Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
پر تو شاید کبھی بھی نا ملتی۔ اور پھر اپنے اور اس کے لئے دو گلاس جوس نکال کر ٹیبل پر رکھا۔۔ شایان نے اورینج جوس کا خالی گلاس ٹیبل پر رکھ کر اس کا اترا ہوا منہ دیکھا۔جو شکل ایسے بنا رہی تھی جیسے کسی قہت زادہ علاقے سے ابھی ابھی آئی ہو۔۔ "میں یونیورسٹی جا رہا ہوں۔واپسی پر شام ہو جائے گی۔میں دو پہر میں پزا آرڈر کر دوں گا۔پوچھ کر دروازہ کھولنا۔جب تک میں نا آؤ کہیں آنے جانے کی ضرورت نہیں۔۔"شایان نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر حکم صدر کرتے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔ ۔ سمبل کو کہاں جانا تھا۔دروازہ بند کرکہ کچن کو یونہی چھوڑ کمرے میں جا کر بستر پر لیٹ گئی۔فلحال نیند بہت ضروری تھی۔۔ _______ "تو پھر تم نے کیا سوچا اس جاہل کے بارے میں شایان۔۔"ماہی آج صبح سے ہی شایان کا لیا دیا سا انداز دیکھ رہی تھی۔۔ "سوچنا کیا ہے یار!!بیوی ہے وہ میری۔۔"شایان نے بیزاری سے کہا تھا۔۔ "میرا مطلب ہے۔شادی تو ہوگئی ہے نا تو اب ہمارے بارے میں کیا خیال ہے۔دو ماہ بعد یونیورسٹی بھی ختم ہو جائے گی۔"ماہی کے انداز میں الگ ہی میٹھاس تھی۔اپنے سلکی بالوں کی ایک لٹ انگلی پر لپیٹ کر ایک ادا سے کہا۔۔ "صبر کر جاؤ ابھی۔ابھی دو دن ہی ہوۓ ہیں شادی کو ولیمہ ابھی رہتا ہے۔سمبل کافی سمجھدار ہے۔میں اسے سمجھاؤ گا وہ یقیناً ضرور مان جائے گی۔۔"شایان نے کوک کا ایک سپ لے کر تحمل سے کہا۔۔ "کیا سمجھاؤ گے۔۔"سمبل کی تعریف خاصی ناگوار گزری تھی۔ "یہی کہ وہ اور میں دو الگ الگ مزاج کے لوگ ہیں۔ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔"شایان کے لہجے میں اطمینان تھا جو ماہین کو بری طرح کھٹک رہا تھا۔۔ "اور تمھیں لگتا ہے وہ مان جائے گی۔"ماہی نے ایک آئبرو اٹھا کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔ "بلکل مان جائے گی۔ویسے بھی کوئی بھی انسان کسی کی بھی زندگی میں ایک ناپسندیدہ شخصیت بن کر نہیں رہنا چاہتا۔۔"شایان نے چپس اٹھا کر منہ میں رکھ کر کہا۔۔ "خیر تم فکر نہیں کرو۔میں جلد ام خانم اور سمبل کو سمجھا لوں گا تم بس اب اپنی فیملی کو راضی کرو۔انہیں تو میری پہلی شادی سے کوئی اعترض نہیں ہوگا نا۔"شایان نے اب بات کا رخ دوسری جانب کیا تھا۔۔ "افکورس ناٹ۔"میرے گھر والے اتنی چیپ ذہنیت کے مالک نہیں ہیں۔کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایشو بنائیں۔"ماہین نے کاٹ دار لہجے میں کہا تھا جو شایان کو ذرا محسوس بھی ہوا تھا۔جیسے وہ اس کے گھر والوں پر طنز کر رہی ہو۔مگر اس کے نارمل تاثرات دیکھ خاموش ہی رہا۔۔ "اچھا چلو تم اپنی باقی کی کلاسز لو۔مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے۔پھر کل ملاقات ہوتی ہے۔"شایان مزید اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر قدم اٹھاتا۔کینٹین عبور کر گیا۔۔ ماہین بھی بے نیازی سے کندھے اچکاتی چپس کھانے میں مگن ہوگئی۔ ہیلو!!بیوٹیفل۔۔"شایان کو نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اس کا کلاس فیلو شایان کی چھوڑی ہوئی جگہ پر ساتھ آکر بیٹھ گیا۔جسے ماہی نے بھی خوش دلی سے ہیلو کہا۔۔ "تم تو ہر وقت اس شایان خانزادہ سے ہی چپکی رہتی ہو۔کبھی ہم سے بھی بات کر لیا کرو۔"نومی نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔تو ماہی اپنے چاہنے والوں کی لائن دیکھتی قہقہہ لگا اٹھی۔۔ "اچھا ایسی بات ہے۔تو کیا میں آج کا لنچ تمہاری طرف سے سمجھوں۔۔"ماہین نے ایک ادا سے بال جھٹک کر آنکھیں گھومائیں۔ "ضرور بیوٹیفل کیوں نہیں۔نا چیز کو بھی اپنی خدمت کا موقع دیں۔"نومی کی کو خواہش بر آئی تھی۔۔ "تو پھر چلو۔۔"ماہین مسکرا کر فوری کھڑی ہوئی تھی۔ نومی نے بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر قدم آگے بڑھاۓ۔ اب وہ دونوں کسی قریب ہی اچھے سے ریسٹورنٹ لنچ کے لئے جا رہے تھے۔تاکہ تھوڑا ٹائم ساتھ سپینڈ کر لیا جائے۔۔۔ __________ سمبل انگڑائیاں بھرتی ہوئی نیند سے بیدار ہوئی، اپنے ارد گرد نظر گھما کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکتے کال ہسٹری چیک کی، جہاں فی ا لحال شایان کا کوئی میسج نہیں تھا۔موبائل پر سائیڈ پر رکھ کر گھڑی پر نظر دوڑائی جو دوپہر کہ تین بجا رہی تھی۔ افف اللّه میں اتنا زیادہ کیسے سو گئی۔"سمبل جلدی سے کمبل ایک طرف کو پھنکتی اٹھ کر واشروم کی جانب بھاگی۔منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی اور ساتھ ہی قدم کچن کی جانب بڑھاۓ جہاں صبح کہ ناشتے کہ گندے برتن اس کا منہ چڑھا رہے تھے۔ ایک گہری سانس بھرتی سمبل پھیلے ہوے کچن کو سمیٹنے کی غرض سے آگے بڑھی۔محض پندرہ منٹ میں وہ پورا کچن چمکا چکی تھی۔پیٹ میں ڈورتے چوہوں سے تنگ آکر فرج کھول کر دو سیب اور چھری پلیٹ میں رکھتی وہیں لاونج میں آگئی ساتھ ہی ایل ای ڈی کو آن کرتے وقت گزاری کے لئے چینل سرچنگ کرتے پاکستانی ڈرامے دیکھنے میں اتنی محو تھی کے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں لگا۔سامنے گھڑی پر نظر پڑی جہاں کچھ دیر میں عصر ہونے والی تھی۔سمبل کو ذرا حیرانی ہوئی تھی۔شایان نے تو کہا تھا کہ وہ اس کے لئے پیزا آرڈر کردے گا۔لیکن یہاں تو ایسا کوئی سین ہی نہیں تھا۔اب تو بھوک بھی شدّت اختیار کر چکی تھی۔سمبل کو شایان پر شدید قسم کا غصّہ آرہا تھا جو صبح سے اسے یہاں بھوکا پیاسا چھوڑ کر اپنی ہی دنیا میں مگن ہوگیاتھا۔۔۔ سوفے پر پیر پسار کر بیٹھی سمبل اپنی ہی دنیا میں مگن تھی جب کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔سمبل چونک کر کھڑی ہوئی دو قدم آگے بڑھا کر سامنے نظر ڈالی جہاں شایان ہاتھ میں بہت سی کھانے پینے کی چیزوں سے بھرے شاپر لیکر اندر داخل ہو رہا تھا۔۔ السلام علیکم!!سمبل نے اس کے ہاتھ سے سامان لے کر سلام جھاڑا۔۔ وعلیکم السلام !!شایان ایک گہری سانس بھرتا وہیں سوفے پر ٹک گیا تھا۔۔ سمبل نے ایک سرسری سی نگاہ تمام سامان پر ڈورآئی جس میں کچن کا سامان اور بھی بہت سی ضرورت کی چیزیں شامل تھیں۔۔ "یہ سب اٹھا کر کچن میں رکھو۔اور رات کے لئے اس میں سے جو دل چاہے بنولو۔۔"اپنی طرف سے شایان نے احسان ہی کیا تھا۔۔ صرف رات کے لئے اور میں جو یہاں صبح سے بھوکی بیٹھی ہوئی ہوں۔اس کا کیا۔۔"سمبل کو بھی تپ چڑ گئی تھی۔۔ "کیا مطلب ہے بھوکی بیٹھی ہوئی ہوں۔چھوٹی بچی ہو جسے کوئی اور اکر فیڈر دے گا۔کچھ منگوا کر کھا لیتیں۔"شایان نے ذرا نا گواری سے طنزیہ لہجے میں ٹوکا۔۔ کیا منگوا لیتی؟؟آپ نے کہا تھا میں پزا آرڈر کر دوں گا۔پر یہاں تو اب تک کوئی پزا والا نہیں آیا آپ کا۔۔"سمبل نے غصّہ سے ماتھے پر تیوری چڑھاۓ کہا۔۔ شایان کو ذرا حیرانی سی ہوئی۔پھر یاد انے پر ایک دم اپنی نادانی پر ماتھا مسلتا رہ گیا۔وہ تو یہ بات بلکل بھول ہی گیا تھا کہ صبح سمبل کو وہ آرڈر کرنے کے بابت کہہ آیا تھا۔اور وہ اس کہ انتظار کر رہی تھی۔۔ "اوہ ہو ۔۔۔سوری یار !!میرے ذہن میں ہی نہیں رہا۔۔"شایان کو اپنی غلطی پر افسوس ہوا۔ سمبل اس کی اس قدر لاپرواہی پر غصّہ میں دل مسوس کر رہ گئی۔ایک نظر اس کہ شرمندہ سے چہرے پر ڈالتی سارا سامان اٹھا کر پیر پٹکتی ہوئی کچن کی جانب بڑھی۔۔ "یاد ہی نہیں رہا۔۔مطلب میں بھولنے والی چیز ہوں کیا۔۔"سمبل مسلسل بڑبڑاتی ہوئی سارا سامان اس کی جگہ پر رکھ رہی تھی۔جبھی پیچھے سے شایان کچن میں داخل ہوا۔۔ "سنو!!!تم یہ سارا سامان فرج میں رکھ کر جلدی
