Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
برداشت نہیں کرونگا۔"شایان کو یکدم سر پر لگی تھی اور تالو پر بجھی تھی۔ "میں تو خاموش ہی ہوں۔ اور رہو گی۔ کیوں کہ میں مجبور ہوں۔ چاہ کر بھی یہاں سے نہیں جا سکتی۔ کیوں کہ آپ سے شادی کا فیصلہ میرا اپنا تھا۔ مگر بے بس نہیں ہوں کہ آپ کا جو دل چاہے ویسا سلوک کرتے رہیں۔اور آپ کو کوئی پوچھنے والا بھی نا ہو۔"تیز لہجے میں بولتے بولتے آخر میں اس کا لہجہ رندھ گیا تھا۔جبھی سمبل اپنی آنکھوں میں آئی نمی چھپاتی اپنے کمرے میں آگئی۔جبکہ پیچھے خاموش کھڑا شایان اس کے لفظوں پر ٹھر سا گیا تھا۔ ہاں وہ مجبور ہی تو تھی۔اس سے شادی کرنے پر بھی اور شادی کے بعد اس کی بات ماننے پر بھی۔ورنہ کیا یہ زمانہ اسے اکیلے جینے دیتا۔جسکا نام بچپن سے اس کے ساتھ جوڑ کر گویا کوئی سزا سنا دی گئی تھی۔جہاں دونوں ہی فریقین بچپن کے ان کچے رشتوں کی ڈوری کو پکا کرنے کی تکو دو میں ناجانے کیا کیا کر رہے تھے۔کبھی مجبور تھے تو کہیں سمجھوتا تھا۔مگر خوشی نہیں. ________ ایک ہفتہ پر لگا کر اڑ گیا تھا۔سمبل اور شایان کے بیچ اس روز سے ہی بات چیت بند تھی۔دونوں ہی الگ الگ کمروں میں اپنی اپنی زندگی گزار رہے تھے۔اگر کبھی رات کے کسی پہر سامنا ہو بھی جاتا تو سمبل نظر پھیر کر جبکہ شایان نظر بچا کر وہاں سے نکل جاتا تھا۔تعلقات ہموار کرنے کہ لئے پہل دونوں میں سے کسی کی بھی جانب سے نہیں ہوئی تھی۔دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اڑے ہوۓ تھے۔ ماہین کا تقاضہ دن با دن بڑھتا جا رہا تھا۔جبکہ شایان حالات سے تنگ آکر پچھلے ایک ہفتے سے اسے ٹال رہا تھا۔مگر آج صبح ماہی کی ضد پر اسے مانتے ہی بنی تھی۔ ماہی اور نومی کے دل میں تو جیسے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ "آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔"سمبل کی بے ساختہ چیخ پر بیڈ پر چت لیٹا اپنی سوچوں میں گم شایان ہڑبڑا کر باہر کو دوڑا تھا۔۔ "کیا ہوا۔۔۔۔۔"شایان نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہو کر سانس بحال کرتے پوچھا۔جو اسے دیکھ بے ساختہ تیزی سے روتی ہوئی اس کی پشت پرچھپ سی گئی تھی۔۔ "کیا ہوا۔۔اتنا کیوں رو رہی ہو۔۔"شایان نے اس کا سر تهپک کر حیرانی سے پوچھا جو یکدم خاموش ہوگئی تھی۔۔آج نا جانے اسے کیا ہوا تھا کہ باربار اپنی ماں کی یاد آرہی تھی۔ "وہ وہ چوہا۔۔۔وہاں۔۔۔"سمبل نے شرمندگی سے گندے برتنوں سے بھرے سنک کی جانب اشارہ کرتے شرمندگی سے آنکھیں میچ کر کہا۔۔ جب سے ان دونوں کے بیچ تلخ کلامی ہوئی تھی۔جب سے سمبل نے ایک بار پھر گھر کے کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ جس کا نتیجہ سنک میں بھرے پڑے برتنوں کے ڈھیر کی صورت نکلا تھا۔ "ہاہاہاہا۔۔۔صرف چوہا۔ ویسے جتنی گندگی تم نے پھیلا رکھی ہے۔مجھے تو لگا چوہے بلی کی پوری فوج یہاں پارٹی کر رہی ہوگی۔۔"شایان نے اس کی نم آنکھیں دیکھ طنزیہ قہقہہ لگا کر اسے اس کے پھوہڑ پن کا احساس کروایا تھا۔۔ سمبل نے ایک نظر گند کا ڈھیر بنے کچن میں نظر گھما کر اسے دیکھا۔جو فریج سے لارج پزا کا ڈبہ اٹھا کر اسے ایک جتاتی مسکراہٹ پاس کرتا کچن سے باہر نکل گیا تھا۔سمبل نے ذرا حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔جو اتنے آرام سے بات کر رہا تھا۔جیسے ان دونوں کے بیچ کچھ ہوا ہی نا ہو۔ جبکہ سمبل اپنی رات کی اس بے وقت بھوک پر صرف صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی تھی۔گزشتہ ہفتہ سے وہ دونوں الگ ہی الگ کھانا کھا رہے تھے۔اور آج طبعیت کے بوجھل پن کے باعث وہ رات کا کھانا گول کر گئی تھی۔مگر اب بھوک کے باعث پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ سمبل نے بلاوجہ روانی سے گرتے آنسو پونچھ کر آگے بڑھ کر فرج کا دروازہ کھولا جہاں محض ٹھنڈے پانی کی بوتلوں کے سوا کچھ نا تھا۔اپنی بے بسی پر یکدم پھر سے رونا سا آیا تھا۔۔ "بھوک لگ رہی ہے کیا؟؟۔۔۔۔"اس اچانک نمودار ہوتی آواز پر سمبل کی چیخ بے ساختہ تھی۔ چکنے پڑے ٹائیل پر بے دھیانی میں پیر پھسلا تھا اور وہ اچانک دھڑام سے زمین بوس ہوئی تھی۔۔اس ساری صورتحال میں رات کی تاریکی میں خاموشی کو چیرتا شایان کا بلند و بانگ قہقہہ گونجا تھا۔۔ وہ مسلسل ہنس رہا تھا۔جبکہ سمبل جلدی سے خجالت اور شرمندگی سے سرخ پڑتی گرتی پڑتی اپنے ہی سہارے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ایک غصّے بھری نگاہ اس کے چلتے منہ پر ڈال سمبل اس پر دو حرف بھیجتی کچن سے باہر نکلنے گئی۔جبھی شایان نے اس کے راستے میں حائل ہو کر آنکھوں کے اشارے سے کھانے کا پوچھا۔سمبل کو ایک بار پھر تپ چڑی اور مکمل طریقے سے نظر انداز کرتی تن فن کرتی وہاں سے غائب ہوگئی۔ شایان نے ڈبہ میں پڑے آدھے پزا پر نظر ڈالی ۔قدم چلتا کمرے کے پاس آیا سائیڈ پر رکھی ٹیبل اٹھا کر اس پر پزا کا ڈبہ رکھا۔اور کمرے کا دروازہ زور سے بجا کر اپنے کمرے میں آگیا۔ پہلے تو سمبل اس دستک پر بیٹھی رہی۔پھر کچھ سوچ کر باہر آئی تو لاؤنج مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ارد گرد نظر ڈالی جہاں سائیڈ پر پزا کے ڈبے کے ساتھ ایک چٹ بھی رکھی ہوئی تھی۔جس پر بڑا بڑا سوری لکھا ہوا تھا۔ ۔موبائل اٹھایا اور اپنے مطلوبہ نمبر پر شکریہ کا پیغام بھیج کر مطمئن سی اس آدھے بچے پزا سے بھرپور انصاف کرنے میں مصروف ہوگئی۔۔ _______ "ماہی تو پھر آج میں شو کی امید رکھوں۔" نومی نے گلے میں پڑی چین انگلی پر گھما کر مزے سے پوچھا۔ "ہاہاہاہا ۔۔۔بلکل بلکل تیار رہو۔آج تو مزہ ہی الگ آنے والا ہے۔" ماہی کے آج تیور ہی نرالے تھے۔۔ "چلو پھر تم شایان مجنوں کا انتظار کرو۔ میں ذرا کلاس کا ایک راؤنڈ لگا کر آتا ہوں۔" نومی سیٹی کی آواز پر کوئی دھن بجاتا،گنگناتا ہوا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔ جبکہ ماہی کی نظریں صرف یونیورسٹی کے صدر دروازہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ نا جانے آج شایان کو اتنی دیر کہاں لگ گئی تھی۔ " شایان کہاں ہو تم۔" ماہی اس کے نمبر پر پیغام بھیج کر انتظار کرنے لگی۔۔ نوٹیفکیشن سے پہلے شایان اسے اپنے سامنے سے آتا نظر آیا تھا۔ ماہی کی تو جیسے بانچھیں کھل اٹھی تھیں۔ "ہیلو!! شایان ہنی کہاں رہ گئے تھے تم۔" ماہی دوڑ کر اس کی جانب آئی تھی۔ "بس ٹریفک میں پھنس گیا تھا۔ تم اب تک یہاں کیوں کھڑی ہو۔چلو کلاس میں چلتے ہیں۔" شایان مسکرا کر ہشاش بشاش لہجے میں بولتا اس کے ہم قدم ہوا۔۔ ساتھ چلتی ماہی ایک میسج ٹائپ کر کے اپنے مطلوبہ نمبر پر بھیجتی شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ شایان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالتی کلاس کی جانب چل دی۔ _______ "دانین،دانین یار میرے ساتھ چلو۔مجھے ابھی نكلنا ہے۔شایان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔"سمبل کسی غیر شناسہ نمبر سے پیغام موصول ہوتے ہی یونیورسٹی کے باقی لیکچر نظر انداز کرتی دانین کے ہمرا بغیر کسی تصدیق کے اس کی یونیورسٹی کی جانب دوڑ پڑی تھی۔ یہ سوچے بغیر کہ اگر ایکسیڈنٹ ہوا بھی ہے تو اڈریس دینے والے نے ہسپتال کی جگہ یونیورسٹی کا پتہ کیوں بھیجا تھا۔ "سمبل آرام سے شایان بھائی کی بابت تمھیں کس نے اطلاح دی تھی۔" دانین نے سمبل کے حواس باختہ انداز پر ریش ڈرائیونگ کرتے عجلت میں پوچھا۔ " مجھے نہیں پتہ یار۔۔بس شایان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ وہیں یونیورسٹی میں ہیں۔
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
