Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
شناخت ممکن نہیں ہوسکی۔‘‘ وہ شدید ضبط سے بولتے صوفے پر ڈھے گئے تھے۔۔۔زرین نے بے یقینی سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ ’’یہ۔۔۔یہ آپ کیا بول رہے ہیں ناصر صاحب!‘‘وہ بے یقینی سے کچھ بول ہی نہیں سک رہی تھیں۔۔۔۔ ’’دعا کرو۔۔۔دعا کرو کہ میری آنکھوں دیکھا، اور کانوں سے سنُا سب جھوٹ ہو۔۔۔اور ہمارا بیٹا بالکل ٹھیک ہو۔۔۔اللہ پاک ہماری گود نہ اُجاڑ دے زرین۔۔‘‘وہ شدید کرب کے عالم میں بولتے جوان بیٹے کے غم میں رو پڑے تھے۔۔۔ ’’اللہ نہ کرے۔۔۔ناصر صاحب۔۔میرے بچے کو میری بھی عمر لگ جائے۔آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں۔‘‘وہ پھوٹ پھوٹ کر روتیں ان کے قدموں کے پاس ہی بیٹھ گئیں تھیں۔۔ ’’آنٹی پلیز!سنبھالیں خود کو۔۔۔‘‘ارتضیٰ نے انہیں دلاسہ دیا۔ ’’کیسے سنبھالوں بیٹا!میرا بچہ۔۔۔میرا بچہ۔۔۔مجھے نہیں معلوم۔۔۔میرا بیٹا واپس لا کر دو مجھے۔۔‘‘ اُن کی ممتا تڑپ اٹُھی تھی۔ ’’آنٹی ریلیکس!ابھی آپ کو خود کو سنبھالنا ہوگا۔۔ انکل کو شیر افگن کو۔۔۔پلیز!‘‘وہ ان کو اپنے حصار میں لے کر خود سے لگاتا بہت ضبط سے بولا تھا۔ ’’حیات!ارتضیٰ حیات۔۔۔کیا حیات کو یہ سب معلوم ہے۔‘‘بلاخر انہیں حیات کا خیال آہی گیا تھا۔۔ ’’نہیں وہ میرے گھر ہیں۔۔افگن نے جانےسے پہلے بھابھی کو میرے حوالے کیا تھا۔‘‘‘ارتضیٰ نے تحمل مزاجی سے کام لیا تھا۔ ’’بیٹا!لے کر آؤ حیات کو۔۔نجانے یہ بچی اپنی قسمت میں کیا لکھ وا کر آئی ہے۔۔آزمائشیں ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔‘‘ وہ شدید رنج کی کیفیت سے دوچار تھے۔۔۔ ’’ انکل!کیا ہم ابھی فی الحال حیات کو اس خبر سے لاتعلق رکھ سکتے ہیں،وہ کل رات ہی اتنے بڑے ٹرامہ سے گزری ہیں۔اب یُوں اچانک انہیں شاکس پر شاکس دینا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اُن کی مینٹل کینڈیشن ویسے ہی اسٹیبل نہیں ہے۔۔آٹلیسٹ آپ لوگ انتظار تو کیجیے۔۔کچھ نہیں ہوا ہوگا افگن کو۔۔وہ ٹھیک ہوگا بالکل۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں اُمید سے بولا تھا۔۔ناصر صاحب خاموش بیٹھے تھے۔کہنے اور سنُنے کو آخر رہ ہی کیا گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھٹکے کی آواز پر زرین نے افگن کی فوٹ فریم میں لگی تصویر کو لبوں سے چھوتے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔ ’’آنٹی!وہ انکل کہاں ہیں؟‘‘وہ لب چبا رہی تھی۔ ’’کام سے گئے ہیں۔۔‘‘وہ اپنے آنسو خشک کرتیں سردگی سے بولیں تھیں۔ ’’ آنٹی افگن کب واپس آئیں گے۔۔وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے۔‘‘حیات نے ہمیشہ کا کئے جانے والا سوال پوچھا۔۔زرین نے ذرا سی نگاہیں اٹُھا کر اُس کی جانب دیکھا۔ جس کا چاند کی مانند چمکتا چہرہ افگن کی غیر موجودگی میں کملا کر رہ گیا تھا۔۔۔آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے تھے۔جن ہونٹوں سے مسکراہٹ جُدا نہیں ہوتی تھی اب وہ مسکرانا بھول گئے۔ ’’اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔‘‘ وہ بے حد سفاکیت سے اُسے قیامت کی آگاہی دے چکی تھی۔۔آخر اس حقیقت کو کب تک اُس سے چھپایا جا سکتا تھا۔ ’’کیوں؟کیا وہ مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں آنٹی؟‘‘وہ دوڑ کر ِان کے قدموں میں آبیٹھی تھی۔ ’’وہ نہیں آئیگا اب۔۔۔افگن کی روڈ ایکسیڈینٹ میں دیتھ ہوگئی تھی۔۔پاگلوں کی طرح اس کا انتظار کرنا بند کردو اب۔۔۔‘‘وہ جذبات میں بولتیں خودد بھی ہچکیوں سے رو پڑی تھیں۔۔۔جبکہ حیات تو مانو پتھر کی ہو گئی تھی۔ ’’آنٹی!جھوٹ جھوٹ ہے ناں یہ۔‘‘وہ بہت دیر بعد ہوش میں آئی تھی۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ ’’سچ ہے یہ۔۔۔بالکل سچ۔۔۔اور جانتی ہو اس کی موت کا زمہ دار کون ہے۔۔۔تم ہو ۔۔تم ہو میرے معصوم بیٹے کی موت کا ذمہ دار!جب سے آئی ہو۔ہمارے گھر سے خوشیاں رُوٹھ گئیں ہیں۔‘‘ وہ شدت بھرے لہجے میں ہذیانی سی ہوکر چنگھاڑی تھیں۔۔۔جبکہ وہ پہلے بے یقینی،اور پھر آگاہی میں پاگل ہوتی چیخ چیخ کر رُونے لگی تھی۔ ’’افگن مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔نہیں۔۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔آخر وہ میرے ساتھ یہ زیادتی کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔انہونے کہا تھا حیات میں واپس آکر تمہاری خبر لونگا۔۔میں کوئی اُلٹی حرکت نہ کروں۔۔دیکھیں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔میں انتظار کر رہی ہوں اُن کا۔۔مگر وہ نہیں آرہے۔۔وہ ناراض ہوگئے ہیں مجھ سے۔۔وہ ناراض ہوگئے ہیں مجھ سےآنٹی۔۔انہیں بولیں اُن کی حیات مر جائے گی ان کے بغیر۔۔۔۔۔‘‘ وہ رندھی ہوئی آواز سے بامشکل جملے مکمل ادا کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔جبکہ زرین بھی آج بیٹے کے غم میں اس کی برابر کی شریک تھیں۔۔ ’’میں مر جاؤنگی۔۔انہیں بولیں کہ واپس آئیں۔۔میں مر جاؤنگی افگن کے بغیر۔۔۔‘‘ وہ سجدے کی حالت میں بیٹھی اپنا ماتھا فرش سے لگائے بُری طرح رو رہی تھی۔۔۔ اور رُوتے روُتے یکدم ہی اس کی گردن لڑکھ گئی تھی۔۔ اور وہ بے ہوش ہوتی دوسرے رُخ پر گر پڑی۔۔زرین بوکھلا کر اُٹھی تھیں۔ ’’حیات!‘‘وہ چیخ کر اُس کی جانب بھاگی تھیں۔۔۔ جو ہوش و خرد سے بیگانہ تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شی از فائن مسٹر ہاشمی!بٹ اس کنڈیشن میں ان کو ایکسٹرا کئیر کی ضرورت ہے۔۔مینٹلی اسٹریس تو ان کی صحت کے لئے بالکل بھی اچھا نہیں۔‘‘ڈاکٹر چیک اپ کے بعد روم سے باہر آتی پروفیشنل آنداز میں بولی تھیں۔ ’’سوری ڈاکٹر!میں سمجھی نہیں۔۔‘‘ناصر صاحب تو خاموش تھے۔زرین نے پہل کی۔ ’’شی از ٹو منتھ پریگننٹ!‘‘ زرین کا چہرہ سپاٹ ہو گیا تھا۔جبکہ ناصر صاحب اپنے جوان بیٹے کو یاد کرغم سے نڈھال ہوتے پیچھے دیوار کے سہارے بامشکل خود کو سنبھال سکے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( چار ماہ بعد) حیات کی طبعیت بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔وہ ہر وقت شیر افگن کو یاد کر کے روتی رہتی تھی۔جو نجانے اِسے چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا۔۔اس وقت بھی وہ بیڈ پر نیم دراز آنکھوں میں آنسو لئے اس کی اور اپنی تصویر تک رہی تھی۔ جس میں وہ شررات سے اس کی جانب جھکا کان میں کچھ کہ رہا تھا۔ ’’ آپ واپس نہیں آرہے ناں افگن!اب بس ٹھیک ہے۔۔میں بھی ناراض ہوں آپ سے۔۔اب میں یہاں نہیں رہونگی۔۔میں مما کے پاس چلی جاؤنگی۔۔ویسے بھی وہ مجھے بُلا رہی تھیں۔اب وہ مجھ سے ناراض بھی نہیں ہیں۔۔ہاں میں کل چلی جاؤنگی ماما پاس۔۔پھر آپ ہوتے رہیے گاناراض۔۔اب حیات بھی آپ سے ناراض ہے۔‘‘وہ تصویر سے ایسے باتیں کر رہی تھی، گویا وہ سچ میں اُس کے مقابل بیٹھا ہوا۔۔اور پھر کب اس کی آنکھ لگ گئی ،اسے خود نہیں پتہ لگا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ناصر صاحب!ہوش کے ناخن لیں۔۔آپ اس کی ذہنی حالت تو دیکھیں ذرا ، اتنے ماہ ہوگئے مگروہ شیر افگن کے صدمے سے نکلنے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آگر،اس لڑکی کی یہی حالت رہی تو آئندہ وقت میں بہت کمپلیکیشنز ہو سکتی ہیں۔۔اور آپ اِس حالت میں اِسے اس کی ماں کے گھر لے جارہے ہیں۔‘‘ زرین کو ناصر صاحب کا فیصلہ ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔۔جو حیات کی ضد پر راضی ہوگئے تھے۔ ’’زرین اِسے اس صدمے سے نکالنے کے لئے اپنوں کی ضرورت ہے۔یہی رہے گی تو کبھی افگن کی یاد سے نہیں نکل سکے گی۔۔اچھا ہے اپنوں میں جائے گی تو اس کا غم ذرا ہلکا ہوجائے گا۔۔اور بھلا ماں سے زیادہ کون خیال رکھ سکتا ہے۔‘‘وہ سمجھانے والے لہجے میں بولے تو اس کی ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ خاموش ہوگئیں۔جو ہر وقت بس روتی رہتی تھی۔یا شیر افگن کو پکار پکار کر اُداس ہوجایا کرتی تھی۔جبھی ان کی نظر سامنے مرجھائی سی صورت لئے نزدیک آتی حیات پر پڑی تھی۔جو افگن کی سنگت میں کھلتا گلاب ہوا کرتی تھی۔اور اب اُس کی جدائی میں بالکل کملا کر رہ گئی تھی۔۔ ’’میں جاؤں آنٹی!‘‘وہ پہلے اِن کی اجازت چاہتی تھی۔زرین آگر اس کے لئے بہت اچھی نہیں ہوئیں تھیں۔۔تو اب بُری بھی نہیں رہیں تھیں۔۔شاید بیٹے کو کھو کر
