Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
اس نے جان کر چھیڑا۔ ’’لیکن میں ہر گز بھی روایتی سُسر نہیں بنوں گا۔‘‘اس نے بھی جوابی کاروائی کی۔ ’’اچھا!تو کیا کرے گا تو پھر !‘‘اس نے آئی برو اٹُھائے۔ ’’اسپیشل سرپرائز ملے گا اب آپ کو۔‘‘ارتضیٰ اس کی شرارت پر قہقہہ لگا گیا تھا۔یقیناً اس کی سمجھدار بیوی نے اس سے کوئی مشورہ مانگا تھا۔۔ ’’ اچھا پھر میں انتظار کروں مطلب۔‘‘ ’’کرتا رہے وہیں گل سڑ جا۔۔دفعہ ہوجا۔‘‘وہ حیات کو ڈریسنگ روم سے نکلتا دیکھ جلدی سے بولا۔جس نے اس کی تیز آواز پر گھورا تھا۔وہ ابھی بہت مشکلوں سے بچوں کو سُلانے میں کامیاب ہوئی تھی۔۔۔۔ اچھا چل بعد میں بات کرتا ہوں۔اور ہاں اب عابثہ سے ضرور بات کرلینا۔‘‘وہ خود بھی تنبیہ کرنا نہیں بھولا تھا۔۔ جبکہ حیات مسکراتے ہوئے کمبل کھول کر خود پر ڈالتی اس کے سینے پر سر رکھ کر گئی ،جس نےُاس کے ماتھے پرلب رکھتے اپنے حصار میں لیا تھا۔ ’’ہم وہاں کیوں جارہے ہیں افگن!کیا ہم یہاں اپنے ملک میں نہیں رہ سکتے ہمیشہ!‘‘ اس کا ارادہ نیو یارک سٹی میں شفٹ ہونے کا تھا۔جبکہ حیات اُداس ہوگئی تھی۔ ’’کچھ عرصے بعد ہم واپس آجائیں گے ڈانٹ وری!‘‘وہ اس کی پریشانی بھانپ گیا تھا۔ ’’لیکن اتنا بڑا فیصلہ لینے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔بابا اور آنٹی یہاں اکیلے ہوجائیں گے۔آئزل اور عالیحان بھی اپنے دادا دادی کے بغیر اُداس ہوجائیں گے۔‘‘ وہ مزید گویا ہوئی۔جبکہ وہ اُس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا پر سُوچ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’حیات آپ کتنا بھی چاہو ماضی کبھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا!اور کیا میں نہیں جانتا، کہ تم نے اس ویڈیو لیک کے حادثے کے بعد سے بالکل ہی گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔پبلک پلیس پر جانے سے تم ایسے گھبراتی ہو جیسے کوئی ابھی تمہیں پکڑ کربے عزت کر دے گا۔۔اور یہ حقیقت ہے کہ وہ واقعہ ابھی تازہ ہے اور سب کو یاد ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ کوئی میری بیوی پر انگلی اُٹھائے، یا میرے بچوں سے ان کی ماں کے متعلق کوئی غلط بات کرے۔۔کچھ سال گزر جانے دو۔۔وقت بہت بڑا مرہم ہے۔۔۔پھر ہم جلد واپس آجائیں گے۔بابا کو میں نے کہا ہے،وہ بھی جلد یہاں سے بزنس وائیڈ اپ کر کے وہیں شفٹ ہوجائیں گے۔۔میرے نزدیک ہماری ہمارے بچوں کی خوشیاں زیادہ اہم ہیں۔۔‘‘ وہ اپنے سینے پر نمی محسوس کر چکا تھا۔جبھی اس کی کمر سہلاتا نرم لہجے میں دلاسہ دینے والے انداز میں بولا تھا۔۔حیات کو ایک بار پھر اپنی قسمت پر رشک آیا تھا۔۔ہزاروں آزمائشوں کے بعد بھی اللہ نے اِسے تنہا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔بلکہ اِس قدر خوبصورت دل کا شخص اُس کا نصیب ٹھرا تھا۔ ’’سمجھ رہی ہو ناں میری بات!اور امریکاکون سا دور ہے۔۔آتے جاتے رہیں گے۔‘‘وہ اُسے بہلانے کی غرض سے بولا تو وہ چہرہ اُٹھاتی مسکرادی۔ ’’عابثہ اور ارتضیٰ بھائی کا کیا چکر ہے۔کیا عابثہ بھی ہمارے ساتھ جارہی ہے؟‘‘ وہ سینے پر تھوڑی ٹیکاتی اشتیاق بھرے لہجے میں جانچتے لہجے میں بولی تھی۔۔۔ ’’ہمم !کیونکہ ارتضیٰ ہماری ہی وجہ سے وہاں گیا ہے۔۔اور اب میرا اِردہ عابثہ کو بھی ساتھ لے جانے کا ہے۔کیونکہ دادی جان تو کوئٹہ واپس جا رہی ہیں۔‘‘وہ بالوں کی جڑوں میں ہاتھ سہلاتا،اپنا پروگرام گوشے گزار کر رہا تھا۔۔ ’’کیا ارتضیٰ بھائی کو معلوم ہے؟‘‘اس نے آئی برو اُٹھائے۔۔ ’’نہیں اسے اسپیشل سرپرائز دیں گے۔‘‘ وہ نیلی آنکھوں میں شرارتی مسکراہٹ سموئے مزے سے بولا تو حیات کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’پاکستان بہت یاد آئے گا مجھے۔۔اور ہمارا یہ کمرہ بھی۔‘‘وہ یکدم اُداسی سے بولی۔ ’’اوفوہ لڑکی!میں تو اپنی پُرانی حیات کو بھولتا ہی جارہا ہوں۔پہلے تم صرف میری اور اپنی بات کیا کرتی تھیں۔اب بچوں کی،دادی کی عابثہ کی،گھر کی کمرے کی۔۔سب باتیں ہیں تمہارے پاس مگر میرے لئے وقت نہیں ہے۔‘‘وہ لمحوں میں خفا ہوا تھا۔ ’’’ایسی بات تو نہیں ہے۔۔میں بچوں کے ساتھ ساتھ ہمیشہ آپ کو بھی پورا وقت دیتی ہوں۔‘‘ حیات نے اُسے گھور کردیکھا تھا۔ جو فضول میں شوخا ہورہا تھا۔ ’’اچھا بھئی آپ کہتی ہیں تو مان لیتے ہیں۔۔میں تو ویسے بھی معصوم سا انسان ہوں۔بیوی سے ڈر کر ہی رہنے میں بھلائی ہے۔‘‘وہ اسے چھیڑنے کی غرض سے بولا اور وہ اس بار واقعی تپ گئی تھی۔ ’’آپ کتنے تیز ہیں افگن۔ہمیشہ سب کے سامنے ایسے ہی بات کرتے ہیں۔جیسے میں اکیلے کمرے میں آپ کی پٹائی لگاتی ہوں۔سب کیا سوچتے ہونگے میرے بارے میں۔۔۔جائیں میں ناراض ہوں آپ سے۔۔‘‘وہ اُس کے سینے پرنازک ہاتھوں کے مکے مارتی خفا سے لہجے میں بولتی بیڈ سے اُترنے لگی تھی۔جبھی وہ تیزی سے ہاتھ کھینچتا اِسے زبردستی قریب لٹاتا سینے میں بھینچ گیا۔۔کیونکہ اب اس کا خود کا بھی اس لڑکی کے بغیر گزارہ ممکن نہیں تھا۔۔۔ "کوئی کچھ نہیں سوچتا یار!!تم بس مجھ پر دھیان دیا كرو۔۔آئی لو یو!‘‘اُس کی مزاحمت گھمبیر لہجے کی سرگوشی پر اُس کی بانہوں میں ہی دم توڑ گئی تھی۔جس نے بہت محبت سے اُسے خود میں سمیٹ لیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیو یورک شہر میں جون کے ماہ میں ورلڈ بائی سیائیکل ڈے منایا جاتا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں سائیکل سوار سروں پر ہیلمٹ پہنے تیزی سے پیڈل مارتے جیتنے کی لگن میں ایک دوسرے کے پیچھے چھوڑتے بھاگے چلےجارہے تھے۔چالیس مائلز کی اس ریس میں کتنے ہی برجز،اسٹریٹز،اور دریاؤں کو پار کرتے لوگوں کا ایک جمع عفیر تھا جو کئی کلو میٹر کی اس ریس میں ان کے ساتھ ساتھ نظر آرہا تھا۔۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ نیو یورک اسٹریٹ پر کان میں لگے بلیو توتھ کے زریعہ پاکستان میں کال پر موجود دادی صاحب سے بات کرتا سائیکل سواروں کی ریلی کو دیکھ چند لمحوں کے لیے ٹھر گیا تھا۔ اسٹریٹ پول کے ساتھ کھڑے ہوتے ارتضیٰ عباس نے یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔جبھی کان میں گونجتی ایک شفیق سی آواز نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ "آپ ٹھیک تو ہیں ناں ؟"دادی کی فکر پر وہ مسکرایا۔ "الحمداللہ بالکل ٹھیک ہوں۔آپ فکر نہ کریں۔میں آجاؤنگا۔"وہ نرم لہجے میں بولا۔ "یہ عابثہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔"پاس بیٹھی وہ اپنے لب چبا رہی تھی۔ "دادو لوگوں کو بتا دیں میں ناراض ہوں۔"پاس بیٹھی وہ منہ بسورتی اس کی سرد آواز پر ُاٹھ کر چلی گئی تھی۔۔ ’’ بیٹاآپ پاکستان کب واپس آئیں گے؟‘‘ارتضیٰ نے ان کی پریشان آواز پر لب بھینچے ایک گہری سانس کھینچ کر فضا کے سُپرد کی۔۔ ’’بہت جلد۔۔ان شاءاللہ جلد ملاقات ہوگی۔‘‘وہ الوادعی کلمات ادا کرتا مگن سے آنداز میں اس خوابوں کے شہر کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرتا تمام فکروں پریشانیوں سے غافل ہوچکاتھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ اس وقت جون ایف کینڈی انٹر نیشنل آئیرپورٹ نیویارک پر موجود تھے۔ مسافرین کی ایک بڑی تعداد اپنے پیاروں کی تلاش میں متلاشی نگاہوں سے اِرد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔جبکہ وہ تینوں چونکہ ارتضٰی کو سرپرائز کرنے کے ارادے سے بغیر بتائے نیو یارک آئے تھے، تو اب وہ لوگ اپنی منزل تک باقی کا راستہ بھی خود ہی طے کرنے والے تھے۔۔نیویارک کا موسم خاصہ سُہانا تھا۔۔ابھی گرمیوں کے دن تھے۔۔مگر انہیں یہاں کا موسم پیارا ہی لگ رہا تھا۔۔ بلیو جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی شرٹ پر لانگ کوٹ پہنے حیات آئزل کو گود میں لئے مسکراتی ہوئی شیر افگن کی ہمراہی میں اس کا کندھا تھامےپر اعتماد آنداز میں قدم اُٹھا رہی تھی۔جس نے اپنے بیٹے کو کندھے سے لگایا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کے گھیرے میں عابثہ کو لے رکھا تھا۔اس نے بھی حیات جیسی
