Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
آفس کے قریب ہی واردات ہوئی تو ایک دو دن کی چھٹّی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔"انہوں نے سمجھانا چاہا۔۔۔ "جی کوئی حرج نہیں ،مگر چھٹّی کرنے سے کوئی فائدہ۔"اقصٰی نے برو اُٹھا کر سوالیہ انداز مین پوچھا۔ ’’مگر بیٹا۔۔۔’’ ’’"نو ،اگر مگر۔۔بس میں جارہی ہوں آفس ،آج بہت کام ہے،شام میں ملاقات ہوگی۔۔اللہ حافظ!!!’’اقصٰی عجلت میں بولتی ،انہیں مطمئن کرتی تیزی سے گھر سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔جبکہ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتی ایک سرد آہ خارج کرتیں کچن کی جانب بڑھیں۔جانتی تھیں یہ سب اِن دونون باپ بیٹی کی ملی بھگت ہے۔۔۔ ******* اقصٰی آج ذرا آفس سے لیٹ ہوجانے کے باعث بھاگتی ڈوڑتی،بڑی عجلت میں آفس بلڈنگ میں داخل ہوئی تھی۔لفٹ کا بٹن پریس کرتی وہ جیسے ہی اپنے مطلوبہ فلور پر آئی تو وہاں عجیب سے غیر معمولی پن کا احساس ہوا تھا۔وہ جیسے جیسے قدم آگے بڑھا رہی تھی،لوگوں کی عجیب سی نظروں کی تپش اُسے خود پر واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔گویا سب اپنا کام چھوڑ کر صرف اس کے ہی وجود کا جائزہ لے رہے ہوں۔۔اقصٰی نے اپنے کیبن کی جانب قدم بڑھاتے اچانک پیچھے رُخ موڑا تھا۔اور توقع کے عین مطابق سب کی توجہ کا مرکز اس کی ہی ذات تھی۔۔اقصیٰ کے یوں اچانک رُخ موڑ کر دیکھنے پر سب ہی نے گھبرا کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا،جبکہ بہت سے اب بھی چور نظروں سے اس کو ہی دیکھ رہے تھے۔جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو۔کچھ سیکنڈز اقصٰی نے بڑی توجہ سے ان تمام لوگوں کی کاروائی کا تنقیدی جائزہ لیا۔پھر بھنویں اُچکا کر اشارے سے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ کیا ہوا؟"اس کے غیر متوقع سوال پر سب نے ہڑبڑاکر نظریں چرُائیں اور اپنے اپنے کاموں کی جانب متوجہ ہوگئے۔اقصیٰ نے چند لمحے کھڑے ہوکر ان تمام ہی مہذب لوگوں کے انداز و اطوار ملاخطہ فرماۓ۔۔۔ اففف ،کس قدر عجیب لوگ ہیں۔"اقصٰی زراجھنجھلا کر نفی میں سر ہلاتی لمبے لمبے ڈگ بھرتی راہداری عبور کرتی اپنے کیبن کی جانب چل دی۔۔ ******** "ٹائيگر!!! باس نے تجھے یاد کیا ہے۔"ٹائيگر اس وقت اپنے ویل فرنشیڈ آپارٹمنٹ میں موجود کل رات والی حالت سے قدر بہتر لاؤنج میں پڑے صوفے پر نیم دراز تھا۔۔ کل اس نے جذبات میں کچھ زیادہ ہی پی لی تھی۔اس کی مدہوشی کے باعث رات چھوٹا ہی اس کو آپارٹمنٹ تک لایا تھا۔اور اس کی طبیعت کے پیش نظر رات وہیں قیام بھی کیا تھا۔۔ "کیا کام پڑ گیا،نادر کو اپن سے۔"ٹائيگر نے نشے کے باعث بند ہوتی آنکھوں کو پورا کھولنے کی نكام کوشش کرتے استفسار کیا۔۔ "یہ تو اپنے کو بھی نہیں معلوم چیتے،مگر سُننے میں آیا ہے۔اس بار باس تیرے ہاتھوں کوئی بڑا کام کروانا چاہتا ہے۔"۔چھوٹے نے اپنی جانکاری کے مطابق آگاہ کیا۔۔ "ابے چھوٹے مجھے سمجھ نہیں آتا۔یہ سالی اپنے جیسوں کی یاد سب کو اپنے کام کے وقت ہی کیوں آتی ہے۔"ٹائيگر نے اپنی نیند کے خمار سے بوجھل آنکھوں کو ناسمجھی سے کھول کر انگلی منہ پر رکھ کر بیوقوفوں والوں انداز میں پوچھا۔۔ چھوٹے نے آنکھیں گھومائیں،پھر ایک لمبی سرد آہ فضا کے سپرد کی۔یقیناً نشہ اس کے سر چڑھ چکا تھا۔ "چیتے ہوش میں آ یار،تجھے جب برداشت ہی نہیں ہے۔تو اتنی پیتا کیوں ہے۔"چھوٹے نے ااس کو لڑکھڑاتے قدموں سے فلور پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتے دیکھ ٹوکا۔۔۔۔ "تجھے کس نے کہا۔میں بے ہوش ہوں۔ٹائيگر تو فل مدہوش ہوکر بھی ہوش میں ہوتا ہے۔"مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ نشے سے لال ہوتی آنکھیں اُسی پر تھیں۔وہ ذرا لڑکھڑا کر چکنے فلور پر قدم جما کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔ "ساری باتیں چھوڑ یار،ابھی اڈے پر چل باس نے تجھے فوری پہنچنے کا حکم دیا ہے۔اگر تو نہیں گیا تو تجھے معلوم ہے۔تو اس کا لاڈلا ہے۔وہ تجھے تو کچھ نہیں بولے گا۔لیکن اُپن لوگ کی زندگی حرام کر دے گا۔"چھوٹے نے ایسے لڑکھڑا کرگرتا دیکھ فوراً سہارا دیا۔۔ "جا کر بول دے نادر سے۔ٹائيگر اب کوئی بُرا کام نہیں کرئے گا۔اب میں اچھا بچہ بن کر رہوں گا۔بولے تو ۔۔۔اس شہر کا ایک ایماندار شہری۔۔۔"ٹائيگر نے ایک بار پھر دهپ سے صوفے پر گر کر بلند بانگ قہقہہ لگایا۔۔۔۔ "ابے یار چیتے کیا بول رہا ہے تو ؟؟اگر میں نے نادر باس کو جا کر بول دیا نا کے تیرا چیتا اب سے سُدھر گیا ہے۔وہ سالا اَپن کی گردن ہی اُڑا ڈالے گا۔"چھوٹے نے اِس کو نشے میں اُلٹی سیدھی ہانکتے دیکھ پریشانی کے عالم میں کہا۔۔ "نہیں نہیں ،ٹائيگر ایک بے ضمیر اور بے حس انسان ہے۔اچھی شہری تو اپنی رپورٹر میڈم ہے یار۔"ٹائيگر نے کھوۓ کھوۓ انداز میں سُوچ کے دریچوں پر کچھ یادیں لہرانے پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر خود ہی تالی بجاتے جیسے اپنی ہی بات سے لطف اُٹھایا تھا۔۔ "پہلے اتنی چڑھا لے گا۔اور پھر پتہ نہیں کیا کیا بكتا رہتا ہے۔"وہ بڑبڑا کر کچن کی جانب بڑھا۔وہاں بھی عجیب بساند کا بھبكاسیدھا اُس کے منہ سے ٹکرایا تھا۔ "نجانے آخری بار کب صفائی کی تھی۔۔۔"فرج میں چلتے لال بیگ دیکھ چھوٹا جهنجهلا کر چلایا۔۔۔ "جب تیری پیدائش ہوئی تھی تب۔۔"اُس کا بلند بانگ قہقہہ پورے ہال میں گونجا تھا۔یہ ایک پوش آیریا میں بنی دس منزلہ بلڈنگ کا ایک لگژری آپارٹمنٹ تھا۔جو نادر نے اس کے جیل سے فرار ہونے کا بعد لے کر دیا تھا۔۔۔ اس علاقے سے لوگ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔۔کسی کو بھی کسی سے کوئی غرض نہیں تھی۔۔اور نہ ہی کوئی اس کی اصل شناخت سے واقف تھا۔وہاں کسی کو کسی دوسرے کی ذات سے کوئی سُروکار نہیں تھا۔ٹائيگر کا چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا۔لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے اُس کا نام اور دہشت ہی کافی تھی۔ "لے کھا اس کو، تاکہ تیرے کو معلوم پڑے،تو چیتا ہے چیتا،ٹآئيگر۔ایماندار شہری نہیں۔خود کو پہچان اور ہوش میں آہ ہ۔۔" چھوٹے نے چار عدد کٹے ہوۓ لیموں پر خوب سارا نمک ڈال کر اس کے آگے پیش کئے۔جو اس کا جھنجھلایا ہوا انداز دیکھ مسکرا کر چاروں لیموں کو چھکل سمیت ہی منہ میں ڈال کر چبا گیا۔منہ میں یکدم کڑواہٹ سی گُھل گئی تھی۔اور وہیں ٹائيگر کا انداز بھی پہلے جیسا سرد برفیلا،اور سنجیدہ ہوچکا تھا۔۔ چند لمحوں کا کھیل تھا اور وہ ہوش میں آتا يكدم کھڑا ہوکر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔باتھ لینے سے طبیعت میں بحالی آئی تھی۔۔چند سیکنڈز میں وہ ایک عام شہری کی طرح آپارٹمنٹ لاک کرتا چھوٹے کے ہمرا اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھتا۔ٹائيگر گینگسٹرز کے اڈے کی جانب گامزن ہوا تھا۔۔ ******* "یار اِن تمام لوگوں کو ہو کیا گیا ہے؟بلڈنگ میں انٹر ہوتے ہی سارے مجھے پتہ نہیں کس طرح دیکھ رہے تھے۔جیسے میں کوئی مریخ پر سے آئی انوکھی مخلوق ہوں۔۔گویا آج سے پہلے کبھی مجھے دیکھا ہی نہ ہو۔۔۔"اقصیٰ اپنی سیٹ سنبھال کر بیٹھتی جھنجهلا کر بولی۔جن کی نظروں کی تپش وہ اب بھی اپنی پشت پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ہونہہ۔"نرمین آہستہ سی آواز میں ہنکار بھر کر خاموش ہی رہی۔ "اب تمھیں کیا ہوگیا لڑکی۔میں تم سے بات کر رہی ہوں۔"اقصیٰ نے ذرا حیران ہوکر اُسکے سرد سپاٹ تاثرات پر توجہ دی۔جو کچھ اُکھڑی اُکھڑی سی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ "کچھ نہیں۔بس آج کام بہت زیادہ ہے۔تم مجھے تنگ مت کرو۔"نرمین نے ہنوز سنجیدہ تاثرات سے بول کر بات ختم کی۔ "اقصیٰ کو اس کے برتاؤ پر حیرت آنگیز جھٹکا لگا تھا۔وہ آنکھیں پھاڑے نرمین کا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہی تھی۔جہاں آج اجنبیت سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ "کیا ہوا نرمین تم مجھ سے
