Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
رات کے تقریبًا آٹھ بج رہے تھے۔شایان اور سمبل دونوں ہی خاموشی سے موبائل اور لیپ ٹاپ میں مصروف تھے۔سمبل ليپ ٹاپ میں کوئی انگلش ہورر موی کھولے بیٹھی تھی۔جبکہ شایان ایک پیاری سی مسکان ہونٹوں پر سجاُۓ فیس بک پر کچھ فنی ویڈیوز دیکھتا مسلسل مسکرا رہا تھا۔یہی بات تھی جو سمبل کو بری طرح کھٹک رہی تھی۔ وہ چور نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔جب شایان نے اچانک اس کی جانب دیکھا وہ گڑبڑا کر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔شایان ایک انگڑائی لیتا واشروم میں چلا گیا۔جبکہ سمبل اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتی آہستہ سے قدم اٹھاتی سوفے تک آئی۔سائیڈ پر رکھا موبائل اٹھایا۔جس میں پاسورڈ لگا ہوا تھا۔لٹکے منہ کے ساتھ موبائل واپسی رکھنے لگی تھی کہ موبائل سکرین روشن ہوئی اور ماہی کا نمبر جگمگ کرنے لگا۔سمبل نے غصّہ میں جلدی سے اس کی کال پک کی تھی۔۔ “شایان پھر تم تیار ہو نا۔میں امید رکھوں کہ تم جلد میری وش پوری کرو گے۔“ماہین کال پک ہوتے ہی بولنا شروع کر چکی تھی۔جبکہ سمبل کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ "مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟ کس قسم کی چیپ لڑکی ہو تم ۔شرم نہیں آ۔۔۔۔۔۔۔۔"سمبل کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ پیچھے سے کسی نے موبائل جھپٹنے کے انداز میں چھینا تھا۔ سمبل چونک پر پلٹی۔شایان نے جلدی سے کال کٹ دی۔ "تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرے موبائل کو بغیر اجازت ہاتھ لگانے کی۔"شایان غصّہ کی شدّت سے بہت زور سے دهاڑا تھا۔ شایان وہ۔۔میں ۔۔۔میں ۔۔ "اس کے خطر ناک حد تک سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ سمبل کی خوف سے زبان تالو سے چپک گئی تھی۔۔ ”کیا شایان۔۔ میں پوچھ رہا ہوں۔تمہاری ہمّت کیسے ہوئی۔میرے موبائل کو ہاتھ بھی لگانے کی۔”شایان سخت لہجے میں چبا چبا کر گویا ہوا۔ "وہ میں۔۔ماہی سے بات۔۔۔"اس نے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔ "شٹ اپ۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔تم ہوتی کون ہو۔میرے معملات میں داخل اندازی کرنے والی۔اگر میں تحمل مجازی سے کام لے رہا ہوں۔اور تمھیں کچھ کہہ نہیں رہا۔تو تم اپنی من مانی کرتی پھرو گی ہاں۔۔"شایان نے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکا دیا۔سمبل کی آنکھوں سے آنسو جھرنے کی مانند گرنے لگے تھے۔تھوڑی رونے کی شدّت سے خوف سے کپکپانے لگی تھی۔ "دفع ہوجاؤ یہاں سے۔نکلوں یہاں سے ابھی اور اسی وقت نکلو۔اپنی شکل مت دکھانا مجھے سمجھ آئی۔"شایان نے غصّہ میں اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔اور دروازہ کی جانب دھکیل دیا تھا۔سمبل روتی ہوئی ایکدم باہر نکل گئی تھی۔۔ شایان غصّہ میں سر پر ہاتھ پھیرتا خود کو قابوں میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔کتنی مشکل سے اس نے ماہین کو منایا تھا مگر جب سے یہ لڑکی اس کی زندگی میں آئی تھی۔مجال ہے جو کوئی بات بن پائی ہو۔۔۔ _________ صبح صادق سے نکلتا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہر سو اپنی تیز کرنیں پھیلا چکا تھا۔رات کا اندھیرا چھٹ چکا تھا۔ نیلگوں آسمان کو گہرے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔آج کا موسم ذرا ابر آلود سا تھا۔محکمے موسمیات کے مطابق آج تیز موسلادھار بارش متوقع تھی۔ساری رات تیز ہواؤں ، آندھی نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔تیز ہواؤں کے جھکڑوں کے باعث ساری رات کھڑکیوں کے پٹ بجتے رہے تھے۔مگر سمبل نے اٹھ کر انہیں بند کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔دوسرے کمرے میں لیٹا شایان آنکھوں پراپنے آہنی بازو دهارے کُھلی آنکھوں سے آئندہ وقت کے لئے تانے بانے بننے میں مصروف تھا۔الگ الگ کمروں میں نیم دراز سمبل اور شایان دونوں کی ہی رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔ رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی۔ رات کا نا جانے کون سا پہر تھا جب شایان کو اپنے لفظوں کا احساس ہوا تھا۔احساس ندامت دل و دماغ پر کاری ضربیں لگا رہا تھا۔اضطرابی سی کفیت میں ایک لمبی سانس فضا کے سپرد کرتا اٹھ کر بیٹھا ،قدم اٹھا کر کمرے سے باہر آیا۔لاؤنج میں نیم اندھیرا سا چھایا ہوا تھا۔کچن کی لائٹ بھی بند پڑی ہوئی تھی۔ہر سو وحشت ناک خاموشی کا راج تھا۔شایان قدم اٹھاتا سمبل کے کمرے کے دروازہ کے نزدیک آکر چند پل کو ٹھہر سا گیا تھا۔۔ جھجھک کر ہاتھ اوپر کو دستک دینے کے لئے اٹھایا۔اور شرمندگی سے ایک بار پھر ہاتھ پہلو میں گرا لیا۔ہمّت جمع کر کے ہولے سے ہاتھ دستک کہ لئے ہوا میں بلند کیا۔ "سمبل۔۔" ہلكی سی دستک کے ساتھ سرگوشی میں پکارا۔ "سمبل۔۔دروازہ کھولو،کمرے میں آکر لیٹو دیکھو موسم کے تیور کس قدر بگڑ رہے ہیں۔"شایان کی مسلسل پکار پر جواب اب بھی ندار تھا۔ سمبل جو بیڈ پر سکڑی سمٹی سی بیٹھی تھی۔یکدم چونک کر اٹھی تھی۔آنکھیں رونے کے باعث سوجھ کر سرخ پڑ چکی تھیں۔شایان کی جانب سے مسلسل دستک جاری تھی۔۔ سمبل غصہ میں سر جھٹک کر اسکی ندامت بھری پکار نظر انداز کرتی منہ تکیہ میں دے کر خاموش پڑی رہی۔جبکہ وہ کافی دیر تک دروازہ بجاتا تھک ہار کر مایوس ہوتا واپس پلٹ گیا تھا۔۔ ________ "ماہین ڈارلنگ تمہارا مجنوں ابھی تک نظر تو نہیں آرہا۔" نومی نے یونیورسٹی کے وسیع گراؤنڈ سے ہی چاروں جانب نظر گھما کر آئبو اٹھا کر اس بابت پوچھا۔۔ "آجائے گا آجائے گا۔اتنی جلدی کس بات کی ہے۔"ماہین نے شانے بے نیازی سے کندھے آچکائے۔ "مجھے تو بس شو دیکھنے کی جلدی ہے۔" نومی نے مسکرا کر آنکھ بلنک کی تو وہ دونوں قہقہہ لگا اٹھے۔ _______ شایان کی جب آنکھ کھلی تو نظر سیدھی چھت پر لگے پنكهے پر گئی تھی۔جیسے وہ رات کی خنکی بڑھتی دیکھ بند کر کے سویا تھا۔کچھ دیر خالی دماغ سے چھت کو گھورتا رہا۔رات کا ناجانے کونسا سا پہر تھا جب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔۔آہستہ آہستہ گزری رات کے مناظر واضح ہوۓ تو تیزی سے بستر چھوڑتا کمرے سے باہر آیا۔قدم قدم چلتا دوسرے کمرے کی جانب آیا۔دروازہ کا ہنڈل گھمایا تو وہ اندر کی جانب کھلتا ہی چلا گیا۔اس کا مطلب سمبل اس کے اٹھنے سے پہلے ہی یونیورسٹی کے لئے نکل چکی تھی۔ایک دم غصّے سے دروازہ واپس بند کرتا کمرے میں واپس آیا۔اپنے کپڑے لئے اور واشروم میں بند ہوگیا۔۔ نہا دھو کر فریش ہو کر واپس آیا۔کچن پر ایک نظر ڈالی جہاں آج خاموشی سی چھائی ہوئی تھی۔۔سر جھٹک کر بڑے بڑے قدم لیتا فلیٹ سے باہر نکل گیا۔۔جہاں اس کا رخ اب یونیورسٹی کی جانب تھا۔ ________ "سمبل یار کیا ہوگیا ہے۔منہ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا۔"دانین صبح سے کوئی دس مرتبہ اس کے موڈ کی بابت دریافت کر چکی تھی۔ مگر وہاں وہی نو لفٹ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ "کچھ نہیں ہوا بتایا تو ہے۔" سمبل اب اس کے ایک ہی سوال پر جھنجھلا سی گئی تھی۔ "اچھا!!تو منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں۔ کل تک تو تم اچھی خاصی تھیں۔ کہیں شایان بھائی سے لڑائی تو نہیں کر لی تم نے۔" دانین نے آئبرو اٹھا کر تفشیشی انداز میں پوچھا۔ "اففف اللّه جیمز بانڈ زیرو زیرو سیون کچھ نہیں ہوا۔اپنے اندر کی شکی عورت کو تهپکی دے کر سلا دو۔"سمبل اس کی تفشیش سے عاجز آگئی تھی۔ "اچھا اچھا۔۔تو رو کیوں رہی ہو۔میں کون سا شایان بھائی کے پاس جا رہی ہوں تصدیق کرنے۔"دانین نے شرارتاً آنکھیں گھمائیاں تو سمبل محض ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔اس لڑکی کا واقعی کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ "اچھا چلو سب چھوڑو۔جلدی سے لیکچر لو۔پھر میرے ساتھ گھر چلنا۔آج کا لنچ میری طرف سے۔"دانین اپنی رو میں بولتی اسے بھی اپنے ساتھ ہی گھسیٹ
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
