Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
میں سو جاؤ اور اب مجھے ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"شایان نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں سے ہدایت کی۔جبکہ سمبل نے ڈرامائی انداز میں آنکھیں گھومائی تھیں۔۔ "میں بیوقوف نہیں ہوں جو اس گند کہ دھیر بنے کمرے میں بستر لگا لوں۔اگر اتنا ہی شوق ہو رہا ہے۔تو آپ وہاں جا کر لیٹ جائیں۔۔" سمبل کے لہجے میں عجیب سی چبھن تھیں۔جو اس نے باخوبی محسوس کی تھی۔شایان خاموش ہوتا اس کی کروائی دیکھ رہا تھا۔جو اپنے بیگ سے ایک آرام دہ جوڑا نکال کر تبدیل کرتی اپنے بالوں کا جوڑا بناتی واشروم سے باہر آئی تھی۔۔ ایک جتاتی نظر شایان پر ڈال کر اس کی گھورتی ہوئی نظروں کو نظر انداز کرتی کمرے کی لائٹ بجھاتی کمبل منہ تک تانتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔جبکہ کمرے میں ہوتی ٹھنڈ سے جسم پر کپکاپی سی طاری ہوگئی تھی۔۔جبکہ شایان اسے اندھیرے میں غائب ہوتا دیکھ صرف اس کی پشت گھور رہا تھا۔جیسے بس نا چل رہا ہو اپنے بیڈ پر سے دھکا ہی دے ڈالے۔۔ "جاہل انپڑھ لڑکی۔۔"شایان تھکن کے باعث خاموشی اختیار کرتا بڑبڑا کر اپنی جگہ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔سمبل نے ذرا سا کمبل منہ پر سے ہٹا کر اپنی طرف اس کی پشت دیکھی پھر چل کرتے کمرے میں کمبل میں مزید دبک کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔جبکہ دماغ مختلف سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔۔ _______ اس وقت صبح کے نو بج رہے تھے۔الارم کی چنگھاڑتی ہوئی آواز پر کمرے کی ہر چیز بیدار ہو چکی تھی ماسواۓ سمبل کے ۔۔کھڑکیوں پر پڑے پردوں سے چھن کر آتی دهوپ سیدھی بیڈ پر پڑ رہی تھی۔مگر کمبل منہ تک تان کر سوتی سمبل کی نیند میں ہر شے خلل پیدا کرنے میں ناکام ٹھہری تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا شایان شیشے سے نظر آتے اس کے وجود کو ہی دیکھ رہا تھا۔جو ایک بار پھر بیہوش ہوئی پڑی تھی۔۔۔ بلیک جینز پر آف وائٹ ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔بالوں کو جیل سے پیچھے کو سیٹ کر رکھا تھا۔ہاتھ میں ریسٹ واچ پہنے اسکی نظریں مسلسل سمبل پر تھیں۔جو کسمسا کر پھر سو گئی تھی۔کل سے اب تک وہ ایک بات تو جان ہی گیا تھا۔کہ یہ لڑکی سوتے وقت قبر کے مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔۔۔ الارام بیچارہ شاید خود بھی تھک ہار کر گلا خشک ہونے کے باعث خاموش ہو گیا تھا۔شایان اپنی مکمل تیاری پر ایک طآئرانہ نظر ڈالتا اب بیڈ کہ کنارے پر بیٹھاپاؤں میں جو گرز ڈالتا کچھ سوچ کر کھڑا ہوا۔۔۔۔ "سمبل۔۔۔سمبل اٹھو میں یونیورسٹی جا رہا ہوں۔اندر سے دروازہ بند کر لو۔۔" شایان نے ذرا اس کی جانب جھک کر ہلایا۔مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔۔ "سمبل اٹھ بھی جاؤ ۔۔"شایان نے گھڑی کی بھاگتی رفتار کو دیکھ دانت کچکچا کر کہا۔۔ "جی۔۔"سمبل نے کمبل کے اندر سے منہ نکال کر مندی مندی آنکھوں سے سوال کیا۔۔ "اٹھ کر بیٹھو صبح کے نو بجنے والے ہیں۔مجھے یونیورسٹی سے بھی دیر ہو رہی ہے۔اٹھ کر ناشتہ بناؤ۔۔"شایان نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے اٹھایا تھا۔۔ " کیا!!!میں ناشتہ بناؤ۔۔"اس کے لفظوں پر سمبل کی نیند بھک سے اڑی تھی۔۔ "تو میں کیا دیواروں سے مخاطب ہوں۔"شایان نے اس کے ڈراموں پر سخت لہجے میں کہا۔۔ "پر مجھ سے پہلے آپ تو باہر ہی ناشتہ کرتے تھے نا۔۔"سمبل نے اپنی سوچ کے مطابق پوچھا۔۔ شایان کے پلٹتے ہوۓ قدم ٹھٹھک کر رکے تھے۔باقاعدہ گھوم کر اس کہ مقابل آیا۔جس کی آنکھیں کچی نیند کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔ "اور یہ اتنی اہم خبر کس نے دی تمھیں۔"شایان کی کرسٹل گرے آنکھوں میں غصّہ کی جهلک تھی۔۔ "تو مطلب۔۔۔۔"ناسمجھی سے دیکھ جملہ ادھورا چھوڑا۔اس کی دانستہ میں خانزادہ خاندان کے مرد ہل کر پانی ہی پی لیں تو بہت ہے۔۔ محترمہ میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں۔اب زیادہ باتیں مت بناؤ۔اور مجھے فوراً ناشتہ بنا کر دو۔"شایان نے اپنا وقت اس فالتو بحث میں ضائع ہوتا دیکھ ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے نیچے اتار جو شاید مزید سونے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔ "تو اب بھی خود بنالیتے میری نیند کیوں برباد کی۔۔"سمبل واشروم میں جاتی دھیمی آواز میں بڑبڑائی مگر الفاظ اتنے واضح ضرور تھے کہ وہ شایان کے تیز کانوں تک پہنچ ہی گئے تھے۔۔ "تو تمھیں کیا میں یہاں مفت کی روٹياں تڑوانے کے لئے لایا ہوں۔جب تک یہاں ہو گھر کے سارے کام تم کرو گی سمجھیں۔اب جلدی کرو بیس منٹ ہیں تمہارے پاس۔ٹھیک بیس منٹ بعد ناشتہ میز پر ہونا چاہیے۔"شایان نے اس کی پشت کو گھور کر لفظ چبا چبا کر ادا کرتے ہدایت کی جو کل سے اب تک اسے اچھا خاصہ زچ کر چکی تھی۔۔ سمبل بھی اس پر ایک غصّہ بھری نگاہ ڈالتی باتھروم میں بند ہوگئی۔۔شایان کو تو اس لڑکی کی اکڑ ہی سمجھ نہیں آرہی تھی۔جس کے جب سے شادی ہوئی تھی مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔۔۔ شایان غصّہ سے سر جھٹکتا ماہین کو کال ملاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔جب تک وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر آئی کمرہ خالی تھا۔۔۔ شکن زدہ کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی سلیکے سے دوپٹہ سر پر اوڑتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ _____ امریکن طرز پر بنے اس چھوٹے سے کچن کے پار چار کرسیوں کے ساتھ پڑی گول ٹیبل پر بیٹھا شایان کسی سے موبائل پر محو گفتگو تھا۔۔وہ سر جھٹک کر آگے بڑھی۔۔ سب سے پہلے ایک پین میں چاۓ کا پانی رکھا ساتھ ہی فرج سے دودھ نکال کے الگ سے برنر میں ابلانے کہ لئے رکھا۔۔سارے کیبنیٹ ایک ایک کر کہ کھنگالنے کے بعد چینی اور پتی نکال کر سلپ پر رکھی۔۔ دودھ میں بوائل آتے ہی چولہا بند کیا۔ساتھ ہی پانی میں پتی ڈال کر دو جوش دے کر چولہا بند کر دیا۔۔ اس سارے عرصے میں شایان نے خاموشی سے اس کی کروائی دیکھی تھی۔موبائل وہ پہلے ہی بند کر چکا تھا اب بس مزے سے سمبل کو دیکھ رہا تھا۔جو اپنی مرضی کا ناشتہ بنانے میں لگی ہوئی تھی۔ فرج سے ڈبل روٹی،مكهن اور انڈے نکالنے کی غرض سے فریج کا دروازہ کھولا تو اس کی تواقع کے برعکس فرج میں وہ تمام چیزیں موجود نہیں تھیں۔محض دو تین قسم کے فروٹس کے علاوہ باقی ساری چیزوں کی بوتلز خالی پڑی تھیں۔جو یقیناً شایان کا بھوکا دوست خالی کر چکا تھا۔۔اس کے مطابق تو فرج کو بھرا ہونا چاہئے تھا۔چہرہ ایک دم بجھ سا گیا تھا۔کیوں کے اس وقت پیٹ میں چوہے ڈور رہے تھے۔ "فرج میں تو ناشتے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔۔"سمبل نے اس کی جانب رخ کرتے پریشانی کا اظہار کیا۔۔ "کیوں نہیں مجھے تو اتنے سارے تازہ پھل نظر آرہے ہیں۔آج کا ناشتہ ان سے بھی تو ہو سکتا ہے۔۔"شایان نے موبائل پر انگلیاں چلاتے تسلی بخش انداز میں کہا۔۔ سمبل نے ایک نظر فروٹ ٹرۓ میں پڑے سیب ،کیلا ،نارنجی اور انار پر ڈال کر پریشانی سے اسے دیکھا۔مطلب کیا آج وہ صرف یہ فروٹ کھا کر گزارا کرۓ گی۔خانزادہ خاندان کا بیٹا اتنا کنجوس اپنی بیوی کو پہلے ہی دن صرف چار پھلوں کا ناشتہ کروارہا تھا۔۔ "مراقبے میں چلی گئی ہو کیا۔جلدی سے انار یا پھر اورینج کا جوس نکال لو۔آج واپسی میں کھانے پینے کا سامان لیتا آؤنگا۔فلحال یہ غذایت بخش پھل کھاؤ اور جان بناؤ۔۔۔"شایان کے حکم پر سمبل نے تنک کر پھل نکالے۔۔ ڈھونڈ ڈهانڈ کر سلپ کے ایک طرف رکھی جوسر مشین برآمد کی۔جو بند آنکھوں سے ڈھونڈنے
