Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
چہرہ دیکھ گھور کر کہا۔جو شرمندہ سی ہوگئی تھی۔ "میرا بیٹا میری بچی کو مت ڈانٹو۔وہ بیچاری تو میری ہی پسند کو فوقیت دے رہی تھی۔"خان بیگم نے سمبل کا اترا چہرہ دیکھ فوراً سائیڈ لی۔۔ "اچھا چلو سب چھوڑو۔اپنی دلہن کہ لئے تم خود شادی کا جوڑا پسند کر لو۔"خان بیگم نے سمبل کو دیکھ دهیمے سے مسکرا کر کہا۔تو شایان نے اس ڈرامے باز لڑکی کو دیکھ ناگواری سے سر جھٹکا۔۔۔ "یہ والا دیکھیں یہ سہی ہے۔یہ والا پیک کر دیں آپ۔"انہی میں سے ایک خوبصورت سا لال رنگ کا شارٹ شرٹ کہ ساتھ مکمل نگ موتیوں کہ کام سے مزین گھیردار شرارے کا انتخاب کرتے فوری پیک کرنے کا حکم دیا۔ شاپ کیپر کو پیمنٹ کر کہ محض پندرہ منٹ میں ان دونوں کہ ہمرا وہ شاپ سے باہر تھا۔خان بیگم تو اس کی اتنی جلد بازی پر اسے ناراض نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔ "چلیں ماں جان مجھے اجازت دیں۔میرا دوست میرا انتظار کر رہا ہے۔آپ دونوں شاپنگ کر کہ شام سے پہلے حویلی لوٹ جائیے گا۔۔۔اور تم زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔جلد از جلد اپنی شادی کی شاپنگ مکمل کرو اور گھر کو واپسی کی روانگی پکڑو۔مجھے رات دیر تک بازاروں کی خاک چھانے والی لڑکیاں ہر گز بھی پسند نہیں ہیں۔۔"تواتر سے بجتے موبائل کو سائلینٹ پر کر کہ خان بیگم سے اجازت لیتا سمبل کی جانب گھوم کر سرد لہجے میں بولا۔۔ جبکہ سمبل تو اس کہ اس قدر سخت انداز پر صرف شکل ہی تکتی رہ گئی تھی۔آج سے پہلے کبھی اس نے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔۔ "سمجھ گئیں۔۔"خان بیگم کو ایک جیولری کہ سٹول کی جانب بڑھتا دیکھ حونق بنی کھڑی سمبل کہ آگے شہادت کی انگلی اور انگھوٹے کو مس کرتا اسے ہوش میں لایا۔۔ "جی۔۔جی۔۔"سمبل نے ہڑبڑا کر حامی بھری۔۔ "جاؤ اماں کے پاس۔"سمبل نے فوری حکم کی تکمیل کی جبکہ وہ ایک سرد سانس خارج کرتا۔ماہین کی جانب بڑھا جو مسلسل کال پر کال کئے جا رہی تھی۔۔ ____ "ڈونٹ ٹیل می شایان!! تم اس جاہل سے شادی کر رہے ہو جس کہ اندر ڈریسنگ سینس نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔"وہ دونوں اس وقت فوڈ کورٹ میں بیٹھے ہوۓ تھے جب ماہین نے سمبل کی ذات کو نشانہ بنا کر طنز کیا۔ "پلیز ماہی!!!اسٹاپ ڈس نانسینس یار۔۔میں تنگ آگیا ہوں اتنی دیر سے تمہارے منہ سے یہ سمبل نامہ سن سن کر۔"شایان نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر دھر کر جھنجھلا کر کہا۔۔ اتنا ہائپر کیوں ہو رہے ہو شایان میں تو بس ویسے ہی کہہ رہی تھی۔کتنی گوار ہے وہ لڑکی ذرا سوچو وہ جاہل کیسے تمہارے ساتھ سوسائٹی میں موو کرے گی۔جو خود کو ہر وقت چار گز کی چادر میں لپیٹ کر رکھتی ہے۔۔"ماہین نےاس کے غصّہ کو بغیر کسی خاطر میں لاۓ ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا۔۔ انف از انف!!!آئی تھنک وی شڈ ٹو لیو ہیر۔۔"شایان اس کے بےہودا سے تبصرے پر ماتھے پر بال ڈال کر غرایا۔ "اوکے اوکے!!!سوری سوری۔۔اب بس ہم اپنی بات کریں گے۔اس کہ ماتھے پر پڑے بالوں میں اضافہ ہوتا دیکھ ہاتھ اٹھا کر معذرت کی۔جو کرسٹل گرے آنکھوں میں شدید قسم کی ناگواری لئے بظاہر اسے دیکھ رہا تھا۔جبکہ دماغ سمبل اور ماہین کا موازنہ کرنے میں الجھا ہوا تھا۔۔ "اچھا تم بتاو!!ہماری شادی پر تم مجھے کہاں سے شاپنگ کرواؤ گے؟؟میں تمھیں پہلے ہی بتا رہی ہوں شایان میں ہماری شادی کا جوڑا انڈین ڈیزائنر کا بنواؤگی۔اور باقی کی شاپنگ ہم دبئی سے کریں گے۔۔"ماہین پتہ نہیں کیا کیا بولے جا رہی تھی۔جبکہ شایان کی نظریں اس کہ نیم برہنا بازؤں پر تھیں۔ارد گرد بیٹھے کتنے ہی لوگوں کی نظریں اس پر ٹکی ہوئیں تھیں۔جس پر وہ ناگواری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ "کیا ہوا۔۔"ماہین بھی اسے یوں اچانک کھڑا ہوتا دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ "چلو یہاں سے۔۔"شایان اس کاہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا لے گیا۔ شایان اس کا ہاتھ پکڑے گھسیٹتا ہوا لیجا رہا تھا۔جبکہ ماہی بامشکل اس کہ ساتھ قدم ملاتی اس کت غصّہ کی وجہ سمجھنے کی کوشش میں تھیں۔۔ _____ آج خان حویلی میں جشن کا سا سماں تھا۔۔ایک مہینہ پر لگا کر اڑ گیا تھا۔چاروں اور خوشياں ہی خوشياں بھکری ہوئی تھیں۔۔ آج سے شادی کی تقاریب کا آغاز ہونے والاتھا۔۔ کاٹن کے کڑکڑاتے ہوۓ سفید رنگ کے شلوار قمیض پر پاؤں میں کھیڑی پہنے شایان ماتھے پر تیوری چڑھاۓ تمام انتظامات دیکھ رہا تھا۔۔ کل مایوں والے دن ہی شایان اور سمبل کا نکاح طے پایا تھا۔سمبل کو خان بیگم ہفتہ بھر پہلے ہی خان حویلی لے آئی تھیں۔شادی اور ولیمہ دونوں ہی حویلی سے ہونا طے پایا تھا۔۔خان بیگم جانتی تھیں انکی بہن ان کی حویلی کے طور طریقے نہیں نبھا پائیں گی۔اسی لئے اسفند یار نے سمبل کو اپنی بہن کی طرح حویلی سے رخصت کرنے کا حکم جاری کردیا تھا۔جس پر خاجستہ جہاں تھوڑی سی بحث کے بعد مان ہی گئیں تھیں۔۔ "شایان بچہ دو دن بعد تمہاری شادی ہے۔تم کن کاموں میں الجھے ہوۓ ہو۔یہ سب ملازمین پر چھوڑ دو یہ سب سمبھال لیں گے۔تم آرام کرو۔"آغا بھائی نے اسے سجاوٹ کے لئے آۓ لوگوں سے الجھتا دیکھ کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔ "جی بس میں انہیں کچھ ضروری ہدایات کر رہا تھا۔۔"شایان نے انداز میں نرمی سمو کر کہا۔سرخ و سفید رنگت سورج کی تپش سے تمتمار سی رہی تھی۔۔ "چلو آجاؤ۔ام خانم تمھیں یاد کر رہی ہیں۔"ابھی قدم داخلی دروازے کی جانب بڑھاۓ ہی تھے کہ شایان کا موبائل بج اٹھا۔۔ "چلو تم کال سن کر آجاؤ۔"اسے حکم دیتے آغا جان حویلی کہ اندرونی حصّہ کی جانب بڑھ گئے۔ شایان اثبات میں سر ہلاتا وہاں سے قدم اٹھاتا ذرا خاموشی والے حصّہ کی جانب اگیا۔۔ ہیلو!!! _______ "اسفند بیٹا۔شایان کو دیکھا ہے آپ نے۔"خاجستہ جہاں نے حویلی میں داخل ہوتے اسفند سے شایان کے متعلق پوچھا۔۔ "جی خالہ وہ باہر ہی ایک کال سننے کی غرض سے رک گیا تھا۔کوئی کام تھا آپ کو۔"اسفند یار نے اس کی بابت اطلاح دیتے دریافت کیا۔ شکریہ بیٹا!!بس مجھے نکاح سے پہلے اس سے کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں۔چلو اچھا ہی ہے باہر سکون سے کر لونگی۔"انہوں نے بھانجے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ.تو وہ بھی سمجھ کر سر ہلاتے آگے بڑھ گئے تھے۔۔ "یار یہ کیا پگل پن ہے ماہین۔تم سے کچھ بھی تو چھپا ہوا نہیں ہے سب جانتی ہو تم۔پھر ان سب باتوں کا فائدہ۔۔" شایان خانزادہ نے ماتھے پر بل ڈالے جھنجھلا کر کہا۔جو دوسری جانب مسلسل رو رہی تھی۔۔ "شایان مجھ سے نہیں برداشت ہو رہا۔میں مر جاؤ گی شایان تم مجھ سے وعدہ کرو کہ تم اسے اسی مہینے چھوڑدو گے۔"ماہین کے ڈرامے عروج پر تھے۔۔ "ماہی ماہی ماہی!!!!پلیز یار میری پوزیشن تو سمجھو تم۔۔"اس نے اسے قائل کرنا چاہا۔۔۔ "نہیں پہلے تم وعدہ کرو۔ورنہ میں ابھی اپنی نس کاٹ کر اپنی جان لے لونگی۔"ماہین نے چیخ کر تیز آواز میں کہا تو وہ بھی بھوکلا سا گیا۔۔ "اچھا اچھا!!میری بات سنو میرا وعدہ ہے تم سے میں جلد ہی سمبل کو چھوڑ دوں گا۔اور پھر تم سے ہی شادی کروں گا۔وعدہ۔۔"شایان کے ادا ہوتے لفظ سن جہاں دوسری جانب ماہین کے اندر سکون کی لہر ڈور گئی تھی وہیں شایان کہ پیچھے کھڑا وجود دھم سے زمین بوس ہوا تھا۔۔ شایان چونک کر موڑا تھا۔۔زمین پر گری خاجستہ کو دیکھ شایان کی آنکھیں ابل آئی تھیں۔۔ خالہ خالہ جانی۔۔کیا ہوا آپ کو۔۔شایان کی چیخ پر حویلی میں
