Mera Harjai — Complete Novelt
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/01/2026
51 Views
Complete Novelt
میرا ہرجائی۔۔مکمل ناول۔۔۔ہماقریشی گاڑی سے قدم باہر نکال ڈیمج پینٹ اور بلیو شرٹ میں ملبوس شیرافگن خُماری سے لبریز آنکھوں میں تعجب لیے گوگلزاتارتا کشمکش کا شکار بڑی توجیہی سے رُوتی بلکتی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔گارڈز مسلسل روک تھام میں کوشاں نظر آرہے تھے ۔مگر وہ تھی کہ اپنے اِرد گِرد سے بیگانہ اب باقاعدہ شیر کا نام ُپکارنے لگی تھی۔کہ جبھیُ اس کے اشارے پر اِس لڑکی کو اندر آنے کی اجازت ملتے ہی وہ کرنٹ کھا کر تیزی سے بھاگ کر سیدھی اس کے سینے سے لگتی ہاتھ تھام چکی تھی۔جبکہ کرنٹ لگنے کی باری شیر افگن کی تھی۔ ’’شیر۔۔۔یہ لوگ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔پلیز سمجھاؤ انہیں کہ میں۔۔میں۔۔‘‘روتی بلکتی لڑکی کے باقی کے الفاظ کہیں منہ میں ہی گُم ہوگئے تھے۔ ’’پیچھے ہٹوں لڑکی۔۔۔۔۔‘‘وہ اُسے دھکیل کر اچانک ہی شدت سے دھاڑا تھا۔حیات لہرا کر بے یقینی سے دو قدم پیچھے کو ہوئی۔جبکہ شیر کا سر چکرانے لگا تھا۔ ’’کون ہو تم؟اور کیا تماشا لگایا ہوا ہے؟‘‘اس لڑکی کی جرأ ت پر اس کی آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگا تھا۔ ’’شیر!!کیا ۔۔۔کیا کہ رہے ہو تم۔۔پلیز ایسا مزاق نہیں کرو ابھی۔۔میں بہت پریشان ہوں جانتے تو ہو تم۔‘‘وہ آنکھوں میں ُاداسی لیے روپڑی ۔ ’’لڑکی کون ہو تم؟اور یہ کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے؟‘‘ شیرافگن دو قدم نزدیک آتا اپنی سُرخ آنکھیں اُس کی لال آنکھوں میں گاڑتا جبڑا پکڑ کرچیخا۔حیات کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھیل گئیں تھیں۔ ’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟کیوں شور مچا رکھا ہے؟‘‘ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ جبھی ناصر صاحب شور شرابہ سُن کر باہر آئے تھے۔ ’’انکل انکل!پلیز میری مدد کریں۔‘‘وہ اچانک سے روتی ہوئی ان کے قریب آئی تھی۔ ’’کیا ہوا ہے بیٹا؟کون ہیں آپ؟‘‘ناصر صاحب نے ایک نظر سرخ آنکھوں سے گھورتے شیرافگن کو دیکھ حیات سے سوال کیا۔ ’’انکل میں ۔۔۔میں حیات کاظمی ہوں۔میں اور شیر افگن ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔شیر کی وجہ سے میرے گھر والوں نے مجھے میرے گھر سے باہر نکال دیا۔اس نے مجھے اغوا کر لیا تھا تاکہ میری شادی کسی اور سے نہ ہو۔اور اب یہ کل رات سے میرا فون نہیں اُٹھا رہا۔‘‘حیات ناصر صاحب کے نرم لہجے پر ساری بات بتاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ ’’وہاٹ؟اے لڑکی کیا بکواس کر رہی ہو؟‘‘شیرافگن اپنے باپ کی آنکھوں سے غصے سے چنگاریاں نکلتی دیکھ یکدم بوکھلا کر دھاڑا ۔جبکہ حیرت ساتویں آسمان کو چھو رہی تھی۔ ’’بیٹا !آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘ناصر صاحب نے زرا ضبط کیا۔ ’’نہیں انکل میں اور افگن ایک دوسرے کو پسند کر تے ہیں۔شیر نے وعدہ کیا تھا کہ یہ مجھ سے شادی کریں گے،پلیز میری مدد کریں۔۔میں کہاں جاؤں۔۔‘‘وہ رو رو کر بین کرنے لگی تھی۔ ’’شیر کیا کہ رہی ہے یہ لڑکی؟‘‘اب وہاں پر زرین بیگم بھی آگئ تھیں۔جبکہ وہ سارے قصےٰ سے لاعلم تھیں۔ ’’ڈیڈ بکواس کر رہی ہے یہ۔میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں ہوں۔‘‘افگن حیات کا بازو پکڑ کر پیچھے کو دھکیل کر شدت سے غرایا۔حیات لہرا کر نیچے گری تھی۔ ’’شیرافگن۔۔‘‘ناصر صاحب اس معصوم کو زمین بوس ہوتا دیکھ غصہٰ سے غرائے۔ ’’یہ سب کیا ہو رہا ہےافگن،،کون ہے یہ لڑکی؟‘‘زرین نے بلیک شلوار قمیض میں ملبوس اُلجھے سے بالوں اور بکھرے وجود والی لڑکی کو دیکھ نخوت پن سے استفسار کیا۔ ’’میں نہیں جانتا موم یہ لڑکی کون ہے؟فضول میں الزام لگا رہی ہے مجھ پر۔‘‘شیر کو طیش آیا۔ ’’اُٹھیں بیٹا آپ۔۔‘‘حیات چھلی ہوئی کہنیوں سے نکلتا خون صاف کرتی دوپٹہ اُٹھا کر اُٹھی۔رُونے کے باعث سرُخ متورم آنکھیں خون چھلکا رہی تھیں۔ ’’شیر ساری رات کہاں تھے تم؟‘‘وہ غصےسے اُس کے مقابل آئے جس کی لال انگارا ہوتی آنکھیں شبِ بيداری کی چغلی کھا رہی تھیں۔ ’’وہ بابا میں دوستوں کے ساتھ تھا۔‘‘شیر نے نظریں چرا کر جواب دیا۔ ’’ڈرنک کی ہے تم نے۔‘‘چہرے پر کرختگی سی چھا گئی۔افگن نے خالی نگاہوں سے باپ کی بے یقین نگاہوں میں دیکھا۔۔ ’’نہ۔۔۔‘‘ ’’چٹاخ!‘‘ناصر صاحب کا ہاتھ اُٹھا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔شیر نے شرمندگی سے نگاہیں جھکا لیں تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کے ایک متوسط علاقے میں کچی پکی سڑکوں پر سے گزرتی ہاشمی خاندان کی گاڑیاں حیات کاظمی کے گھر کی گلی سے زرا فاصلے پر ٹھری تھیں۔جبکہ گلی میں ٹینٹ لگا ہوا تھا۔ایک عجیب جھمگٹا سا لگا ہوا تھا۔گاڑی میں بیٹھی حیات کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں۔انجانے سے خدشے نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔شیر افگن بیزاری سے گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔ ’’بابا!میرے بابا۔۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔ناصر صاحب باہر لگا رش دیکھ کچھ کچھ صورتحال سمجھ گئے تھے۔اور حالتِ حاضرہ ان کے بیٹے کی گھٹیا حرکت پر مہر لگانے کے لیے کافی تھے۔ ’’بابا!وہ ٹینٹ میں روتی ہوئی ماں بہنوں کو دیکھ بے یقینی سے اگے بڑھی۔جبھی کسی نے اس کا ہاتھ اپنے سخت ہاتھوں میں تھاما تھا اور سیدھا ٹینٹ سے باہر آگیا۔ ’’کیا کرنے آئ ہو تم یہاں۔چاچو کی جان لے کر بھی تمہیں سکون نہیں ملا کیا؟‘‘وہ آنکھوں میں بے انتہا غصہٰ لیے دکھ سے بولا۔ ’’شہریار!بابا۔۔‘‘وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔جبھی ناصر صاحب بھی ان کے نزدیک آئے۔ ’’بیٹا!کیا چل رہا ہے یہاں۔۔ہم حیات بیٹے کے والدین سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ناصر صاحب اسے قریبی محسوس کر قریب آتے تحمل سے بولے۔ ’’ہماری عزتوں کا جنازہ نکالنے کے باوجود آپ کے بیٹے کو سکون نہیں ملا جو میرے مرے ہوئے چچا کی روح کو تکلیف پہنچانے آگے۔‘‘شہریار کی آنکھیں ضبط سے سُرخ پڑ رہی تھیں۔ ’’اوہ ہمیں افسوس ہے۔مگر بیٹا آپ مجھے پوری بات بتائیے۔‘‘ناصر صاحب کے استفسار پرایک نظر ساکت کھڑی حیات کو دیکھ بولا۔ ’’پہلے آپ اس زلت کی پوٹلی کو یہاں سے لے جائیں۔اور اگر آپ کے بیٹے نے آپ کو پوری بات نہیں بتایئ ہے تو سُنیں۔‘‘ ’دو روز قبل ہمارا نکاح تھا اور کچھ روز بعد شادی ۔یہ بی بی تو شروع سے راضی نہیں تھیں مگر چچا کی خاطر یہ جیسے بھی مان گئیں تھیں۔مگر آپ کے بیٹے نے نکاح سے ایک روز قبل ہی ملنے کے بہانے بلا کر ایسے اغواکر لیا۔اور پھر نکاح میں لینے کے بجائے جب ہماری عزت کی دھجیاں اُڑ گئیں تو یہ واپس اسے ہمارے در پر چھوڑ گیا۔‘‘شہریار غصےٰ سے انگارا ہوتی نگاہوں میں نفرت سموئے لفظ چبا چبا کر بولا۔ ’’بیٹا ہوسکتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔میرا بیٹا تو حیات کو جانتا بھی نہیں ہے۔‘‘جو بھی تھا بیٹا کا دفاع تو کرنا ہی تھا۔ ’’بہت خوب انکل۔ان بی بی کے تکیہ کے نیچے سے آپ کے بیٹے کی تصویر ملی ہے اور آپ کہ رہے ہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘وہ طنزیہ مسکرایا۔ ’’اس سے پہلے کے کسی کی نظر آپ کی جانب اُٹھے پلیز لے جائیں ایسے یہاں سے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تمہارا نکاح ابھی ہوگا۔اور اسی وقت ہوگا۔چاہے تم راضی ہو یا نہ ہو۔‘‘ناصر ہاشمی کا چہرہ غصےٰ سے لہو رنگ ہو رہا تھا۔حیات کی زبانی باقی تمام روداد سن اُنہیں اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ اس لڑکی پر بھی غصہٰ آیا تھا۔ ’’مگر بابا میں نے کیا کیا ہے؟جو آپ مجھے اتنی بڑی سزا سُنا رہے ہیں؟‘‘وہ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتا زچ ہوگیا۔ ’’واہ برخوردار!اب یہ بھی میں بتاؤں ۔آپ کو؟‘‘وہ طنزیہ مسکراہٹ سے بولتے ایسے جھنجھلانے پر مجبور کر گئے۔ ’’بابا پلیز ایک بار میری بات تحمل سے سُنیں۔میں نے کچھ نہیں کیا۔جیسا آپ سمجھ رہے ہیں ویسا تو کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘وہ بلآخر زچ
