Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
حاضری..اور اب کسی لڑکی کے ساتھ واپسی پر سب ہی میں چہ مگوئیاں سی ہونے لگی تھیں۔۔ جو جاذب نظر چہرے پر حد درجہ پتھریلے تاثرات سجائے اُجالا کی کمر میں حصارڈالے سب کو مخمصے میں ڈال چکا تھا۔۔۔ حیات نے ناسمجھی سے شیر کی جانب دیکھاتھا۔۔۔جو نجانے کیوں مگر آج اس سے نظریں چُرا رہا تھا۔عابثہ تمام تر صورت حال سمجھنے سے قاصر تھی۔ارتضیٰ لب بھینچے شیر کو دیکھ رہا تھا۔۔جو آج اپنے دوست سے بھی نظر نہیں ملا پا رہا تھا۔۔جبکہ اُجالا وہ آج بہت خاموش تھی۔بس خاموشی سے زمین گھورے جارہی تھی۔۔ ’’افگن کہاں رہ گئے تھے تم؟ زرین بیگم اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتیں معاملے کی سنگینی سے انجان اپنے مخصوص لب و لہجے میں استفساریہ گویا ہوئیں تھیں۔ ’’ماما وہ۔۔۔‘‘حیات کی بے یقین سی نگاہوں میں رقم سوالات دیکھ شیر کی زبان لڑ کھڑا گئی تھی۔ ’’وہ وہ کیا کر رہے ہو؟جانتے بھی ہو تمہاری غیر موجودگی کے باعث یہاں سب لوگ کیسی کیسی باتیں بنارہے ہیں؟‘‘ناصر صاحب نزدیک آتے زرا سختی سے گویا ہوئے تھے۔ ’’اُجالا بیٹا کیسی ہیں آپ۔۔جائیں اپنی بھابھی سے تو ملاقات کرلیں۔‘‘زرین نے زرا کینہ توز نگاہوں سے گھورتے جان بوجھ کر کہا تھا۔ ’’اُجالا نے خالی خالی نگاہوں سے شیر افگن کی جانب دیکھا تھا۔۔جس کی آنکھیں شعلے اُگل رہی تھیں۔مگر وہ اُجالا کو اپنی ہمراہی میں ساتھ لئے حیات کی جانب بڑھا تھا۔۔جو یقیناً اس کی منتظرتھی۔ ’’حیات۔۔‘‘وہ اسٹیج پر چڑھ آیا تھا۔۔جو اُسے نہیں بلکہ حد سے زیادہ نزدیک کھڑی اُجالا کو تک رہی تھی۔ "شیرافگن یہ اُجالا آپ کے اتنا نزدیک کیوں کھڑی ہے؟"حیات نے شیرافگن کے حصار میں موجود اُجالا کو دیکھ بے یقینی سے استفسار کیا تھا۔محفل میں شیرافگن کی ہمراہی میں کھڑی لڑکی کو دیکھ چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ "حیات میری بات سُنو۔"وہ لہجہ ہموار کئے اس کی آنکھوں میں اُترا مان ٹوٹ جانے کا غم دیکھ آگے بڑھا۔ "نہیں!!پہلے آپ مجھے بتائیں۔یہ اُجالا اس قدر نزدیک کیوں کھڑی ہے۔"ولیمے کی دلہن بنی حیات قدم پیچھے اٌٹھآتی شدّت سے دهاڑی تھی۔ "حیات تماشہ مت بناؤ۔سب دیکھ رہے ہیں۔"وہ محفل میں موجود تمام تر آفراد کو حیرت سے گنگ باتیں بناتا دیکھ دبی دبی سی آواز میں اُس سے باز رہنے کی التجا کرنے لگا تھا۔ "تم بتاؤ۔۔میرے شوہر سے اس قدر چپک کر کیوں کھڑی ہوئی ہو تم۔۔"حیات چیل کی تیزی سے آگے بڑھتی اُجالا کو پیچھے کو دهکیلتی شدّت سے دهاڑی تھی۔پتھر کی مورت بنی وہ لڑکھڑائی۔۔ "اُجالا میری بیوی ہے۔نکاح میں ہےمیرے۔میری زندگی میں جو حیثیت تمہاری ہے۔اب سے وہی مقام اُجالا کا بھی حق ہے۔اور خبردار جو تم نے ُاجالا کے ساتھ اس طرح کا روایتی رویہ اختیار کیا تو۔"اُجالا کا چہرے سپاٹ تھا۔بالکل سپاٹ جبکہ حیات کے قدم لڑکھڑا سے گئے تھے۔شیرافگن گھبرا کر آگے بڑھتا اسے تھام لینا چاہتا تھا۔جبکہ وہ بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار غش کھا کر پیچھے کو گر پڑی تھی۔۔ "حیات۔۔۔"اس کے سنبھالنے سے قبل ہی وہ اپنا وجود اس کی گرفت سے دور کر گئی۔جو آنکھیں میچتا اُس کی دُکھ سے لرزتی پلکیں دیکھ رہا تھا۔۔سپید پڑتی رنگت اور زمیں کو گهورتی حیات کو دیکھ شیرافگن کے دل پر گھونسا سا پڑا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روتی سسکتی ہوئی دلہن بنی روڈ کنارے چل رہی تھی۔۔کتنی ہی تیز رفتار گاڑیاں تھیں جو ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے بے حد نزدیک سے گزر رہی تھیں۔مگر دوسری جانب وہ اپنے سراپے سے لاپرواہ تھی۔۔گاڑیوں کے سائرن کا شور اور مختلف قسم کی تیز آوازیں ماحول میں گردش کر رہی تھیں۔مگر وہ کان بند کئے بہتی آنکھوں سے بے مقصد راستوں کی جانب گامزن تھی۔دل کا درد تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔شیرافگن کی بے وفائی اُجالا کا اس کے حصار میں کھڑا ہونا اس کا دماغ یہ تلخ حقیقت قبول ہی نہیں کر سک رہا تھا۔۔ ایک تیز رفتار گاڑی تھی،جو تیزی سے اس کی جانب بھاگی چلی آرہی تھی۔۔مگر وہ کب اپنی دھن میں روڈ کنارے سے بیچ میں سڑک میں چلنے لگی تھی۔اس لاپرواہی کی اسے خبر ہی نہ ہوسکی تھی۔۔ تیز رفتار کار اسے سائیڈ دیتی بجلی کی سی تیزی سے نکل گئی تھی۔۔وہ لڑکھڑائی ضرور مگر ٹھری نہیں۔۔مین شاہراہ کے عین وسط میں پیدل چلتی دلہن بنی لڑکی کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔۔کپكپاتے ہونٹوں سے وہ مسلسل شیر افگن سے شکوہ کناں تھی۔جبکہ کئی لوگ اپنی گاڑیاں اسے چڑیل سمجھ کر بچ بچ کر نکال رہے تھے۔۔آخر کراچی کی کار ساز والی چڑیل کے بارے میں تو سب نے سُن رکھا تھا۔کیا معلوم کہ یہ دلہن لڑکی بھی اسی کے خاندان سے ہو۔۔ ’’حیات!‘‘ولیمے کی تقریب ادھور چھوڑ کرا س کے پیچھے آتے افگن نےا سے ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی گاڑی میں بیٹھا لیا تھا۔اور گھر لے گیا تھا۔۔وہ مسلسل روتی ہوئی شکوہ کر رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزر رہا تھا۔۔اجالا اسی گھر میں ر ہ رہی تھی۔۔وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے یہ شادی مجبوری میں کی تھی۔۔مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔کیونکہ وہ ایک وکٹم لڑکی تھی۔شیرافگن کا پہلے ہیا س پر احسان تھا۔مگر جو بھی تھا وہ اس کا خیال رکھتا تھا۔اس سے محبت کرتا تھا،مگرا سکی دوسری شادی کسی صورت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔ اس وقت دُپہر کے تین بج رہے تھے۔ناصر صاحب اور اُن کی بیگم کا تو اب تک کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ وہ اپنے کمرے میں لان میں کُھلنے والی کھڑکی میں کھڑی باہر کے منظر میں کھوئی ہوئی تھی۔جبھی شیر افگن کی گاڑی پورچ میں آکر ٹھری تھی۔۔اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔جو ڈرائیونگ سیٹ پرسے اُترتا آنکھوں پر گلاسز چڑھاتا،گھوم کر فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھا تھا۔جہاں پژمردگی سی اُجالا کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکالتے اُس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔ حیات تیزی سے نیچے کی جانب بڑھی تھی۔ابھی وہ عین وسط میں سیڑھیوں پر ہی تھی۔جبھی اُس کی نگاہیں گھر میں داخل ہوتے شیر افگن اور اُجالا سے جا ملی تھیں۔افگن بھی اسے سامنے کھڑا دیکھ کچھ لمحوں کے لئے ٹھر گیا تھا۔مگر پھر سر جھٹک گیا۔۔۔ ’’ اُجالا تم بیٹھو یہاں سکون سے!اور اب تمہیں بالکل بھی کسی قسم کی کوئی پریشانی لینے کی ضرورت نہیں۔خود کو پر سکون رکھو۔۔سمجھ گئیں ناں میں کیا کہ رہا ہوں۔۔ڈاکٹر نے تمہیں ٹینشن لینے سے بالکل منع کیا ہے۔‘‘وہ ہال میں اُجالا کو صوفے پر بیٹھاتا عام سے لہجے میں بولا تھا۔حیات قدم قدم چلتی نزدیک چلی آ ئی تھی۔ ’’کیا ہوا اُجالا کی طبیعت کو ؟خیر ہے سب؟‘‘اس نے ناسمجھی سے سوال کیا تھا۔ شیر افگن نے یکدم نگاہیں چُرائیں تھیں۔۔جبکہ اُجالا کے کب سے ضبط کئے آنسو رخساروں پر لڑکھ گئے تھے۔۔ ’’وہ اُجالا۔۔۔‘‘پتہ نہیں کیوں ،پہلی بار افگن کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔ ’’کیا ہوا آپ کو اُجالا۔۔‘‘وہ سیدھی اُجالا سے مخاطب ہوئی تھی۔افگن کا نظریں چُرانا اُسے بُری طرح کھٹکا تھا۔ ’’کچھ نہیں ہوا اُجالا کو!ایکچوئلی شی از ایکس پکٹنگ !‘‘وہ بہت ضبط سے بولا تھا۔ حیات نے حیرت اور بے یقینی سے پہلے افگن اور پھر اُجالا کی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’اُجالا!‘‘اُس کے لبوں نے بے آواز سر گوشی کی تھی۔۔ ’’حیات!تم جاؤ۔۔۔اُجالا کے لئے،کچھ کھانے کو بنا کر لے آؤ پلیز!‘‘شیر افگن نےاسے سکت کِی سی کیفیت میں دیکھ اسُ کا ہاتھ پکڑ کرزبردستی کچن کی جانب دھکیلا تھا۔ ’’افگن وہ اُجالا!وہ حیرت اور بے یقینی سے گنگ کچھ بول ہی نہ سکی تھی۔ حیات تم جاؤ!میں نے کیا کہا ہے تم سے!‘‘وہ اسے ہاتھ پکڑ
