Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
حویلی کے لئے بھی نكلنا ہے۔ آغا کی ہدایت پر وہ ان کے ہم قدم ہوتی دروازہ بند کر کے شکستہ خور قدموں سے واپسی وہیں ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی۔ ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی دیر گزری تھی۔جبھی اس نے کھٹکے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سامنے موجود شخص کو دیکھ حیرانی سے چونک کر کھڑی ہوگئی تھی۔ جبکہ شایان دروازہ بند کرتا بڑے ریليكس انداز میں قدم قدم چلتا اس کے سامنے سوفے پر آکر بیٹھ گیا تھا۔۔ "کیا ہوگیا کوئی جن دیکھ لیا کیا۔ اتنی حیران کیوں ہو بھئی میں ہوں شایان۔۔بیٹھ جاؤ۔"۔ شایان نے اس کا فق چہرہ دیکھ کر شرارت سے کہا۔ سمبل اب بھی منہ کھولے اسے ہی تک رہی تھی۔۔ "منہ بند کرلو۔ مکھی چلی جائے گی۔ شایان نے کھڑے ہوکر پہلے اس کا منہ بند کیا اور پھر خود ہی ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بیٹھا دیا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آئی تھی۔۔ "آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟"سمبل نے ہڑبڑا کر ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔ یہ سوال تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ شایان نے مسکراتے لہجے میں کہا۔ "یہ میرے بھائی کا گھر ہے۔" سمبل نے ذرا تواقف کے بعد جتاتے لہجے میں کہا۔ "میرے بھی۔" اب وہ آرام سے اپنی کرسٹل گرے آنکھیں اسی پر گاڑے بیٹھا تھا۔ جو مسلسل اسے غصّے سے گھورے جا رہی تھی۔ "کیا نظر لگاؤ گی۔" جب سمبل مسلسل اسے گھورتی رہی تو اس نے ذرا آگے ہو کر پوچھا۔ سمبل نے ناگواری سے نظریں موڑ لیں اور خاموشی سے رخ پھیر گئی۔ شایان فوراً سنجیدہ ہوا تھا۔۔ "دیکھو سمبل میں جانتا ہوں۔ ایک ماہ پہلے جو تم نے دیکھا وہ سب غلط تھا میری غلطی ہے۔ مگر اب میں وہ سب بھولا چکا ہوں۔ اور یہی چاہتا ہوں تم بھی وہ سب بھلا دو۔ اور میرے ساتھ گھر واپس چلو۔" شایان نے بڑے ہی کم الفاظ میں اپنا دفعہ کیا تھا۔ " اوہ محبت نے لات ماری جبھی عقل نے دماغ پر دستک دی۔" سمبل کا لہجہ خاصا مزاحیہ خیز تھا۔۔ "سمبل ۔۔شایان کو اس کا لہجہ ذرا برا لگا تھا۔۔ دیکھو میں جانتا ہوں کہ تم غصّے میں ہو۔ اسی لئے میں نے اس ایک ماہ میں تم سے کوئی رابطہ نہیں کیا تاکہ تم سکون سے اپنے پیپرز دے سکو۔ مگر اب یقیناً تم بھی کافی کچھ سوچ چکی ہوگی اور میں بھی تو میرا نہیں خیال ہمیں ان بیکار سی باتوں پر مزید اپنا وقت برباد کرنا چاہیے۔۔"شایان تو ہتھیلی پر سرسو جمانا چاہ رہا تھا۔ سمبل آئبرو اٹھا کر طنزیہ مسکرائی مطلب صاحب بہادر سب کچھ خود ہی پہلے سے سوچ بھی چکے تھے۔اور عمل بھی کر ڈالا تھا۔۔ "آپ کو کیوں یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ میں اب آپ کے ساتھ رہوں گی۔" سمبل نے اسے ٹٹولنا چاہا۔۔ "مجھے یقین ہے کیوں کہ ہمارے یہاں کی عورتیں ہمیشہ ہی قربانی دینا جانتی ہیں۔"شایان نے مسکرا کر کہا تھا۔ "ضروری نہیں جو چیز ہوتی آرہی ہے ابھی بھی ویسے ہی ہو۔" سمبل کا لہجہ عجیب چبھتا ہوا تھا۔۔ مگر محبّت کے آگے تو سب ہی گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔شایان کے لہجے میں ایک مان تھا۔۔ "خوش فہمی ہے شایان خانزادہ اور کچھ نہیں۔۔"سمبل نےسر جھٹکا۔ آغا اس واقعہ کہ کچھ دن بعد ہی اس کی طبعیت صاف کر چکے تھے۔ جن کی ڈانٹ وہ سر جھکا کر سنتا رہا تھا۔ انہی کے کہنے پر اس نے ایک ماہ تک سمبل سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ اور نکاح نامے پر موجود شرط سے بھی آگاہ کر دیا تھا جس پر وہ سمبل کی اس کے معملے میں حساسیت کو سراہے بغیر نہیں رہ سکا۔۔ "دیکھو سمبل کچھ بھی تم سے چھپا ہوا تو ہر گز نہیں تھا۔ تم ہر بات سے پہلے دن سے آگاہ ہو مجھ سے شادی کی حامی تم نے خود ہی بھری تھی۔ اور ساتھ مجھ پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ مانتا ہوں غلطی ہوئی ہے مگر اتنی بڑی نہیں جس کا ازالہ نا مکن ہو۔ ہر رشتے میں مارجن دینا ضروری ہوتا ہے۔ جیسے میں نے تمھیں دیا تھا۔ مگر یہ فیصلہ بھی تمہارا اپنا تھا۔ ماہین کے ہونے یا نا ہونے سے تمھیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ تم نے اس وقت میرا انتخاب کیا جب وہ میری زندگی میں شامل تھی اب تو وہ کہیں نہیں ہے پھر یہ سب ڈرامہ بیکار ہے۔ اور جبکہ تم آغا جان کے ساتھ مل کر میری دوسری شادی پر بھی پابندی لگا چکی تو پھر کیسی ان سیکورٹی۔۔" شایان نے نرم لہجےمیں بولتے آخر میں ذرا مسکرا کر کہتے اسے گھورا۔ تو سمبل بھی اس کی بات پر مسکرا پڑی۔۔ "سمبل تم یہ بات نہیں جانتی مگر اب ضروری ہے کہ تم سب جان لو۔ خالہ جانی کا انتقال۔۔۔۔"شایان کے لفظ ابھی ادھورے تھے کے سمبل بیچ میں بول اٹھی۔۔ "میں سب حقیقت سے واقف ہوں۔ آغا مجھے سب بتا چکے۔ رہی امی کی موت کی بات کوئی انسان کسی کی جان نہیں لے سکتا جب تک وہاں سے بلاوا نا جائے۔انسان تو بس زریعہ بنتا ہے۔ جبکہ زندگی اور موت کا فیصلہ تو اللّه کے ہاتھ میں میں۔ امو کینسر کی آخری اسٹیج پر تھیں ان کی زندگی اتنی ہی تھی۔ اور انہیں اسی طرح دنیا سے جانا تھا خود کو قصور وار سمجھنا چھوڑ دیں۔۔" سمبل کے لفظوں پر وہ کچھ پل تو تھم گیا پھر اس کی آنکھوں کا نرم تاثر دیکھ کر مطمئن ہوگیا۔ اس خاندان کی عورتیں واقعی قربانی دینا جانتی تھیں۔ جیسے سمبل سب بھلا کر آگے بڑھنے کی خواہش مند تھی۔ شایان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا یہی بہت تھا۔ اگر وہ اپنے عمل پر ڈٹا رہتا یا پھر ماہی سے شادی کر لیتا تو وہ کونسا اس کا کچھ بیگاڑ سکتی تھی۔ جب وہ پلٹ آیا تھا تو وہ بھی ساری رنجشیں اور بد گمانیاں اپنے ذہن سے نکال کر اس کے ساتھ قدم اٹھانا چاہتی تھی۔ جہاں ایک خوبصورت زندگی اس کی منتظر تھی۔۔ "ویسے ماہین کے ریجیکٹ کرنے کا افسوس تو ہوا ہوگا آپ کو۔۔" سمبل اس کی باتوں سے ریلکس ہو چکی تھی۔جبھی شرارت سے پوچھا۔ "اس کا تو نہیں مگر تمہارے حویلی جانے کا بڑا افسوس تھا۔" شایان نے معصوم سی صورت بنا کر منہ لٹکا کر کہا۔ تو سمبل دل ہی دل میں خوش ہوگئی کہ چلو اس نے بھی اس کی غیر موجودگی میں اسے یاد کیا۔۔ "وہ کیوں۔" بے تاثر چہرے کے ساتھ ناک چڑھا کر پوچھا۔۔ "ایک مہینے سے ڈھنگ سے کھانا ہی نہیں کھایا۔ باہر کا کھانا کھا کھا کر تھک گیا ہوں۔اب تو مجھ سے کوئی کام بھی نہیں ہوتا۔ بس تم ابھی میرے ساتھ گھر چلو۔اب میں مزید باہر کا کھانا کھانا افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔" شایان کے دکھ بھرے لہجے میں کہے الفاظ سمبل حیرانی سے سن رہی تھی۔ جسے اس تمام عرصے میں صرف اسی لئے اس کی کمی محسوس ہوئی تھی۔ جبکہ وہ اب وہیں پھیل کر لیٹ گیا تھا۔۔۔سمبل نے تیش میں صوفہ کشن اٹھایا۔ اور اچانک ہی اس پر حملہ کر دیا۔شایان بلند بانگ قہقہہ لگاتا اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔۔ "اچھا اچھا رکو تو تمہارے لئے کچھ ہے۔ یکدم اٹھ کر بیٹھتے اپنی پاکٹ سے ایک جیولری باکس نکالا۔" سمبل کو بھی دیکھنے کا تجسس ہوا تو وہیں اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔ "یہ تمہارے لئے لیا تھا کہ اگر تم میرے سوری سے نہیں مانی تو
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
