Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 22/01/2026
258 Views
Part 01
بلاوجہ ہمارے بیچ آنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔"ماہین نے ایک دم اس کے قریب چہرہ گھوما کر تڑخ کر کہا۔جبکہ وہ اس کے لہجے پر صرف صبر کا گھونٹ پی کر رہ گیا۔۔ "وہ ہمارے بیچ نہیں آرہی۔اور آۓ گی ہی کیوں؟میں اسے ہمارے بیچ لیکر ہی نہیں آرہا تو بتاؤ وہ کیسے ہمارے بیچ آسکتی ہے۔۔"شایان نے نرمی سے متوازن لہجے میں کہا۔جو طنزیہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔۔۔ "جھوٹ سب جھوٹ تو پھر شادی کیوں کر رہے ہو۔"لہجہ خاصہ گستاخ تھا۔۔۔ "مجبوری ہے میری یار۔۔"اب وہ جھنجھلا ہی تو گیا تھا۔۔ "اوہ پلیز یہ پاکستانی لوور کلاس لڑکیوں کی طرح بہانہ نہیں بناؤ۔مجبوری ہے!!!"وہ ناگواری سے حقارت زدہ لہجے میں بولی تو اس کے ماتھے کے بلوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔۔ "تو کیا چاہتی ہو پھر۔۔"سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔ "اسے چھوڑ دو۔۔۔" "مجبوری ہے۔نہیں چھوڑ سکتا ۔۔"جواب برجستہ تھا۔۔ "تو مجھے چھوڑ دو۔۔" " ناممکن۔"اٹل لہجہ تھا جس پر وہ غصّہ سے ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔۔ "نا تم مجھے چھوڑ نے کے لئے تیار ہو نا اسے۔۔تو پھر ایک ڈیل کرتے ہیں۔۔"ماہین کہ شاطر دماغ میں یکایک ایک آئیڈیا آیا تھا۔۔ ________ "کیسی ڈیل۔۔"شایان نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔ماہین کہ چہرے پر اب شیطانی مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔ "پہلے تم وعدہ کرو غصّہ نہیں کرو گے۔" احتیاطی تدابیر بھی لازمی تھیں۔ "اس سے پہلے کبھی غصّہ کیا ہے جو آج کروں گا۔"شایان کی محبت پر وہ تفخر سے مسکرائی تھی۔۔ تو پھر سنو!!!!وہ رازداری سے اپنے دماغ کا فتور اس کہ آگے بیان کر رہی تھی۔جبکہ اس کا آئیڈیا سن شایان کہ چہرے پر ناگواری سی چاہ گئی تھی۔۔ "یہ کیا بات ہوئی ماہی کیا تمھیں میری محبت پر شک ہے۔"لہجے میں بے یقینی سی تھی۔ "نہیں نہیں۔۔۔"ماہین نے جلدی سے اس کہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔ "میری بات سمجھنے کی کوشش کرو اس طرح کوئی بھی تمھیں بلیم بھی نہیں کرے گا۔اور وہ جاہل لڑکی بھی تمہاری زندگی سے نکل جائے گی۔"ماہین نے شایان کہ ماتھے پر پڑے بل اپنی مخروطی انگلیوں کی مدد سے دور کرتے شاطرانہ انداز میں کہا۔۔ "پر یار وہ میری خالہ کی بیٹی ہے میں ایسے کیسے اس کا نام کسی بھی غیر شخص کے ساتھ جوڑ سکتا ہوں۔"شایان کو اس کا یہ خرافاتی آئیڈیا خاصہ برا لگا تھا۔کسی کہ کردار پر انگلی اٹھانا کوئی چھوٹی بات تو نہیں تھی۔۔ "تو بس ٹھیک ہے۔ڈیل کہ مطابق اگر تم اس لڑکی سے جان چھڑوانا چاہتے ہو تو اس پلین پر عمل کرو اور اگر تمہارے اندر اس اجٹ کہ لئے اتنی محبت جاگ رہی ہے تو بس ہمارا تعلق آج اور ابھی سے ختم سمجھو۔اب فیصلہ تمہارا ہے میں یا وہ جاہل۔تم کس کا انتخاب کرتے ہو۔"ماہین نے اس کہ ارادے کمزور پڑتے دیکھ۔پھر سے غصّے اور ناگواری سے اپنی شرط رکھی۔۔ "تم صرف میری ہو۔تمہاری شادی صرف مجھ سے ہوگی یہ بات اپنے ذہن میں رکھنا۔مجھ سے دوری کا خیال بھی اپنے ذہن سے نکال دو۔"شایان نے اس کی براؤن آنکھوں میں اپنی کرسٹل گرے آنکھیں گاڑ کر باور کروایا تو وہ ایک ادا سے مسکرا اٹھی۔۔ "تو پھر کیا سوچا تم نے۔۔"ذرا پیچھے ہٹ کر سنجیدگی سے پوچھا۔۔ "وہ میری خالہ کی بیٹی ہے میں اس کا نام کسی غیر شخص کہ ساتھ جوڑ کر اس پر جھوٹا الزام لگا کر طلاق نہیں دے سکتا۔"شایان نے گاڑی سٹارٹ کرتے متوازن لہجے میں کہا۔۔۔ "تو پھر۔۔"ماہی نے بالوں میں کیچر لگا کر غصّہ سے پوچھا۔۔ "پھر یہ ملکہ عالیہ کہ ابھی ہم اچھے سے لنچ پر جا رہے ہیں۔پھر موی دیکھیں گے۔اور پلیز اب یہ سمبل نامے کو بند کر دو۔میں آج کا اپنا سارا وقت تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔"شایان کی گاڑی بل کھاتی سڑک پر تیزی سے دورتی چلی جا رہی تھی۔ایک مسکراتی نظر اس کے حسین چہرے پر ڈال کر خوشگوار لہجے میں کہا۔جبکہ ماہین نے سرجھٹک کر اپنے بال چہرے پر سے پیچھے کرتے خاموشی میں ہی عافيت جانی۔۔ ______ "سمبل ہمارا بچہ کہاں ہو تم۔۔"خاجستہ جہاں نیچے کھڑی ہی اسے آوازیں دے رہی تھیں۔ "ہاں ہاں امو یہ رہی۔بولیں کیا ہوا۔۔"سمبل نے کمرے سے ہی آواز لگا کر اپنی ماں کی جانب دوڑ لگائی۔۔ "بچہ تم تیار ہو جاؤ۔آپا جان آرہی ہیں تمھیں لے جانے شادی کی شاپنگ کرنے جانا ہے نا۔۔" انہوں نے نرمی سے اس کہ بال سنوار کر مطلع کیا۔ "سچ میں امو۔۔"سمبل نے خوشی سے پوچھا۔ "بلکل سچ بچہ ۔بس جلدی سے تیار ہو جاؤ اور سب کچھ اپنی خالہ کی مرضی کا لینا ٹھیک ہے۔"اس کہ من موہنی سی صورت سے نظر لگ جانے کہ خدشے کہ تحت نظریں چرا کر کہتے ہدایات کیں۔۔ آپ بھی چلیں نا امو۔"سمبل نے ان کے گلے میں پیار سے باہیں ڈالیں۔ "آپا جان بھی یہی کہ رہی تھیں۔پر میرا بچہ مجھ بوڑھی کی ہڈیوں میں کہا اتنی جان ہے کہ بازاروں کی خاک چھان سکوں۔۔"انہوں نے پیار سے اس کا گال تهپتھپا کر اس کہ اچھے نصیب کی دعا کی۔۔ "چلیں کوئی بات نہیں میں خالہ جانی کہ ساتھ چلی جاؤ گی۔آپ اپنا خیال رکھیے گا۔"سمبل نے محبت سے انہیں کندھوں سے پکڑ کر سوفے پر بیٹھایا۔۔ "اچھا دادی صاحبہ۔جاؤ بچہ جلدی سے بھاگو تم۔تمہاری خالہ بس آتی ہونگی۔ جانے کے لئے کوئی اچھے سے کپڑے نہیں نکالنے کیا۔۔"ان کے کہنے پر ایک دم یاد آنے پر سمبل سر پر ہاتھ مارتی مسکرا کر بھاگی۔ پیچھے وہ اس کی جلد بازی پر مسکرا کر نفی میں سر ہلآتیں رہ گئیں۔۔ _______ "سمبل میری جان تمھیں جو اچھا لگتا ہے وہ لے لو۔۔"خان بیگم اسے کتنےہی برائیڈل لہنگے دکھا چکی تھیں۔جس کا بس ایک ہی جواب تھا جو آپ کو اچھا لگے خالہ وہ لے لیں۔ "خالہ آپ بتائیں کونسا لوں۔میں وہی لے لونگی۔۔"سمبل نے ان کہ آگے بلڈ ریڈ کلر کہ پڑے شراروں کی جانب دیکھ کر کہا۔ "پہنا تمھیں ہے تم بتاؤ کونسا لینا ہے.ام خانم کو کیوں تنگ کر رہی ہو۔۔"ابھی وہ دونوں کسی ایک ڈریس کے انتخاب میں ہی الجھی ہوئی تھیں کہ پیچھے سے ایک سرد آواز نمو دار ہوئی۔سمبل تو اتنی سخت آواز پر ڈر کر اچھل ہی پڑی تھی۔ "ارے شایان بچے آپ یہاں کیسے میرا بیٹا۔۔"خان بیگم نے اپنے بیٹا کا ماتھا چوم کر کہا جس کی نظریں سمبل کہ ہی چہرے پر تھیں۔جو خان بیگم کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ "آج سنڈے تھا یونیورسٹی سے چھٹی بھی تھی تو سوچا آج کچھ شاپنگ ہی کرلی جائے۔بس اسی غرض سے اپنے دوست کہ ساتھ مال آیا تھا۔کہ مجھے آپ اور یہ میڈم شرارے کہ لئے تكرار کرتی نظر آئیں تو میں آپ کی جانب آگیا۔۔"شایان نے سمبل کہ برابر میں خالی رکھی چیئر سمبھال کر کہا۔جو جھجھک کر سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔شایان استہزایہ مسکرا کر تھوڑا فاصلہ پر ہو کر بیٹھ گیا تھا۔۔ چلو یہ بھی اچھا ہوا۔اب تم ہی بتاؤ تمہاری بیوی کہ لئے کونسا جوڑا لوں۔کیوں کہ یہ تو اپنی مرضی بتا ہی نہیں رہی ہے۔اب تم ہی پوچھو اس سے ۔"خان بیگم کو اس طرح ہاتھ جھاڑ کر ایک طرف ہوتا دیکھ سمبل ہڑبڑا ہی گئی تھی۔جو پہلے ہی اس کہ سر پر سوار تھا۔اب گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔۔ "اپنی پسند کیوں نہیں بتا رہی ام خانم کو تم۔جلدی بتاؤ ان میں اتنی جان نہیں ہے کہ تمھیں لیکر مختلف دکانوں کی خاک چھانتی پھیریں۔"شایان نے ماتھے پر بل ڈال کر اس کہ چادر کہ حالے میں دمکتا
