Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Last Episod
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 19/10/2025
9 Views
Last Episod
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی آخری قسط (حصّہ اول ) وقت تیزی سے پر لگا کر ُاڑ گیا تھا۔ڈاکٹرز نے حیات کو ڈیلیوری کی ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ دی تھی۔وہ آج کل افگن کو بہت زیادہ یاد کر رہی تھی۔۔ان چند مہینوں میں عابثہ اور ارتضیٰ بھی اس سے کئی بار ملنے آئے تھے۔ناصر صاحب ہر دوسرے دن اس کی خیریت پوچھنے آتے تھے۔۔ اور گزشتہ روز تو وہ اُسے ساتھ گھر واپس لے جانے کے لئے آئے تھے۔۔مگر وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔اس لئے جانے سے انکار کردیا۔۔ناصر صاحب نے بھی زیادہ فورس نہیں کیا تھا۔۔البتہ وہ اُس کی سہولت کے حساب سے ضرورت کی تمام اشیاء یہیں فراہم کرنے کا انتظام کرواکر گئے تھے۔۔تاکہ حیات کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔۔۔مگر جس شخص کی کمی وہ شدّت سے محسوس کر رہی تھی۔۔بس ایک وہی تھا،جوکہیں بھی نہیں تھا۔۔ رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔شہر میں تیز طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔ کھڑکیوں کے پٹ کھُلے ہوئے تھے۔اُس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اُٹھ کر کچھ بھی کر سکتی۔ آج وہ ستمگر شدتوں سے یاد آرہا تھا۔شیرافگن کو یاد کرتی، وہ مسلسل آنسو بہارہی تھی۔۔ اور اب رُوتے رُوتے ہی کب آنکھ لگی۔اُسے پتہ ہی نہ چل سکا۔۔۔ رات کا نجانے کُونسا پہر تھا۔۔جب اُسے اپنے ماتھے پر شناسہ لمس محسوس ہوا تھا۔وہ نیند میں کُسمسائی۔اور پھر یہی یخ بستہ سا لمس اپنے پورے چہرے پر بھی محسوس ہوا تھا۔۔ وہ خود میں سکون اُترتا محسوس کر رہی تھی۔۔ شدید خمُاری میں ڈوبی آنکھیں دھیرے سے وا کیں تھیں۔۔روزانہ کی طرح آج بھی شیر افگن اُس کے خواب میں آیا تھا۔۔ مگر آج وہ آنکھیں کھولنے پر بھی غائب نہیں ہوا تھا۔۔وہ نیم وا آنکھوں سےمسلسل اُس کا زخموں سے چور چہرہ تک رہی تھی۔۔اپنی کئی دنوں کی تشنگی مٹا رہی تھی۔ جبکہ وہ اُسکے ممتا کے احساس سے روشن چہرے کا ایک ایک نقش اپنے تشنہ،لبوں سے چھوتا اب بہت نرمی سے اپنے حصار میں لیتا خود میں بھینچ گیا تھا۔۔جبکہ وہ اُسکی موجودگی کے خوبصورت احساس پر سینے سے لگی، آنکھیں موند گئیں۔مگر جب وہ مسلسل اس کی ہتھیلی پر پیار کرتا رہا تو وہ بامشکل بولنے کے قابلِ ہوئی تھی۔ ’’افگن!‘‘اُس نے ہولے سے پُکارا تھا۔ ’’ہممم!‘‘اِس بار اُس کی پکار رائیگا نہیں گئی تھی۔ ’’آپ واپس آگئے ناں!‘‘وہ لہجے میں بہت آس سمو کر بولی تھی۔افگن نے سینے سے لگی حیات کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں محبت سے بھرا تھا۔۔ ’’ ہاں!میں نے کہا تھا ناں کہ میرے آنے تک اپنا خیال رکھنا۔۔اور کہیں مت جانا۔مگر تم نے میری بات نہیں مانی۔‘‘ وہ ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا۔۔وہ جو پوری آنکھیں کھولے کتنی دِیر بے یقینی سے اِسے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔اور پھر ُاس کا چہرہ ہاتھوں سے چھوتی سسک اُٹھی تھی۔جس کے چہرے پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔مگر وہ ابھی تک اس کی موجودگی کاہی یقین نہیں کر سکی تھی۔تو زخموں کو کہاں دیکھ پاتی۔۔ ۔افگن اِس کی حالت سمجھ رہا تھا۔جبھی اُسے سینے سے لگاتا اپنے ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔۔جو مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔۔وہ ابھی بھی لاشعور میں اُس کی موجودگی کو اپنا وہم سمجھ رہی تھی۔۔۔ ’’میں ۔۔۔سب کہ رہے تھے کہ آپ کا ایکسیڈینٹ۔آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ یہ سچ نہیں تھا۔۔مجھے معلوم تھا ۔۔آپ ضرور واپس آئینگے۔۔‘‘وہ مسلسل رُوتی ہوئی مٹھیوں میں سختی سے اُس کی شرٹ جکڑے اس کا سینہ بھگو چکی تھی۔۔جبکہ وہ اس کی حالت کے خیال سےمسلسل اُس کے آنسو پونچھ رہا تھا۔۔۔۔ ’’حیات!میری جان۔۔میں نے کہا تو تھا کہ میں جلد واپس آجاؤنگا تو پھر پریشان ہونے کی کیا بات تھی۔اور پلیز چپ ہوجاؤ۔۔ورنہ تمہاری طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔‘‘اب وہ اُسے خود سے جداکرتا نرمی سے بولا،جو نیم آندھیرے کمرے میں بامشکل آنکھیں کھولے اُس کی شرٹ سختی سے تھامے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔۔جیسے وہ ابھی دور چلا جائے گا۔۔ ’’حیات!بس چپ ہوجاؤ۔خاموش!اب آگر روئیں نہ تو میں ناراض ہوجاؤنگا۔‘‘ اُس نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر دھمکی دی جو کارگر ثابت ہوئی تھی اور وہ تیزی سے آنسو پونچھتی خاموش ہوتی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔ ’’نہیں !میں نہیں رونگی اب پکاّ۔۔آپ یہیں رہیں میرے پاس۔۔‘‘وہ کھسک کر نزدیک ہوتی اس کے سینے سے سر ٹیکاتی آنکھیں موند گئی۔۔وہ اُس کے بالوں میں انگلیاں چلتا شدید کرب میں مبتلہ تھا۔۔اُس کی ذہنی حالت دیکھ اُسے ایک بار پھر دُکھ نے آن گھیرا تھا۔۔ وہ واقعی پاگل،دیوانی تھی۔۔سینے پر اس کی بھاری سانسیں محسوس کر سر جھکا کر دیکھا جو سکون پاتے ہی سو گئی تھی۔۔مگر اس کی شرٹ کو سختی سے تھام رکھا تھا،بے ساختہ ہی افگن کے لب مسکرائے تھے۔اوشن بلیو آنکھوں میں جنون اُبهرا تھا۔مگر فی الحال وہ ضبط کرگیا تھا۔۔ ’’ میری پاگل،دیوانی حیات !‘‘وہ اُسے تکیے پر منتقل کرتا خود بھی اس بیڈ پر ایڈجسٹ ہوگیا تھا۔۔حیات کے سارے بال تکیے پر پھیلے ہوئے تھے۔اُس نے بغور اُس کے وجود کا جائزہ لیا تھا۔۔جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور تھوڑی سی زیادہ ہیلدی ہوگئی تھی۔گھنی پلکیں آنسوؤں سے نم تھیں۔۔پھولے پھولے سُرخ رخسار اُسے شرارت پر اُکسا رہے تھے۔وہ دھیرے جھکا تھا اور نرمی میں اِنہیں چھوتا اُسے اپنے حصار میں لیتا آنکھیں موند گیا۔۔کل صبح انہیں کراچی کے لئے نکلنا تھا۔۔ کیونکہ اب وہ مزید حیات کو یہاں نہیں رہنے دے سکتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح فجر میں حیات کی طبیعت کی ناسازی کے باعث وہ فوری ہسپتال پہنچے تھے۔جس کی اچانک ہی طبیعت بگڑ گئی تھی۔۔ویٹنگ آئیریا میں موجود شیر افگن کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی۔آہستہ آہستہ سب لوگ وہاں پہنچ گئے تھے۔۔۔ چند گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد داکٹر نے اُسے جڑواں بچوں کی پیدائش کی خوشخبری سُنائی تھی۔۔یہ خبر اُس کے لئے حیران کُن تھی۔اس بارے میں تو کسی نے اِسے کبھی کچھ نہیں بتایا تھا۔تکلیف اور خوشی کی ملی جلی سی کیفیت میں آنکھیں جِھلملا گئیں تھیں۔۔ ’’مبارک ہو بھئی!‘‘ارتضیٰ اور عابثہ کچھ دِیر پہلے ہی ہسپتال پہنچے تھے۔۔ حیران سے شیرافگن کے گلے لگتا ارتضیٰ اُسے خوشی سے خود میں بھینچ گیا۔ ’’خیر مبارک!تجھے بھی مبارک ہو۔ڈاکٹر میری وائف کیسی ہیں۔‘‘وہ مُسکراتی ہوئی لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ جلدی سے بولا۔ارتضٰی نے اُس کی حالت دیکھ مسکرا ہٹ ضبط کی تھی۔۔ ’’وہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔آپ کچھ دیر میں اُن سے مل سکتے ہیں۔‘‘ڈاکٹر پروفیشنل مسکراہٹ پاس کرتی چلی گئیں تھیں۔جبکہ وہ ابھی تک خوشی اور حیرانگی کی ملی جلی کیفیت سے دوچار کچھ بول ہی نہیں سک رہا تھا۔کتنی ہی بار آنکھیں جھپک کر خوشی کے آنسو خود میں اتارے تھے۔۔نیلیِ آنکھوں میں اب اپنی شریک حیات سے ملنے کی ٹرپ واضح تھی۔۔پانی کی بوتل لاتے ناصر صاحب نے بھی تیزی سے اگے بڑھ اُسے گلے لگایا تھا۔۔ "مبارک ہو تم پایا اور یار میں دادا بن گیا۔۔۔"وہ بیٹے کے گلے لگے فرطِ جذبات سے بوجهل لہجے میں پُرمسرت انداز میں بولے تھے۔۔وہ دِھیرے سے مُسکرایا۔۔ "تم ٹھیک ہو ناں!!"ناصر صاحب کی کھوجتی نظروں سے نظریں چرائیں تھیں۔۔اس کی دلی کیفیت صرف وہی سمجھ سکتے تھے۔۔جبکہ اب اُس کی نظریں زرین بیگم اور عابثہ کی گوُد میں گلابی اورنیلے کمبل میں لپٹے اپنے بچوں پر تھیں۔ ’’یہ لو بھئی!تمہاری اور حیات کی فیملی تو کمپلیٹ ہوگئی۔۔تم ایک پیارے سے شہزادے ور گڑیا کے بابا بن گئے ہو۔‘‘زرین نے مسکراکر بولتے،گلابی کمبل میں لپٹی گُل گوتھنی سی بچی کو اُس کی گُود میں ڈالا تھا۔۔اتنی آزمائشوں کے بعد ایک ساتھ اتنی بڑی بڑی خوشیاں ملنے پر، اُس کی
