Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
تم جلدی چلو بس۔۔"سمبل کے آنسو تواتر سے جھرنے کی مانند گرتے ہی چلے جارہے تھے۔۔ "اچھا اچھا ریلیکس۔۔تم حوصلہ رکھو۔دیکھنا ضرور کسی نے مذاق کیا ہوگیا۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔جیسا تم سمجھ رہی ہو۔"دانین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تسلی بھرے انداز میں یقین دہانی کروائی۔ جبکہ سمبل تو بلکل ہی ہاتھ پیر چھوڑ چکی تھی۔ "تم بس گاڑی تیز چلاؤ یار۔۔"سمبل دل ہی دل میں شایان کے لئے دعا کرتی اسے مسلسل گاڑی تیز چلانے کی تاقید کر رہی تھی۔۔ _______ یونیورسٹی گراؤنڈ کے عین وسط میں ایک پیر موڑ کر پروپوز کرنے کے انداز میں ہاتھ میں پھول پکڑے بیٹھے شایان کے ارد گرد ایک مجمع عفیر لگ گیا تھا۔سٹوڈنٹس کے گروہ کے گروہ ان کے ارد گرد آکر کھڑے ہو گئے تھے۔ جبکہ اس کے مقابل نیرو پینٹ پر ڈینم کی گھٹنوں تک آتی شرٹ پر لانبے بال پشت پر پھیلائے آنکھوں میں ایک انوکھی سی چمک لئے کھڑی ماہین شایان کو ہی دیکھ رہی تھی۔ ان دونوں کو اس طرح ایک دوسرے کے مقابل آنکھوں میں محبّت لئے ایک دوسرے کو تکتا پاکر کتنی ہی نظریں تھیں جو رشک سے ان کی جانب اٹھ چکی تھیں۔ہجوم میں طرح طرح کی چہ مگوئياں ہونے لگی تھیں۔کس کی نظر میں رشک تو کس کی نفرت اور کسی کی نظر میں حقارت سموئی ہوئی تھی۔ اسی دوران کوئی جلن یا پھر کُھلے عام ہوتی اس بیہودگی سے تنگ آکر ڈین کے آفس کی جانب ڈورا تھا۔۔ "Maheen fayyaz Will you marry me" "ماہین فیاض کیا تم مجھ سے شادی کروگی۔" شایان کے اس جملے پر ارد گرد ایک شور سا مچ گیا تھا۔ہر طرف سے ہوٹنگ جاری تھی۔ شایان کی آنکھوں میں چھائی الوہی چمک اور اس کے لرزا دینے والے الفاظ سامنے پریشانی سے ہجوم چیر کر آتی سمبل کی ہستی تک ہلا گئے تھے۔ ماہین ارد گرد سے آتی "say yes "کی آوازوں کو نظر انداز کرتی گردن اکڑا کر بڑے تفخر سے اپنے مد مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھے شایان کو دیکھ رہی تھی.بلآخر آج وہ شایان خانزاده کو جھکانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔خانزادہ گھرانے کا لاڈلا اکڑ مزاج چشم و چراغ کیسے اس کے حسن کے آگے آج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ ہر طرف سے حامی بھرلینے کی صدائیں عروج پر تھی۔شایان اب تک یونہی بیٹھا ہوا تھا۔جبکہ سمبل کی آنکھوں میں بے یقینی سی بے یقینی تھی۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کے شایان خانزادہ جو اپنے گھر کی عورتوں کو سات پردوں میں رکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ ایسی گری ہوئی گھٹیا حرکت کر سکتا ہے۔ یاچیپ انداز میں کسی نامحرم لڑکی کے سامنے جھک جائیں گئے۔ "شایان میں تم سے دل سے معذرت چاہتی ہوں۔ وہ کیا ہے نا کے تم سے پہلے کل ہی میرا کزن میرے گھر والوں کے سامنے میرا رشتہ مانگ چکا ہے ۔جس پر میں نے اپنے ماں باپ کی مرضی کا بھرم رکھتے ہوۓ اس رشتے کے لئے حامی بهرلی ہے۔" ماہین شایان کے قریب دو قدموں کہ فاصلے پر ركتی بڑے ہی پیار سے شایان خانزادہ کی عزت خاک میں ملا چکی تھی۔ ہجوم میں موجود لوگوں کا جوش یکدم جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔جب کہ شایان کے سر پر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ وہ بے یقین سا آنکھیں پھاڑے ماہین کو دیکھ رہا تھا۔ سمبل اس سارے ڈرامے میں شایان کی خالی سی آنکھوں پر ایک نظر ڈالتی تاسف سے نفی میں سر ہلاتی ہجوم چیر کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔جبکہ ماہین کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جیت کی خوشی تھی جو شایان خانزادہ کو مات دے کر حاصل ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ رش چھٹنے لگا تھا۔ سب اس پر ایک افسوس بھری نگاہ ڈال کرشایان کو دیکھتے اپنے اپنے راستے نکل پڑے تھے۔ ماہین اس پر ایک مسکراتی ہوئی نگاہ ڈالتی سامنے کھڑے نومی کے ہمرا آگے بڑھ گئی۔جب کے شایان۔ بے یقین سا سر جھکائے ہنوز اسی پوزیشن میں خالی ہاتھ بیٹھا تھا۔ کسی کی نظروں میں تمسخر تھا۔ تو کسی کی نظر میں افسوس۔ "شایان ایڈمن آفس میں جا فوراً۔" اس کی شکایات موصول ہوتے ہی فوراً بلاوا آیا تھا۔ " شایان اپنے کلاس فیلو کی آواز پر متوجہ ہوتا ایک گہری سانس بھر کر کھڑا ہوا تھا۔ ارد گرد میں نظر ڈالی ایسا لگ رہا تھا سب اسی کو دیکھ رہے تھے۔ سب سے نظریں چراتا وہ وہ اس کے ہم قدم ہوا۔۔ ________ "سمبل یار۔ کام ڈاؤن۔ ریليكس ہوجاؤ۔ کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو۔ اور پھر تم ہی نے تو کہا تھا کے نکاح نامے میں لکھی شرط کے مطابق شایان بھائی تمہاری اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتے۔" دانین نے ڈرائیونگ کے دوران ہی مسلسل آنسؤں سے روتی سمبل کو دیکھ کمزور سی تسلی دی۔ "اس شرط سے کیا فرق پڑتا ہے۔جب وہ پوری دنیا کے سامنے اس لڑکی کو شادی کی پیشکش کر رہے تھے۔" سمبل کو رہ رہ کر اپنی پسند پر افسوس ہو رہا تھا۔ "تو یار انہیں تو کسی ایسی شرط کا علم نہیں ہے نا یہ تو آغا جان نے لکھوائی ہے۔ اور ویسے بھی اس لال بالوں والی چڑیل نے تو منع کر دیا۔ پھر کس بات کی ٹینشین لے رہی ہو تم۔" دانین کو اس کی یہ حالت تکلیف پہنچا رہی تھی۔۔ "شایان نے شادی کی آفر کی۔ سسنے منع کردیا۔ اب اس سب سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس سارے قصّہ میں میں کہاں ہوں۔ میری ذات کہاں ہے۔ میرا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے شایان خانزادہ نے تو میں نے ہاتھ پیر تو نہیں جوڑے تھے ان کے اس کے باوجود میرے ساتھ ایسا سلوک آخر قصور کیا ہے میرا۔۔۔"سمبل اذیت کی انتہا کو چھوتی مسلسل اس سے جواب طلبی کر رہی تھی۔ "اچھا تم رونا تو بند کرو یار۔۔"دانین نے گاڑی اس کے فلیٹ کے آگے روک کر کہا۔۔ "میں بھی آؤں تمہارے ساتھ۔" دانین نے اسے گاڑی کا دروازہ کھولتے دیکھ اس کی حالت کے پیش نظر کہا۔ "نہیں۔۔میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔" سمبل سپاٹ تاثرات کے ساتھ بولتی بلڈنگ کی سیڑھاں چڑھنے لگی۔ دانین تاسف سے نفی میں سر ہلاتی اپنی گاڑی آگے بڑھا لے گئی۔۔ ________ "یہ کیا بیہودگی ہے ہے شایان خانزادہ۔ آپ یہاں پڑھنے آتے ہیں یا یہ سب حرکتیں کرنے۔ جواب دیجئے مجھے۔" شایان ڈین کے آفس میں سر اور نظریں جھکائے بلکل خاموش کھڑا تھا۔ جب کے موبائل سکرین پر اس کی چند منٹوں پہلے کی ویڈیو چل رہی تھی۔جہاں وہ ماہین کے مقابل آنکھوں میں ایک الگ ہی جہاں آباد کئے بیٹھا اس کے جواب کا منتظر تھا۔ "اب آپ خاموش کیوں ہیں۔ جواب دیجئے مسڑ خانزادہ۔یا پھر میں آپ کے بڑے بھائی سے رابطہ کروں۔" پرنسپل صاحب نے اسے سخت نگاہوں سے گھورا تھا۔جو ابھی تک صدمے کی حالت میں تھا۔۔ شایان کے جھکے سر کو سخت نظروں سے دیکھتے بیل بجائی۔ "مس ماہین کو کہیں۔وہ فورا آفس میں آئیں۔" پرنسپل کے حکم پر پیون فوری جانے لگا تو شایان بیچ میں بول اٹھا۔ "سوری سر اس سارے قصّہ میں ماہین کی کوئی غلطی نہیں۔ یہ میرا آئیڈیا تھا۔ اور مس ماہین مجھے ریجیکٹ کر چکی ہیں۔ تو پلیز آپ انہیں یا پھر ان کی فیملی کو اس قصّے سے دور رکھیں۔ میں اپنے کئے پر نادم ہوں۔ شایان نے سر جھکا کر ابھی بھی ماہین کا دفعہ کیا تھا۔وہ اسے اپنی عزت ہی سمجھتا تھا۔مگر ماہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "شکر کیجئے مسڑ خانزادہ
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
