Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
تھا۔جو اپنے پورے وجود کا وزن اس پر منتقل کر چکی تھی۔ "سونے دیں بھئی۔" "سونے دیں کی بچی۔۔تم میری جان کو آجاؤ۔اور میں تمھیں سکون سے سُونے دوں۔"وہ چڑ گیا۔ "تم ایسے نہیں مانو گی۔"اس کو شرارت سی سوجھی۔ "حیات جانو !!ذرا پیچھے ہوجاؤ۔"وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔اور اب اس کی آنکھوں میں شرارت واضح ناچ رہی تھی۔ وہ آہستہ سے بستر چھوڑتا دوسری سائیڈ گھوم کر آتا اسے اپنے حصار میں اُٹھا چکا تھا۔حیات نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا جو اُسے ہی بڑی غور سے دیکھ رہا تھا۔مگر وہ یونہی سوتی بنی رہی۔ "اؤ بہت زیاده نیند آئی ہے۔"وہ ماتھے پر شرارت سے پیار کرتا مخالف سمت میں قدم اُٹھانے لگا۔یہ پہلا استحاق بھرا بوسہ تھا۔حیات روح تک سر شار ہوگئی تھی۔۔من ہی من میں اس کا انداز پیارا لگا۔ وہ آہستگی سے قدم اُٹھاتا واشروم کے گیٹ سے جلدی سے اندر داخل ہوتا اُسے باتھ ٹب میں ڈال چکا تھا۔جو اچانک ہوئی کاروائی پر چلا اُٹھی تھی۔ "آہ ہ ہ !!یہ کیا بدتمیزی ہے افگن۔۔"شیر نے بنا تاخیر کے ہینڈ شاور سے دور ہوکر اس کے منہ پر پانی ڈالا تھا۔جو چیختی ہوئی اپنا بچاؤ کر رہی تھی۔ ہاہاہا!!!تمھیں تو بہت شدید قسم کی نیند آرہی تھی نہ تو سو جاؤ اس ٹب میں۔۔"وہ زوردار قہقہہ لگاتا مسلسل اس پر پانی پھینک رہا تھا۔ "افگن پلیز نہیں۔۔۔مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔"وہ چاہ کر بھی اپنے پیروں پر سیدھی کھڑی نہیں ہو سک رہی تھی۔ "ٹھنڈ کیوں لگ رہی ہے۔چڑیلوں کی طرح کھڑکیاں دروازہ کھول کر سو رہی تھیں۔جب ٹھنڈ نہیں لگی۔"وہ لمحے بھر کو ٹھرا اور حیات موقع کا فائدہ اُٹھاتی جلدی سے ٹب سے باہر نکلی تھی۔ "آج نہیں بچنے والی تم۔"وہ مزید شرآرت سے بولتا اس کا ہاتھ پکڑ کر شاور کے نیچے لے آیا تھا۔جو اس کی پکڑ میں پھڑپھڑائی۔ "افگن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اب میں آپ کو بھی نہیں چھوڑوں گی ۔"وہ سانس بھرتی ساتھ ایسے بھی کھینچ چکی تھی۔۔جو گھوری سے نوازتا دور ہوا۔ "حیات بیگم ایسی غلطی نہ کرنا ورنہ پچھتاؤ گی۔۔"وہ جلدی سے دور ہوا تھا۔جو خود مکمل بھیگ چکی تھی اور ساتھ اسے ہی بھیگانے کی سر توڑ کوشیش کر رہی تھی۔۔ "اور میں پچھتانے کے لئے تیار ہوں۔"وہ جھٹ پاس گرا ہینڈ شاور اٹُھاتی اس کا نشانہ لے چکی تھی۔جو دروازہ سے باہر نکلنے کے چکر میں تھا۔مگر اس سے پہلے ہی مکمل بھیگ چکا تھا۔۔ "یار حیات یہ کیا بدتمیزی ہے۔ہٹاؤ اس کو۔۔"وہ بھیگے ہوئے بال پیچھے کرتا چیخا۔ "میری نیند خراب کی وہ کچھ نہیں۔"اب وہ بھی تھک سی گئی تھی۔جبھی ایک گہری سانس بھر کر بولی۔ "اپنے سونے کا اسٹائل دیکھا ہے۔"وہ خشمگیں نگاہوں سے گھور کر بولا۔ "تو بندہ ذرا آرام سے رومانٹک انداز میں بھی تو اُٹھا سکتا ہے۔"وہ بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز بولی۔ "اوہ رومانٹک انداز !افگن کی آنکھیں چمکی تھیں۔ "ہاں تو !وہ اس کی آنکھوں میں چھپی شرارت بھانپ ہی نہیں سکی۔ "چلو اؤ پھر ذرا رومانٹک انداز میں بغیر بارش کے محبّت برسا دینا تو ساون آیا ہے والے موسم کا مزہ لیتے ہیں۔"وہ جیسے ہی اسے شاور کے پاس لے جانے لگا وہ جھپاک سے بھاگ کر باہر نکل گئی تھی۔۔۔ رات کی تاریکی میں واشروم میں موجود افگن کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔۔جبکہ ڈریسسنگ روم میں شرم سے سُرخ ہوتی حیات بھی دل سے مسکرائی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ کا ولیمہ شہر کے ایک مشہور ہوٹل میں رکھا گیا تھا۔جس میں شہر بھر کی ساری ہی ایلیٹ کلاس کریم موجود تھی۔پاکستانی بزنس ٹائیکون کی فیملیز،سیاسی احباب،بیروکیرسی کے لوگ،وکیل جج،حتی کے فارن بزنس پارٹنرز اس وقت سب ہی شیر افگن ہاشمی اور مسز افگن ہاشمی کی خوشی میں شامل ہونے کے لیے خاص الخاص اپنی تشریف آوری سے محفل میں چار چاند لگاگئے تھے۔حیات کے تیاری میں ابھی کچھ وقت مزید لگنا تھا۔جبھی کچھ دیر قبل ہی مسز ناصر ڈرائیور کی ہمراہی میں پارلر کے لئے نکلی تھیں۔اب جو بھی تھا ولیمے کی دلہن کو محض ڈرائیور کے ہاتھوں تو نہیں بُلوایا جاسکتا تھا۔جبکہ شیر افگن ناصر صاحب کی ہدایات کے عین مطابق مہمانوں کو ریسیو کرنے کی خاطر وقت سے پہلے ہی ہوٹل پہنچ گیا تھا۔ بلیک ٹیکسیڈومیں ملبوس وہ اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ مہمانوں کے ساتھ گفتگو کرتا ماحول پر چھایا ہوا تھا۔ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے دوسرے میں ولیکم ڈرینک تھامے وہ کسی بات پر دلکشی سے مسکرایا تھا۔جبھی ایسے دور سے ہی فردوس بیگم کے ہمراہ انٹرانس پر کھڑی عابثہ نظر آگئی تھی۔ساتھ ہی ارتضیٰ عباس نے بھی انٹری کی تھی۔شیر افگن ساتھی بزنس پارٹنر سے اکیسکیوز کرتا جلدی سے ان کی جانب بڑھا تھا۔ ’’ہیلو بڈی!آج تو بڑا چمک رہا ہے تو۔‘‘ارتضٰی خلاف طبیعت بغل گیر ہوتے ہی شرارت سے گویا ہوا تھا۔جبکہ عابثہ کی تمام تر سماعتیں انہی دونوں کی جانب متوجہ تھیں۔ ’’اُجالا نہیں آئی یار ابھی تک۔‘‘شیر افگن نے کلائی پر بندھی گھڑی پر ایک نگاہ ڈال کر زرا پریشانی سے کہا تھا۔ارتضٰی کا جواب زبان پر اَدھورا ہی رہ گیا تھا۔۔ ’’اے لڑکے ماں کہاں ہے تمہاری؟‘‘شیر افگن ارتضٰی کے ساتھ کھڑا فردوس بیگم کو بالکل فراموش کر چکا تھا۔ ’’اوہ سوری! السلام علیکم آنٹی !کیسی ہیں آپ؟‘‘شیر افگن آنکھیں گھُماتا جلدی سے اُن کی جانب متوجہ ہوا تھا۔جبکہ ساتھ کھڑے ارتضٰی نے بڑی دلچسپی نے عابثہ کاُ اپر سے نیچے تک جائزہ لیا تھا۔جو زرا خائف سی نگاہوں سے دیکھتی رُخ پھیر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہوٹل کی تمام تر لایٹس بند کردی گئی تھیں۔جبکہ کچھ ہی لمحوں کے توقف سےفوکس لائٹ کی روشنی میں بلیک ٹیکسیڈو میں ملبوس شیرافگن کی ہمراہی میں کھڑی حیات پر پہلی نظر پڑھتے ہی سب کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ ادا ہوا تھا۔جو سلور اور ڈارک گرے رنگ ٹیل میکسی کے ساتھ ڈائمنڈ کی جیولری پہنے برائیڈل میک آور کے باعث حسین لگ رہی تھی۔گھنی پلکوں کے سائے میں مسکارے سے چمکتی سیاہ آنکھوں میں چمکتے موتی شیر افگن کی آنکھوں سے مخفی نہیں رہے تھے۔عابثہ دو قدم چل کر نزدیک آئی تھی۔شیر افگن کی بے ساختہ ہی نظریں اس پر پڑی تھی تو وہ ہولے سے مسکرا دی تھی۔جبکہ حیات کو لوگوں کے ہجوم میں اپنوں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ ’’حیات ڈانٹ کرائے!آنسو میری بیوی کی آنکھوں سے باہر نہیں آنے چاہیے۔سب کی نظریں ہم دونوں پر ہی مرکوز ہیں۔‘‘اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا اسٹیج کی جانب بڑھتا وہ دھیمی سی سر گوشی میں باخبر کر گیا تھا۔ ’’’وہ لینس پہلی بار لگائے ہیں نا میں نے۔اس لئے ایسا ہو رہا ہے۔‘‘ناچاہتے ہوئے بھی گلا رندھ گیا تھا۔جبکہ کمر پر افگن کے ہاتھ کی سخت ہوتی گرفت وہ واضح محسوس کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں اسٹیج پر موجود تھے۔کچھ دیر شیر افگن حیات کے ساتھ کلوز آپ لیتا۔اس کا ہاتھ تھام کر فرداً فرداً سب کے پاس جاکر ملتا حیات سے سب کا تعارف کروا رہا تھا۔جبھی اسے ایک کال موصول ہوئی تھی،اور وہ ایمرجنسی میں ولیمے کی تقریب سے نکل گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیرآفگن کی ہمراہی میں قدم قدم اُٹھا کر نزدیک آتی لڑکی کو دیکھ حیات کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا تھا۔ اُجالا سجی سنواری سی اپنے سوگوار حسن کی بدولت قیامت ڈھاتے سراپے سے لاپرواہ شیرآفگن کی ہمراہی میں اسٹیج کے نزدیک چلی آرہی تھی۔۔تقریب میں موجود تمام تر مہمانوں کی توجہ انہی دونوں کی جانب مرکوز تھی۔شیرافگن کی غیر
