Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/06/2026
1 Views
Last Episode
دیکھیں۔۔‘‘وہ نرم پڑا تھا۔کیونکہ وہ کسی صورت اسکی بات سننے کو تیار نہیں تھی۔ ’’میری طرف تو دیکھیں ثمرہ!‘‘اسکا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا،مگر وہ نظریں پھیر گئی۔ ’’نہین دیکھنا! ‘‘ ’’مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔مجھے یہاں سے جانا ہے۔‘‘اس کی وہی رٹ۔۔ ’’اب میں کچھ کہونگا نہیں بلکہ ایک تھپڑ لگاؤنگا،تاکہ آپ کا الٹا دماغ ٹھکانے پر آجائے۔‘‘اس کی ایک ہی گردان پر اب وہ زچ ہوا تھا۔جبکہ ثمرہ نے ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں سے مصطفیٰ کو گھور کر دیکھا تھا۔۔ اور اس سچوئشن میں بھی پتہ نہیں کیوں مصطفیٰ کو ہنسی آگئی تھی۔ ’’مذاق کر رہا ہوں ،اب کیا آنکھوں سے ہی کھا جائیں گی مجھے۔۔‘‘مصطفیٰ کو مسکراتا دیکھ،اب اس کے آنسو گالوں پر بہہ گئے تھے۔اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھتی واشروم میں جاکر بند ہوگئی تھی۔جبکہ وہ ارے ارے ہی کرتا رہ گیا تھا ۔ ’’کیا مصیبت ہے یار! یہ عریشہ کی ماں کا ثمرہ کی ماں ہونا ضروری تھا کیا۔۔‘‘وہ تنفر سے سوچتا سر جھٹک گیا۔۔۔کافی دیر تک وہ اس کے باہر آنے کا ویٹ کرتا رہا،مگر وہ جانتا تھا کہ میڈم آندر رونے کا شغل فرما رہی ہونگی۔۔ ’’ثمرہ دو منٹ سے پہلے باہر آجائیں،ورنہ آگر میں نے دروازہ کھولا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔‘‘ ’’اس سے زیادہ برا میرے ساتھ ہو بھی نہیں سکتا۔۔قسمت ہی منحوس ہے میری۔۔‘‘وہ آندر سے بولی تھی۔۔ ساتھ ہی اب رونے کی آواز تیز ہوگئی تھی۔۔ مصطفیٰ کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لے،نہ سختی کام آرہی تھی اور ہی نرمی۔۔۔ ’’ یہ سیونٹیس کی ہیروئینوں کی طرح اپنی قسمت کو کوسنا بند کرلیں۔ میری طرف سے کوئی ہمدردی نہیں ملے گی آپ کو۔۔‘‘اب وہ سسکیاں لے رہی تھی۔۔ ’’ٹھیک ہے آپ رہیں آندر! میں ہی بے غیرتوں کی طرح جاکر مہمانوں سے بول دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ میری بیوی تو بچی بن گئی ہے۔ اورا سے پاگل پن کا دوراہ پڑ گیا ہے۔۔‘‘اس بار وہ خفا ہوا تھا۔۔مگر دوسری جانب سے نو رسپانس۔۔ ’’ثمرہ!!‘‘ناچار ایک بار پھر آواز لگائی۔ ’’ آپ کو ضرورت نہیں ہے۔۔اپنے پیارے مہمانوں کو یہاں سے جانےکا بولنے کی۔میں خود ہی یہاں سے چلی جاؤنگی۔ویسے بھی زبردستی آئی تھی نا آپ کے ساتھ خون بہا میں۔۔آنٹی بھی نہیں چاہتی کہ میں آپ کے گھر میں رہوں،ویسے بھی ثمرہ کا کوئی گھر نہیں ہے۔۔‘‘ ’’ہوگئی بکواس؟‘‘وہ خفا ہوا۔ ’’ذرا ایک قدم گھر سے باہر نکال کر دکھائیں آپ۔۔پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ سختی ہوتی کیا ہے۔۔ایک منٹ سے پہلے باہر آئیں۔۔بس بہت ہوگئیں بچوں جیسی حرکتیں،میں بھی یہاں پاگلوں کی طرح بیوی کو ہی منائیں جا رہا ہوں۔۔میں باہر جا رہا ہوں دیکھنے کے لئے، کہیں عریشہ اور آنٹی سچ میں ہی نہ چلی گئی ہوں آپ کی اسٹوپڈ حرکتوں کی وجہ سے۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں بولتا اس بار واقعی کمرے سے نکل گیا تھا۔دروازہ جس آنداز میں بند ہوا تھا یقیناً وہ غصہٰ ہوگیا تھا۔۔اور مصطفیٰ کا غصہٰ تو بہت برا تھا۔۔۔ثمرہ کو بھی کچھ احساس ہوا تھا۔تو جلدی سے دروازہ کھولتی کمرے میں آئی تھی۔۔مگر مصطفیٰ کو سامنے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا دیکھ،وہ سرے سے نظر آنداز کرتی سائیڈ ٹیبل کی جانب بڑھی تھی۔۔ ’’حلیہ درست کریں اپنا۔۔میں مر نہیں گیا ہوں ابھی ،جو یہ حالت بنا لی ہے۔‘‘ ثمرہ نے پانی گلا س میں نکالتے خفا نظروں سے دیکھا تھا۔۔ ’’دس منٹ صرد دس منٹ ہیں آپ کے پاس۔مجھے یہ کمرہ اور آپ بالکل نیٹ اینڈ کلین،پرفیکٹ چاہئے ہو۔۔‘‘اس بار وہ ذرا تنبیہ لہجے میں بولتا، کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔ ’’پرفیکٹ چاہئے!‘‘اس نے پیچھے سے منہ چڑھایا تھا۔۔اتنا سارا رُونا دھونا ڈالنے کے بعد اب وہ نارمل ہوگئی تھی۔ جبھی مصطفیٰ پلٹا تھا،اس کے ایکسپریشن دیکھ مسکرایا تھا،جبکہ وہ اپنی جگہ شرمندہ سِی ہوگئی تھی۔اور جلدی سے رُخ پھیر لیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کہاں جا رہی ہیں آپ دونوں؟‘‘وہ رُوم میں آیا تو وہاں اُنھیں پیکنگ میں مصروف دیکھ، ذرَا حیرانَ ہوا۔۔ ’’مصطفیٰ ہمیں جانے دو،مجھے تو سمجھ بھی نہیں آرہا کہ میں ثمرہ سے نگاہ کیسے ملاؤنگی۔‘‘ وہ حد سے زیادہ شرمندہ دکھائی دے رہی تھیں۔۔ ’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے آنٹی! وہ تھوڑا جذباتی ہوگئی۔۔ثمرہ کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں۔۔‘‘وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’ نہیں بیٹا! میں ہی ایک بد نصیب ماں ہوں۔۔‘‘ ’’اوہ پلیز مام ! اب آپ یہ ناٹک بند کردیں،ثمرہ نے بالکل ٹھیک کیا ہے آپ کے ساتھ۔۔۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔۔اور جب کے حقیقتاً آپ نے بابا کے چکر میں اپنی دو اُولادوں کو دُھتکار دیا تھا۔۔۔‘‘وہ تنفر سے پھنکاری تھی۔۔ ’’عریشہ!‘‘اس نے تنبیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔ابھی ایک کو سمجھا کر آرہا تھا اب دُوسری شروع ہوگئی تھی۔۔ ’’ڈرائیور سے بولو! ہمیں مجتبیٰ کے گھر چُھوڑ آئے۔‘‘وہ سر جھٹک گئی۔۔۔ ’’یار! سیم غصےٰ میں تھیں۔۔آنٹی پلیز آپ تو یہاں ٹھہر جائیں۔۔اِسے جانے دیں اپنے شوہر کے گھر۔اب وہی اِسکا گھر ہے۔۔‘‘وہ نرم خوئی سے بولا۔ ’’بالکل نہیں ! تاکہ ثمرہ انکی شکل دیکھ دیکھ کر خود پر ظلم کرتی رَہے۔۔اور وہ سہی کہہ رہی تھی یہ اسکا گھر ہے۔۔وہ یہاں سکون سے رہنے کا حق رکھتی ہے۔‘‘ مصطفیٰ خاموش ہوگیا۔۔ ’’ثمرہ کو کہنا اپنی ماں کو معاف کردے۔۔میں اپنی عریشہ کے ساتھ جا رہی ہوں۔۔جب ثمرہ ٹھیک ہوجائے گی تو میں آؤنگی،اس سے معافی مانگنے،اور شارق۔۔۔۔وہ کیا۔۔۔واقعی اس نے تمھارے بھائی کا قتل کیا تھا۔۔‘‘مصطفیٰ کے ماتھے پر تیوری چڑھ گئی تھی۔۔سد شکر تھا کہ زنیرہ بیگم کو علم نہیں تھا کہ ان کے بیٹے کے قاتل کی بہن کے ساتھ ساتھ اب ماں بھی انکے گھر میں رہ رہی تھی۔ ’’جی۔۔۔ اگلی پیشی میں سزا سُنا دی جائے گی مجھے یقین ہے۔‘‘ وہ خاموش رہ گئیں۔ ’’چلیں۔۔۔‘‘اس بار مصطفیٰ نے خاموشی سے اُنھیں راستہ دے دیا تھا۔اخلاقاً بولنا فرض تھا۔مگر وہ ثمرہ کو مزید کسی ازیت سے دوچار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ یہ بہت غلط حرکت تھی۔۔کم از کم مجھے آپ سے یہ اُمید نہیں تھی۔‘‘وہ کمرے میں داخل ہوتا، ذرا ناراضی سے گویا ہوا تھا۔جبکہ وہ ایک نظر دیکھ کر سر جھٹک گئی۔۔اسے اب ٹائی کھولتا دیکھ،کچھ خیال آیا تو قدم اُٹھاتی ڈریسنگ رُوم میں آئی تھی، اور کب بورڈ کھول کر اس کے لئے ڈریس نکالا تھا۔ ’’ شلوار قمیض نکال دیں پلیز!‘‘وہ بھی ساتھ ہی پیچھے آیا تھا۔تو وہ سر ہلاتی، الماری میں لٹکتے ہینگر ادھر ادھر کرنے لگی تھی۔۔اور ایک بلیک کلر کا کاٹن کا شلوار سوٹ نکال دیا تھا۔۔ ’’آپ نے ابھی کہیں جانا ہے کیا؟‘‘ وہ ویسے ہی پوچھ بیٹھی تھی۔ ’’ہمم مزمل کے کیس میں ،ایک بندے سے ملنا تھا آج۔۔‘‘وہ سنجیدہ ہوگیا تو ثمرہ سر ہلا گئی۔۔ساتھ ہی قدم روم میں جانے کے لئے بڑھائے تھے،جبھی مصطفیٰ نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر، اسے دیوار سے لگایا تھا۔۔ساتھ ہی ہاتھ سے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کیا تھا۔۔کیونکہ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔ہ اچانک افتاد پر بری طرح سے بوکھلائی تھی۔۔ ’’ مصطفیٰ!‘‘ اس نے بمشکل چیخ پر قابو کیا تھا۔ ’’کیا تھا یہ سب!‘‘ اس نے اس کے چہرے پر نگاہیں گاڑھی۔ ’’کیا سب؟‘‘ اس نے الٹی بھونیں اٹھائیں تھیں۔ ’’ یہی سب تماشہ! گھر آئے مہمان کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے؟ دشمن کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں کیا جاتا۔وہ تو پھر آپ کی۔۔۔۔‘‘اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔ ’’مصطفیٰ پلیز! بار بار اس عورت کو میری ماں کہہ کر میرے زخم
