Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
دوسرے کو دیکھ مسکرائے۔وہ دونوں بھی تو یونہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑا کرتے تھے۔۔۔ ’’عابثہ ضد نہیں کرو!میں تم دونوں کو بھی یہاں روک لیتا۔مگر میری جان وہاں دادو بھی تو ہیں۔۔اور میری گڑیا ہمیشہ میرے بہت قریب رہے گی۔۔آگر یہ کمینہ کبھی بھی تمہیں تنگ کرے تم پہلی فلائٹ لے کر یہاں میرے پاس آجانا ۔پھر یہ خود بھاگا چلا آئے گا۔ میں تم سے دور ہر گز نہیں۔‘‘وہ اُس کو سینے سے لگاتا محبت سے بولا،جو بھائیوں جیسا ماموں،اور باپ جیسی شفت والا پیارا دوست پاکر اپنی زندگی سے مطمئن ہوگئی تھی۔آخر آج ارتضیٰ بھی تو اسی کی بدولت اُس کی زندگی میں آیا تھا۔ "آئی مس یوالوٹ!!"وہ گلوگیر لہجے میں بولتی اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی تھی۔۔تو وہ پیشانی پر اپنے لب رکھتا دھیرے سے مسکرایا۔۔ ’’چلو یار!اب ذرا مجھے میری بیوی کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنے دو۔تم دونوں تو چپک ہی گئے ہو ہم سے۔اور پلیز یہ کچھ دیر کے لئے ہمارے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤ۔۔بالکل اپنے بچے سمجھنا۔ اسی بہانے آئندہ کے لئے تم دونوں کی بھی پریکٹس ہوجائے گی۔‘‘وہ پرام اُن کی جانب دھکیلتا شرارتی لہجے میں بولا۔تو وہ دونوں ہی بچوں کی ہمراہی میں وہاں سے نکل آئے تھے۔ جبکہ افگن حیات کا ہاتھ پکڑتا نیو یارک کی سڑکوں پر نکل آیا تھا۔۔حیات اس کی سنگت میں ہمیشہ پہلے والی بیوقوف سی حیات بن جاتی تھی۔ اس وقت بھی جھولے میں بیٹھنے کی ضد کرتی وہ یہ بھول گئی تھی کہ اب وہ دو بچوں کی ماں ہے۔ ’’حیات !یہ جو تمہاری ضد ہے ناں۔ایک آنکھ نہیں بھاتی مجھے۔‘‘وہ گھور کر بولا۔ ’’ہاں تو آپ بھی ساتھ بیٹھ جائیں ناں!میں آسمان کی بلندیوں سے نیچے دیکھنا چاہتی ہوں ۔‘‘وہ جھولے کی اچھی خاصی اونچائی دیکھ مزید ضد پر آمادہ ہوئی۔ ’’ بچی نہیں ہو تم ۔ دو بچوں کی ماں ہو تم ،مت بھولا کرو۔‘‘وہ چڑانے کے لئے بولا تھا۔۔اور وہ فوری بُرا مان گئی۔۔۔ ’’میں نے تو ایک ہی مانگا تھا۔۔اب ان دو نے ایک ساتھ آکر پلین خراب کردیا۔۔کبھی کبھی تو مجھے ان دونوں کو سنبھالتے سنبھالتے رونا آجاتا ہے۔۔ابھی تو ہمیں ایک کی بھی پریکٹس نہیں تھی۔اور ایک ساتھ دو۔۔پاکستان میں تو مما بابا بھی تھے۔۔افگن اب ہم کیسے سنبھالیں گے ان دونوں کو۔‘‘‘ اسے یکدم ایک نئی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔۔۔ ’’زوجہ اس کام کے لئے غلام حاضر ہے ناں!‘‘ وہ سر کو خم دیتا اسے ہنسے پر مجبور کر گیا۔۔جو مسکراتی ہوئی اس کے سینے سے لگی تھی۔وہ اس کی توجہ جھولے کی طرف سے ہٹا چکا تھا۔۔کیونکہ اونچائی سے نیچے کی جانب دیکھ کر میڈم کا سانس ویسے ہی تھمنے لگتا تھا۔۔ حیات نے پنجوں کے بل ذرا سا اونچا ہوکر اپنے لب اُس کے رخسار پر رکھے تو اُس کی آنکھیں جگنوؤں کی مانند چمک اُٹھی تھیں،اب اس کی ہمراہی میں قدم سے قدم ملا کر طویل مسافتیں طے کرتی وہ نئی زندگی کی بہاروں کو خوش آمدید کہ رہی تھی۔۔جبھی ہما قریشی کے قلم کی غائب ہوتی سیاہی نے مزید اِس امر پريم کہانی کے خوشگوار مناظر قرطاس پر اُتار کر مزید رنگ بھرنے سے روک دیا تھا۔۔ جانِ تمنا، جانِ ادا تجھے جیسا ہے سوچا پایا وہی سورج کی کرنوں سا اک چہرہ دیکھا ہے تم سا میں نے نہیں میری محبت کا ہر لمحہ تجھ میں ہی گم سا گیا نہ میں ہوں عاشق، نہ میں دیوانہ کہہ دو مجھے جو پِیا تیرا میرا ہے پیار امر تو چاہے تو قدموں میں سر رکھ دوں یہ جیون کیا، گر مانگے تو میری جان نظر کر دوں نور جہاں اور نور محبت دونوں جڑے تجھ سے پِیا بادل کا جوگی مجھ کو کہو تم ہاں میرا عشق سب سے جدا تیری ہی خاطر لوں سو جنم میں چاہے ہو جو بھی بھلا نہ میں ہوں عاشق، نہ میں دیوانہ کہہ دو مجھے جو پِیا تیرا میرا ہے پیار امر تو چاہے تو قدموں میں سر رکھ دوں یہ جیون کیا، گر مانگے تو میری جان نظر کر دوں ختم شد
