Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
اِس انداز میں کیوں بات کر رہی ہو۔"اقصیٰ مکمل طوُر پر اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ "کچھ نہیں ہوا اقصیٰ،کہا نا میں مصروف ہوں۔کام کرنے دو مجھے پلیز۔"اقصیٰ کا کندھے پر رکھا ہاتھ جھٹک کر وہ سرد لہجے میں جهنجهلا کر بولی تھی۔جس پر اِرد گرد میں موجود کولیگز اُنکی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔اقصیٰ سب کی نظریں خود پر محسوس کر شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔ "نرمین۔۔۔"اقصیٰ نے خود پر قابوں کرتے ایک بار پھر اُس کے رویہ کی وجہ جاننا چاہی۔ "مس اقصیٰ باس نے آپ کو اپنے آفس میں بلوایا ہے۔"ابھی وہ کچھ بولتی کہ اپنے پیچھے سے اُبھرتی آواز پر چونک کر متوجہ ہوئی۔ مجھے ،مگر کیوں۔"اقصیٰ نے ذرا حیرانی سے پوچھا۔ "وہ تو آپ کو آفس میں جاكر ہی معلوم ہوگا۔"وہ استہزایہ مسکراہٹ کے ساتھ بولتا۔اسے حیران و پریشان چھوڑ گیا۔۔ اقصیٰ نے ایک نظر سب پر ڈالی پھر پُر اعتمادی کے ساتھ قدم اُٹھاتی،باس کے آفس کی جانب بڑھی۔پیچھے موجود تمام ہی لوگوں کی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔ ******** "مے آئی کم ان سر۔"گلاس ڈور دھکیل کر اقصیٰ نے اُن سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ "یس کم ان۔"سنجیدہ سے بیٹھے علوی صاحب نے فائل بند کر کے اپنے مینیجر کو دے کر اُسے اندر آنے کی اجازت دی۔ "جی سر۔آپ نے مجھے بُلايا تھا۔"آج میں اور کل میں خاصہ فرق آچکا تھا۔آج وہ اقصیٰ کو دیکھ کر کل کی طرح چہکے نہیں تھے۔ "جی مس اقصیٰ۔تشریف رکھیے۔"اقصیٰ کو اشارہ کر کے انہوں نے سائیڈ پر رکھا ایک لفافہ اور ٹرمینیشین لیٹر اُٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔ اقصیٰ نے پہلے ناسمجھی سے اپنی جانب بڑھا ان کا ہاتھ دیکھا۔پھر ذرا جھجھک کر لفافہ پکڑ کر سامنے کیا۔ "سر یہ۔"اقصیٰ جیسے جیسے پڑھتی جا رہی تھی۔ایسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔کہ وہ اُسے اس جاب سے فائر کر چکے ہیں۔ "دیکھیں مس اقصیٰ میں جانتا ہوں۔آپ کو اس جاب پر سے فائر کرنا مناسب نہیں مگر میں مجبور ہوں۔"انہوں نے متوازن لہجے میں بول کر بات ہی ختم کردی۔اور اقصیٰ ہونق بنی کبھی اُنہیں دیکھ رہی تھی۔تو کبھی ہاتھ میں پکڑے لفافے کو۔ "یہ آپ کی اس ماہ کی سیلری ہے۔آپ کے ساتھ ہمارا بہت اچھا وقت گزرا مس اقصیٰ مگر۔افسوس کے ساتھ آپ کا اور ہمارا ساتھ یہیں تک کا تھا۔"راکنگ چیئر پر ذرا پیچھے کو ہوکر بیٹھتے علوی صاحب اقصیٰ کے تاثرات جانچ رہے تھے۔جو بے یقین سی تھی۔۔۔۔۔ "کوئی مسئلہ نہیں ہے سر۔آپ کا چینل ہے۔آپ مالک ہیں،جس امپلائی کو چاہیں رکھیں۔اور جس کو چاہے نکال دیں۔مگر میں ایک بات ضرور جاننا چاہوں گی۔اور یہ میرا حق بھی ہے۔ مجھ سے آخر کون سی خطا سرزد ہوگئی جس کی بنا پر آپ مجھے اِس جاب سے فائر کررہے ہیں۔"اقصیٰ کچھ ہی لمحوں میں اپنے تاثرات پر قابوں پاچکی تھی۔نارمل انداز میں لفافہ سائیڈ پر رکھ کر اعتماد سے پوچھا ۔ "دیکھیں مس اقصیٰ۔کل جو کچھ بھی کافی شاپ میں آپ کے ساتھ ہوا۔ٹائيگر کا محض آپ سے مخاطب ہو کر ڈرانا دھمکانا۔یہ سب سُن کر ہمارا اسٹاف آپ سے خوفزدہ ہو چکا ہے۔وہ خطرناک لوگ ہیں۔کل کو اُنہوں نے اگر پھر آپ پر کوئی حملہ کیا تو!!!آپ کی وجہ سے نجانے کتنے لوگ زد میں آجآئیں۔ان تمام لوگوں کا ہم پر پریشر ہے کہ وہ ہمارے چینل میں اسی بناء پر کام کریں گے۔جب آپ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کاحصّہ نہیں ہونگی۔"علوی صاحب کا جواز سُن وہ محض استہزایہ مسکرا کر رہ گئی۔ "اب ہم اپنے پورے اسٹاف کو تو خود سے بدظن نہیں کر سکتے نا۔محض آپ اکیلی کی خاطر۔تو بہتری اسی میں ہے کہ آپ اور ہم اپنے راستے الگ کرلیں۔میں آپ کی آئندہ جاب کے لئے دعاگو ہوں۔جا سکتی ہیں آپ۔"ہاتھوں کی انگلیاں باہم آپس میں جوڑ کر سنجیدگی سے بولتے وہ اقصیٰ کی نظروں میں اپنا میعار گنواچکے تھے۔اب وہ وہاں کام تو ویسے بھی ہر گز نہیں کرنے والی تھی۔ اقصیٰ نے اک سرد آہ خارج کی پھر ذرا ٹھر کر چیئر پر سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ہاتھ میں پکڑے لفافے میں سے چند نوٹ نکال کر باقی کا واپسی ٹیبل پر رکھ کر انکی جانب بڑھا دئیے۔ "مس اقصیٰ یہ۔"وہ ذرا حیران ہوۓ۔ "پندرہ دن کے شوز کے حساب سے میری جتنی سیلری بنتی تھی وہ میں لے چکی۔حرام کا پیسے کھانا یا پھر ناحق کسی کے ساتھ ناانصافی کرنا اقصیٰ جمشید کی فطرت میں شامل نہیں۔"اقصیٰ کی اتنے کُھلے لفظوں کی تذلیل پر ان کا چہرہ شرمندگی سے دھواں دھواں ہوا تھا۔ جبکہ وہ ان کی جانب ایک دل جلانے مسکراہٹ اُچھالتی گلاس ڈور دھکیل کر باہر نکل گئی ۔ وہ جیسے ہی باہر آئی سب کی نظریں اسکے مسکراتے چہرے پر ٹہر سی گئی تھیں۔وہ جو اقصیٰ کا مایوس چہرے دیکھنے کے منتظر تھے۔اُن کی خواہشوں پر گھڑوں پانی پڑگیا تھا۔جبکہ وہ باس کے آفس سے اس انداز میں باہر آئی تھی۔جیسے اُسے جاب سے فائر نہیں کیا گیا ہو ،بلکہ پروموشن کر دی گئی ہو۔سب کے حیران،پریشان ،اور فق چہرے دیکھ وہ خوب محظوظ ہوئی تھی۔۔۔ ******** "چلو نرمین باجی،آپ کا اور ہمارا ساتھ یہیں تک کا تھا۔اور خاصہ اچھا تھا۔ویسے اچھا کیا جو تم نے اپنا آپ آج ہی مجھ پر ظاہر کردیا۔میں بلاوجہ تمھیں اپنی ایک اچھی دوست ماننے لگی تھی۔جو ہر اچھے بُرے وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔"اقصیٰ مسکرا کر بہت میٹھے انداز میں بولتی،نرمین کے منہ پر ایک بزدل اور کم ظرف انسان ہونے کا طماچہ رسید کر گئی تھی۔ نرمین ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔مسکرا کر بولتی اقصیٰ کے تاثرات اب سرد ہو چکے تھے۔بالکل اسی طرح جیسے کچھ دیر پہلے نرمین کے تھے۔ "اقصیٰ تم غلط سمجھ رہی ہو۔میں بس گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے پریشان تھی۔اور تم سے اتنی تلخی سے بات کر گئی۔سوری یار۔۔"نرمین نے اقصیٰ کو جلدی جلدی ہاتھ چلا کر اپنے تمام قیمتی ڈاکومنٹس سمیٹتے دیکھ وضاحت پیش کی۔۔ "همم۔۔۔اقصیٰ نے بھی اس کی وضاحت پر محض ہنکار بھرا تھا۔جبکہ نرمین پریشانی سے ہونٹ چبا رہی تھی۔ "اللّه حافظ!!امی تمھیں یاد کر رہی تھیں۔گھر کا چکر ضرور لگانا۔اور کبھی میری ضرورت ہو تو بلا جھجھک یاد کرلینا۔"اقصیٰ مسُکرا کر بولتی اپنے لفظوں میں بہت کچھ جتاتی پلٹ گئی تھی۔نرمین نے کچھ کہنا چاہا مگر سمجھ ہی نہیں آیا۔کہ کیا وضاحت پیش کرے۔۔۔آج صبح آتے ہی سب کے ساتھ مل کر اقصیٰ کے خلاف بولنے والوں میں سے نرمین سب سے آگے تھی۔ وہ راہداری عبور کرتی سب پر ایک مسکراتی الودعی نگاہ ڈالتی لفٹ میں داخل ہوگئی۔آفس کی بلڈنگ سے باہر نکلتے وقت تک ہونٹوں پر وہی جاندار مسکراہٹ رقصاں تھی۔جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔۔۔۔ ******* اقصیٰ جب نیوز چینل کی اس بلند وبالا عمارت سے باہر آئی تو اس کے چہرے پر پچھتاوا ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا۔ ہاں!!اس نے ایک بار اس بلڈنگ کو پلٹ کر ضرور دیکھا تھا،جہاں آج سے دو سال قبل اس نے اسی چینل سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا،اور آج اسی جگہ سے ایسے ایک فضول سی وجہ کے باعث جاب سے نکال دیا گیاتھا،جہاں سے اس کو نام ملا تھا،پہچان ملی تھی۔جہاں ایسے اول روز سے صرف پزیرائی ہی مل رہی تھی۔محض ایک رات میں اتنا سب کچھ اچانک سے بدل گیا تھا۔وہ کچھ بے یقین سی تھی۔خیر یہ بھی زندگی تھی،وہ ایک نگاہ اس بلند عمارت پر ڈالتی فٹ پاتھ پر چڑھتی بس اسٹینڈ کی جانب جا رہی تھی۔جہاں اس کی مطلوبہ سواری کے سنگ ایک نئی منزل کی جانب سفر
