Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 04(Last)
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 24/01/2026
217 Views
Part 04(Last)
میں نے آپ کے گھر کال کر کے آپ کے کارناموں کے بارے میں آپ کے آغا کو آگاہ نہیں کیا۔ جایئے اور اب آپ کو مزید یونیورسٹی تشریف لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ دن میں پیپرز ہیں۔ آپ یونیورسٹی سے اپنی ڈگری لیجئے۔ اور اپنی لائف انجوائے کیجئے۔" پرنپسل صاحب نے طنزیہ لہجے میں بولتے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔ یہ ریایت بھی اسے صرف یونیورسٹی کا ایک ہونہار طالب علم ہونے کے باعث دی جا رہی تھی۔ اور یہ ایکٹ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ یونیورسٹی میں یہ شغل عام سی بات تھی۔ بس شایان کی شکایت کسی نے جیلسی میں آفس میں کر دی تھی۔ ورنہ معاملہ تو کب کا رفع دفعہ ہو چکا ہوتا۔۔۔۔ ________ "آغا بھائی آپ۔۔اندر آیئے نا پلیز۔۔"سمبل جو کافی دیر تک رو دھو کر اب فریش ہو کر بیٹھی تھی کہ دروازہ پر بجتی بیل پر سامنے آغا کو کھڑا دیکھ بوکھلا کر رہ گئی تھی۔۔ "کیسی ہو بچہ۔۔" آغا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ "بلکل ٹھیک آپ کیسے ہیں، خالہ جانی اور حویلی میں سب کیسے ہیں۔" سمبل نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے تھے۔آغا اس کی جلد بازی پر قہقہ لگا اٹھے۔ "سب ٹھیک ہیں بچہ۔ سب تمھیں اور شایان کو بہت یاد کرتے ہیں۔"۔ نرمی سے جواب دیا۔ "اچھا آغا آپ بتائیں کیا لیں گے ٹھنڈا یا گرم۔"سمبل کو فوری مہمان نوازی یاد آئی۔۔ "کچھ نہیں یہ بتاؤ۔ شایان ابھی تک نہیں آیا۔۔"اغا نے اس کی غیر موجودگی محسوس کر کے سوال کیا۔۔ "نہیں بس آنے والے ہیں۔ آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے شربت لاتی ہوں۔" ان کے منع کرنے کے باوجود وہ کچن کی جانب بڑھی۔ آغا بھائی بھی ریليكس انداز میں صوفے پر بیٹھتے اپنے موبائل میں مشغول ہوگئے۔ جبھی واٹس ایپ پر ایک نوٹیفکیشن آیا تو بغیر کسی دیری کے اسے آن کر چکے تھے۔۔ جیسے جیسے وہ ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ ان کے غصّہ کا گراف بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ ویڈیو ان کے ایک ساتھی دوست نے سینڈ کی تھی۔ اتفاق سے ان کے دوست کی بہن اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی۔ "سمبل۔۔سمبل بچے یہاں آئیں۔" آغا نے غصّے میں سمبل کو پکارا۔ کیوں کے بنانے والے نے جس انداز میں ویڈیو بنائی تھی۔ اس میں ایک جانب سمبل صاف کھڑی نظر آرہی تھی۔ اور یقیناً یہ آج ہی کی ویڈو تھی۔ "جی جی آغا۔" سمبل ہڑ بڑا کر کچن سے باہر آئی تھی۔ "یہ سب کیا ہے۔" انہوں نے موبائل سکرین اس کے سامنے کی تھی۔ سمبل کا چہرہ سامنے چلتے مناظر دیکھ فق رہ گیا تھا۔ شایان تمہارے ساتھ یہاں یہ سب کچھ کرتا پھر رہا ہے۔اور تم نے ہمیں بتانے تک کی زحمت نہیں کی ۔کیا ہم تمہارے لئے غیر ہیں۔ یا پھر تم ہمیں اپنا بڑا ہی نہیں سمجھتیں۔" آغا جان نے اس کے آنسؤوں سے تر چہرے کو دیکھ شفقت سے افسوس بھرے لہجے میں پوچھا۔۔ سمبل یکدم نفی میں سر ہلاتی زور زور سے رونے لگی۔ "رو نہیں بچے تم اٹھو اور اپنا سامان پیک کرو تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ حویلی چل رہی ہو۔" آغا کے حکم پر وہ کچھ سٹپٹا کر اٹھی تھی۔۔ "مگر شایان۔"سمبل نے کچھ کہنا چاہا۔۔ "دفع کرو اس بد بخت کو اس کا دماغ تو میں خود درست کرونگا۔" آغا نے اسکی نفی پر سخت لہجے میں کہا۔ مگر میری یونیورسٹی کے پیپرز سمبل نے کمزور سا جواز پیش کیا۔۔ "کب سے ہیں۔۔" انہوں نے متوازن لہجے میں دريافت کیا۔۔ "اگلے ماہ سے۔" سمبل نے آہستہ سی آواز میں کہا۔ اس کا خود کا دل اب یہاں رکنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ بس پھر ابھی تم میرے ساتھ حویلی چلو۔ آغا کے حکم پر وہ بھی خاموشی سے اپناسارا سامان پیک کرتی۔کمرے میں ایک آخری نگاہ ڈالتی ان کے ہمرا گاڑی میں بیٹھتی گاؤں جانے کے لئے نکل پڑی تھی۔۔۔ ________ سارا دن سڑکوں پر گاڑی دوڑانے کے بعد شایان تھکا ہارا سا فلیٹ میں داخل ہوا تو ہر سو خاموشی کا راج تھا۔شایان کو آج معمول سے ہٹ کر خاموشی محسوس ہوئی تھی۔سر جھٹک کر کچن کی جانب بڑھا۔وہاں کی لائٹ بھی بند تھی۔ایک بار پھر صاف ستھرے سے کچن میں نگاہ گھومائی ۔فرج سے بوٹل نکال کر پانی گلاس میں ڈالا اور ایک ہی سانس میں سارا چڑھا گیا۔ماہین نے جو آج اس کے ساتھ کیا تھا شایان کو رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا۔ اسے تو کسی پل چین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ایسا بھی کر سکتی تھی۔۔۔ وہ سر جھٹک کر کمرے کی جانب بڑھا۔ کمرے میں داخل ہوا تو وہ بلکل ایسا ہی پڑا تھا جیسا وہ صبح چھوڑ کر گیا تھا۔کسی غیر معمولی پن کے احساس کے باعث وہ قدم اٹھاتا سمبل کے کمرے کی جانب آیا جو آج کل اس کے زیرِ استعمال تھا۔ "سمبل۔" شایان نے آواز دی مگر جواب ندار تھا۔۔۔ "سمبل کہاں ہو تم۔" شایان کو اب پریشانی ہونے لگی تھی۔۔ ارد گرد اس کا موبائل اور پھر کمرے میں واپسی آکر الماری چیک کی۔ جہاں سے سمبل کے روز مرہ پہننے کے کپڑے غائب تھے۔۔۔ یکدم اسے پریشانی نے اپنے حصار میں لیا تھا۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر جیب سے موبائل نکالا جو صبح سے آف تھا۔ ابھی موبائل آن کر کہ وہ سمبل کا نمبر ڈائل کرنے ہی لگا تھا کہ آغا کی جانب سے موصول ہوتے پیغام کو کھول کر جیسے ہی دیکھا۔ ایک بار پھر خود پر غصّہ آنے لگا۔۔ "اگر سمبل کو ڈھونڈ رہے ہو تو اپنی کوشش ترک کر کے اس ویڈیو کو دیکھ لو۔ اور پھر لعنت بھیجو اپنی ذات پر ہمارے خاندان کا نام ڈبو دیا ہے تم نے۔ کیسے خان ہو تم جس کا خون اتنی تذلیل کے بعد بھی جوش نہیں مار رہا۔ تف ہے تم پر تف شایان خانزادہ۔ میں اپنی بہن کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔اب حویلی اپنی شکل اسی وقت لے کر آنا جب تم اپنے اور سمبل کے رشتہ کو لے کر سنجیدہ ہو۔ ورنہ اپنی شکل یہاں لے کر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔" پیغام پڑھنے کے بعد جیسے جیسے اپنی ہی ویڈیو دیکھ رہا تھا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ ماہین نے بھری یونیورسٹی کے سامنے اس کی ذات کا تماشہ ہی بنا کر رکھ دیا تھا۔ پہلے خود ہی اسے یہ قدم اٹھانے کے لئے فورس کیا اور پھر خود ہی انکار بھی کردیا۔ ویڈیو میں نظر آتے سمبل کے فق چہرہ کو دیکھ شایان کو ساری صورتحال سمجھ آنے لگی تھی۔ وہ وہاں کیسے آئی یا پھر اسے کس نے بلایا ہوگا۔ ماہین کے برتاؤ کے بعد اسے یہ بات سمھنے میں ذرا دیر نہیں لگی تھی۔۔ "آہ ہ ہ ۔۔۔۔ماہین یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔ کم از کم سمبل اور آغا کے سامنے میری ذات کا تماشہ بنا کر تو تم نے بلکل اچھا نہیں کیا۔ تمہاری محبّت میں میں پوری یونیورسٹی کے سامنے ہوئی تذلیل بھول سکتا تھا مگر اپنی فیملی کی نظروں میں اپنا امیج خراب ہوتا دیکھ میں بلکل بھی برداشت نہیں کر سکتا۔" شایان غصّہ میں خود سے مخاطب ہوتا موبائل دیوار پر مار کر توڑ چکا تھا۔۔ اب کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح سر پکڑ کر بیڈ پر چت لیٹ گیا تھا۔ ماہین نے صرف سمبل سے شادی کا بدلہ لینے کے لئے
Comments
Leave a Comment
Anna
Tue Jan 27 2026
وہی گھسا پٹا انداز ادمی کو اپنی غلطی کا احساس کیا ہوا کہ اس کو کام کرنے پڑے یعنی اس کو ایا ملازمہ کی ضرورت محسوس ہوئی بیوی کی نہیں اس قدر تذلیل اس قدر بدتمیزی پھر اس پہ بھی ڈھٹائی وہ لڑکی منع نہیں کرتی تو یار ہم سب کو دھوکہ دیتا بعد میں جو ہوتا جو ہوتا تماشا تو اس بیچاری کا بنا ہے اور اتنے ارام سے اس نے معاف کر دیا مطلب کوئی عقل نہیں کوئی سیلف رسپیکٹ نہیں بالکل بیکار اینڈنگ ہے ایک تھپڑ تو زوردار لگانا چاہیے تھا گھر میں کوئی بڑے نہیں تھے
