Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
بعد سے ہم زیادہ ہی مصروف رهنے لگے ہیں۔۔ہے ناں۔۔ویسے یہ پائل بہت پیاری ہے بالکل میری طرح۔۔"وہ مسکرا کر دھیرے سے پائل پر ہاتھ پھیرتی شرارت سے بول کر کھڑی ہونے لگی تو اُس نے کندھوں پر ہاتھ جما کر، اُس کی کوشش نكام بنا دی تھی۔۔۔ "جاناں یہ پیاری سی پائل آپ صرف میرے لئے اور صرف اس کمرے کی حدود تک پہن سکتی ہیں۔۔"وہ لاک کھول کر پائل واپس کیس میں ڈالتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔حیات اپنے ہیرو کا پوسیوز انداز سے محظوظ ہوتی مسکراہٹ چھپا گئی۔جس نے آئی برو اُٹھائے۔۔ "کیوں مسکرا رہی ہو۔۔"خود کھڑے ہوتے ساتھ ہی ہاتھ تھام کر اسے ہی کھڑا کیا تھا۔۔جو دھیرے سے نفی میں سر ہلاتی سنگهار آئینے کے پاس آتی اپنا جوڑا سیٹ کرتی شانوں پر دوپٹہ ڈالے اس کے نزدیک آئی۔جو عین پیچھے کھڑا تھا۔۔اب اُن دونوں کا عکس آئینے میں واضح اور بے انتہا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ "اب اچھے لگ رہے ہیں ناں ہم۔۔۔میڈ فور ایچ آدر!!"وہ آنکھوں میں دلکش رنگ سجائے محبّت سے بولی۔۔جس نے اُسے تھام کر قریب کرتے پیشانی پر لب رکھے تھے۔۔ “I love you, not only for what you are but for what I am when I am with you." اس خوبصورت اظہار پر حیات کے دلکش چہرے پر شرم و حیا کے بہت سے رنگ رقصاں ہوئے تھے۔۔افگن نے بڑی دلچسپی سے اس کا یہ انداز دیکھا تھا۔۔جو کبھی کبھی ہی دیکھنا نصیب ہوتا تھا۔۔۔۔ "یار اب شرما کر بعد میں دکھالینا!میں تمہاری ان اداؤں کو فنکشن کے بعد سرہالونگا!کیونکہ بابا لوگ پہنچ چکے ہونگے اوراب ہمارے بچے،اپنے دادا دادی کو اچھا خاصہ تنگ کر رہے ہونگے۔۔یو نو زوجہ اب ہم دونوں ننھے فرشتوں کے ماں ،باپ بھی ہیں۔۔۔"وہ کان کے نزدیک بھاری لہجے میں سرگوشی کرتا حیات کو گڑبڑانے پر مجبور کرگیا۔۔۔ "ہاں!آپ کے خود کے جذبات جاگ رہے ہیں۔۔اور الزام مجھ پر لگا رہیں۔۔اب چلیں ،آپ کی بھانجی اور داماد ہمارا انتظار کر رہے ہونگے۔۔"وہ گھور کر تیز لہجے میں بولتی، ہاتھ تھام کر باہر کی جانب لے جانے لگی۔۔تو وہ قہقہہ لگاتا اُسکے ہمقدم ہوا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج عابثہ اور آرتضٰی عباس کے ولیمے کا فنکشن تھا۔۔جو شیرافگن کی غیرموجودگی اور حالات کے پیشِ نظر کافی مہینوں سے پینڈگ پر تھا۔۔اس تقریب میں شہر کی بڑی بڑی ہستیاں مدعو تھیں۔ہر سو خوشیاں اور مسکراہٹ رقصاں تھی۔ایسے میں سب کی توجہ کا مرکز صرف اُن دونوں کی چاند سورج کی جوڑی تھی۔جو ایک دوجے کے سنگ حسین اور مکمل تھے۔۔۔۔ "یار یہ تمہارا بھائی کہاں رہ گیا ہے۔۔۔"پیازی رنگ ڈیزائینر میکسی زیب تن کئے،ہیوی جیولری کے ساتھ،وہ بلیك ٹیکسڈو میں ملبوس ارتضیٰ کے حصار میں گھبرائی،شرمائی سی کھڑی تھی۔۔۔۔جس کی کرسٹل گرے آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔۔۔ "لو دلہے میاں تم نے یاد کیا۔۔اور ہم حاضر۔۔"اسٹیج پر چڑتا افگن شرآرت سے بولتا،اس سے بغل گیر ہوا تھا۔۔ساتھ ہی عابثہ کا ماتھا دھیرے سے سینے سے لگاکر اسے پیار کیا۔۔ "بڑی جلدی نہیں آگئے مامو سسُر صاحب؟"وہ ذرا طنزیہ بولا۔جبکہ حیات شرمائی شرمائی سی عابثہ کے پاس آئی تھی۔جو ہیوی میك آپ اور جیولری میں آسمان سے اُتری آپسرا لگ رہی تھی۔۔ "بس کیا کروں یار!میری بیوی لگ ہی اتنی حسین رہی تھی کہ یہاں آنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔۔"وہ مسلسل شرارت کے موڈ میں تھا۔جبکہ حیات جو عابثہ سے باتوں میں مصروف تھی ،افگن کی بے باکی پر سٹپٹا کر رہ گئی۔۔جبکہ آرتضی کا شرارتی قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ "افگن وہ میں بچوں کو دیکھ کر آتی ہوں۔۔کافی دِیر سے نہیں دیکھا میں نے۔۔"وہ اپنی جھینپ مٹاتی اسٹیج سے اتُر گئی تھی۔جبکہ وہ عابثہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔عابثہ نے چور نظروں سے ارتضٰی کو دیکھا جو اب اپنے کسی بزنس سرکل کے بندے کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔۔ "یار نہ دیکھو اس کی طرف کھائے گا نہیں۔۔۔اور ذرا کچھ کہ کر تو دیکھائے۔۔میں طبیعت ہرن کردونگا اس کمینے کی۔۔"اُس کے شرآرت سے بولنے پر عابثہ نے گھور کر دیکھا،مگر اپنے دلہن ہونے کا لحاظ کرتے جوابی کاروائی سے آجتناب ہی برتا تھا۔۔ "پیاری لگ رہی ہو۔۔۔بالکل میری ڈول جیسی۔۔"اگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر پیار کرتا وہ محبّت سے بولا۔۔جو اُس کے سینے سے لگی اپنے ماں باپ کو یاد کر ادُاس ہوگئی تھی۔۔مگر افگن کے ہولے سے سر تھپکنے پر وہ اپنے تاثرات پر قابوں کرچکی تھی۔۔۔ "چلو بھئی اب تم یہاں عابثہ کے ساتھ سکون سے بیٹھو۔۔میں ذرا اپنی بیوی کو منالوں۔دیکھو کیسے رُوٹھ کرسب سے پیچھے کی نشستوں پر جاکر بیٹھ گئی ہیں مادام۔ "وہ اس کا دور سے بھی اپنی طرف ناراضگی سے دیکھنا بھانپ چکا تھا۔ "ہاں جاؤ منالو اپنی روٹھی بیوی کو!ورنہ تمہاری تو راتوں کی نیند اُڑ جائے گی۔۔!اور ویسے بھی بیوی تو وہ تہوار ہے جو رُوز منانا پڑتا ہے۔۔۔"عابثہ کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کرتا،وہ آنکھوں میں معنی خیز سی شرارت لئے مبہم مسکراہٹ سنگ گویا ہوا تو عابثہ نے گھور کر دیکھا تھا۔۔ "ہاں یار صحیح بول رہا ہے۔۔ہائے ہم مردوں کے دُکھ۔۔حیات میری جان سُنو ناں۔۔"وہ حیات کو تیزی سے فرار ہوتا دیکھ ،جلدی سے اسٹیج سے اُترتا اس کی جانب بڑھا۔۔جو جان بوجھ کر لیڈیز کے ساتھ جاکر بیٹھ گئی تھی۔جبکہ وہ گھور کر دیکھتا اب اپنے دوستوں کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ایک ماہ بعد) کمرہِ عدالت ایک بار پھر سج گیا تھا۔آج احمر صفدر کی طرف سے گواہان اور ثبوت بھی موجود تھے۔۔ افگن اس وقت شدید پریشانی سے دوچار تھا۔ ’’آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہیں گے۔‘‘ افگن کی جانب سے موجود وکیل اب خاموش تھے۔جبکہ بازی یکدم پلٹ کرگیند احمر کے کوٹ میں جاگری تھی۔ افگن اس وقت شدید پریشان تھا۔اہم گواہ اُجالاخود اس دنیا میں نہیں رہی تھی۔۔جبکہ صفدر سلطان اُن کے پیش کردہ تمام گواہ اور ثبوتوں کو غلط ثابت کر چکا تھا۔انہیں کیس اپنے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا۔ ’’میں معزز عدالت سے اپنے موکل کی صفائی میں پیش کئے جانے والے ثبوت اکھٹا کرنے کے لئے مزید وقت دینے کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘ انہیں اس وقت تاریخ لینے کے علاوہ اور کوئی معقول حل نہیں ملا تھا۔اس سے قبل کہ احمر کا وکیل ضمانت کی درخواست کرتا سب ہی کسی آواز پر خاموش ہوگئے تھے۔۔ ’’اس کی ضرورت نہیں ہے وکیل صاحب!کیونکہ اس تمام قصے کی اہم گواہ یعنی میں حیات کاظمیٰ خود عدالت میں آگئی ہوں۔‘‘عقب سے اُبھرتی آواز پر سب کی گردنیں پیچھے کو گھومی تھیں۔۔افگن حیات کو دیکھ سٹپٹا گیا تھا۔ ’’محترمہ آپ کو جو بھی کہنا ہے وٹنس باکس میں آکر کہیں!‘‘ جج صاحب نے ذرا جانا پہچانا سا چہرہ دیکھ اجازت دی۔۔ ’’نہیں حیات !جاؤ یہاں سے۔۔یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔۔۔جسٹ گو!‘‘وہ اپنی جانب بڑھتے افگن کی التجائیں اور سخت نظریں نظر آنداز کرتی، قدم اُٹھاتی کٹہرے میں جا کھڑی ہوئی تھی۔ ’’محترمہ آپ کا نام!‘‘احمر کا وکیل جھٹ سوال جواب کرنا شروع کر چکا تھا۔۔جو انتہائی نفرت سے احمر کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ’’میرا نام حیات شیر افگن ہاشمی ہے۔۔۔شیر افگن ہاشمی کی بیوی! اور احمر سلطان کے ہاتھوں برباد ہونے والا ایک کھلونہ اس بساط کا اہم مہرہ ۔جس نے میری لاعلمی کا فائدہ اُٹھاتے ، میرا استعمال کر مجھے میرے ہی شوہر کا مجرم بنا دیا۔‘‘وہ تلخ لہجے میں بولی تھی۔افگن نے مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔ ’’حیات!بس خاموش ہوجاؤ۔۔۔۔ میں نے کہا ناں جاؤ یہاں سے۔ہم کوئی کیس نہیں لڑ رہے۔‘‘وہ شدید بے بسی سے بولا تھا۔ ’’کیوں ؟آپ کو انصاف نہیں دلانا مجھے،اُجالا کو،اور بہت سی
