Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
دینا نہیں بھولا تھا۔ ’’ایسی بات ہے تو بس میں اور میرا بیٹا !آج پوری رات جاگیں گے۔‘‘وہ مزے اس کے قریب تکیہ رکھ کر لیٹتی عالیحان کو اپنی گود میں ُاٹھا چکی تھی۔بچوں کو دیکھ کر صاف لگتا تھا کہ ان کا سُونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ’’تو تمہارا بیٹا کونسا تمہیں میرے عتاب سے بچا سکتا ہے۔‘‘ وہ استہزائیہ مسکرا ہٹ کے ساتھ گویا ہوا۔ ’’کیوں نہیں بچائے گا ضرور بچائے گا۔عالی مما کی جان بچاؤ گے ناں مما کو اپنے ظالم باپ سے۔‘‘ وہ دونوں کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھے اپنے بیٹے کو دیکھ شرارت سے بولی۔ ’’تمہارا بیٹا ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا ہے ڈرالنگ کہ یہ اپنے باپ کو ٹکر دے سکے۔۔اس لئے تم اپنی خیر مناؤ۔‘‘ وہ اُونگھتی ہوئی آئزل کو بیڈ کے پاس رکھے جھولے میں ڈالتا اب وہ باقاعدہ طور پر اس کی جانب متوجہ ہوا،جو شام سے اس سے چھپتی رہ رہی تھی۔اور کمرے کا رُخ ہی نہیں کیا تھا۔ ’’پہلے یہ بتاؤ صبح سے کہاں غائب ہو؟کچھ ہوش ہے تمہیں کہ میرا شوہر اور بچے کہاں ہیں؟‘‘اُس کی کلائی پکڑ کر ایک جھٹکا دیا تو وہ سیدھی سینے پر جا گری تھی۔۔حیات نے اچھنبے سے اپنی سیاہ بَڑی بَڑی آنکھیں کھول کر اس کے تیور ملاحظہ کئے۔ ’’کیا مطلب ہے۔مجھے پتہ ہے میرے بچے اپنے باپ کے ساتھ روم میں موجود ہیں۔۔اس میں کون سی نئی بات ہے؟‘‘وہ مزے سے تھوڑی اس کے سینے پر ٹکاتی اُلٹا آنکھیں نکال کر بولی تھی۔ افگن خاموشی سے کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا تھا۔اور پھر جھٹکے سے اُس کا رُخ بیڈ کی جانب پلٹتا وہ اس پر جھکتا بولتی بند کرگیا۔۔حیات اچانک افتاد پر گڑبڑائی مگر وہ اس کی شرارتی مسکراہٹ دیکھ دونوں ہاتھوں کو قابوں کرتا گھور کر بولا۔۔ ’’اور تمہارا شوہر جو کب سے تمہاری شکل دیکھنے کو بے چین تھا۔اس کا ذرا خیال ہے تمہیں؟‘‘اس بار اس کے گال پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتا ، اس کی ساری شوخی ہوا کرگیا۔شرم کے باعث حیات کا چہرہ تپ اُٹھا تھا۔مگر وہ گھورنا نہیں بھولی،اب مسکراہٹ نے افگن کے لبوں کا احاطہ کر رکھا تھا۔۔ ’’کیا ہوا!ابھی تو میں نے تمہیں سہی سے سزا بھی نہیں دی ہے۔اور تمہاری یہ حالت ہوگئی۔‘‘اسے نظریں گھماتا دیکھ،وہ معنی خیزی لہجے میں گویا ہوا۔وہ گھبرا کر اس کی اُلفت سے گھائل آنکھوں پر ہاتھ رکھتی آنکھیں میچ گئی ۔۔ تو افگن کا زندگی سے بھرپور قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے ساتھ!ورنہ میں ناراض ہوجاؤنگی۔۔‘‘وہ جلدی سے اُٹھ کر فرار ہونے کے بہانے تلاش کرنے لگی تھی۔جبھی وہ ایک بار اس پھر اس کی کلائی پکڑ کر خود پر گراتا خود میں سختی سے بھینچ گیا تھا۔ ’’میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی میری عزت پر بُری نگاہ ڈالے۔مگر احمر تمہارا مجرم تھا۔اسُے سزا دلانا تمہارا حق تھا۔۔آئی ایم پراؤڈ آف یو۔۔آئی لو یو مائی لو!‘‘اس کے محبّت و چاہت سے لبریز لفظوں پر حیات کو سکون اپنی رگ و پے میں اُترتا محسوس ہوا تھا۔جو اسے ہمیشہ کی طرح معتبر کرگیا تھا۔۔۔اُس کے سینے کو لبوں سے چھوتی وہ تیزی سے اُٹھ کر چہرہ اُس کےنزدیک لائی۔جس نے آئی برو اُٹھا کر سوالیہ استفسار کیا۔۔۔ ’’سچ میں ناراض نہیں ہیں ناں!‘‘اس کے بالوں سے کھیلتی وہ مان بھرے لہجے میں سوالیہ گویا ہوئی۔۔ ’’امم!تم مجھے عدالت جانے سے پہلے بتاسکتی تھیں، مگر تم نے نہیں بتایا۔ تو ہاں میں ناراض ہوں۔۔‘‘وہ ایک لمحے کو ٹھرا،حیات نے منہ بسورا۔ ’’مگر تم مجھے یہاں کس کر کے منا سکتی ہو ۔۔یو نو۔۔‘‘ وہ اپنے گال پر اُنگلی رکھتا ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا۔۔حیات کھلکھلاتی ہوئی ہلکی داڑھی والے گال پر اپنے لب رکھتی ہلکا سا بائٹ کر چکی تھی۔ ’’ جنگلی بلی!‘‘اس نے گھورا تو وہ مزید شرارت سے اُس کی ناک پر دانت گاڑتی اس کے سینے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی۔۔جبکہ افگن نے ساتھ بیٹھے عالیحان کو دیکھ حیات کے سر کی مانگ پر لب رکھتے آنکھیں موند لیں تھیں۔۔ جس کے آنے سے اُس کی زندگی میں بہار آگئی تھی۔ …………………………………… آج عباسی مینشن میں جشن کا سا سماں تھا۔عابثہ اور ارتضیٰ کی شادی کی پہلی سالگرہ تھی۔ارتضیٰ نے زیادہ مہمانوں کو مدعو نہیں کیا تھا۔بس گھر والے اور چند ایک دوست احباب ہی شامل تھے۔ عابثہ آج بہت اہتمام سے تیار ہوئی تھی۔کائی رنگ کی ساڑھی زیب تن کئے وہ انتہا کی دلکش لگ رہی تھی۔ اِرتضیٰ کی نظریں بھٹک بھٹک کر اُسی کے سراپے سے جااُلجھ رہی تھیں۔۔جس کا دو آتشہ حسن اُسے بری طرح گھائل کر رہا تھا ۔۔۔جبکہ وہ اس کے جذبوں کی لپک کر شرما کر نظریں چُرا لیتی۔وہ خود گرے کوٹ پینٹ میں ملبوس ہمیشہ کی طرح اپنی سحر انگیز شخصیت کے باعث عابثہ کو اپنے حواسوں پر چھایا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ’’چلو بھئی بچوں اب کیک کاٹ لو۔۔‘‘دادی بیگم نے اُن کی توجہ دلوائی جو باتوں میں مصروف تھے۔ ’’جی دادو میں تو کب سے کہ رہا ہوں ۔مگر یہ دونوں تو کسی کی سن ہی نہیں رہے ہیں ،میں اور میرے دونوں بچے تو کب سے کیک کے انتظار میں ہیں۔"چھوٹی سی آئزل کو افگن نے گود میں اُٹھا رکھا تھا۔جو جاگ کر پورا فنکشن مزے سے انجوائے کر رہی تھی۔۔جبکہ علیحان ڈبل پرام میں مزے سے سو رہا تھا۔۔۔ ’’پہلے صرف یہ اکیلا بھکڑ تھا۔اب مزید دو کا اضافہ ہوگیا۔‘‘ اینورسری کیک کے نزدیک آتے ارتضیٰ نے گھورا تو وہ قہقہہ لگا گیا۔ساتھ کھڑی حیات نے مسکرا کر افگن کو دیکھا۔جو نیوی بلیو کوٹ پینٹ میں ملبوس ہمیشہ کی مانند انتہا کا دلکش لگ رہا تھا۔جبکہ شیر افگن کی فرمائش پر وہ بھی سیاہ ساڑھی میں ملبوس خوب جچ رہی تھی۔آج بچوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری افگن کی تھی۔۔جیسے وہ بخوبی نبھا رہا تھا۔۔ ’’ہیپی اینورسری!‘‘ ڈھیروں تالیوں کی گونج میں دونوں نے کیک کٹ کیا تھا۔افگن نے آگے بڑھ کر محبت سے عابثہ کا ماتھا چوما تھا۔ارتضیٰ نے بغور یہ منظر دیکھا جبکہ عابثہ سب کی موجودگی میں جھجھک گئی تھی۔ ’’خوش رہو۔۔آباد رہو۔اور اب میرے بچوں کے کسی کزن کے بارے میں بھی سوچوں۔‘‘اُس کو اپنے حصار میں لیتا وہ ارتضیٰ کوچڑانے کی غرض سے بولا۔جبکہ عابثہ کا سانس خشک ہوگیا تھا۔اُس نے چور نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھا ۔جو اُسے ہی گھور رہا تھا۔۔ ’’اوئے خبر دار!جو تو نے میری بچی کو ایسے گھورا!مکا مار کر منہ کا نقشہ بگاڑ دونگا۔آفٹر آل اکلوتا ماموں سسُر ہوں میں تمہارا۔۔۔ اور پارٹنر تم کب سے اِس ڈائیناسور سے ڈرنے لگیں۔۔ میری جان پر یہ ڈر خوف زیب نہیں دیتا۔۔‘‘وہ ارتضیٰ کو دھمکاتا محبت سے بولا،حیات نے ا پنے شوہر کو آنکھیں دکھائیں۔عابثہ نے گڑبڑا کر اُس کی جانب دیکھا۔جو شاید نہیں یقیناً خفا ہوگیا تھا۔۔ ’’یار بیوی تم تو نہ گھورو مجھے۔ارتضیٰ کی طرح تھوڑی ہوں میں۔۔میں تو معصوم شریف سا شوہر ہوں۔۔ جو اپنی بیوی سے ڈر کر رہتا ہے۔‘‘اس کی دہائیاں عروج پر تھیں۔ سب کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔حیات نے شرمندگی سے ِاسے گھورا جو آنکھ مارتا اِسے گڑبڑانے پر مجبور کر گیا۔ ’’ چلو بھئی بچوں۔رات بہت ہوگئی ہے۔۔دادی کے سونے کا وقت ہورہا ہے۔کھانا کھالو۔ورنہ ہم تو چلے جائیں گے بھئی۔‘‘ انہونے سب کی توجہ دلائی تو سب ہنستے مسکراتے ڈائننگ آیریا کی جانب بڑھے تھے۔جبکہ عابثہ کاتو سانس سینے میں اَٹکا تھا۔اِرتضیٰ اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔۔ انہی ہنسی قہقہوں میں ایک خوبصورت شام اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔۔
