Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
بھی مسکرا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اپنے ایک حکم پر شایان خانزادہ کی یہ فرمابرداری دیکھ ماہین نے تفاخر سے کینٹین میں نظریں گھومائی تھیں۔کتنی ہی نظریں تھیں جو انہی دونوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ماہین ان سب پر ایک نظر گھما کر ایک ادا سے بالوں کو جھٹکا دیتی مغرورانہ انداز میں مزید اکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔ _______ خان بیگم کہ کمرے میں اس وقت شایان کہ علاوہ اسفند یار بھی موجود تھے"یہ کیا کہ رہی ہیں آپ ماں جان؟؟"خان بیگم کا فیصلہ سن شایان کہ ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔۔ کیا مطلب ہے شایان خانزادہ آپ کا۔"آغا بھائی(اسفند یار)نے شایان کہ بگڑے تاثر دیکھ نا گواری سے پوچھا۔۔ "آغا بھائی میں سمبل سے شادی نہیں کر سکتا۔"شایان نے اپنے غصّہ کی وجہ بتائی۔ "کیوں نہیں کر سکتے کیا خرابی ہے اس بچی میں۔"خان بیگم نے شایان کی ناگواری پر سوال کیا۔ "کوئی خرابی نہیں سمبل میں۔۔بس میں اسے پسند نہیں کرتا۔میں نہیں کر سکتا اس لڑکی سے شادی۔"خود کو ان سب کہ بیچ مجرم سا تصور کر جھنجھلا سا گیا تھا۔۔ "پسند نہیں کرتا سے کیا مراد ہے تمہاری؟؟تم دونوں کی نسبت تو بچپن سے طے ہے۔"خان بیگم کو اس کی یہ نفی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔ "وہ بچپن تھا امو جان۔اب ہم بڑے ہو گئے ہیں۔بس مجھے نہیں پسند وہ۔"شایان نے غصّے سے سرخ پڑتے چہرے سے کہا۔۔ "آپ اب اتنے بڑے ہو گئے ہیں۔کہ بڑوں کہ بناۓ ہوۓ رشتوں سے انکار کریں گے۔"آغا بھائی کو اس کا یہ رویہ بہت برا لگاتھا۔۔۔ "نہیں بھائی بس مجھے نہیں پسند سمبل!!!اور مجھے یقین ہے وہ بھی اس رشتہ پر رضا مند نہیں ہوگی۔"شایان نے قیاس آرائی کی۔۔ "آپ کو کس نے کہا کہ وہ آپ کی طرح اپنے ماں باپ کی نافرمان اولاد ہے۔وہ تو بہت پیاری بچی ہے اسے اس رشتہ سے کوئی اعتراض نہیں۔"خان بیگم نے اسے گھورا جو نظریں چراتا پہلو بدل کر رہ گیا۔۔ "شایان ہمیں صاف صاف بتاؤ آخر اس انکار کی وجہ کیا ہے۔کہیں تم کسی اور لڑکی میں تو دلچسپی نہیں رکھتے۔"آغابھائی نے سنجیدگی سے کڑے تیوروں سے پوچھا۔۔ "نہیں آغا کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ۔۔"شایان نے بھوکلا کر ان کی نفی کی۔وہ فلحال ابھی انہیں اپنے اور ماہین کے بارے میں نہیں بتا سکتا تھا۔۔ "تو پھر اس انکار کی وجہ۔۔"آئبرو اٹھا کر سوال کیا۔۔ "بس وہ میرے كيلبر کی نہیں ہے آغا جان وہ بہت دبو سی ڈری سہمی سی رہنے والی لڑکی ہے۔ مجھے پراعتماد اور نڈر لڑکیاں پسند ہیں۔"اب کچھ تو جواز پیش کرنا ہی تھا۔تو اس نے اب اس کی شخصیت کو نشانہ بنایا۔۔ "بس یہی بات ہے۔۔اور کوئی بات تو نہیں جس کی تم ہم سے پردہ داری کر رہے ہو۔"آغا جان نے تفشیشی انداز میں جانچتی نظروں سے استفسار کیا۔۔ "جی جی بس یہی بات ہے۔"بات بنتی دیکھ جلدی سے حامی بھری۔دونوں بھائیوں کی باتوں کہ درمیاں خان بیگم خاموشی سے انہیں بحث کرتا دیکھ رہی تھیں۔ "ام خانم آپ خالہ سے کہیں شادی کی تیاری کرلیں۔۔ہم اگلے ماہ بارات لیکر آ رہے ہیں۔آپ کل سمبل کو اس نالائق کے نام کی انگھوٹی پہنا آئیے گا ۔"آغا صاحب کا فیصلہ سن شایان کا منہ حیرت کی زیادتی سے کچھ زیادہ ہی کھل گیا تھا۔۔۔ "یہ کیا۔۔۔۔" "بس خاموش ہوجاؤ۔تمہارے پاس انکار کی کوئی مثبت وجہ موجود نہیں ہے تمہاری اس نادانی کو ہم سنجیدگی سے لیکر اپنے خاندان کی بچی کی زندگی نہیں برباد کر سکتے۔جو تمہارے بچپن کی منگ بھی ہے۔۔"انہوں نے کرخت لہجے میں فیصلہ سنایا۔جبکہ خان بیگم کہ چہرے پر مسکراہٹ کھل گئی تھی۔اپنے والد کی وفات کہ بعد اسفند یار نے اس حویلی کی ذمہ داریاوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا تھا ۔۔ "لیکن آغا جان آپ بات سمجھنے کی کوشش تو کریں۔۔"شایان نے ان کے قدموں میں بیٹھ کر التجا کی۔۔ "شایان خانزادہ ہو تم اپنے نام مقام و مرتبہ کو جتنی جلدی پہچان لو اتنا تمہارے لئے بہتر ہے۔وہ لڑکی اتنے سالوں سے صرف تمہارے نام پر بیٹھی ہوئی ہے۔ایک پٹھان کبھی اپنی زبان سے نہیں پھرتا۔۔۔آغاجان نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑے کرتے سخت لہجے میں احساس دلايا۔ شایان اپنے بڑے بھائی کے فیصلہ پر احتراماً خاموش ہوتا لب بھینچ گیا۔ "اب میں تمہاری جانب سے کوئی بہانہ نا سنو۔اب یہ بچکانہ حرکتیں کرنا چھوڑ دو۔"وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے کمرے سے باہر نکل گئے۔جبکہ وہ اپنا سا منہ لیکر خان بیگم کے سرہانے بیٹھ گیا جو اسے اپنی بھانجی کی خوبياں گنوا رہی تھیں جن میں اسے ذرا بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اسے فکر تھی تو بس اپنی محبّت کی ماہین کی۔۔ ______ ہلکے گلابی رنگ کا سادہ سا سلور کڑھائی والا شیفون کا سوٹ پہنے بیٹھی سمبل خوشی سے دمکتا پر نور چہرہ لئے اپنی خالہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔جو آج اسے شایان خانزادہ کے نام کی انگھوٹی پہنانے کے ساتھ ساتھ اگلے ماہ کی شادی کی تاریخ بھی لینے آئی تھیں۔۔ اس وقت حویلی کے بہت سے لوگ سمبل کے گاؤں میں بنے اس چھوٹے سے گھر میں موجود تھے۔جو سمبل اور اس کی ماں کا کل اثاثہ تھا۔سامنے پڑی ٹیبل پر انگنت میٹھائیوں اور فروٹ کے ٹوکرے پڑے تھے جو وہ صرف شگن کے طور پر لے آئی تھیں۔ "بس سمبل اب بس تو جلدی سے خان حویلی آنے کی تیاری پکڑ لے۔اب بس میں جلد از جلد تجھے اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتی ہوں۔۔"اس کو اپنے بازوں کے گھیرے میں لئے بیٹھی خان بیگم نے اس کا ماتھا چوم کر کہا۔ "ارے آپا جان یہ تو ہے ہی آپ کی۔فکر کس بات کی کرتی ہیں جب چاہیں لے جائیں۔"سمبل کی ماں نے ان کے برابر میں بیٹھ کر کہا۔تو سمبل دھیما سا مسکرا دی۔۔۔ "بس اللّه پاک وہ دن جلدی لے آۓ جب ہماری بیٹی مستقل طور پر ہمارے خاندان کا حصّہ بن کر آۓ گی۔ ہمارے شایان کی بیوی بن کر۔"خان بیگم نے اس کی جھیل سی آنکھیں اور جھکی پلکوں کو دیکھ دل سے دعا کی جس پر سب نے ہی یک زبان آمین بولا۔۔ ________ "یار ماہی میری بات تو سنو!!!"آنکھوں میں حد درجہ پریشانی لئے شایان آج صبح سے ماہین کو منانے میں لگا ہوا تھا جو اس کی منگنی کی خبر سن کر خفا خفا سی اپنی ناراضگی جتاتی اس سے بات تک نہیں کر رہی تھی۔۔ "نہیں سننی ان مجھے مزید تمہاری کوئی بھی بات!!تم جاؤ اور اس پینڈو جاہل سے جا کر شادی کرو۔"ماہین نے ایک جھٹکے سے گھوم کر پھاڑ کھاتے لہجے میں کہا تھا۔۔ ارد گرد سے گزرتے کتنے ہی سٹوڈنٹس نے ماہین کی اس قدر اونچی آواز پر انہیں مڑ کر دیکھا تھا۔جسے دیکھ شایان کے ماتھے پر ناگواری سے بل پڑ گئے۔۔ "آواز نچی رکھو اپنی۔تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو۔جب میں نے ایک بات کہہ دی۔کہ یہ سب میری مرضی کہ خلاف ہو رہا تھا کس بات کا اتنا اٹیٹوڈ دکھا رہی ہو۔۔"اس کی رگوں میں بھی خانوں کا خون ڈور رہا تھا وہ بھلا کیسے کسی عورت کی اتنی تیز آواز برداشت کر سکتا تھا۔۔ اس کا غصّہ سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھ ماہین بھی ذرا دهیمی پڑتی اس کے اشارے پر اس کے پیچھے بڑھی۔۔ "اب بولو آخر مسئلہ کیا ہے۔۔"ڈرائیونگ سیٹ سمبھال کر رخ موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھتی ماہی کو دیکھ سنجیدگی سے سوال کیا۔۔ "تم۔۔تم ہو مسئلہ اور تمہاری یہ زبردستی کی شادی ہے مسئلہ اور وہ انپڑھ جاہل گوار لڑکی ہے مسئلہ جو
