Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
#محبّت_بازیِ_آخر #ازقلم_ہما_قریشی #قسط_نمبر_2 ****** "اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اقصیٰ ،کہ تم ٹھیک ہو میری بچی ۔ورنہ مجھے تو سُوچ سُوچ کر ہی ہول اُٹھ رہیں ہیں،کہ اگر تم کافی شاپ میں اکیلی ہوتیں تو نجانے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑجاتا۔’’شگفتہ بیگم پریشانی کے عالم میں اپنی لخت جگر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتیں پریشانی سے گویا ہوئیں اور ساتھ ہی اللہ کا شکر بجالایا۔۔۔ "اللہ نے بڑا کرم کیا،کہ اقصیٰ بالکل ٹھیک ہے۔ورنہ ایسے لوگوں سے کیا اُمید۔جیسے اس مینجر کو گولی ماری،اس طرح وہ کسی کو بھی اپنی گولی کا نشانہ بنا سکتے تھے۔ اس شہر کا تو بس اللہ ہی حافظ۔’’جمشید صاحب نے رنجیدہ لہجے میں تاسف سے نفی میں سر ہلا کر اظہار افسوس کیا۔۔۔ جبکہ بیڈ پر نیم دراز اقصیٰ اپنے ماں،باپ کی گفتگو سے بے خبر سی اپنی ہی سُوچوں کے محور میں غوطہ زن تھی۔چہرے کی شادابی جیسے کہیں جا دور جا سوئی تھی۔ڈر اور خوف سے زرد پڑا چہرہ اب بھی یونہی بے رونق سا تھا۔۔۔۔ ابھی بھی شاک کی سی کیفیت میں اِسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔کیا واقعی ٹائيگر محض اس کو ڈرانے کے لئے آیا تھا۔مگر جتنا خطرناک وہ تھا،اور اسکی وحشت وہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ بس اسے بھی سوچے جارہی تھی۔۔۔کہ اگر وہ آیا بھی تھا۔تو بغیر اُسے کوئی نقصان پہنچائے واپسی کیسے چلا گیا تھا۔چہرے پر الگ ہی سوچ کی پر چھائیاں رقم تھیں۔۔۔ "اقصٰی بیٹا اتنی خاموش کیوں ہو۔جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔کسی بات کی ٹینشں لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،میرا بچہ۔زندگی میں ایسے چھوٹے موٹے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں۔"۔جمشید صاحب نے اسے مسلسل کسی غیر مرئی نکتے کو گھورتا دیکھ،اُسکی خاموشی محسوس کر تسلی کروائی۔۔۔۔اقصٰی کے بے تاثر،فق چہرے پر ان کی تسلی سے کوئی خاطر خوا فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ "دیکھیں تو ذرا کیسے ایک ہی دن میں مرجھا سی گئی ہے،میری بچی۔"شگفتہ بیگم کو ایک بار پھر اس کا مرجھایا سا چہرہ دیکھ، افسوس ہوا تھا۔۔۔ "صرف آج کے دن کے لیے،صرف اس دن کےخوف کے زِیر اثر ہی کہتی تھی میں کہ اقصیٰ دور رہو ان خطرناک لوگوں سے،مگر تم میری بات پر کان کب دھرتی ہو۔لو بتاو زرا ،غضب خدا کا،وہ لوٹیرے دن دھاڑے لوٹ مار کر کے چلتے بنے اور اتنے سارے لوگ صرف منہ تکتے رہ گئے۔کسی میں اتنی جرأت ہی نہیں تھی۔کہ ان بدمعاشوں سے مقابلہ کر سکتے۔"شکفتہ بیگم نے اپنے مخصوص لب و لہجے میں رائی کا پہاڑ بنانے والے انداز میں منہ پر حیرت سے ہاتھ دھر کر لوگوں کی بزدلی پر افسوس کیا۔۔۔ جمشید صاحب نے ذرا ناراض نظروں سے شگفتہ کو جانب دیکھا جو حقیقت سے نابلند اپنی ہی ہانکنے میں مصروف تھیں۔ان کی زبان کی قیاسہ آرائیاں عروج پر تھیں۔وہ سر جھٹک کر اقصیٰ کی جانب متوجہ ہوۓ جو ہر شے سے بیگانا، بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ ۔۔ اقصیٰ نے یہ بات درحقیقت پردہ میں کردی تھی کہ ٹائیگر وہاں آیا ہی محض اسُے ڈرانے دھمکانے ،ہراساں کرنے تھا،جبکہ جمشید صاحب کو مکمل حقیقت سے نیوز چینلز میں دعا سلام والے کچھ قریبی دوست آگاہ کر چکے تھے۔۔۔ "اب بس بھی کر جاؤ شگفتہ تم تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو۔اقصی پہلے ہی خوف و ہراس کا شکار ہے۔اُپر سے تمہاری نصیحتیں شروع ہوگئی ہیں ،کبھی تو موقع محل دیکھ پر منہ کھولا کرو،بس تیز گام کی طرح شروع ہی ہو جاتی ہو۔"جمشید صاحب کی جھڑکی پر ان کی تیز چلتی زبان کو بریک لگا۔ "میں تو ہمیشہ غلط ہی بولتی ہوں۔صحیح تو بس آپ اور آپ کی بیٹی بولتی ہے۔۔۔"شگفتہ بیگم غصّے میں تنفر سے بولتیں کمرے سے باہر کی جانب چل دیں۔اب انکا رُخ کچن کی جانب تھا جہاں وہ اقصیٰ کے لئے یخنی پلاؤ دم پر رکھ کر آئیں تھیں۔وہ ایک گہری سانس فضا کے سپرد کرتے اقصٰی کی جانب متوجہ ہوئے،جو کچھ زیادہ ہی خوفزدہ دیکھائی دے رہی تھی۔یا پھر معملہ ہی کچھ اور تھا۔۔۔۔ "جو ہوا،اُسے بھول جاو،صحافت کا شعبہ ہو یا پھر کوئی اور سا خطرہ ہر جگہ ہوتا ہے۔کیونکہ اچھے بُرے لوگ بھی تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔تمہیں ڈرنے ،گھبرانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے،تم بس اپنا کام جس انداز میں کر رہی تھیں،ویسے ہی کرو۔کوئی تمہارا اس وقت تک کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک تم خود اُن کے اگے ہتھیار نہ ڈال دو۔"جمشید صاحب نے اس کے سر ہاتھ رکھ کر تسلی کرواتے ،مضبوط لہجے میں حوصلہ دیا۔بہت دیر بعد اقصی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دیکھائی تھی،گویا اُن کے حوصلے نے ایسے ہمت دلائی ہو۔۔۔۔ "چلو اب تم ارام کرو،اس سے پہلے کے تمھاری ماں پھر سے اکر کوئی نئی لن ترانیاں ہانکنا شروع کردے۔"جمشید صاحب کے کہنے پر اقصٰی اور جمشید صاحب کا زندگی سے بھر پور قہقہہ پورے کمرے میں گونجا تھا۔۔۔ ******** "ناظرین یہاں ہم آپ کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے چلیں کہ،شام میں ہوئی کافی شاپ کی ڈکیتی کے بعد،ٹائیگر گینگ کا دو مزید جیولری شاپس میں ڈکیتی ،عام شہریوں سے لوٹ مار۔اِس سنگیں صورتحال میں دو گارڈز اہلکار شدید زخمی جبکہ چوری کے دوران شاپ میں موجود شاپ کیپرز کی مزاحمت پر لگنے والی گولیوں سے اُن کی حالت تفشیش ناک بتائی جا رہی۔پولیس اپنی طرف سے پوری کارروائی کر ہی ہے۔مگر ہمیشہ کی طرح گینگ موقع پر ہی فرار ،سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج کے مطابق بلیک ماسک سے منہ کو چھپائے ڈاکوں ٹائیگر گینگ کا ہی حصّہ ہیں ۔مزید تازہ ترین سے با خبر رہنے کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔۔" اسکرین پر چلتی آج کی تازہ ترین خبریں دیکھ ،اپنے مخصوص آڈے پر موجود ٹائیگر نے ایک جاندار قہقہہ بوجهل فضا کے سپرد کیا تھا۔۔۔ٹائیگر کی مسکراہٹ میں عجیب سی وحشت تھی۔۔اِردگرد بیٹھے ساتھی بڑی دلچسپی سے خبریں دیکھنے میں مصروف تھے۔جہاں آج کی لوٹ مار کی صورتحال سکرین پر نشر کی جارہی تھیں۔۔۔ مسُکراتی آنکھوں میں پر اسراریت کی عجیب سی چمک لیے ٹائیگر صرف رپورٹر کی ایک جھلک دیکھنے کامتمنی تھا۔جو شام کے بعد نجانے کس کونے میں چھپ کر رو پوش ہوگئی تھی۔اس کی جانب سے ٹائيگر کے خلاف اب تک کوئی بیان نہیں آیا تھا۔۔۔ کچھ دیر مختلف چینلز کی نظر گردانی کرنے کہ بعد صوفے کی پشت پر سرگرائے بیٹھا وہ شراب کے نشے میں مدہوش ہوگیا۔۔۔وہ خبریں دیکھنے کے ساتھ ساتھ پیتا بھی جا رہا تھا۔۔سُرخ آنکھوں کے سامنے کافی شاپ کا منظر لہراتے ہی نگاہوں میں نفرت سی سمٹ آئی تھی۔ جھٹکے سے سر اُٹھا کر ٹیبل پر پڑی شراب کی پوری بوتل اُٹھا کر وہ بے ساختہ ہی منہ سے لگا گیا تھا،جبکہ پاس کھڑے گینگسٹرز نے اس کی گرتی حالت دیکھ نظروں کا تبادلہ کیا۔۔آج اگر کیسی نے بھی اس خونخوار چیتے کو چھیڑا تو یقیناً اس کی موت پکی تھی،آہستہ آہستہ سب وہاں سے جا چکے تھے،اب وہاں ٹائیگر تھا اور اس کی وحشت ۔۔ ******** "اقصٰی بیٹا کہاں جارہی ہیں آپ؟شگفتہ نے صبج صبح اُس کی معمول کی تیاری دیکھ حیرانی سے استفسار کیا۔ "آفس جارہی ہوں ماما۔اور کہاں۔"اقصٰی نے مسکرا کر عام سے لہجہ میں جواباً کہا۔۔ "کیا؟لڑکی تمھارادماغ تو ٹھیک ہے۔شہر کے حالات دیکھیں ہیں ،کل کا واقعہ بھول گئی ہو کیا؟شگفتہ بیگم نے کڑے تیوروں سے استفسار کیا۔۔ "کم آن ماما،اس شہر کے حالات تو روز ہی خراب ہوتے ہیں،تو کیا اب میں حالات سے ڈر کر گھر میں بیٹھ جاوں۔"اقصٰی نے اُنہیں کندھوں سے تھام کر مسکرا کرسوال کیا۔ "بالکل بھی نہیں بیٹھنا چاہیے،مگر کل تمہارے
