Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
نہیں۔"نادر نے خظ اٹھاتے لہجے پوچھا۔ دیکھ نادر ان وردی والوں کی اور اپن کی بہت گہری اور پرانی دوستی ہے۔بولے تو پہلی محبّت،یہ جو مضبوط،آٹوٹ بندھن ہوتے ہیں نا یہ اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹتے۔"ٹآئیگرمخصوص لب و لہجے میں گہری سنجیدگی سے ایک بہت ہی غیر سنجیدہ بات کی تھی۔نادر کے ساتھ ساتھ وہاں موجود باقی سب بھی قہقہہ لگا اٹھے تھے۔جبکہ ٹآئیگر کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ "مطلب تیری پہلی محبّت اب بھی تیرے پیچھے ہے۔تو کیا خیال ہے۔اس بار انہیں ایسا جھٹکا نا دیں دیں۔کہ یہ ایسے صدمے سے دوچار ہو جآئیں۔کہ کچھ عرصے کے لئے تیرا پیچھا ہی چھوڑ دیں۔"وہ ذومعنی انداز میں بولا۔ "سوچتے ہیں۔سوچتے ہیں۔اس بارے میں بھی تفصیل سے سوچتے ہیں فل الحال تو تم اپنے بارے میں سوچوں۔۔"وه کافی سوچ بچار کے بعد شیطانیت سے گویا ہوا۔ "چل میرے چیتے جیسی تیری مرضی،میں اس بار تیرے دھماکے کا انتطار کروں گا۔"وه معنی خیزی سے بولتا مسکرایا۔۔۔ نادر یاراتو بے فکر ہو کر باہرجا،پیچھے میں سب سنبھال لونگا،اگر اپن کے ساتھ کام کرنے کاہے،تو باس اپن کے ساتھ کام کرنے کا پہلا اصول بھروسہ کرنے پڑے گا۔اور اگر تو بھروسہ نہیں کرسکتا تو اپن کی اور تیری میری یاری ابھی ختم۔۔۔۔۔"ٹائیگر اتنا بھی بے خبر نہیں تھا۔جتنا نادر نے سمجھ رکھا تھا۔اچانک سے سنجیدگی میں بولتا نادر کو بوکھلانے پر مجبور کر گیا تھا۔نادر کے بنگلے پر موجود گارڈس نے تعجب سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ "کیسی بات کر رہا ہے میرے چیتے۔مجھ تجھ پر خود سے بھی زیاده یقین ہے۔جبھی تو اپنی تمام زمہ داریوں کا بوجھ تیرے کندھوں پر ڈال کر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں۔۔"نادر ہڑ بڑا کر خود کھڑا ہوتا قدم قدم چلتا اس کےمقابل آیا تھا۔جو ایسے دیکھ خود بھی کھڑا ہو چکا تھا۔ "بھروسہ ہے تجھ پر۔"اس کا کندھا تھپتھپا کر سپاٹ لہجے میں گویا ہوا۔اس محل نما بنگلے کے ہال کی چھت پر لگا شیشے کا بڑا سا فانوس کا لاک آہستہ آہستہ سرک کر ٹوٹ رہا تھا۔یا پھر اس کے پیچھے ضرور کوئی سازش تھی۔ٹآئیگر اس جھومر کے عین نیچے کھڑا تھا۔ "چل آ میرے ساتھ تیرے لیے کچھ اسپیشل ہے۔"اس نے اس کی ہمراہی میں قدم اٹھایا ہی تھا۔کہ ٹآئيگر سے چند قدموں کے فاصلے پر فانوس چھناک کی آواز کے ساتھ ٹوٹتا ہوا اس کے قدموں میں ہی زمین بوس ہو گیا۔ٹآئيگر ذرا گھبرا کر دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔۔۔ "یہ۔۔۔اس نے ٹھٹھک کر استفسار کیا۔۔۔۔ "ارے کچھ نہیں چیتے،زنگ لگ گیا ہوگا اس کے لاک کو،اسی لئے گر گیا۔یہ ہڈ حرام دھیان نہیں رکھتے نا۔تو کیوں پریشان ہو رہا ہے۔"نادر کے لہجے میں اجنبیت سی تھی۔ جو ایسے بری طرح کھٹک رہی تھی۔۔۔۔۔ "لیکن۔۔"ٹآئيگر نے کچھ کہنے کے لئے ابھی لب وا کئے ہی تھے۔مگر ارد گرد میں خود کو گھیرے میں لئے کھڑے گارڈز کی بھاری نفری دیکھ خاموش ہوگیا۔ اؤۓ صاف کرو ایسے۔نادر کی ایک سرد چنگھاڑتی آواز پر ان سب میں بجلی سی کوند گئی تھی۔وہ فوری حرکت میں آۓ تھے۔۔۔۔ جبکہ ٹآئیگر ارد گرد میں طآئرانہ نظر ڈال کر اب چوکس سا نادر کے ساتھ قدم بڑھا رہا تھا۔اس کی جائزہ لیتی نظریں ہر طرف گھوم رہی تھیں۔اب اس کی نظریں ان کی ہر حرکت پر مرکوز تھیں۔۔۔ ****** جاری ہے۔۔
