Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
نے ایسے اسی کشمکش میں گھرا دیکھ اثبات میں سر ہلا کر اس کی تصدیق کی تھی۔وہ مصنوعی انداز میں آنکھیں پھیلا کر خوشی کا اظہار کرتا پر جوش دکھائی دے رہا تھا۔ "یو ار وری بریو لڈی۔ائی آئم آ بگ فین اف یو۔اپنے اندازے بے پناہ حیرت اور خوشی کا تاثر لئے جوش سے بولا۔ "تھنک یو۔۔اقصیٰ بے دلی سے پھیکا سامسکرائی تھی۔اب بھلا وہ ایسے کیا کہتی کہ چند ثانیوں پہلے ہی اس کی جاب محض اس کی بہادری کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔۔ "ایک بار پھر آپ کا بہت شکریہ!الله پاک آپکو اس نیکی کا آجر دے گا۔"اقصیٰ کے چہرے پر گہرے سائے لہرائے تھے۔یکدم سپاٹ تاثرات سے بولتی،وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اپنےاسٹاپ کی جانب بڑھی تھی،جبکہ وہ جو اب زرا اس سے مزید باتیں بھگارنے کے لیے پرجوش ہواتھا۔اس کے سارے ارمان ٹھنڈے پڑ گئے تھے،اب وه پیچھے خاموش سا مایوسی سے ایسے دوسری بس میں چڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ اقصیٰ جا چکی تھی۔وہ کچھ دیر دور جاتی اس رپورٹر کو دیکھتا رہا۔جو ابھی بھی خاصی بد دماغ تھی۔اس بات کا علم تو ایسے بہت پہلے سا تھا خیر۔۔اب کانوں میں ٹریفک کا شور،گاڑیوں کے سائرن کی تیز چنگھاڑتی ہوئی آوازیں۔ایسے دنیا میں پٹخ چکی تھیں۔جو اقصیٰ کو اتنے سالوں بعد اپنے سامنے پاکر کھو سا گیا تھا۔وہ فوری ٹرانس کی سی كیفیت سے باہر آیا تھا۔پھر بے نیازی سے کندھے اچکاتا،اپنی سپورٹس بائیک سنبھالتا وه اپنی منزل کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ ********* "ارے لڑکی خیر تو ہے؟ آج اتنی جلدی گھر کیسے واپس اگئیں۔ورنہ تو تمہارا پاؤں ہی نہیں ٹکتا گھر میں۔آج بھی سورج نے مغرب میں ہی غروب ہونا ہے نا۔یا پھر تمہارے باس نے تمہاری چھٹی کردی۔"شگفتہ بیگم نے آج ایسے وقت سے پہلے گھر کی دہلیز عبور کرتے دیکھ شگوفہ چھوڑا،ساتھ ہی ساتھ شرارتً قیاس کرتے تپایا۔ وہ جو فرج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگا کر کھڑی تھی۔ان کے انداز پر بے ساختہ مسکرا پڑی۔روڈ پر پیش آۓ واقعہ کے بعد وہ کہیں بھی جانے کا ارادہ ترک کرتی سیدھی گھر ہی آئی تھی۔۔۔ "جی بالکل صحیح سمجھیں آپ۔میرے باس نے اس بار میری مستقل ہی چھٹی کر دی۔" اقصیٰ نے اپنے تاثرات بحال رکھتے ہلکے پھلکے انداز میں آگاہ کیا۔ "ہیں ہیں کیا بولے چلے جارہی ہو لڑکی؟؟"وه چونک کر حواس باختہ سی پلٹی تھیں۔شاید ان سے سننے میں غلطی ہوگئی تھی۔وہ تو بس مزاق کر رہی تھیں۔ "مذاق کر رہی ہو نا۔تمہارے باس تو اتنے خوش ہیں تمہاری اس چار گز کی زبان سے،تو پھر وہ بھلا تمھیں کیوں نوکری سے نکالیں گے۔"انہوں نے تفشیش بھرے لہجے میں دیگر پہلوؤں پر نظر ثانی کرتے اس کی بات کو ہوا میں اُڑا دیا تھا۔ "میں مذاق نہیں کر رہی۔ بالکل سچ بول رہی ہوں۔۔باس نے کہا اقصیٰ بیٹا ان دو سالوں میں بہت کام کر لیا تم نے۔اب ذرا گھر میں آرام کرو۔" اقصیٰ بہت کو لمبا کھینچتی ہشاش بشاش سی ان کے نزديک آتی انہیں کندھوں سے تھامتی مسکرا کر اپنی بات کی تصدیق کر رہی تھی۔جو اب بھی مشکوک تھیں۔ " چلیں آپ تو خوش ہوجائیں،جان چھوٹی میری!!اس موئی جاب سے۔آپ تو ویسے بھی میری اس جاب سے پریشان رہتی تھیں۔اقصیٰ نے رُخ پھیر کر مصنوعی ناراضگی سے ان کی جانب دیکھا۔ "زیاده بناؤ مت،بیوقوف نہیں ہوں میں۔سیدھی طرح سے بتاؤ کیوں نکالا ہے انہوں نے تمھیں جاب سے۔۔"ماتھے پر بل ڈال کر، کڑے تیور لئے کھوجتی نگاہوں سے گھورا۔۔ "بس نکال دیا۔میں کیا کہ سکتی ہوں۔ان کا چینل ان کی مرضی۔"اقصیٰ نے ڈرامآئی انداز میں ہوا میں ہاتھ چلاتے بے نیازی سے کندھے اُچکائے۔ "ارے ایسے کیسے،بغیر کسی وجہ کے نکال دیا۔تم میرے ساتھ چلو زرا،میں خبر لیتی ہوں ان کی۔"وه تو بس جیسے چادر اُوڑھنے کو تیار کھڑی تھیں۔ "کیا ہوگیا آپ کو۔ایک جاب ہی تو ہے۔پھر مل جائے گی دوبارہ۔۔۔"اقصیٰ کا لاپرواہ سا انداز انہیں کھٹک رہا تھا۔ان کی گھورتی نگاہیں ایسی پر تھیں۔۔۔ "تووہی تو میں پوچھ تو لوں،ایسا بھی کیا ہوگیا بھئی۔کے سیدھا سیدھا جاب سے ہی نکال ڈالا۔"ان کا بس نہیں تھا۔ورنہ اب تک اس چینل پر پتھراؤ ہو چکا ہوتا۔۔۔۔ "اؤ میرے ساتھ۔پوچھوں ذرا۔پہلے تو میری بچی سے اتنی خطرناک جگاہوں پر جاكر رپورٹنگ کروائی اور اب جاب سے نکال دیا۔"اب ان کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ چکا تھا۔ "ارے نہیں بھئی۔ایسا کچھ نہیں ہے۔"اب بوکھلانے کی باری اقصیٰ کی تھیں۔جہاں دوسری جانب اس کی اماں اب واقعی الماری سے چادر لینے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھیں۔۔ اقصیٰ تو ان کے انداز پر عش عش کر اٹھی تھی۔جو اپنے محبوب کچن کا سارا کام دھرے کا دھرا چھوڑ کر لڑنے کو تیار کھڑی تھیں۔ "بات سنیں میری۔وه نوکری میں نے خود ہی چھوڑ دی۔اور پھر اس میں رسک بھی تو بہت تھا۔ہر وقت کی ٹینشن سر پر سوار رہتی تھی۔تو بس اسی لئے میں نے اس پوسٹ سے ریزآئن کر دیا۔"اقصیٰ نے فل الحال اس صورتحال میں جھوت کا سہارا لےکر انہیں مطمئن کیا۔اگر وہ انہیں اصل وجہ سے آگاہ کر دیتی تو وہ خوف میں ایسے پھر کہیں جاب ہی نہ کرنے دیتیں۔۔ "سچ کہ رہی ہو۔"وه اب بھی مشکوک تھیں۔ "جی بالکل سچ کہ رہی ہوں۔اب آپ کچن میں چلیں ۔اور زرا کچھ کھلانے پلانے کا انتظام کریں۔جب سے آئی ہوں اب انویسٹیگیشن آفیسر بنی ہوئی معا ملےکی تفشیش ہی کئے جا رہی ہیں۔"اقصیٰ نے ان کا دھیان بھٹکانے کی خاطر وہیں کچن کاونٹر پر چڑه کراپنے لئے جگہ سنبھالتے منہ بسور کر خفا خفا لہجے میں کہا۔مبادا کہیں وه سچ میں لڑنے ہی ناپہنچ جائیں جس طرح بچپن میں اسکول کالج کے زمانے میں ٹیچرز سے جواب طلبی کرنے پہنچ جاتی تھیں۔ "بتاؤ ذرا!!باتوں باتوں میں تو میں بھول ہی گئی۔۔رات کا قیمہ رکھا ہے۔میں تمھیں گرم روٹی ڈال دیتی ہوں۔"وه سر پر ہاتھ مارتیں آپنے کام کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ویسے بھی ان کے لیے تو یہ خوشی کی بات تھی کہ اقصیٰ نے وه خطر ناک جاب خود ہی چھوڑدی تھی۔ ********** "آج کل ماحول میں اتنی خاموشی سی کیوں محسوس ہو رہی ہےچیتے۔آج کل یہ سالے نیوزوالے تیرے نام کے ڈنکے بجاتے نظر نہیں آرہے۔"نادر نے اس علیشان بنگلے کے ہال میں سامنے پڑے قیمتی صوفوں پر کروفر سے براجمان ٹائیگر کی جانب دیکھ استہزایہ انداز میں مسکرا کر پوچھا۔ ۔ اپنے لمبے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے پیچھے کرتا، نادر کے تفشیش بھرے انداز پر عجیب بے ڈھنگا سا قہقہہ لگا اٹھا تھا۔نادر نے ناسمجھی کے عالم میں ارد گرد میں کھڑے اپنے آدمیوں کی فوج کی جانب دیکھ ابرو اچکاکر معاملے کی گہرآئی کے بابت استفسار کیا۔جو لاعلمی کا مظاہرہ کرتے کندھے اچکا کر رہ گئے تھے۔جبکہ ٹآئیگر وقفے وقفے سے ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔کچھ ثانیوں بعد خاموش ہوتا خود ہی پُر سوچ انداز میں ڈاڑھی سہلانے لگا۔ "وہ کیا ہے نا نادر،اپن نے ان میڈیا والوں کی اس چڑیا کی بولتی بند کروادی ہے۔جو ہر وقت اپن کے اور اپن کے گینگ کے خلاف بکواس کرتی تھی۔"ٹآئیگر کی آنکھوں میں اقصیٰ کے متعلق ذکر کرنے پر سرخ آنکھوں میں عجیب سا تاثر ابھرا تھا۔جس سے نادر کوئی بھی اندازہ لگانے میں ناکام رہا تھا۔ "ہاہاہاہا۔۔۔میں پہلے ہی واقف تھا۔وہ جو آج کل چابی والی گڑیا کسی چینل پر نظر نہیں آرہی۔اس کے پیچھے یقیناً تیرا ہی ہاتھ ہوگا۔"نادر اس کے جواب پر محظوظ ہوا تھا۔ "اور بتا،پولیس کا اور تیرا چھپن چھپائی کا کھیل ابھی تک ختم ہوا یا
