Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
عقل آگئی تھی۔ ’’جاؤ۔مگر اپنا بہت خیال رکھا۔۔ورنہ جانتی ہو ناں افگن ناراض ہوجائے گا تم سے۔‘‘انہونے تنبیہ ضروری سمجھی۔ ’’اب میں ناراض ہوں اِن سے۔۔اب وہ آئیں تو اُن سے کہیے گا ۔اب میں جب تک واپس نہیں آؤنگی۔۔جب تک وہ مجھے لینے نہیں آئیں گے۔۔ٹھیک ہے ناں انکل!‘‘وہ ناراضگی کا اظہار کرتی ناصر صاحب کی جانب پلٹتی معصومیت سے بولی،تو وہ ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں سے سر ہلا گئے،زرین نے اپنی آنکھیں جھپک کر آنسو چھپائے تھے۔ ’’چلیں بیٹے!آپ کی مما آپ کی منتظر ہونگی۔‘‘ وہ اِن کے ساتھ آج ہاشمی ولا کو اس وقت تک کے لئے،خیر باد کہ چکی تھی۔جب تک افگن واپس نہیں آجاتا۔۔۔اب جانے اس کا انتظار کتنا طویل ہونے والا تھا،یا پھر انتظار انتظار ہی رہ جاتا۔۔ایک لمحے کو پلٹ کر پیچھے دیکھا کہ شاید کہیں سے افگن نمودار ہوجائے مگر ہمیشہ کی طرح اس کی نگاہیں مایوس ہی لوٹ آئیں تھیں۔ افگن اپنی زندگی میں ہی حیات کی والدہ کا پتہ لگا چکا تھا۔۔وہ انہیں حیات سے ملانا چاہتا تھا مگر وہ ناراضگی ظاہر کرتیں اس سے اپنے تمام رشتے بھی ختم کر چکی تھیں۔مگر جب انہیں افگن کے اس دنیا سے جانے کی خبر ملی تو ان کی ممتا بیٹی کی محبت میں تڑپ اُٹھی تھی۔کچھ روز قبل ہی ناصر صاحب کے تھرو انہونے حیات سے رابطہ کیا تھا۔ اُن کے پاس محض افگن کا ہی نمبر تھا۔جو اب ناصر صاحب کےپاس محفوظ تھا۔جس پر زیادہ تر حیات کے نمبر کی کالز ہی موصول ہوتی تھیں۔ حیات ماں کی آواز سُن بس مسلسل معافیاں مانگے جارہی تھی۔۔شاید اُس کی ماں کی بدعا لگ گئی تھی اُسے۔۔اور اب وہ افگن سے ناراض ہوکر جارہی تھی۔ویسے بھی وہ اسے پیار نہیں کرتا تھا۔تو اب وہ بھی اس سے ناراض ہو گئی تھی۔۔ شاید کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’وہ جیسے ہی وارڈ میں داخل ہوا تو اُس کی نظریں ہوسپٹل گاؤن میں ملبوس آنکھیں موندے لیٹی حیات پر پڑی تھیں۔جو پیلے زرد چہرے کے ساتھ تھکی تھکی سی کمزور لگ رہی تھی۔۔کھٹکے کی آواز پر ذرا سی آنکھیں کھولیں تو سامنے کھڑے افگن کو دیکھ بے یقینی سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔وہ اس کی کوشش دیکھ ،جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔ ’’لیٹی رہو ناں حیات !بلاوجہ میں کیوں اُٹھ رہی ہو۔‘‘ وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھتا اپنے حصار میں لے کر بیٹھ گیا تھا۔اورسر پر بوسہ دیا۔۔جس کا چہرہ اُس کی موجودگی محسوس کر کھل اُٹھا تھا۔۔۔ ’’یہ سچ میں آپ ہیں ناں افگن !‘‘وہ جس کو رات میں اپنا خواب تصور کر رہی تھی،وہ سچ میں سامنے کھڑا تھا۔ ’’یس مائی لو آٹس می!‘‘وہ اِس کی گھور سیاہ نم آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھتا محبت سے بولا۔جوجھٹ سینے سے آلگی تھی۔ افگن نے اُس کے گرد مضبوطی سے اپنا حصار قائم کیا تھا۔۔ اُس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اُس کے بالوں میں جذب ہوگیا تھا۔ ’’تھینکو یو مجھے اتنا پیارا سرپرائز دینے کے لئے۔‘‘ اُس کا اشارہ جڑواں بچوں کی طرف تھا۔جبکہ وہ تو سینے سے لگی ابھی تک اس کی موجودگی محسوس کر رہی تھی۔کمر کے گرد تنگ سا حصار قائم کر رکھا تھا،گویا کہیں وہ دوبارہ نہ چھوڑ جائے۔۔ "میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔۔" "میں نے بھی۔۔"وہ دونوں ہی خاموش تھے۔۔ ’’تمہیں ٹوئینز بے بیز کا معلوم تھا؟‘‘وہ محبّت سے اُسکے ہاتھ کی پشت پر لب رکھتی مسکرا کر دھیرے سے سر اثبات میں ہلا گئی۔جبھی بچوں کو گود میں اُٹھائے سب ہی ایک ایک کر کے روم میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ ’’بھئی ٹوئینز کا تو سب کو ہی معلوم تھا۔کیا ضروری ہے کہ صرف آپ ہمیں اچانک سے واپس آکر سرپرائز کردیں۔ایک سرپرائز تو ہم بھی آپ کو دے ہی سکتے ہیں۔‘‘یہ حیات کی مما تھیں،جو دھیرے سے مسکراتی نزدیک آئی تھیں۔مگر اُن کی بیٹی تو شوہر سے ہی چپکی پڑی تھی۔اپنے بچوں کی طرف تو دیکھا بھی نہیں تھا۔مسکراہٹ تھی کہ لبوں سے جُدا نہیں ہورہی تھی۔۔ ’’حیات اپنے بچوں کو نہیں دیکھنا کیا؟‘‘بلآخر انہوں نے اُس کی توجہ دلائی تو وہ خفت کے مارے گڑبڑا کر دُور ہونے لگی تو افگن نے مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ میں اپنی بیٹی کو تھامتے دوسرے سے اسے واپس اپنے قریب کیا تھا۔ عابثہ نے آگے بڑھ کر نیلے کمبل میں لپٹے شہزادے کو حیات کی گود میں ڈال دیا۔وہ نم آنکھوں سے اپنے بیٹے اور بیٹی کے ہاتھ پاؤں چومتی افگن کو دیکھ دھیرے سے مسکرائی تھی۔۔افگن کی آنکھوں میں چمکتے جذبات کی لپك کی حدت کے باعث، اس کا چہرہ تمتما اُٹھا تھا۔۔ ’’ مبارک ہو حیات بیٹا!اللہ پاک دونوں بچوں کو صحت و تندرستی والی زندگی دے۔آمین۔۔۔اور تم دونوں ماں ،باپ کا سایہ ہمیشہ اِن کے سروں پر سلامت رکھے۔۔‘‘ وہ دونوں ہی اپنی خوشی کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر تھے۔جبھی وہ سب لوگ اِنہیں پرائیوسی دینے کے خیال سے روم سے باہر نکل آئے تھے۔۔۔ ’’حیات دیکھو میری بیٹی بالکل مجھ پر گئی ہے۔۔یہ زیادہ پیاری ہے ناں ۔اس کی نیلی آنکھیں کتنی پیاری ہیں ناں ؟‘‘وہ اُس کی توجہ بھٹکانے کی خاطر بولا وہ جو اپنے بیٹے کو پیارکر رہی تھی۔اب بغور بیٹی کو دیکھا تھا۔جو واقعی بہت پیاری تھی۔۔۔ ’’لیکن میرا بیٹا زیادہ پیارا ہے۔کیونکہ یہ اپنی ماما پر گیا ہے۔‘‘ وہ اپنی بیٹی کے ہاتھ پر بوسہ دیتی شرارتی لہجے میں بولی تھی۔ تو افگن مسکراتا ہوا جگہ بنا کر ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ’’جاناں اِن کے نام سوچیں ہیں تم نے؟‘‘وہ ُاس کے آرام کی غرض سے دُونوں بچوں کو خوُد احتیاط سے گود میں تھام کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ’’ نہیں!مگر آپ،میرے ایک بچے کو مجھے دیں دیں۔اتنے چھوٹے سے ہیں۔۔آپ گرا ہی نہ دیجئے گا کہیں۔‘‘افگن کو بچوں کو بامشکل سنبھالتا دیکھ،وہ ذرا پریشانی سے بولی تو وہ جھٹ بے بی بوائی کو اُس کے حوالے کر گیا۔۔۔ ’’یار!ویسے میں نے تو ایک بے بی کا سوچا تھا یہ دو نوں تو ساتھ آگئے۔ہم سنبھالیں گے کیسے!‘‘اُسے ایک نئی فکر لاحق ہوئی تھی۔۔حیات مسکرائی تھی۔ ’’ہم نہیں آپ ڈئیر ہزبینڈ !میں نےاتنے مہینوں اکیلے سنبھالا ہے اِنہیں۔اب آپ کی باری ہے۔میری زمہ داری ختم۔ویسے بھی آپ کو تو چار چھے بچوں کا شوق تھا۔اَبھی تو صرف دو ہی ہیں۔‘‘وہ شرارت پر آمادہ تھی۔افگن کو دیکھ ،وہ پُرانی والئ حیات زندہ ہوگئی تھی۔۔۔ ’’خدا کو مانو بیگم! ابھی دو کو دنیا میں لاکر سکون نہیں ملا جو دو چار اور سُوچ کر بیٹھی ہو۔‘‘ افگن نے جھرجھری لی۔ جبکہ وہ نیم دراز ہوتی مسکراتی آنکھوں سے افگن کو دیکھ رہی تھی۔جو بیٹی میں بُری طرح گم تھا۔چہرے پر زخموں کے نشان واضح تھے۔مگر وہ ماضی کی کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔وہ خود واپس آگیا تھا،بس اُس کے لئے یہی بہت تھا۔وہ اللّه کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔ ’’ویسے میں اپنی شہزادی کو تو آرام سے سنبھال سکتا ہوں۔مگر اپنے بیٹے کو تم خود سنبھالنا!‘‘وہ پاس رکھے بے بی کوٹ میں دونوں بچوں کو ڈالتا مزے سے بولا۔ تو حیات نے گھور کر دیکھا۔۔۔ ’’افگن میں نے ابھی دیکھا،آپ ہمارے بچوں میں فرق کر رہے ہیں۔۔میرے بیٹے کو کم پیار نہیں ملنا چاہئے۔یہ نہیں کہ دو آگئے تو ایک کی ویلیو کم ہوجائے۔‘‘وہ مصنوعی ناراضگی سے بولی تھی۔۔۔ ’’سوچ لو پھر!کیونکہ پھر میں تمہارے حصےٰ کا پیار تمہارے بیٹے کو دے دونگا۔‘‘ وہ اس کو اپنے حصار میں لیتا شرارت سے آنکھ کا کونا دبا كر بولا۔۔ ’’میں اپنے حصٰے کا پیار تو آپ کی بیٹی
