Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
سرخ رنگ کا بھاری بھرکم جوڑا پہنے اسٹیج پر دلہن بنی بیٹھی لڑکی اس وقت اپنی قسمت کی اس ستم ظریفی پر مایوس سی تھی۔آج اس بد نصیب کی شادی تھی وہ بھی اپنی بچپن کی محبّت کے ساتھ۔ کتنا خوش تھی وہ جب حویلی والے اس کا رشتہ طے کرنے اس کہ گھر آۓ تھے۔خوشی اس قدر تھی کہ گاؤں سے آنے والی پہلی کال پر ہی شہر میں اپنی پڑھائی تک ادھوری چھوڑ کر بھاگی بھاگی گاؤں آئی تھی۔حویلی والوں نے شادی کے لئے صرف ایک ماہ کا وقت دیا۔جیسے اس نے اور اس کی ماں نے فوری قبول کر لیا تھا مگر اچانک یہ سب ہوجانا۔اس کی ساری خوشیاں ختم کر گیا تھا۔کتنا ارمان تھا اسے اپنی شادی کا۔آج کے دن کے حوالہ سے انگنت خواب آنکھوں میں سجا رکھے تھے۔اور اس کی ماں!!!آہ!! کتنی چاہ تھی اسے اپنی بیٹی کو اپنے بھانجے کی دلہن بنا دیکھنے کی۔پر وہ بدنصیب تو وقت سے پہلے ہی اس بھری دنیا میں اسے اکیلا کر گئی تھی۔چاروں اور خوشی سے شہنائیاں بج رہی تھیں۔اس کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھابے رحم شخص سپاٹ تاثرات لئے سب مہمانوں سے مل رہا تھا جیسے وہ اس سب خوش نا ہو۔اور یہ حقیقت بھی تھی وہ تو اس پر زبردستی تھوپی جا رہی تھی جو پہلے ہی کسی اور کا تھا۔۔ ______ آج خان حویلی کے سب سے چھوٹے بیٹے شایان خانزاده کی شادی تھی جو خوب دھوم دھام سے کی جارہی تھی۔ خان حویلی کو دلہن کی طرح سجايا گیا تھا۔ چارو اور لگی لائٹنگ سے حویلی جگمگ کر رہی تھی۔یہ خانزادہ خاندان کی اس پیڑھی کی آخری شادی تھی۔جیسے وہ سب یاد گار بنانا چاہتے تھے۔آج کے دن حویلی میں جشن کا سا سماں لگا ہوا تھا۔ہر طرف ہنستے مسکراتے چہرے اپنی ہی دنیا میں لگے ہوۓ تھے۔اسٹیج پر جهگمٹا لگاۓ کھڑی لڑکیاں دلہن دولہا کے ساتھ مختلف زاویوں سے سیلفیز لینے میں مصروف تھیں۔حویلی کے وسیع و عریض باغ میں بنے اسٹیج پر بیٹھے دولہا دلہن اس سارے شورو غل سے حد درجہ بے زار نظر آرہے تھے۔ جن کہ لئے یہ سارا انتظام کیا گیا تھا۔انہی دونوں کو اس سجاوٹ اور رونق سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ سرخ رنگ کے لہنگے میں سر پر گھونگٹ ڈال کر دلہن بنی بیٹھی سمبل ثاقب اس وقت سب کی توجہ کا مرکز تھی ماسواۓ دلہا کی۔ دوسری جانب کالے رنگ کی خوبصورت سی شیروانی کہ ساتھ سر پر کلہ پہنے دراز قدامت،اور دلکش سحر انگیز شخصیت کا مالک شایان زبیر خانزادہ اپنی مردانہ وجاہت و شجاعت کے ساتھ اس کہ برابر میں پورے کرو فر سے براجمان کتنی ہی لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا تھا۔۔ سنو!!!شایان خانزادہ کالہجہ دهيمہ تھا مگر خاصہ سخت تھا۔ جی۔۔سمبل نے ہلکی سی آواز میں منمنا کر کہا۔۔ "تقریب ختم ہوتے ہی فوراً کمرے میں جاکر اپنی تیاری کر لینا ہمیں کل صبح ہی پانچ بجے شہر کے لئے نكلنا ہے۔۔"تنے ہوۓ تاثرات کے ساتھ کہا۔ "بہتر!!!"فی الحال اس میں اتنی بھی ہمّت نہیں تھی کہ یہی سوال پوچھ لیتی کہ ابھی کیا ضرورت ہے جانے کی ابھی تو ولیمہ میں بھی دو دن باقی ہیں۔۔ "اور ہاں!!! ام خانم (خان بیگم )پوچھیں تو کہہ دینا۔کہ تمہارے امتحان ہونے والے ہیں۔مزید یونیورسٹی سے چھٹياں نہیں کر سکتیں ۔"سامنے دیکھتے ہوۓ ایک اور حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ "پر میں نے تو پڑھائی چھوڑ۔۔۔"ابھی اس کی بات ادھوری تھی۔ "زیادہ دماغ چلانے کی ضرورت نہیں ہے جتنا کہا ہے بس اتنا کرو۔۔"اس کا آگے سے بولنا اسے ہر گز پسند نہیں آیا تھا۔۔ "پر یہ بات تو حویلی میں سب جانتے ہیں کہ میں پڑھائی چھوڑ چکی ہوں۔پھر سب سوال کریں گے۔۔"ہمّت کر کہ آخر بول ہی دیا تھا۔جس پر مقابل کہ ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔ حویلی والے تو تب بھی سوال کریں گے جب نئی نویلی دلہن پہلے ہی دن حویلی میں اکیلی گھوم رہی ہوگی۔کیوں کہ میں تو کل صبح ہی شہر چلا جاؤں گا پھر رہنا یہاں شوق سے اکیلی۔۔"تنفر سے بول کر سر جھٹکا۔ تو مجھ سے شادی کیوں کی جب یہی سب کرنا تھا۔۔"لہجہ گلو گیر سا تھا۔۔ اس کے چہرہ پر عجیب مسکراہٹ تھی۔"جلد پتہ چل جائے گا پیاری ۔۔"اس کے کان میں ذرا سا جھک کر سرگوشی کی۔اپنے ہاتھ پر اسکی سخت گرفت محسوس کر سمبل کہ وجود میں کرنٹ سا ڈور گیا۔تو اس نے بھی خاموشی میں عافيت جانی۔اتنا تو وہ سمجھ ہی گئی تھی کہ اس شخص سے بحث بیکار ہے۔۔ ______ "ماشاءاللّٰه!!ماشاءاللّٰه!! چشمے بدور!!چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے۔۔ خان بیگم نے کتنی حسین بہو ڈھونڈی ہے اپنے شہزادے کے لئے ۔"اسٹیج پر آتی ایک خاتون نے ذرا سا گھونگٹ اٹھا کر اس کی بلائیں لیتے تعریفی انداز میں کہا۔جس پر وہ دھیرے سے مسکرا دیں۔ "چاند کا ٹکڑا!ہنہ!!اس بیوقوف کو دیکھنے کے بعد چاند میں لگا داغ کہنا زیادہ بہتر رہے گا۔"شایان نے ان کی تعریف پر ناگواری سے ہنکار بھرتے طنزیہ لہجے میں آہستہ سی آواز میں بڑبڑآیا۔۔۔ "اس بات کا مطلب!!"خاتون کے اسٹیج سے نیچے اترتے ہی سمبل نے ناگواری سے پوچھا۔۔ "اپنا منہ بند رکھو۔جتنی بولنے کی اجازت دے دی ہے۔ بس اتنی ہی بہت ہے۔میرے ساتھ آگے سے زبان چلانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔سمجھیں!!"غصّہ سے سر جھٹک کر اسے جھاڑ پلاتا اسٹیج سے قدم پھلانگ کر اترتا اپنی یونیورسٹی فیلو کی جانب بڑھ گیا جو ہاتھ میں فلاور بکے پکڑے شاید ابھی محفل کا حصہ بنی تھی۔۔۔ پیچھے دلہن بنی بیٹھی سمبل اس بے اعتنائی پر آنکھوں میں آئی نمی چھپا نہیں سکی تھی۔۔ ________ تقریب رات دیر تک چلتی رہی تھی۔اس وقت سب تھک ہار کر اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کی غرض سے بڑھ گئے تھے۔شایان ان سب سے پیچھا چھوڑاتا قریبً دو بجے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں سمبل اس کہ حکم کی تکمیل میں شہر روانگی کے لئے اپنی اور اس کی پیکنگ کر چکی تھی۔ "پیکنگ کر لی۔"ڈریسنگ روم سے اسے سادہ سے سوٹ میں باہر آتے دیکھ سوال کیا۔۔ "جی کرلی۔۔"نظریں پھیر کر مختصر سا جواب دیا۔ خود کو نظر انداز کرنا شایان کو خاصہ ناگوار گزرا تھا۔"پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی تھی یہ جاہل لڑکی۔۔"ناگواری سے سوچ کر ایک نظر اس کے سراپے پر ڈال کر سر جھٹکا۔۔ "اپنے تمام ضروری کاغذات اور سامان رکھ لینا۔کیوں کہ میں تمھیں روز روز یہاں لیکر نہیں آؤنگا۔وہاں جا کر گھر میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں اپنی تعلیم مکمل کرنا۔۔"سمبل جو ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی اپنے بال سنوار رہی تھی شایان کے لفظوں پر اس کے ہاتھ ٹھٹھک کر رک گئے تھے۔ "میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں۔۔اور اب پھر بتا رہی ہوں میں اپنی پڑھائی چھوڑ چکی ہوں۔"سمبل نے بڑے ضبط سے کہا تھا۔جو آج کہ دن وہ بہت مشکل سے کئے ہوئی تھی۔۔ "اپنا دماغ ذرا کم چلاؤ جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔لائٹ بند کردینا کمرے کی۔جلدی سے سو جاؤ صبح جلدی نكلنا ہے شہر کہ لئے۔"شایان ڈریسنگ روم سے نائٹ ڈریس تبدیل کرتا اسے حکم سناکر بیڈ پر لیٹ گیا۔ جبکہ سمبل خاموشی سے شیشے سے نظر آتے اس کے عکس کو دیکھ رہی تھی جو نا جانے کیا چاہ رہا تھا۔۔۔ _______ اس وقت خان حویلی میں طلوع آفتاب کا وقت تھا۔حویلی کے رہائشی تو اپنی عادت کہ پیش نظر صبح صبح جاگنے کے عادی تھے جبکہ کافی مہمان اس وقت سو رہے تھے۔زبیر خانزادہ کے تین بیٹے اسفند یارخانزادہ ،محسن خانزادہ تیسرے شایان زبیر خانزادہ جبکہ
