Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
ایک بیٹی اس حویلی کا حصّہ تھے۔زبیر صاحب کا چند قبل پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔دونوں بڑے بیٹے شادی کے بعد اپنے بیوی بچوں سمیت اسی گھر میں رہتے تھے۔سب سے چھوٹی بیٹی نازلین کی شادی انٹر ہونے کے فورا بعد ہی سال پہلے کر دی گئی تھی۔شایان کا بھی یہ یونیورسٹی کا آخری سال تھا پر اپنی ماں کے بے حد اسرار پر اسے اس شادی کے لئے زبردستی حامی بھرنی ہی پڑی تھی۔جو شروع سے اپنی بہن کی بیٹی کے صدقے واری جاتی تھیں۔۔ بلیک پینٹ شرٹ کے ساتھ ڈینیم کی جیکٹ پہنے، بلیک براؤن شیڈڈ سلکی بالوں کو بیچ کی مانگ نکال کر سیٹ کئے کریسٹل گرے آنکھوں میں محبّت لئے خان بیگم (اپنی ماں) کے برابر میں بیٹھا شایان خانزاده ان سے محبتیں وصول کر رہا تھا ۔ "ارے بیٹا اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی ابھی تو ولیمہ بھی نہیں ہوا۔پوری حویلی مہمانوں سے بھری پڑی ہے ہم کیا جواب دیں گے سب کو۔۔"خان بیگم نے اپنے ضدی طبیعت کے مالک بیٹے کو دیکھ کر پریشانی سے کہا۔۔ پلیز ام جان آپ سمبھال لیجئے گا نا سب کو ۔۔اور جواب دینے کی کیا ضرورت ہے ولیمہ کی صبح سے آجاؤ گا میں۔"ان کی بات پر شایان کہ ماتھے پر بل واضح تھے۔ "پر بیٹا کچھ دنیا کے دستور بھی تو ہیں۔رسمِ دنیا بھی تو کسی شے کا نام ہوتا ہے۔کون بھلا نئی نویلی دلہن کو اس طرح شادی والے گھر سے لیجاتا ہے۔۔"ام جان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی جس کہ آگے یہ رسم و رواج سب فضول کی باتیں تھیں۔۔ "مجھے کوئی جلدی نہیں ہے ماں جان!!آپ کی بہو کی یونیورسٹی کھلنے والی ہے اور کچھ ہی دنوں میں اس کہ امتحان ہیں تو اسی کہ کہنے پر اسے بھی ساتھ لے جا رہا ہوں۔آپ چاہیں تو پوچھ لیں اس سے۔۔"ایک شرارتی نظر سادے سے لان کہ پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس خود کو چادر میں چھپاۓ خاموش کھڑی سمبل پر ڈال کر اسے بھی اپنے ساتھ کھینچا۔۔ "سمبل بیٹا کیا یہ سچ کہ رہا ہے۔آپ نے تو پڑھائی چھوڑ نہیں دی تھی۔۔"اپنی سوچوں میں گم کھڑی سمبل چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔ "جی۔۔جی جی ۔۔۔میرا مطلب ہے نہیں نہیں۔۔۔میں اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہوں۔"پہلے تو بے ساختہ حامی بھر دی پر خود پر شایان کی گھورتی نظروں کی تپش سے جلدی سے انکار کرتے آہستہ سی آواز میں اس کا پڑھایا ہوا سبق دہرآیا۔۔۔ "اچھا!!!چلو بیٹا جیسے تم لوگوں کی مرضی۔زندگی تمھیں گزارنی ہے جیسے چاہے فیصلہ کرو۔" سمبل کی تصدیق کرنے پر وہ خاموش ہوتیں فیصلہ ان پر چھوڑ گئیں۔۔ "چلیں پھر اجازت دیجئے۔۔"شایان نے جلدی سے کھڑے ہو کر ان کا پیار لیا۔ شایان کا اپنے پیچھے آنے کا اشارہ دیکھ سمبل بھی خان بیگم سے ملنے کے لئے آگے بڑھی۔ اپنی لاڈلی بھانجی کو اس حویلی کا حصّہ بنا کر جتنی خوش اور مطمئین وہ تھیں اتنا شاید ہی کوئی تھا۔دعاؤں کے ساۓ میں انہیں رخصت کرتیں سمبل کو کچھ ضروری ہدایات بھی کر رہی تھیں جو وہ بہت خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔ شایان کے ہارن کرنے پر وہ حویلی کی دہلیز عبور کرتی شایان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی شہر کے لئے نکل پڑی۔۔دونوں رفیق ہی اپنی اپنی جگہ خاموش تھے۔جیسے کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔سمبل نے ایک نظر ڈرائیونگ کرتے شایان کو دیکھ اپنا سر ونڈو گلاس سے ٹکا لیا۔۔ ______ ہوسٹل کے سنگل بیڈ پر سوئی جاگی سی کیفیت میں مسلسل موبائل کی رنگ ٹون کی بجتی آواز نیند میں خلل ڈالتی دماغ پر ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھی۔تھوڑی سی آنکھیں کھول کر ہاتھ مار کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔اگر وہ سونے میں شاہ تھی تو شاید مقابل ہستی بھی سامنے والے کی نیند برباد کرنے میں ماہر تھی ۔ ہیلو!!!نیند سے بوجھل آواز میں ادھ کھلی آنکھوں کو مسل کر کہا۔ "کیا!!!سچ میں۔۔"مقابل کی بات سن اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔خوشی سی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی۔۔ "اففف اففف امو(ماں)آپ سچ کہ رہی ہیں۔ ۔۔"دوسری جانب سے دی جانے والی خبر ایسی تھی جس کا وہ کئی سالوں سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔ "جی جی!!آپ ڈرائیور کو بھیج دیجئے گا میں کل ہی آجاؤں گی۔آپ نہیں جانتی میں کتنی خوش ہوں۔۔"اس دنیا میں اگر کوئی اس کا راز دار تھا تو وہ تھی اس کی ماں۔۔ "اوکے!!!آپ اپنا خیال رکھیے گا اللّه حافظ!!!اختتامی الفاظ بول کر موبائل سائیڈ پر پھینک کر ایک جھٹکے سے بستر پر گری تھی۔جھیل جیسی بڑی بڑی آنکھوں میں خوشی ہی دیدنی تھی۔۔ کھڑے کھڑے نازک سے نین نقش کی مالک،اپنے لمبے سیدھے بالوں کو بیڈ پر پھیلاۓ سرخ و سفید رنگت میں کھڑکی سے آتی دھوپ کی تپش میں ابھرتی لالی پر گالوں پر ہاتھ رکھیں بڑی بڑی ڈراک براؤن آنکھوں کو پوری کھولے چھت کو گھور رہی تھی۔ کسی خیال کہ تحت آنکھیں بند کیں تو چھم سے ایک خوبصورت کرسٹل گرے آنکھوں والا حسین شخص اس کہ ذہن کے پردوں پر لہرآیا تھا۔جس کا نام بچپن سے اس کہ نام کہ ساتھ جڑا ہواتھا۔اب وہ اس کا ہونے بھی جا رہا تھا۔کیا دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں سمبل کو اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔ _______ یونیورسٹی کی آخری کلاس ختم ہوتے ہی ماہین شایان خانزادہ کی تلاش میں بھاگتی بھاگتی کینٹین میں پہنچی تھی۔ اور توقع کہ عین مطابق وہ وہیں موجود بھی تھا۔جہاں وہ لیکچرز سے فری ہو نے کے بعد اکثر ہی پایا جاتا تھا۔۔ "تم یہاں آکر بیٹھ گئے ہو میں تمھیں کب سے ڈھونڈ رہی تھی۔۔"ایک نظر بلیو جینز پر اف وائٹ ٹی شرٹ پہنے آنکھوں پر سن گلاسس چڑھاۓ بیٹھے شایان کو دیکھ بیگ ایک طرف ڈال کر شکوہ کناں انداز میں کہا۔۔۔ "ڈھونڈ کیوں رہی تھیں سیدھی یہیں آجاتیں۔۔"شایان نے نظریں اس کہ حسین چہرے پر ٹکا کر ایک آنکھ کا ایک کونا بلنک کر کہ کہا۔۔ بلیک جینز کے ساتھ بلیک ہی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اوپر کا ایک مزید بٹن کھول کر اس میں سن گلاسس ٹکاۓ ہوۓ تھے۔ ہلکے گھنگھریالے لانبے بال پشت پر کھلے چھوڑ رکھے تھے۔اس کا دعوت دیتا حسین سراپا سب کی توجہ کا مرکز تھا۔بلاشبہ وہ یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکیوں میں سے ایک تھی۔جو صرف شایان خانزادہ کی گر ویدہ تھی۔۔ "بس تم نظر نہیں آۓ تو دل کو پریشانی سی ہونے لگتی ہے پتہ تو ہے تمھیں۔۔"ماہین نے نزاکت سے ہوا سے منہ پر آتی بالوں کی لٹ کو کان کہ پیچھے اُڑستے معصومیت سے منہ بسورا۔۔ شایان اس کی اس ادا پر کھل کر مسکرایا تھا۔ "تو پھر اس دل کو قرار کیسے آئیگا ملکہ عالیہ۔۔"شایان نے اس کا نرم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیتے شرارتًا کہا۔۔ "تمہارے دیدار سے۔"ماہین کا انداز خاصہ بولڈ تھا جو اس کی شخصیت کا حصہ تھا۔اور یہی وجہ تھی کہ شایان زبیر خانزادہ کو وہ لڑکی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔۔ "ہممم تو ایسی بات ہے محترمہ تو ذرا اس دل کو سمجھاؤ کہ ضروری تو نہیں کہ میرا دیدار ہرروز ان آنکھوں کو ميسر آجاۓ۔۔"کرسٹل گرے آنکھوں میں شرارت لئے ماہین کی جانب ذرا جھک کر دهیمے سرو میں بولتا وہ اسے قہقہہ لگانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔ "ویری فنی!!! اچھا سب چھوڑو بہت بھوک لگی کچھ کھانے کے لئے تو منگواؤ۔۔"لپ گلوس سے مزین ہونٹوں کو باہم آپس میں ملا کر نزاکت سے کہا تھا وہ
