Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
کر لے گئی۔وہ تو ویسے بھی آج کی تاریخ میں شایان کی جانب سے راہ فرار چاہ رہی تھی۔ _______ "ماہین چلو میرے ساتھ ۔مجھے تم سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔"شایان فری پیریڈ میں ماہین کو نومی کے ساتھ بیٹھا دیکھ سیدھا اس کے سر پر آن پہنچا تھا۔ "ہاں بولو تم میں سن رہی ہوں۔" وہ فورا الرٹ ہو کر بیٹھی تھی۔ "یہاں نہیں میرے ساتھ آؤ۔" شایان کے ماتھے پر ناگواری سے بل واضح تھے۔ لیکن۔۔۔۔" "ماہین تم میرے ساتھ آرہی ہو یا نہیں۔"شایان کا لہجہ پہلے کی بانسبت خاصہ سخت تھا۔نومی چہرے پر خباثت بھری مسکراہٹ لئے ان دونوں کی تكرار سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔ اچھا چلو۔"ماہین شایان کا اس قدر روکھا انداز دیکھ فوری کھڑی ہوئی تھی۔ شایان اسے بازو سے پکڑ کر یونیورسٹی کا احاطہ عبور کرتا ،گاڑی میں بیٹھاتا سپیڈ بڑھا گیا۔ "شایان ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟"گاڑی کو ہوا سے باتیں کرتا دیکھ ماہین نے خوف زدہ لہجے میں دريافت کیا۔ "دوسری جانب ہنوز خاموشی برقرار تھی۔"شایان پلیز گاڑی آہستہ چلاؤ۔ ہمارا ایکسیڈنٹ ہوجائے گا۔" ماہین کے ماتھے پر ڈر کے مارے پسینے کے ننھے ننھے سے قطرے نمودار ہوۓ تھے۔۔ " شایان۔۔۔۔شایان پلیز بات کو سمجھو۔۔ تمھیں ہو کیا گیا ہے۔ پلیز رفتار آہستہ کرو۔۔ شایان مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ شایان پلیز اسٹاپ دا کار۔۔۔"ماہین ڈر اور خوف کے مارے اونچا اونچا چلا رہی تھی۔جبکہ شایان تو جیسے بہرہ ہو چکا تھا۔اس کی کسی بھی قسم کی مذمت سے اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔۔۔ "کیا مسٔلہ ہے تمہارے ساتھ۔کیوں چلا رہی ہو۔"کار روک کر شایان اس کی جانب منہ کئے اچانک دهاڑا تھا۔ "شایان وہ۔۔میں ڈر۔۔۔تم۔۔"ماہین اس کے غصّہ پر حواس باختہ سی رہ گئی تھی۔ "شٹ اپ۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔تمھیں میری کوئی بات سمجھ آتی بھی ہے یا نہیں۔۔"شایان کا غصّہ عروج پر تھا۔جبکہ وہ ناسمجھی سے اس کا منہ تک رہی تھی۔۔ "کیا مطلب ہے شایان۔۔ہوا کیا ہے۔کیوں اتنا ہائپر ہو رہے ہو۔" ساری صورتحال فلحال ماہی کی سمجھ سے باہر تھیں۔ "یہ پوچھوں کیا نہیں ہوا۔جب میں نے تمھیں ایک بار کہا تھا کہ مجھے وہ نومی پسند نہیں۔ اس کے ساتھ مت بیٹھا کرو پھر تم مجھے باربار اسی کے ارد گرد منڈلاتی ہوئی کیوں نظر آتی ہو۔" شایان نے پھاڑ کھاتے لہجے میں سوال کیا تھا۔ "شایان وہ صرف میرا دوست۔۔"ماہی کو پہلے ہی اس کے غصّہ سے ڈر لگ رہا تھا۔ اور اب یہ انداز ماہین کے تو اؤسان ہی خطا ہوگئے تھے۔۔ "نہیں پسند وہ مجھے سمجھیں۔ اسی لئے کہہ رہا ہوں دور رہو اس سے۔۔"شایان کے لہجے میں وارننگ تھی۔۔ "اوکے اوکے میں آئندہ کبھی اس سے بات نہیں کرونگی۔تم رليكس رہو بس۔۔"وہ خود اس سے خوف زدہ ہوگئی تھی۔۔ شایان کتنی ہی دیر گاڑی ایک کونے میں روک کر کھڑا اپنا غصّہ قابو میں کرتا رہا۔ جبکہ ماہی بلکل خاموش تھی۔اس میں اتنی ہمّت نہیں تھی کہ وہ اس بپھرے ہوۓ شیر کو چھیڑ دے۔ وہ آج نا جانے کیوں جوالا بنا گھوم رہا تھا۔۔ _______ "شایان ایم ریئلی سوری۔ مجھے ذرا بھی تمہارے اس قدر ہارش ریکشین کا اندازہ ہوتا تو میں کبھی نومی سے کلام تک نہ کرتی " ماہی فلحال کسی بھی طرح اس کا غصّہ ٹھنڈا کرنا چاہتی تھی۔جو آئس کریم پارلر میں آنے کے باوجود بھی منہ بگاڑے ہی بیٹھا تھا۔۔ "بس کر جاؤ یار ماہین تمھیں نہیں پتہ۔میں آج کل سمبل کی طرف سے کس قدر پریشان ہوں۔"شایان نے اب ذرا ٹھنڈے لہجے میں کہا تھا۔۔ "تو مت لیا کرو۔اس کی طرف سے ٹینشین۔ تم بس رلیکس رہو۔"ماہی نے ناگواری سے کہا تو شایان نے اسے گھورا۔۔ "اچھا بابا سب چھوڑوں۔یہ بتاؤ۔کونسا فلیور لو گے۔۔"ماہی نے اس کے سخت تاثرات دیکھ اسے باتوں میں لگا کر اس کا دھیان بھٹکانا چاہا۔۔ ماہی آئس کریم لینے کاؤنٹر کی جانب بڑھ گئی۔جبکہ شایان کی نظریں ارد گرد کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔ جبھی نظر سب سے آخر میں ایک کونے والی ٹیبل کی جانب اٹھی تھی۔جہاں سمبل اکیلی بیٹھی آنکھوں میں نفرت لئے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔شایان کی نظر اپنی جانب متوجہ پاکر وہ یکدم سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔جبکہ سمبل کے ساتھ برابر والی سیٹ پر ایک اجنبی شخص کو سیٹ سنبھالتے دیکھ شایان کے ماتھے پر ناگواری سے بل واضح تھے۔۔ اس سے پہلے کے شایان اس تک پہنچتا۔سمبل اپنا بیگ سمبھالتی وہاں سے نكلتی چلی گئی تھی۔ماہی کے وہاں آنے پر شایان فوری کھڑا ہوتا خود بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر آگیا۔ مگر جب تک سمبل رکشہ پکڑ کر وہاں سے جا چکی تھی۔ شایان غصّہ میں مٹھی بھینچتا ماہین کے ہمرا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔۔ _________ شایان گھر میں داخل ہوا تو سمبل سامنے ہی کچن میں کھڑی نظر آگئی تھی۔جو شاید اپنے لئے کافی بنا رہی تھی۔ شایان قدم اٹھاتا کچن کاؤنٹر تک آیا۔کچھ دیر خاموشی سے اسے کام کرتا دیکھتا رہا۔جب سمبل کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو خود ہی آگے بڑھ کر کبنیٹ سے گلاس نکالا اور فریج سے ایک پانی کی بوتل نکال کر پانی پیا۔اس سارے عرصے میں سمبل اپنی جانب سے لاتعلقی ظاہر کرتی اپنے ہی کام میں مگن رہی تھی۔جیسے وہاں اس کے سوا کوئی تیسرا موجود ہی نا ہو۔ سمبل اپنی کافی لیکر کچن سے باہر نکل گئی تو شایان بھی فریش ہونے کی غرض سے کمرے کی جانب بڑھا۔شایان کچھ دیر بعد آرام دہ سے سوٹ میں گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر آیا تو سمبل کو کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتے ٹی وی دیکھنے میں محو پایا۔جہاں کوئی ترکش ڈرامہ چل رہا تھا۔ شایان اپنی جانب سے پہل کرنے کی خاطر قدم قدم اٹھاتا اس کے سر پر آکھڑا ہوا۔ جو ارد گرد سے بیگانہ ساری توجہ ڈرامے کی جانب کئے بیٹھی تھی۔ "سمبل ایک کپ کافی مجھے بھی بنا دو۔"شایان نے اس کے برابر سوفے پر جگہ سنبھال کر متوازن لہجے میں کہا۔ سمبل نے سن کر بھی ان سنا کردیا تھا۔ "سمبل میں کہہ رہا ہوں مجھے ایک کپ کافی بنا دو۔" شایان کو اپنی بات کا نظر انداز کرنا ایک آنکھ نا بھایا تھا۔ یکدم ہی پٹھانوں کے خون نے جوش مارا تھا۔ "میں کیوں بناؤ آپ کی کافی؟ جا کر بنوا لیں اپنی اسی لیلٰی سے جسے ہر روز لنچ اور ڈنر کے بہانے گھومایا پھرایا جاتا ہے۔"کل رات ہوئی بحث کے بعد سمبل کی بھی بس ہوگئی تھی۔ دن کے مناظر نظروں کے سامنے گھومتے ہی تڑخ کر گویا ہوئی تھی۔ "کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔اپنی حد میں رہو سمبل شایان خانزادہ۔۔مجھے اپنا ضبط آزمانے پر مجبور مت کرو سمجھیں۔بتاؤ کون تھا وہ جو آج شام تمہارے ساتھ بیٹھا تھا۔" حقیقت سے نظریں چرا کر شایان الٹا اسی پر چڑھ دوڑا تھا۔۔ "کیوں کیا ہوا۔اپنی حقیقت بھی برداشت نہیں ہو رہی۔اور چلیں ہیں مجھ پر الزام لگانے۔" سمبل تلخی سے مسکرائی تھی۔۔ "بات کو غلط رنگ مت دو۔ میں کوئی الزام نہیں لگا رہا ۔میں صرف پوچھ رہا ہوں۔۔"شایان نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر ضبط سے کہا۔۔ "کیوں پوچھ رہیں ؟ آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے سوال کرنے والے۔ جب آپ کو میری ذات میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تو میری مرضی جو چاہے کروں۔۔"سمبل بھی غصّے میں آپے سے باہر ہوئی تھی۔ میں تم سے سوال کا پورا پورا حق رکھتا ہوں سمجھ آئی بات" شایان غصّے سے بولا تھا۔ "سمبل۔۔خاموش ہوجاؤ۔ایک لفظ بھی اور مت نکالنا۔ورنہ اب میں
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
