Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
کو بھی نہیں لینے دونگی۔سُن لیا آپ نے۔‘‘وہ شہادت کی انگلی اُٹھا کر تنبیہ آنداز میں بولتی پیاری لگی تھی۔۔جبھی وہ بے ساختہ جھکاتھا اور اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا پیچھے ہوا،وہ حیا کے باعث اپنا سُرخ چہرہ اُسی کے سینے میں چھپا گئی۔۔جبکہ افگن اس دلفریب ادا پر چاہت سے ہونٹ اس کے بالوں کی مانگ پر جماتاگزرا وقت یاد کرتا آنکھیں موند گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "یور آنر اس پری پلینڈ ریپ کے اہم گواہ یہ دونوں احمر سلطان کے قریبی دوست ہیں۔اور اُجالا کی میڈیکل رپورٹ!جس سے میں بات صاف ظاہر ہے کہ یہئ اصلی مجرم ہے۔جس نے مجھے راستے سے ہٹانے کے لئے مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ کرایا تھا۔میں آٹھ ماہ ایک نا معلوم ہسپتال میں زخمی پڑا رہا ہوں۔میرا شمار نہ زندو میں تھا نہ مردوں میں۔اور اُجالا کا قاتل ہے یہ۔۔میں معزز عدالت سے یہ درخواست کرونگا کہ وہ احمر سلطان کوسخت سے سخت سزا سنائیں۔‘‘وہ ایک ہی سانس میں ساری حقیقت گوشہ گزار کر گیا تھا۔۔۔۔جبکہ وکیل صاحب قہقہہ لگا اُٹھے تھے۔ ’’اوہ مائی گاڈ!یور آنر جب مسٹر شیر افگن ہمیں اپنی کہانی سُنا رہے تھے تو بالکل ایسا محسوس ہورہا تھا۔۔جیسے کوئی فلم کی اسٹوری ہو۔۔ویسے افگن صاحب سوری مائینڈ مت کیجیے گا۔یہ بتائیے آپ نے یہ اسٹوری کسی ایڈین یا پاکستانی موی سے انسپائیر ہوکر خود ہی گھڑ لی ہے۔‘‘ مخالف وکیل نے شیر افگن کے قریب آتے کمینگی سے پوچھا تھا۔ ’’ابجیکشن یور آنر!میرے ساتھی وکیل ایک لڑکی پر ہوئے ظلم کی داستان کو مووی سے تشبیہ دے کر نہ صرف مرحومہ کی روح کو تکلیف دے رہے ہیں۔بلکہ معزز عدالت کو اور اس میڈیکل رپورٹ کو بھی جھوٹا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ افگن کے وکیل نے تیزی سے ابجیکشن کیا تھا۔ ’’آرڈر !آرڈر۔میڈیکل رپورٹ پیش کی جائے۔‘‘جج صاحب نے رپورٹ پر طائرانہ نگاہ گھمائی تھی۔ ’’یہ عدالت ملزم احمر کو اپنی صفائی پیش کرنا کا موقع دیتی ہے۔‘‘ ’’ یور آنر! یہ سب سراسر الزام ہے مجھ پر۔جبکہ کچھ ماہ قبل اس شخص نے مجھ پر میرے ہی گھر میں آکر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کمرہ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔اور ریپ وکٹم اُجالا کا مجرم میں نہیں بلکہ شیر افگن ہاشمی خود ہے۔جس نے دوستی کی آڑ میں ہم سب کی پیٹھ میں چھر ا گھونپا ہے۔پہلے میری بہن اور اب بیچاری اُجالا۔‘‘وہ تیز لہجے میں بہت صفائی سے جھوٹ بول رہا تھا۔ ’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘افگن کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا۔ ’’آرڈر !آرڈر!‘‘گواہاں کو پیش کیا جائے۔‘‘سب سے پہلے احمر کا دوست کٹہرے میں آیا تھا۔ ’’جج صاحب!میں وٹنس باکس میں گواہ کو بلانے کی اجازت چاہونگا۔‘‘ ’’اجازت ہے۔‘‘ ’’جی مسٹر صمد!آپ بتائے کہ شیر افگن کی خود ساختہ اسٹوری میں کتنے فیصد سچائی ہے۔‘‘ وکیل صاحب اب اس کی جانب آئے۔جس نے آگے کی نشستوں میں بیٹھی اپنی گرل فرینڈ اور اب حالیہ بیوی کو دیکھا تھا۔جس کی آنکھوں میں خوف تھا۔۔ اس کی کچھ پرسنل تصاویریں افگن اور ارتضیٰ کے پاس محفوظ تھیں۔اس بار انہونے بھی بلیک میل کرنے کے لئے انہی کا حربہ آزمایہ تھا۔۔ ’’یہ۔۔یہ سچ ہے کہ اُس رات اُجالا کا ریپ احمر نے ہی کیا تھا۔۔اور اُس ڈرنک میں ڈرگز میری بیوی نے ہی ملائی تھی۔۔‘‘وہ لب چباتا تیزی سے بول گیا۔ ’’آپ جا سکتے ہیں۔ میں معزز عدالت سے دوسری اہم گواہ صمد صاحب کی بیوی کو وٹنس باکس میں بلانا کی اجازت چاہوں گا۔‘‘ اجازت ہے۔‘‘ ’’جی محترمہ تو آپ ہیں صمد صاحب کی بیوی ۔‘‘اس نے تھوک نگل کر سر ہلایا۔ ’’تو ذرا آپ معزز عدالت کو یہ بتائیے گا کہ افگن صاحب نے یہ جھوٹ بولنے کے لئے آپ کو کس طرح بلیک میل کیا ہے؟‘‘افگن اور ارتضٰی نے لب بھینچے۔ ’’یہ جھوٹ ہے۔۔میں جو کہونگی سچ کہونگی اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہونگی۔۔میں احمر اور میرے ہزبینڈ بہت اچھے دوست تھے۔صمد کے کہنے پر ہی میں نے یہ کام کیا تھا۔اس دن اس لڑکی کو احمر اسی ارادے سے فلیٹ میں لایا تھا۔اُجالا کے بے ہوش ہونے کے بعد ہم فلیٹ سے چلے گئے تھے۔۔اس کے بعد وہاں کیا ہوا ہم نہیں جانتے۔مگر احمر سلطان کے ارادے ہر گز بھی نیک نہیں تھے۔‘‘ ’’یور آنر!آپ نے گواہاں کی گواہی تو سُن لی۔۔اب میں معزز عدالت کو اُس رات کی گفتگو کی ریکارڈنگ سُننا چاہونگا۔۔جو احمر اور اُجالا اور پھر صمد صاحب کے بیچ ہوئی تھی۔‘‘ ’’اجازت ہے۔‘‘ کمرہ عدالت میں اُجالا اور احمر کی کال رکارڈنگ پلے کی گئی تھی۔،اور اسکے بعد صمد اور احمر کی جس میں ،وہ اسے تیاری مکمل رکھنے کی تلقین کر رہا تھا۔ ’’ابجیکشن یور آنر!یہ میرے بیٹے پر جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے۔‘‘صفدر صاحب چاروں طرف سے شکست دیکھ چیخ اُٹھے تھے۔۔ ’’ابجیکشن آور رولڈ!آپ کو جو بھی کہنا ہے وٹنس باکس میں آکر کہئے۔۔‘‘ ان کا اعتراض فوری مسترد ہوا تھا۔جبکہ وہ وکیل کے اشارے پر لب بھینچ کر اپنی نشست سنبهالی۔۔ ’’یہ عدالت ملزم احمر کو پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے ،پولیس کو کیس کی مزید چھان بین کا حکم سُناتے ہوئے عدالت کی کارروائی کو اگلے ہفتے تک کے لئے ملتوی کرتی ہے۔۔اور شیر افگن ہاشمی کو ا س بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ عدالت کے کسی بھی فیصلہ سے قبل یہ ملک چھوڑ کر جانے کے اہل نہیں۔‘‘عدالت برخواست ہوگئی تھی۔اور احمر چیختا چلاتا پولیس کی تحویل میں بھی افگن پر برُی طرح چلا رہا تھا …………….. حیات نے محبت سے اپنے محرم کو دیکھا تھا۔جو ہزار آزمائشوں کے باووجود اول دن سے اس کے ساتھ کھڑا تھا۔بلا شبہ نکاح سے زیادہ مضبوط رشتہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ پہلے بیوی،پھر محبوبہ اور پھر شیر افگن کے بچوں کی ماں،وہ اس کے دل کی واحد ملکہ تھی۔جو پورے حق سے اس کے دل کے اس حصے میں براجمان تھی جہاں کوئی نہ تھا۔ نہ ہی کوئی آسکتا تھا۔شیر افگن کسی فینٹسی کہانی کا ہیرو نہیں تھا جو ناراض نہیں ہوتا تھا یا غصے کا اظہار نہیں کرتا تھا۔کیونکہ وہ حیات کی زندگی کا واحد مرد اور اس کی کل کائنات تھا جس کے ساتھ پوری زندگی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر یہ طویل سفر طے کرنا تھا۔۔ خیالی دنیا تو کچھ لمحوں کی ہوتی ہے جو غائب ہوجاتی ہے۔کھو جاتی ہے۔۔اپنا سحر گنوا دیتی ہے ۔۔مگر یہ حیات کی زندگی تھی اور افگن اس کا شوہر،اس کا ہیرو جو صدا یونہی رہنے والا تھا۔ہمیشہ اس کا اچھا دوست،اس کا محبوب ،اس کا عاشق بن کر۔۔ہاں وہ کسی پاگل ۔بیوقوف ،دیوانی سی حیات کاظمیٰ کا عاشق نہیں تھا۔۔مگر وہ اپنی زندگی،اپنے جینے کی وجہ،سانسوں سے قریب اپنے بچوں کی ماں حیات شیر افگن کے عشق میں بُری طرح مبتلہ تھا۔۔عشق ایک ایسا مرض جو لاعلاج ہے۔۔۔ ’’ یار دیکھو اپنی بھانجی کو۔۔یہ پاکستان نہ جانے کی ضد کر رہی ہے۔بھئی اسے بتاؤ کہ نیکسٹ ویک کی ہماری فلائٹ ہے۔اور پھر دادو کے ساتھ ہم نے حج ادا کرنا ہے ان شا اللہ۔۔پھر تم لوگ بھی تو آتے جاتے رہو گے ناں۔‘‘ارتضیٰ نے عابثہ کی ضد پر شیر افگن سے شکایت لگائی۔افگن اور حیات ایک دوسرے کو دیکھ مسکرائے۔وہ دونوں بھی تو یونہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑا کرتے تھے۔۔۔ ’’عابثہ ضد نہیں کرو!میں تم دونوں کو بھی یہاں روک لیتا۔مگر میری جان وہاں دادو بھی تو ہیں۔۔اور میری گڑیا ہمیشہ میرے بہت قریب رہے گی۔۔آگر یہ کمینہ کبھی بھی تمہیں تنگ کرے تم پہلی فلائٹ لے کر یہاں میرے
