Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 02/01/2026
20 Views
Episode No 02
کا آغاز ہونےوالا تھا۔ راستے میں پڑے چھوٹے چھوٹے کنکریوں کو پاؤں سے ٹھوکر مارتی وه اپنی ہی سوچوں میںمحو نظر آرہی تھی۔چہرے پر سوچ کی لکیریں واضح تھیں۔بس اسٹینڈ پر کھڑی اقصیٰ کی پُر سوچ نظریں سامنے سے گزرتیں فراٹے بھرتیں گاڑیوں پر تھیں۔زندگی میں اکثر اوقات ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جن کی بابت ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا، اس گینگسٹر کا اس کے روبرو آجانا،اس کو دھمکانا اس کا ڈرنا،پھر صبح آفس میں سب کا بدلہ بدلہ رویہ ،نرمین کی بے رخی ،جاب کا چلے جانا،بظاہر اس نے اپنا دکھ،پریشانی کسی پر ظاہر نہیں کی تھی۔مگر آج ایسےجتنی تکلیف ہوئی تھی،اس کا اندازه لگانا مشکل تھا۔ دور سے ہی نظر آتی بس کو نزدیک آتا دیکھ اقصیٰ ایک سرد آه خارج کرتی قدم بڑھا کر بس کی جانب بڑھی تھی۔ابھی اپنا دآئیں پیر بس کے پہلے سٹیپ پر رکھانے ہی والی تھی۔جو ہوا میں محلق رہ گیا تھا۔جبکہ دوسرا پیر ابھی زمین پر ہی تھا کہ اچانک سے کوئی تیز رفتار موٹر سائیکل سوار اس کے بآئیں کندھے پرلٹکا بلیو رنگ کا ہینڈ بیگ جھپٹنے کے سے انداز میں چھین کر لے جاتا آنکھوں،آنکھوں میں ہی وہ اس سے کافی مسافت پر چلا گیا تھا۔وه ہکاّ بكا سی چند پل نا سمجھی کے عالم میں اچانک رونما ہوۓ اس واقعہ کے باعث چونک کر ٹھر سی گئی،بس والا مسلسل ایسے اپنی جانب متوجہ کرتا،بس میں چڑھنے کو کہ رہا تھا۔ساتھ ہاتھ سے اشارہ بھی دے رہا تھا۔مگر اس وقت اس کا دماغ بالکل سن ہو چکا تھا۔کانوں میں کسی بھی قسم کی کوئی آواز نہیں آرہی رہی تھی۔فضا ساکت سی ہوگئی تھی۔وہ چند پل ایک جگہ پر ہی منجمد رہی تھی۔ چند لمحوں کے گزر جانے کے بعد اس کے آوسان بحال ہوۓ تھے۔وہ منظر جو کچھ وقت کے لئے تھم سا گیا تھا۔اس میں یکدم زندگی ڈورتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔چہرہ کا حیران و پریشان تاثر یکایک غصّہ میں تبدیل ہوا۔ٹہرا ہوا ماحول بھاگنے لگا تھا۔پیچھے سے آتی "پکڑو پکڑو" کی تیز آوازیں نظر انداز کرتی خود ہی ان چوروں کے پیچھے ڈور پڑی تھی۔جو اب گاڑیوں کو حجوم کو چیرتا نا جانے کہاں سے کہاں نکل گیا تھا۔روڈ پر عجیب افراتفری کا عالم تھا۔سب ہی اپنی جانب سے قیاس کر رہے تھے۔مگر مدد کے لئے کسی نے قدم اگے نہیں بڑھایاتھا۔گاڑیوں کے سیلاب میں حواس باختہ سی بھاگتی اقصیٰ چند ہی قدم بھاگ کر تھک چکی تھی،البتہ کوئی بھی شخص اس چور کے پیچھے نہیں گیا تھا۔روڈ کے ایک سائیڈ پر ٹھہر کر وہ پھولے تنفس سے پریشانی کے عالم میں گہری کھڑی گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔۔ سب مناظر نظروں سے اوجھل ہوتے کہیں پیچھے رہ گئے تھے۔۔وہ بھاگتی بھاگتی ان سب سے قدرِ فاصلے پر آگئی تھی۔شاید آج کا دن ہی خراب تھا۔اقصیٰ بجھے دل کے ساتھ وہیں منجمد رہ گئی تھی۔قدم آگے بڑھنے سے انکاری تھے۔طبیعت کی عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی۔ساتھ اپنے ضروری کاغذات کے چل جانے کا غم بھی کھاۓ جا رہا تھا۔سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں مفلوج ہوکر رہ گئی تھیں۔جبھی اچانک اسے دور سے کوئی بائیک سوار اس کا وہی بیگ تھامے اپنے نزدیک بڑھتا دکھائی دیا۔اقصیٰ نے ذرا آنکھیں چندھیاں کر سامنے دهندلے نظر اتے شخص کو دیکھا۔اس لڑکے کے ہاتھ میں واقعی اقصیٰ کا بیگ تھا۔ اقصیٰ کچھ پل کے لیے حیران سی ره گئی تھی۔جبھی اس بائیک سوار نے بائیک کا پہیہ عین اس کے پاؤں میں آکر روکا تھا۔۔ "مس آپ ٹھیک تو ہیں نا۔"سپورٹس بائیک اسٹینڈ پر لگاتا وه لڑکا اقصیٰ کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اقصیٰ کو وہ چہرہ شناسہ سا لگ رہا تھا۔ سانولی سی پر کشش رنگت،وجیہہ چہرہ ،عام سے نین نقش ،دراز قدامت ،ماتھے پر بکھیرے بال۔اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ چہرے پر سنجیدگی لئے،مقابل کھڑی اقصیٰ کے تاثرات ملاحظہ فرمارہا تھا۔جو حواس باختہ سی ہونقوں کی مانند اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ "وہ مس یہ آپ کا بیگ۔"مقابل نے اقصیٰ کو یونہی ساکت و جامد کھڑا دیکھ متوجہ کیا۔ "جی۔جی۔۔میرا بیگ،شکریہ آپ کا۔"اقصیٰ اس کی پُکار پر چونک کر ہوش میں ائی تھی۔جلدی سے ہاتھ بڑھااس لڑکے کے ہاتھ سے بیگ تھاما۔جو اس وقت فرشتہ بن کر نازل ہوا تھا۔ اقصیٰ اپنا بیگ واپس کندھے پر ٹکاتی اب تک حیرانی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔جو اس سے شکریہ وصول کرتا ،سر کو خم دیتا رخ پلٹ کر جانے لگاتھا۔ ارد گرد میں کچھ لُوگ شاید اْقصیٰ کی مدد کے لیے اس کے پیچھے ارہے تھے۔مگر اب اس کا مسٔلہ ہل ہوتا دیکھ الٹے قدموں ہی واپس لوٹ گیے تھے۔ "رکیئے بات سنیں میری۔"اقصیٰ نے بے ساختہ اس کو پکارا تھا۔ "جی کہیے۔"مقابل چونک کر پلٹا تھا۔۔ "وه آپ نے کیسے،میرا مطلب ہے آپ نے کیسے اس لفنگے سے میرا بیگ واپس لیا۔ذرا جھجھک کر دل میں کلبلاتے سوال کو لفظوں کے سہارے اس تک منتقل کرتے استفسار کیا۔ "بالکل ویسے ہی،جس طرح اس نے آپ سے چھینا تھا۔"غور سے سنتا وه لڑکا بے ساختہ ہلکا سا مسکرایاتھا،تیز دھوپ کی تمازت سے ان دونوں کا چہرہ ہی تمتمانے لگا تھا۔ آنکھوں گھستی سورج کی تیز کرنوں کے باعث آنکھیں چھوٹی کیے کھڑے شخص کا چہرہ اقصیٰ کو شناسہ لگا۔ وہ دونوں اس چلتے روڈ پر سڑک کنارے کھڑے کتنے ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔مگر یہ سیف ہی کی شخصیت کا رعب و دبدبہ تھا کے کسی نے بھی آگے بڑھنے کی ہمّت نہیں کی تھی۔ جبکہ اقصیٰ اس کے چہرہ پر شناسائی کی کوئی رمق ڈھونڈنے میں کوشاں تھی۔مگر دوسری جانب اس کا لہجہ،انداز سب نارمل تھا۔وہ دونوں ہنوز اسی پوزشیشن میں کھڑے تھے،ٹریفک یونہی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ "مطلب۔۔"اقصیٰ زرا متعّجب لہجے سی گویا ہوئی۔ ، "مطلب قصّہ مختصر یہ ہے مس اقصیٰ، کہ میں آپ کو کافی فاصلے سے ہی اس بائیک سوار کے پیچھے ڈورتا ہوادیکھ چکا تھا،بس پھر کیا تھا میں نے بھی تمام تر ٹریفک قوانین بریک کرتے رانگ وے میں سامنے سے آکر اچانک سے اس کے ہاتھ سے بیگ اُڑالیا۔البتہ اب اس راه چلتی نیکی کے باعث مجھے ضرور یہاں سے ایک لمبا ٹرن لینا پڑے گا۔"دھوپ کے باعث چندھیآئی آنکھوں پر ہاتھ سے چھجا سا بنائے، وه خوشگوار لہجے میں مسکرا کر گویا ہوا تھا۔ "اوہ،تھینک یو سو مچ،آپ کو نہیں پتہ اس میں میرے کتنے قیمتی ڈاکومنٹس تھے۔جو آج صرف آپ کی بادولت مجھے واپس مل گئے ہیں۔بہت بہت شکریہ آپ کا "اقصیٰ ٹرانس کی سی كیفیت سے ہڑبڑا کر ہوش میں آئی،بھر پورانداز میں شکریہ ادا کرتی ہلکا سا مسکراتی وہ اس کی ممنون تھی۔ "کوئی بات نہیں،مشکل میں گھرے کسی بھی شخص کی مدد کرنا،تو راه پر چلنے والوں پر فرض ہے۔۔"وه خوشدلی سے گویا ہوا تھا۔وہ سمجھ چکا تھا۔کہ اقصیٰ ایسے چاہ کر بھی نہیں پہچان سک رہی تھی۔وجہ اس کی شخصیت میں آیا بدلاؤ تھا۔ "ویسے اگر آپ مائنڈ نا کریں،تو میں آپ سے ایک بات پوچھوں۔"اقصیٰ کو وه الجھا الجھا ہوا لگ رہا تھا۔ "جی پوچھیں۔"اقصیٰ نے بلاتاخیر اجازت دی،تاکہ وه بلا جھجھک اپنا سوال کر سکے۔ "آپ وہی نیوزرپورٹر مس اقصیٰ ہیں نا جو روڈ شوز بھی کرتی ہیں۔"آئیبرو اُٹھا کر دریافت کرتا، وہ پرجوش دکھائی دے رہا تھا۔اب وہ جان بوجھ کر دوسرا حوالے دے کر بات کو طول دے رہا تھا۔ اقصیٰ اس کے سوال پر سر جھٹک کر ہولے سے مسکرائی تھی،اقصیٰ کے مسکرانے پر اس کے چہرے پر ناسمجھی سے تحیر سمٹ آئی تھی۔ اقصیٰ
