Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
حیات شیرافگن ہاشمی" سُرخ روشنی میں جهلملاتے حرف،ٹیبل پر رکھا لاوا کیک اور وہاں سائیڈ میں ہوئے انتظام کو دیکھ وہ ایکسائیٹڈ سی نزدیک گئی تھی۔۔ "Happy Birthday To you Jana" آئزل کو اپنی گود میں لیتا وہ حیات کی پیشانی پربوسہ دیتا بہت محبّت سے بولا تھا۔۔حیات کی آنکھیں جهلملا گئیں تھیں۔۔ "تھینکیو افگن!!میں تو بھول ہی گئی تھی کہ آج میرا برتھ ڈے بھی تھا۔" "مگر جاناں مجھے تو یاد تھا ناں۔۔"وہ اُسکا گال چھوتا محبّت سے بولا۔ "یہ میڈم ہے ناں۔۔جب سے یہ آئی ہے مجھے کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔۔دیکھیں ابھی بھی اس لڑکی نے ہمیں پرائیوسی نہیں دی۔۔بلکہ آج جان بوجھ کر جاگ رہی ہے۔۔!"وہ باپ کے گلے سے لگی آئزل کے گلابی گالوں پر بوسہ دیتی شرآرت سے بولی تھی۔۔ "غلطی میری بیٹی کی نہیں تمہاری ہے۔اور اب تو ہمارے ہر اسپیشل مومنٹ میں میری سویٹ ہارٹ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوگی۔۔ ۔"افگن اپنی بیٹی کو مزید خود میں بھینچتا مزے سے بولا۔۔جو ڈم لائٹس میں منور ٹیرس پر جگمگاتی روشنیاں دیکھ خود بھی مُسکرائی تھی۔۔ "چلیں پھر جلدی سے کیک کٹ کرتے ہیں۔ورنہ تھوڑی دِیر میں آپ کی بیٹی کو نیند آنے لگے گی۔"حیات کی شرآرت پر اُسے اپنا حصار میں لیتا وہ اب کیک حلال ہونے کا منتظر تھا۔۔جو اُس کے ساتھ کیک کٹ کرتی،پہلے تھوڑا سا افگن اور آئزل کو کھلاتی باقی اپنے منہ میں ڈال چکی تھی۔۔ تھینکیو میری زندگی میں آنے کے لئے اور ان دو پیارے پیارے اینجلز کے ساتھ،میری زندگی کو اس قدر خوبصورت اور حسین بنانے کے لئے۔۔"گود میں موجود آئزل کوکندھے سے لگاتا دوسرے ہاتھ سے حیات کی کمر کے گرد گھیرا ڈال کر اپنے نزدیک کرتا،پیشانی سے پیشانی ٹیکائے جنون خیز لہجے میں بولا تھا۔۔ "کچھ کہوگی نہیں۔۔"جب وہ دونوں کافی دیر تک اس خاموشی کو محسوس کرتے رہے تو افگن دھیرے سے بولا۔۔جو بغیر کچھ کہے سینے سے آلگی تھی۔۔ "آئی لو یو!!"دھیمی سی سرگوشی کرتی وہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی۔جو اپنی محبّت کا عملی جواب دینے کے لئے دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکا تھا۔۔اور وہ گلے میں بانہیں ڈالتی سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔آئزل اس کے گلے سے لگی شاید سو چکی تھی۔۔۔۔۔ "افگن یہ سو گئی ہے۔۔"جب کچھ لمحے خاموشی سی کی نظر ہوگئے تھے۔وہ آئزل کو سوتا دیکھ مسکرا کر بولی۔۔ "همم!! میری سویٹ ہارٹ نے سوچا کہ چلو تھوڑا وقت ماما،بابا کو بھی ساتھ میں گزارنے دیا جائے۔۔اسی لئے جلدی سوگئی۔۔۔"وہ شرآرت سے بولتا اپنی گڑیا کو بیڈ پر لٹانے کی غرض سے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ حیات وہیں کھڑی کارڈز وشز ریڈ کر کے زیِر لب مسکرائی تھی۔۔اس کی سنگت میں اس کا کھڑوس شوہر اچھا خاصہ رومینٹک ہوگیا تھا۔۔ "اتنا کیوں مسکرایا جارہا ہے جاناں!!وہ روم سے ایک موٹی چادر ساتھ لے آیا تھا۔۔اور اب زمین پر بیٹھاتا وہ حیات کو اپنی آغوش میں لئے بیٹھا تھا۔ "بس ویسے ہی اچھے خاصے رومینٹک ہوگئے ہیں آپ بھی۔۔"حیات کی شرارت پر اس نے مسکراہٹ ضبط کرتے گھور کر دیکھا۔۔ "سدھر جاؤ جانم!ورنہ جس دن میں بگڑ گیا ناں تو اُس دن تم بہت پچھتاؤگی۔"وہ معنی خیزی سے بولا تو وہ ذرا اونچی ہوتی اس کی آنکھوں میں جھانک کر گویا ہوئی۔۔ "میں پچھتانے کو تیار ہوں۔۔" اسکی بے باکی پر افگن نے قہقہہ لگاتے خود میں بھینچا،جو ابھی سے اس کی قربت پر سُرخ پڑ گئی تھی۔۔ "میرا گفٹ!" "اہمم!ویسے تو تحفے کے نام پر پورا کا پورا افگن ہاشمی ہی تمہارا ہے۔۔مگر پھر بھی صرف تمہارے برتھ ڈے کے لئے فی الحال یہ۔۔"اس نے پاکٹ سے HA الفابیٹ کا پیارا سا ہارٹ شیپ لاکٹ نکال کر اس کے گلے میں پہنایا تھا۔ساتھ ہی اپنے لب رکھے تھے۔۔ "افگن ہاشمی کے ساتھ ساتھ یہ تحفہ بھی بہت پیارا ہے۔۔اس کی ہلکی بئیرڈ والے گال پر لب رکھتی محبّت سے بولی تھی۔ "تو اب ذرا مجھے بھی کوئی تحفہ دے دو جاناں!!!"اسے خود میں بھینچتا جھٹکے سے گود میں اٹھاتا رُوم میں آیا تھا۔۔۔جہاں ان کے دونوں بچے سکون کی نیند سو رہے تھے۔۔افگن کے سینے سے لگی حیات دھیرے سے مسکرا کر آنکھیں موند گئی۔۔جہاں اب بس خوشیاں ہی خوشیاں اُن کی منتظر تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج شیر افگن کی فوڈ چین کی ایک کڑی یعنی’’ افگن اینڈ سنز سلور اسپون ‘‘ رسٹورنٹس کی ایک برانچ نیو یارک میں بھی اوپن ہونے جارہی تھی،جس کی آج گرینڈ اوپننگ تھی۔افگن پاکستان میں تو اپنا لوہا منوانے کے بعد عرب ممالک میں بھی اپنے روایتی کھانوں کی دھاک بیٹھا چکا تھا۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے گروسری اسٹورز کی ایک برانچ یہاں بھی کھولنے کا ارادہ تھا۔جو بزنس فی الحال پاکستان اور دبئی تک محدود تھا۔۔جبکہ اب نیو یارک کی باری تھی۔جہاں وہ اب خود تمام معاملات دیکھنے والا تھا۔ وہ سب خوش تھے۔افگن حیات کوتمام مینجمنٹ کے بندوں سے انٹرڈیوس کرارہا تھا،جو زیادہ تر پاکستانی اور انڈینز پر مشتمل تھی۔ ’’افگن لیکن آپ نے کہا تھا کہ یہاں ہم کچھ نیا ٹرائے کریں گےتو پھر پاکستانی کھانے کیوں؟‘‘آہستہ آہستہ لوگوں کی آمد و رفت بڑھنے لگی تھی۔ ’’ارے میری پیاری زوجہ!سب کچھ تو ہے یہاں۔تو پھر اس سے زیادہ نیا کیا ہوسکتا تھا۔۔ ہم یہاں سب سے زیادہ اپنے پاکستانی کھانوں کو ہی مس کرنے والے تھے۔۔تو اب میں نے مسٔلہ ہی کر دیا۔ویسے یہاں اور بھی رسٹورنٹس ہیں۔مگر ہمارے والے کی بات الگ ہے۔‘‘وہ ایک گہری مسکراہٹ سمیت بولا تو وہ ’’اوہ ‘‘کرتی مسکرادی تھی۔۔۔۔۔ ارتضیٰ اور عابثہ کسی گورے کی فیملی کے ساتھ بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔۔ عابثہ کی تمام پراپرٹی سے عابثہ کی مرضی کے تحت یتیم خانے اور اسکول بنوائے جارہے تھے۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ جیسی زندگی اس نے گزاری اب کوئی دوسرا بھی اسے ہی حالات کا سامنہ کرتا۔۔زندگی حسین تھی۔۔ مکمل۔۔ ہر احساس دلفریب تھا۔۔ حیات نے محبت سے اپنے محرم کو دیکھا تھا۔جو ہزار آزمائشوں کے باووجود اول دن سے اس کے ساتھ کھڑا تھا۔بلا شبہ نکاح سے زیادہ مضبوط رشتہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ پہلے بیوی،پھر محبوبہ اور پھر شیر افگن کے بچوں کی ماں،وہ اس کے دل کی واحد ملکہ تھی۔جو پورے حق سے اس کے دل کے اس حصے میں براجمان تھی جہاں کوئی نہ تھا۔ نہ ہی کوئی آسکتا تھا۔شیر افگن کسی فینٹسی کہانی کا ہیرو نہیں تھا جو ناراض نہیں ہوتا تھا یا غصے کا اظہار نہیں کرتا تھا۔کیونکہ وہ حیات کی زندگی کا واحد مرد اور اس کی کل کائنات تھا جس کے ساتھ پوری زندگی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر یہ طویل سفر طے کرنا تھا۔۔ خیالی دنیا تو کچھ لمحوں کی ہوتی ہے جو غائب ہوجاتی ہے۔کھو جاتی ہے۔۔اپنا سحر گنوا دیتی ہے ۔۔مگر یہ حیات کی زندگی تھی اور افگن اس کا شوہر،اس کا ہیرو جو صدا یونہی رہنے والا تھا۔ہمیشہ اس کا اچھا دوست،اس کا محبوب ،اس کا عاشق بن کر۔۔ہاں وہ کسی پاگل ۔بیوقوف ،دیوانی سی حیات کاظمیٰ کا عاشق نہیں تھا۔۔مگر وہ اپنی زندگی،اپنے جینے کی وجہ،سانسوں سے قریب اپنے بچوں کی ماں حیات شیر افگن کے عشق میں بُری طرح مبتلہ تھا۔۔عشق ایک ایسا مرض جو لاعلاج ہے۔۔۔ ’’ یار دیکھو اپنی بھانجی کو۔۔یہ پاکستان نہ جانے کی ضد کر رہی ہے۔بھئی اسے بتاؤ کہ نیکسٹ ویک کی ہماری فلائٹ ہے۔اور پھر دادو کے ساتھ ہم نے حج ادا کرنا ہے ان شا اللہ۔۔پھر تم لوگ بھی تو آتے جاتے رہو گے ناں۔‘‘ارتضیٰ نے عابثہ کی ضد پر شیر افگن سے شکایت لگائی۔افگن اور حیات ایک
