Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/06/2026
1 Views
Last Episode
تحفہ دینے کے لئے!وہ اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا۔۔جس کا چہرہ نقاہت کے باعث کمزور ہوگیا تھا۔۔۔۔ ’’ہماری بیٹی کیسی ہے؟‘‘اس نے جھولے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’ آؤ ساتھ دیکھتے ہیں۔۔‘‘ اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا کر وہ آئزل کے قریب لایا تھا۔۔ ’’پیاری ہے نا!‘‘اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھرمٹ بہنے لگی تھی۔۔ ’’بہت زیادہ پیاری ہے۔۔اللہ نصیب اچھے کرے۔۔آمین!‘‘وہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (پانچ سال بعد) شام کی سُر مئی رُوشنی ہر سو اپنے پنکھ پھیلا چکی تھی۔۔ اِیسے میں ساریہ اور فاریہ جو جڑواں بچیاں تھیں،گھر کے لان میں کھیلتی پھر رہی ہیں۔جبکہ ثمرہ چھ ماہ کے عبداللہ صمد کو گود میں لئے مسلسل انھیں شرارت سے باز آنے کی ہدایت کر رہی تھی۔۔ ’’ثمرہ!‘‘میری بچیوں کا ڈانٹا نہ کرو،ان کی کھلکھلاہٹ سے ہی تو یہ گھر گونجتا ہے۔۔‘‘انھونے محبت سے پوتے کو گود میں لیتے ثمرہ کو خشک لہجے میں منع کیا تھا۔۔گزرے وقت میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔۔ان کے اور ثمرہ کے درمیان تعلقات آج بھی ویسے ہی تھے۔جیسے اول روز،مگر ہاں کچھ تبدیل ہوا تھا تو وہ تھی انکی پوتے پوتیوں سے محبت! جن میں انکی جان بستی تھی۔۔ ’’آنٹی میں تو بس! اس لئے کہہ رہی ہوں کہ یہ لوگ چوٹ لگا لیتی ہیں پھر مصطفیٰ مجھ سے ناراض ہوتے ہیں۔۔‘‘وہ نرمی سے بولی۔ ’’رہنے دو مصطفیٰ کو۔۔یوں چھوٹی موٹی چوٹ کھانے کی عادات ہوگی تو آئندہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہونگی ،لڑکیوں کو اتنا نازک نہ بناؤ،ہر وقت ان کے سروں پر تم نہیں بیٹھے رہو گے۔۔۔۔‘‘وہ گہری بات کر گئی تھی۔۔وہ چپ ہوگئی۔مگر وہ اپنی اولاد کو خود سے اچھی زندگی دینا چاہتی تھی۔وہ ایک اچھی ماں بننا چاہتی تھی۔۔اور وہ کامیاب ٹھہری تھی۔۔اتنی دیر میں مصطفیٰ کی گاڑی کی بھی آواز آئی تھی۔۔۔اور بچیاں کار پورچ کی جانب دوڑ لگا چکی تھیں۔۔ ’’بیٹا آرام سے بابا یہیں آئینگے۔۔‘‘وہ اپنی بچیوں کو دیکھ مسکرائی تھی۔۔۔۔جو باپ کے پاؤں سے لپٹ گئی تھی۔۔جو دونوں کو ساتھ گود میں اُٹھائے انھی کی جانب آرہا تھا۔۔۔ وہ پہلے سے زیادہ گریس فل اور ہینڈسم ہوگیا تھا۔۔اور ثمرہ کے لئے دیوانگی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔۔ ’’ خیریت ! آج وقت سے پہلے آگئے؟‘‘ مصطفیٰ اسے نرم نگاہوں سے دیکھتا ایک چئیر پر بیٹھ گیا تھا۔۔ساتھ ہی بیٹے کو گود میں اُٹھایا تھا۔ ’’جی عریشہ کے بیٹے کی دوسری سالگرہ ہے میں نے بتایا تو تھا آپ لوگوں کو۔۔۔ وہاں جانا ہے۔۔‘‘ثمرہ کو یکدم یاد آیا۔ ’’اوہ مصطفیٰ میں تو بالکل بھول ہی گئی تھی۔۔‘‘وہ تاسفی لہجے میں بولی۔ ’’ تو تمھیں بچوں کے پیچھے بھاگنے سے فرصت ہوگی تو کچھ یاد رکھوگی نا،ایک ماں کی،بیوی کی ہزاروں زمہ داریاں ہوتی ہیں۔۔‘‘انھونے ہمیشہ کی طرح جھڑکا تھا۔ ’’ثمرہ آپ میرے کپڑے نکال دیں۔۔بچوں کو میں خود ریڈی کرلونگا۔۔ اور مام آپ آجائیں الماس خالہ کو بتا دیں، وہ آپ کی تیاری کر دیں گی۔۔‘‘اس نے بیچ کی راہ نکالی۔۔وہ ساس بہو کے بیچ نہیں بولتا تھا۔نہ ہی اس نے ثمرہ پر اپنی ماں کی زمہ داری ڈالی تھی۔۔وہ خوشی سے کر دیتی تھی تو ٹھیک ،نہیں کرتی تھی تو وہ خود کر دیا کرتا تھا۔۔اسکی ماں اسکی زمہ داری تھیں،نا کہ ثمرہ کی۔۔۔۔۔ ویسے بھی وہ انھی کی نسل کی تربیت میں پاگل ہوئی رہتی تھی۔۔۔۔ ’’میں نکال دیتی ہوں آنٹی کے کپڑے بھی۔۔آپ لو گ آجائیں۔۔‘‘وہ تیزی سے بولتی اٹھ گئی تھی۔ جبکہ مصطفیٰ نے خاموشی سے اسے جاتے دیکھا تھا۔۔۔۔ ’’مام اب توآپ ثمرہ کی طرف سے دل صاف کرلیں! شارق کو عمر قید ہوگئی ہے۔۔جبران انکل کا انتقال ہوگیا ہے۔حالانکہ وہ یہ سب نہیں چاہتی تھیں،خون بہا میں خود کو پیش کر کہ وہ اپنے بھائی کو بچانا چاہتی تھیں۔مگر میرے فیصلے کے سامنے وہ خاموش ہوگئی تھیں۔۔اب ہم ہی اُن کے اپنے ہیں۔۔اب کس بات کی سزا دے رہی ہیں آپ ثمرہ کو۔پلیز،دل سے کدروتیں نکال دیں۔۔آپ کے بیٹے کو انصاف مل چکا ہے۔۔۔‘‘وہ خاموشی اختیار کر گئی تھیں۔۔۔ بیٹا مرا تھا انکا۔۔۔۔۔بھلا اتنا بڑا دل کہاں سے لاتیں۔۔زندگی تھی کہانی نہیں۔۔۔۔مگر پھر بھی وہ ہر روز ایک کوشش ضرور کیا کرتی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ اس وقت عریشہ کے گھر میں موجود تھے۔۔ ان پانچ سالوں میں وہ ایک بہترین ایریا میں پانچ سو گز کا اپنا گھر بنا چکا تھا۔۔۔ جیسے عریشہ اور اس نے بہت محبت سے سجایا تھا۔۔۔ ان دونوں کو دو سال پہلے ہی اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازہ تھا۔۔۔ ’’ سالگرہ مبارک ہو چیمپ! اہان نے اسے اٹھا کر گدگداتے شرارت سے کہا تھا،،جبکہ اسکی بیٹی سب جگہ بھاگتی پھر رہی تھی۔اور ڈیڑھ سالہ رومان ماں کی گود میں تھا۔ ’’ شکر ہے تمھیں وقت مل گیا! آگر میرے بیٹے کی سالگرہ پر نہ آتے نہ تم دونوں تو دیکھ تیرے ساتھ کیا کرتا!‘‘اس کے گلے لگتا، مجتبیٰ ذرا خفگی سے بولا۔کیونکہ پہلی برتھ ڈے پر آئزل اور اہان بچوں سمیت ویکشن کے لئے لندن گئے ہوئے تھے۔۔ ’’میرے بھتیجے کی سالگرہ ہے ،ہم نے تو آنا ہی تھا۔۔‘‘آئزل ذرا اترا کر بولی تو سب مسکرا دئے۔اتنے میں مصطفیٰ کی فیملی بھی آگئی تھی۔۔سب بچے کھیلتے پھر رہے تھے۔لیڈیز ایک طرف باتوں میں مگن تھیں،جبکہ وہ لوگ الگ تھلگ سے کھڑے ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔۔ ’’ بھئی لڑکوں آجاؤ،میرے بچے کی برتھ ڈے کا کیک نہیں کاٹ نا کیا! وہ بہت ایکسائیٹڈ ہے۔۔‘‘ عریشہ کے کہنے پر مجتبیٰ اور سب ہی ٹیبل کی جانب بڑھے۔جہاں چھوٹے سے رومان کو چھری پکڑا کر کیک کٹ کیا تھا۔۔ اور سب نے منہ میٹھا کیا تھا۔۔۔۔ ’’اسمائل!‘‘ فوٹوگرافر کی آواز پر سب ہی مسکرائے تھے۔۔اور اسلام آباد میں اپنے اپارٹمنٹ میں موجود فریحہ لائیو یہ منظر دیکھ روتے ہوئے مسکرائی تھیں۔کیونکہ اپنے ہی بچوں کی خوشیوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔۔ثمرہ نے انھیں معاف ضرور کردیا تھا۔۔مگر وہ انکا تعارف نہیں چاہتی تھی۔۔کچھ معاشرے کی وجہ سے انھونے بھی کنارہ کرلیا تھا۔۔وہ بیٹی کے سسرال میں اسکی عزت کو قائم رکھنا چاہتی تھیں۔کیونکہ وہ پہلے ہی زنیرہ کا رویہ دیکھ چکی تھیں۔بیٹی کے لئے مزید آزمائش نہیں بن سکتی تھیں۔ عریشہ کئی بار انھیں اپنے پاس آنے کا کہہ چکی تھی،مگر وہ ٹال جاتی تھیں۔۔۔۔۔۔شاید جوانی میں اولاد کو چھوڑنے کا یہی انجام ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں یہ اوالاد آپ کو چھوڑ دیتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں مصطفیٰ!‘‘وہ ذرا حیران ہوئی تھی۔۔ ’’آپ کو کیا لگتا ہے؟ کہاں لایا ہوں؟‘‘یہ ایک خوبصورت اور شاندار گھر تھا۔۔۔ ثمرہ تو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ ’’پتہ نہیں۔۔یہ کس کا گھر ہے؟‘‘ ’’آپ کا۔۔۔ہمارے بچوں کا۔۔۔۔ ‘‘ ثمرہ ٹھہر گئی تھی۔۔ انکی جڑواں بچیوں کی پیدائش کو ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے۔۔۔ ’’آپ نے اس روز کہا تھا نا کہ ثمرہ کا کوئی گھر نہیں ہے تو بس یہ ثمرہ کا گھر ہے۔۔آپ جب چاہئے یا یہاں آسکتی ہیں۔۔‘‘وہ بے یقنی سے دیکھ رہی تھی۔۔جبھی وہ مسکرا کر ماتھے سے ماتھا ٹکرا گیا۔۔ ’’اس کی ضرورت نہیں تھی مصطفیٰ! میں نے تو بس ویسے ہی جذبات میں کہہ دیا تھا۔۔میرا گھر وہی ہے ،جہاں آپ ہیں،ہماری اولاد ہے۔۔‘‘وہ نم آوا ز میں بولی تھی۔۔ ’’کیوں ضرورت نہیں ہے۔۔جب ہمارے بچے اپنی نانی کے گھر جانے کی ضد کریں تو آپ انھیں بتانا کہ یہ انکی ماں کا، انکے نانی نانا کا گھر ہے۔ نانا ، کی دیتھ ہوگئی ہے۔۔ مگر یہ گھر ان کے لئے ہمیشہ کھلا رہے گا۔میں ہمارے بچوں اور آپ کے دل میں
