Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
ہوکر صفائیاں پیش کرنے لگا ۔ ’’شیرافگن تمہیں میرا فیصلہ منظور ہے یا نہیں؟‘‘وہ جبڑے بھینچ کر رہ گیا۔ ’’پاپا وہ شاطر لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔‘‘بلاخر وہ سارے لحاظ بالائے طاق رکھتا غصہٰ سے چیخ اُٹھا۔ ’’خاموش بدتمیز۔۔باپ ہوں تمہارا ۔۔بہت اچھے سے واقف ہوں تمہاری عیاش طبیعت سے۔ بیٹی کے غم میں اس کا باپ مر گیا اور تم کہ رہے ہو وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ ‘‘ان کے چہرے پر حقارت ہی حقارت تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات کاظمٰی ولد احمد کاظمٰی آپ کا نکاح شیرافگن ناصر ہاشمی ولد ناصر ہاشمی کے ساتھ بہ عوض ستر لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت دو گواہان کی موجودگی میں ہونا قرار پایا ہے کیا آپ یہ نکاح قبول ہے؟‘‘اُس کی سماعتیں تو شاید کہیں اور ہی تھیں۔کانوں میں اپنی ذات کے لیے عجیب عجیب سے لفظ گونجتے دماغ کی شریانے ہلا ئے دے رہے تھے۔ ’’بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘ہنوز خاموشی برقرار تھی۔ ’’حیات بیٹا مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔‘‘ناصر صاحب کے،سر پر ہاتھ رکھنے پر وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔ ’’ایک نظر ہال میں موجود شیر کے علاوہ اجنبی چہروں پر ڈال وہ خاموشی سے اپنی زندگی کے تمام جملے حقوق اپنی زندگی برباد کرنے والے کے نام کر گئی تھی۔ ’’دوسری جانب شیر افگن نے بھی لٹھ مار آنداز میں نکاح قبو ل تو کر لیا تھا مگر دل ہی دل میں وہ بہت کچھ سوچے بیٹھے تھا۔۔۔ نکاح کے بعد مبارک سلامت جاری تھی زرین بیگم اپنی انا کا پرچم سر بلند رکھنے کی خاطر نکاح میں شریک نہیں ہوئیں تھیں۔کہ جبھی شیر افگن کی گھمبیر آواز نے ماحول میں چھائی وحشت زدہ خاموشی کا سکوت توڑا تھا۔ ’’چلو ڈارلنگ میرا کمرہ وہاں ہے۔‘‘ناصر صاحب نے چونک کر غصٰے سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔ ’’شیر اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو خاموشی سے اپنے کمرے میں دفعہ ہوجاؤ۔‘‘وہ تنبیہہ انداز میں بولے۔ ’’وہیں تو جارہا ہوں ڈیڈ۔چلو حیات بیگم۔‘‘وہ فل اِن کا ضبط آزمانے کے موڈ میں تھا۔ ’’شیر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی۔ابھی تمہارا صرف نکاح ہوا ہے،رخصتی ہونی ابھی باقی ہے۔‘‘وہ مولوی صاحب کو اپنی جانب ہونقوں کی طرح دیکھتا پاکرنرم لہجے میں بولے۔اس سارے قصےٰ میں حیات بالکل خاموش بیٹھی تھی۔۔ ’’چلو اب اُٹھو بھی۔ابھی تو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے مری جارہی تھیں۔اور اب جم کر بیٹھ گئی ہو۔‘‘شیرافگن ناصر صاحب کی بات سنی اَنسی کرتا اس کے قریب آتا غصٰے سے دھاڑا۔۔۔۔ ’’شیر افگن!‘‘اُن کے لہجے میں وارنگ واضح تھی۔ ’’بس بابا! اب آپ کچھ نہیں بولیں گے۔اب یہ میرا اور میری بیوی کا ذاتی معاملہ ہے ۔۔میں جسے دل چاہے ڈیل کروں۔‘‘وہ بھی اب خود پر مزید ضبط نہیں کرسکا تھا۔جبھی ضبط سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں طیش لئے پُھنکارا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کو کھینچتا ہوا سامنے لائن سے بنے کمروں میں سے چوتھے کمرے میں دھکیلنے کے انداز میں پٹختا داخل ہوا۔ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر وہ فوری پلٹا تھا۔ ’’حیات اچانک جھٹکے پر لہرا کر زمین بوس ہوئی تھی۔اور بے یقینی سے نظر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا جو دن رات اُس کی محبت کے دم بھرتا تھا۔اور اب اس کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔ ’’جانتی ہو کون ہوں میں؟‘‘وہ اس کے مقابل پنجوں کے بل بیٹھ کر جبڑہ ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑ کر چہرے پر سختی سے غرایا ۔وہ اب تک بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار تھی۔مقابل کی گرم سانسیں سیدھی اس کاچہرے پر پڑتی پورا وجود جھلسائے دے رہی تھیں۔ ’’شیر!میرے بابا!‘‘وہ ساکت آنکھوں میں خالی پن لیے ہچکیاں لیتی بے ساختہ اس کے سینے سے لگتی زاروقطار رونے لگی تھی۔اس اچانک افتاد پر وہ دم بخود سا خاموش ہو گیا ۔ ’’میرے بابا چلے گئے۔صرف تمہاری وجہ سے۔۔کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔کیوں ؟تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے ناں؟‘‘سوجھی ہوئی آنکھوں میں شکوے لیے وہ سراپا سوال تھی۔ بڑی بڑی کالی گھور سیاہ آنکھوں میں ڈھیروں شکوے قائم تھے۔جبکہ رونے کی شدّت سے تر چہرہ کپکپاتے ہونٹ اِس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا گئے تھے۔ اس کی حالت قابلِ رحم تھی ایسے ایکدم ہی اپنے ُبرے رویہ کا احساس شدت سے ہوا تھا،وہ صبح سے مسلسل روئے جا رہی تھی۔اس کا باپ بھی اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔مگر وہ بار بار ایسے کیوں مورد الزام ٹھرا رہی تھی ۔کہیں نا کہیں کچھ تو حقیقت تھی۔مگر کیا؟؟؟؟ ’’اٹھو یہاں سے۔‘‘وہ اپنی عادت کے برخلاف نرم لہجے میں گویا ہوتا کندھوں سے تھام کر اپنے مقابل لایا جو بامشکل اس کے کندھوں تک آرہی تھی۔ ’’شیر میرے بابا!مجھے ان کے پاس جانا ہے۔پلیز !مجھے ان کے پاس لے چلو۔‘‘وہ اس کی شرٹ کا گریبان نرمی سے دونوں ہاتھوں میں تھامتی التجائیہ لہجے میں بولی۔شیر نے آئی برو اٹھا کر اس کے ہاتھوں کی پوزیشن دیکھی تھی۔اپنے گریبان پر ہاتھ ڈالنے والوں کا تو وہ ہاتھ جڑ سے اُکھڑ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور کہاں یہ چھٹانک بھر کی لڑکی اس قدر دیدہ دلیری سے نا صرف اس کا گریبان تھام چکی تھی۔بلکہ اب مسلسل اس کے سینے پر ہاتھ مارتی شکایتیں بھی کر رہی تھی۔۔ ’’انٹرسٹنگ!یہ لڑکی تو پورا بیوی مٹیرئیل ہے۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاتا ہولے سے مُسکرایا ۔حیات ابھی تک اس کا سینہ ڈھول کی طرح بجا کر ہچکیاں بھرتی شکایتں درج کروا رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’زندہ ہو لڑکی؟جتنی دِیر سے میں دروازہ پیٹ رہی ہوں اور کل رات شیر افگن جتنے غصہٰ میں کمرے میں آیا تھا مجھے تو لگا تھا اب تک مر چکی ہوگی ۔‘‘زرین بیگم ساڑی کا پلو سنبھالتیں طنزیہ لہجے میں بولتی کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ۔وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے دروازہ کھول کر ایک طرف کو ہو گئی تھی۔ ’’شیر نے کل رات کچھ کہا تھا تمہیں؟‘‘وہ کھوجتی نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتیں حیات کو گڑ بڑانے پر مجبور کر گئیں۔ ’’نہیں۔۔نہیں آنٹی۔‘‘حیات کو اپنا ملگجا سا حلیہ دیکھ شرمندگی ہوئی تھی۔ ’’ہمم!گڈ۔۔تم کل سے اب تک انہی کپڑوں میں گھوم رہی ہو۔گھر سے بھاگتے ہوئے کپڑے ساتھ نہیں لیے تھے کیا؟‘‘وہ سخت لہجے میں بہت کاری وار کر گئیں تھی۔حیات کی آنکھوں سے ایک انسو ٹوٹ کر گرتا اپنی اہمیت کھو گیا تھا۔ (یہ ایک طویل ناول ’’دھوپ چھاؤں سا ہرجائی‘‘ کا مختصر حصہٰ ہے۔مکمل لنک ڈسکرپشن اور پلے لسٹ میں موجود ہے۔البتہ یہ شارٹ ناولٹ بھی ایک مکمل کہانی ہے۔) ’’اچھا اب مڈل کلاس لڑکیوں کی طرح صبح صبح یہ ٹسوئیں نا بہاؤ۔‘‘ان کے لہجے میں چھپی حقارت واضح محسوس کی جا سکتی تھی۔حیات نے جلدی سے آنکھیں خشک کیں۔ ’’شیر اب تک سو رہا ہے۔‘‘گھڑی میں وقت دیکھا جہاں صبح کے دس بج رہے تھے۔مگر لاڈ صاحب کو تو عادت تھی دن چڑھے تک نیندیں پوری کرنے کی۔ ’’خیر ہٹو لڑکی۔میں صبح صبح اپنا موڈ خراب نہیں کر سکتی۔شیر کو اُٹھاؤ۔ایسے بتاؤ کہ اس کے بابا آج آفس سے چھٹی پر ہیں اور نیچے اسی کا انتظار کر رہے ہیں۔جلدی سے چینچ کرکےہمیں جوائن کرے۔‘‘وہ ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھ حکم صادر کرتیں کمرے سے باہر نکلنے لگیں ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت اپنی رفتار سے گزر رہا تھا۔۔شیر افگن اس شخص کا پتہ لگا رہا تھا۔جس نے حیات کو اسکا نام لے کر ٹریپ کیا تھا۔مگر آہستہ آہستہ دل اسکی جانب مائل ہونے لگا تھا۔۔وہ رات دیر سے گھر واپس آیا تھا۔۔حیات گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔۔ افف حیات !!پیچھے ہوکر لیٹو یار !!وہ بڑی مشکل سے اپنی سانس بحال کر سکا
