موت ملنی چاہئے۔پھانسی کی سزا بہت چھوٹی ہے۔۔یہ عبرت ناک موت کا حق دار ہے۔۔اسے سخت سے سخت سزا سنائیں ،تاکہ میری زندگی کا کچھ حد تک پچھتاؤ کم ہوسکے۔۔۔‘‘ وہ لہجے میں انتہا کی نفرت اور سفاکیت سموتی تیز لہجے میں بولی تھی۔ جج صاحب نے بغور اس نازک سی لڑکی کو دیکھا تھا جو پورے وجود سے کپکپا رہی تھی۔۔چہرہ ضبط کی شدت سے سرخ پڑگیا تھا۔۔۔سیاہ چمکیلی آنکھوں میں لال ڈورے واضح تھے.۔۔۔افگن جو اس سے ناراضگی ظاہر کرتا لاتعلقی برت رہا تھا۔اِسے ٹوٹا بکھرتا دیکھ بغیر کسی کی بھی پرواہ کئے دوڑ کر اس کے پاس آتا اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔۔۔جو اپنے مہربان کا سہارا ملتے ہی سسک اُٹھی تھی۔ ’’یہ عدالت اپنے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے،حیات کاظمیٰ کی تجویز کردہ سزا کو جلد از جلد عمل میں لانے کا حکم سُناتی ہے۔اور حیات شیر افگن ہاشمی کو ہمارے سرکاری ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ آئندہ انہیں یا ان کی فیملی کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا ہرگز نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔ عدالت برخواست۔۔‘‘ عدالت نے حیات کے ایک ایک لفظ پر عمل کرتے اس کی من مرضی کا فیصلہ سُناتے ہوئے قلم کی نب توڑ دی تھی۔۔۔آج انصاف مل گیا تھا۔ اُجالا کو حیات کاظمیٰ کو مینا کو ،اور ان تمام لڑکیوں کو جن کی زندگی احمر سلطان نے برباد کی تھی۔۔ مجرم ہمیشہ کی طرح اپنی ہار پر چیخ رہا تھا،چلا رہا تھا،چیخ چیخ کرخود کو بے گناہ ثابت کرنے میں کوشاں تھا۔جبکہ پولیس والے اسے بے دردی سے کھینچ کر پولیس وین تک لے گئے تھے۔جہاں میڈیا کا ہجوم لگا ہوا تھا۔۔صفدر سلطان تو اکلوتے جوان بیٹے کو سزائے موت سن کر سکت میں چلے گئے تھے۔۔۔جلد یا بادیر برائی کا انجام بُرا ہی ہوتا ہے۔۔ہمیشہ اور دیر پا رہنے والی محض اچھائی اور صرف نیک عمل ہوتا ہے۔ یہ دنیا گول ہے آپ لوگوں جو تقسیم کریں گےوہ آپ تک لوٹ کر ضرور واپس آئے گا۔ چاہے پھر وہ عزت ہو ،یا زلت،محبت ہو یا دھوکا ایک نہ ایک دن لوٹ کر ضرور آتا ہے۔۔احمر نے دنیا میں جو برائی تقسیم کی تھی ،اب اُس کا ثمر ملنے کا وقت تھا۔ جو خوب آنداز میں لوٹ کر آیا تھا۔۔۔ویسے بھی بُرے کی اور برائی کی عمر مختصر ہوتی ہے۔۔۔ہمیشہ رہنے والی صرف اچھائی ،نیکی ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ رات کو ڈرتے ڈرتے روم میں آئی تھی۔۔آج شام سے بچے افگن کے پاس ہی تھے۔جو عدالت کے فیصلے کے بعد حیات کی ہمراہی میں سیدھا گھر واپس لوٹ آیا تھا۔مگر اس سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی۔نظر سیدھی بیڈ کی جانب گئی تھی۔جہاں وہ ٹی شرٹ کے ساتھ ٹراوزر پہنے آئزل کو اپنے سینے پر لٹائےدونوں بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھا۔۔ویسے بھی اِسےتو اپنے بچوں کے سامنے کسی کا کوئی ہوش ہی نہیں رہتا تھا۔ ’’ناراض ہیں آپ مجھ سے!‘‘بیڈ پر نیم دراز افگن اور اپنے بچوں کے نزدیک بیٹھ کر،نرمی سے پوچھا،جس نے بس ایک خفا سی نظر سے نوازا تھا۔۔ ’’میں کیوں تم سے ناراض ہونے لگا۔۔آخر میں ہوتا کون ہوں تم سے ناراض ہونے والا۔تم اپنی مرضی کی مالک ہو۔۔جو دل چاہے کرو۔‘‘ وہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ کھیلتا خفا خفا سے لہجے میں بولتا حیات کو کیوٹ لگا تھا۔۔اس نے بامشکل مسکراہٹ ضبط کی تھی۔ ’’تھینک گوڈ کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں۔میں فضول میں پریشان ہورہی تھی کہ اب آپ کو کیسے مناؤں۔۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں بولتی جگہ سے اُٹھنے ہی لگی تھی کہ شیر افگن نے تیزی سے کلائی تھامتے اُسے باز رکھا۔نیلی آنکھوں میں اس کے لئے وارننگ واضح تھی۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا؟‘‘ وہ آئی برو اٹُھاتی اس کے نرمی پر فوری شیر ہوئی تھی۔ ’’ابھی بتاتا ہوں کیا!ذرا میرے بچوں کو سو جانے دو!‘‘وہ گھور کر بولتا اُسے دھمکی
