Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
کر اس کا ہاتھ ملازمہ کے ہاتھ میں دیتا اُجالا کی جانب بڑھا تھا۔۔ اُجالا تم چلو!میں تمہیں روم میں چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘وہ اُجالا کا ہاتھ تھامتا اُسے روم میں لے گیا تھا۔جبکہ پیچھے حواس باختہ سی کھڑی حیات کچھ بول ہی نہ سکی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُجالا کیا ہوا؟تم رو کیوں رہی ہو؟‘‘وہ ابھی روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اُجالا کو بُری طرح روتا ہوا پایا تھا۔۔ ’’افگن یہ جو بھی سب کچھ ہو رہا ہے۔۔میرے لئے ناقابِل برداشت ہے۔میں ۔۔میں مرجاؤنگی۔۔۔پلیز مجھے یہاں سے جانے دو۔۔کیوں ازیت دے رہے ہو مجھے خود کو حیات کو۔۔‘‘وہ شدت گریہ سے سُرخ پڑتی آنکھوں میں ڈھیروں شکوئے لئے دل برداشتہ دکھائی دے رہی تھی۔ ’’حیات نے کچھ کہا ہے تم سے؟‘‘وہ سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ ’’کسی نے کچھ نہیں کہا ہے مجھے۔ اور آگر وہ کچھ کہے گی بھی تو غلط نہیں ہے ۔۔بیوی ہے تمہاری ،حق رکھتی ہے تم پر۔۔۔جو دل چاہے بول سکتی ہے۔میں ہوں اپنی اور تم سب کی بربادی کی وجہ مگر اس سب کے باوجود تمہیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔۔۔‘‘افگن دیوار سے ٹیک لگائے پرسوچ دکھائی دیتا خاموش تھا۔۔ جب وہ رو رو کر تھک گئی تو بیڈ کی پایئنتی پکڑ کر نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔ ’’تم وہ حقیقت دنیا سے چھپانا چاہتے ہو ،جو آج نہیں تو کل سب کے سامنے آنی ہی ہے۔۔۔ میرے نصیب کی بدنامی مجھے مل کر ہی رہے گی۔مگر اس سب کے باوجود آگر ابھی بھی تمہیں لگتا ہے کہ تم اس دنیا سے مقابلہ کر سکتے ہو تو سُن لو تم بہت سی زندگیاں برباد کر دو گے،،تم اس جوئے میں اپنی حیات کو ہار جاؤ گے شیر افگن۔۔۔لمبی لمبی سانسیں بھرتی وہ خود کو نوچنے کے در پر آگئی تھی۔۔ ’’اجُالا پاگل ہوگئی ہو۔۔کیا کر رہی ہو یہ۔۔اس سب میں تمہارا کیا قصور ہے۔۔۔ اور یقین کرو ، جس شخص نے تمہاری زندگی برباد کی ہے میں اسے جان سے مار ڈالونگا۔۔‘‘وہ روتی ،بلکتی،سسکتی اُجالا کو سینے سے لگاتا اس کی کمر سہلانے لگا تھا۔۔۔ جو مسلسل خود کو قصوروار ٹھرا رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔حیات نے افگن سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔۔آج وہ اپنے دوست کے یہاں دعوت پر مدعو تھے۔اُجالا اپنے کمرے میں ہی بند تھی۔۔جب وہ واپس آئے تو افگن باہر ہی ٹھہر گیا تھا۔۔وہ گاڑی میں موبائل بھول گیا تھا۔۔جبکہ حیات اس کے کمرے کے سامنے ٹھہر گئی تھی۔۔آخر وہ اس کے شوہر کی ودسری بیوی تھی۔۔ ’اُجالا!اُس کے روم کی لائٹ روشن تھی۔مطلب وہ جاگ رہی تھی۔حیات نے ڈائریکٹ روم میں جانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ ’’کیا میں روم میں آجاؤں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر پُکارا!مگر جواب ندار۔ ’’افف!لگ رہا ہے سو گئی ہیں۔‘‘وہ واپس پلٹنے ہی لگی تھی۔کہ سیڑھیوں سے جاتا افگن اُسے اُجالا کے روم کے باہر کھڑا دیکھ چونکا۔ ’’کیا ہو حیات!وہاں کیوں کھڑی ہو۔‘‘ ’’وہ میں اُجالا کو دیکھنے آئی تھی،مگر وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی۔‘‘قدم اُٹھاتا افگن اب اِسی کی جانب آرہا تھا۔۔ ’’اوہ مائی گاڈ!اُس کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔‘‘زہن میں یکدم جھماکا ہوا تھا۔حیات کو بھی پریشانی سی ہوئی۔وہ بھی تیزی سے پلٹتی روم کا درازوہ دھکیلتی انٹر ہوئی تھی،سامنے کا منظر دیکھ اُس کی خوف کے مارے آواز بند ہوگئی تھی۔دو قدموں کے فاصلے سے کھڑا افگن ،سامنے کامنظر دیکھ ہوا کی سی رفتار سے دوڑ کر اُس کے قریب گیا تھا۔۔ ’’اُجالا!اُجالا!اُس کے ناک سے خون آرہا تھا۔۔ہاتھ کی آدھ کھلی مٹھی میں نیند کی چند گولیاں نظر آرہی تھی۔۔باقی بیڈ پر پڑی شیشی خالی تھی۔ ’’افگن اُجالا!حیات کی مانو کسی نے پاؤں سے زمین کھینچ لی تھی۔جبکہ افگن جو اُس کی ساکت نبض محسوس کر نڈھال سا ایک لمحے کو سکتِ میں چلا گیا تھا۔۔۔ ’’اُجالا یہ کیا کرلیا تم نے۔‘‘ اُس کا ٹھنڈا یخ بستہ وجود اور پر سُکون چہرہ اِس بات کی ضمانت تھا کہ وہ راہئی ملکِ عدم ہوچکی ہے۔ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی حیات کا رو رو کر بُرا حال ہوگیا تھا۔۔جبکہ اُجالا کے ٹھنڈے پڑے وجود کو گود میں لیے بیٹھا افگن خاموش آنسوؤں بہاتا اس کے ماتھے سے پیشانی ٹیکاتا اپنے آنسوؤں ضبط کرنے میں کوشاں تھا۔جو نجانےکب بہت خاموشی سے نہ صرف ُاس کے دل میں اپنا ایک مقام بنا گئی تھی،بلکہ آندھی طوفان کی طرح زندگی میں داخل بھی ہوگئی تھی۔۔اور اب بہت خاموشی سے اس کی زندگی سے چلی بھی گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت کام ہے گزرنا وہ گزر گیا تھا۔۔حیات اور افگن خاموش ہوگئے تھے۔اجالا کی موت کے بعد حیات کی ایک ویڈیو لیک ہوگئی تھی۔۔اور مجرم کی تلاش میں وہ پاگل ہوگیا تھا۔۔اور جب اسے مجرم ملا تو اس کی حیرے کی انتہا نہ رہی،وہ اپنے دوست کو مار پیٹ کر پولیس سے بچنے کے لئے وہاں سے نکلا تھا،کہ جبھی۔۔ صبح کی پہلی کرن ہر سو پھیل چکی تھی۔۔شہر سے ذرا دور ہائی وے پر اس وقت قیامت کا سا منظر تھا۔ہر جانب اسموک پھیلا ہوا تھا۔۔ شیر افگن کی گاڑی کسی لوڈڈ کنٹینر سے جاٹکرائی تھی۔۔کنٹینر ڈس بیلنس ہونے کے باعث روڈ پر گرگئے تھے۔۔جبکہ باقی متاثرہ گاڑیاں کچے کے حصےٰ میں جاگری تھیں۔۔ افگن کی گاڑی کا کچومر نکل گیا تھا۔۔۔ ’’دیکھیں مسٹر!ہم جائے حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔۔آپ کے بیٹے کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تو مل گئی ۔مگر ابھی تک ڈیڈ باڈی نہیں مل سکی ہے۔۔۔‘‘ پولیس آفیسر کے لفظوں پر ناصر صاحب کے قدم لڑکھڑا گئے تھے۔جوان بیٹے کے بارے میں ایسے الفاظ سُننا کسی قیامت سے کم نہ تھے۔۔۔حیات کو تو ابھی اس قیامت کا کوئی علم ہی نہیں تھا۔۔۔ ’’ارتضیٰ یہ کیا بکواس کر رہے ہیں۔۔ایسا کیسے ممکن ہے۔۔‘‘وہ باپ تھے۔۔۔یکدم انہیں اپنا آپ بوڑھا محسوس ہونے لگا تھا۔۔ ’’انکل سنبھالیں خود کو۔۔۔‘‘ارتضیٰ نے بامشکل اُنہیں سنبھالا تھا۔۔اس کی خود کی آنکھیں ضبط سے سُرخ ہورہی تھیں۔۔۔ یقین کرنا مشکل تھا کہ شیر افگن۔۔۔۔۔کہ شیر افگن ان کے بیچ نہیں رہا تھا۔۔۔۔مگر ابھی تو ایک قیامت آنی باقی تھی۔۔۔ جب حیات کو افگن کی موت کا علم ہونا تھا۔۔۔نجانے وہ یہ سب کیسے سنبھالتامگر اپنے دوست کی غیر موجودگی میں یہ سب اُسی نے سنبھالنا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک قیامت خیز رات کے بعد اپنے وقت کے مطابق ایک روشن صبح طلوع ہوگئی تھی۔مگر محض یہ ایک رات حیات کا سب تباہ و برباد کر گئی تھی۔۔وہ بیوقوف تو اب تک اپنی زندگی کے اس قدر بڑے خسارے سے انجان تھی۔۔۔ ’’عابثہ صبح کے دس بج گئے ہیں۔۔۔نہ افگن واپس آئے نہ ارتضیٰ بھائی آخر ہوا کیا ہے۔۔‘‘وہ مسلسل بے چینی کا شکار تھی۔۔وہ وقت یاد آرہا تھا۔۔جب وہ افگن سے دور جا رہی تھی۔ ’’آجائیں گے بھابھی!آپ پلیز حوصلہ رکھیں۔۔۔‘‘ وہ شدید ضبط سے بولی۔۔اب تو اُسے بھی ٹینشن ہونے لگی تھی۔ارتضٰی بھی کال ریسو نہیں کر رہا تھا۔۔۔ ’’کب آئیں گے۔۔مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے !‘‘ وہ اضطرابی کی سی کیفیت میں مبتلہ تھی۔ ’’آجائیں گے۔۔بھابھی آپ ساری رات سے سوئی نہیں ہیں۔۔نہ کچھ کھایا ہے۔۔آپ پہلے ناشتہ کرلیں پھر دوائی کھا کر سو جائیں۔۔وہ لوگ آجائیں گے واپس۔‘‘ وہ زبردستی اسے اپنے ساتھ ڈائننگ ٹیبل تک لائی تھی۔۔جس کا دل کسی اَنہونی کے ڈر سے بُری طرح گھبرا رہا تھا۔۔۔ مگر وہ خاموش ہوگئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا میرے بچے کو۔۔۔ناصر صاحب۔۔۔آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں۔۔کیا ہوا افگن کو۔۔۔‘‘ وہ اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی تیزی سے ناصر صاحب کی جانب بڑھیں تھیں۔ ’’افگن کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے مگر ابھی تک افگن کی
