Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/06/2026
1 Views
Last Episode
ہارا جنون از_ہما_قریشی آخری قسط ’’ثمرہ میں کچھ دنوں سے نوٹس کر رہا ہوں کہ آپ بجھی بجھی سی ہیں۔۔سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔۔ ’’جی مصطفیٰ سب ٹھیک ہے!‘‘وہ ہولےسے مسکرائی۔ ’’مما نے کچھ کہا ہے!‘‘وہ اسے اپنے حصار میں لے گیا تھا۔۔وہ دونوں شام کے وقت بالکنی میں کھڑے تھے۔ ’’بالکل بھی نہیں! آنٹی کا رویہ آگر میرے ساتھ بہت اچھا نہیں ہے تو اب وہ مجھے کچھ کہتی بھی نہیں ہیں۔۔‘‘وہ یاسیت بھرے لہجے مین بولی تھی۔ ’’میں بات کرونگا ماما سے۔۔‘‘ ’’نہیں مصطفیٰ! کچھ چیزوں اور زخموں کو بھرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔۔رشتوں میں زور زبردستی نہیں کی جاتی،انھیں بس ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وقت خود قدر کرا دیتا ہے۔‘‘مصطفیٰ نے دھیرے سے اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے۔۔۔ اور اب مسکراتے ہوئے،اس کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عریشہ اپنی کرسی پر بیٹھی فائلز پلٹ رہی تھی، مگر اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اُٹھ رہی تھیں۔ آخر اس نے انٹرکام کا بٹن دبایا، ’’مجتبیٰ، ذرا میرے آفس میں آؤ۔‘‘ کچھ لمحوں بعد دروازہ ہلکی سی دستک کے ساتھ کھلا۔ مجتبیٰ اندر آیا، آنکھوں میں ہلکی سی الجھن لیے، جیسے سمجھ نہ پا رہا ہو کہ بیوی نے باس کی کرسی پر بیٹھ کر کیا بات کرنی ہے۔ "جی، میم؟" اس نے قدرے مصنوعی سنجیدگی سے کہا، جیسے باقی سب امپلائز کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ کچھ دونوں سے واپس مصطفٰی کے گھر شفٹ ہوگئی تھی۔۔اس نے بھی چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔ عریشہ نے نظریں اوپر اٹھا کر اسے دیکھا، اسے دیکھ وہ مگر فوراً چہرے پر سختی لا کر بولی، "یہ رپورٹ تم نے بنائی ہے؟" اس نے میز پر رکھی ایک فائل اس کی طرف سرکائی۔ مجتبیٰ نے فائل کی طرف دیکھا، پھر عریشہ کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے سمجھ رہا ہو کہ یہ سرزنش صرف آفس والی نہیں، کہیں کچھ اور بھی چھپا ہے۔ ’’جی۔۔۔میم، میں نے ہی بنائی ہے۔ کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں، ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں۔" اس نے قدرے محتاط لہجے میں کہا۔ عریشہ نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر ہاتھ باندھ لیے۔ "تمہاری پرفارمنس پچھلے کچھ دنوں سے نیچے جا رہی ہے، مجتبیٰ۔ ذرا پروفیشنل رہو۔ ذاتی زندگی کا اثر آفس ورک پر نہیں پڑنا چاہیے۔" مجتبیٰ نے تھوڑی دیر چپ رہ کر نظریں جھکا لیں، پھر ہلکی آواز میں بولا۔۔ ’’جی میم، کوشش کروں گا۔۔۔‘‘ عریشہ کا دل چاہا کہ سب کچھ بھول کر اس کے قریب چلی جائے، مگر باس کا رعب برقرار رکھتے ہوئے اس نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔۔ "اچھا، تم جاؤ۔۔۔ اور دوپہر تک یہ رپورٹ ریویو کر کے دوبارہ جمع کراؤ۔" مجتبیٰ نے سر ہلایا، "اوکے میم۔" وہ مڑ کر دروازے کی طرف جانے لگا تو عریشہ نے قدرے نرم آواز میں پکارا، "اور سنو۔۔‘‘ مجتبیٰ نے پلٹ کر دیکھا۔ عریشہ کی آنکھوں میں ہلکی سی شرارت ابھری، "لنچ ٹائم میں میرے ساتھ کینٹین چلنا ہے، مجھے کچھ ڈسکس کرنا ہے۔‘‘" وہ سمجھ کر سر ہلا گیا تھا۔۔۔ ’’اوکے میم!‘‘وہ سر ہلا گیا۔۔۔ وہ دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا اور عریشہ نے مسکرا کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی، ایک گہری سانس لیتے ہوئے جیسے خود کو بھی تسلی دی ہو۔وہ ایک نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔۔اور اپنے فیصلے کو لے کر مطمئن تھی۔۔ وہ دونوں الگ دنیا کے رہائشی تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا۔۔مصطفیٰ آفس میں تھا۔۔عریشہ بھی ساتھ ہی تھی۔۔۔زنیرہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں۔۔ثمرہ لان میں چہل قدمی کر رہی تھی،جبھی وہاں وہ آگئی تھیں۔۔ ’’سنو لڑکی!‘‘وہ اپنی ماں کی آواز پر چونکی۔۔فریحہ بیگم کے آنداز ہی نرالے تھے۔۔ ’’جی ! کچھ چاہئیے تھا آپ کو؟‘‘وہ سختی سے گویا ہوئی۔۔اس عورت سے بات کرتے وقت وہ خود ہی سخت ہوجایا کرتی تھی۔۔ ’’تم میں اکڑ کس بات کی ہے۔۔ایک تو میری بیٹی کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے تم نے۔۔اُپر سے نخرے دیکھو۔۔۔‘‘ثمرہ نے حیرت سے انکی جانب دیکھا تھا۔ ’’کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ثمرہ کو طیش آیا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ عریشہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔آگر تم خون بہا میں نہ آتی تو۔۔‘‘وہ نفرت سے غرائی۔ ’’اپنی بکواس بند رکھیں۔۔آگر آپ کو برداشت کر رہی ہوں تو صرف اس لئے کیونکہ آپ میرے گھر میں مہمان کی حثیت سے کھڑی ہیں۔۔۔‘‘انھونے حیرت سے اس کم صورت لڑکی کو دیکھا تھا۔ ’’ہے کیا تم میں؟ شکل نہ صورت۔کردار کی ہلکی، مردوں کو پھنسا کر شادی کرلینے والی لڑکی تم۔۔۔۔۔‘‘ وہ حقارت سے بولیں تو ثمرہ کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔۔ ’’ جی ایسا ہی ہے کیونکہ میں اپنی بد کردار ماں پر گئی ہوں۔شکل بھی اسی جیسی ہے،اور کردار بھی۔۔جو عورت اپنے عاشق کے لئے دو بچوں کو چھوڑ کر جا سکتی ۔۔میں اس ماں کی بیٹی ہوں۔۔سمجھیں آپ۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں شدت سے غراتی ، بھاگنے کے آنداز میں گھر کے بیرونی حصےٰ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے،جنھیں وہ ہاتھ کی پشت سے رگڑتی جا رہی تھی۔۔ جبکہ فریحہ بیگم سناٹے میں آگئی تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو! مصطفیٰ!‘‘اسکی آواز بالکل سپاٹ تھی۔۔۔ ’’جی ثمرہ کہیں!‘‘وہ مصروف سا بولا۔آگر ذرا غور کرتا تو وہ ضرور ٹھٹھک جاتا۔۔۔ ’’آپ بزی تو نہیں ہیں۔۔مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے؟‘‘وہ اس کے اکھڑے اکھڑے آنداز پر ٹھٹھک گیا۔اور فائل اُٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی تھی۔ ’’آپ بولیں۔۔۔‘‘ ’’ عریشہ کی والدہ کا آپ کہیں اور انتظام کردیں،میں انھیں اس گھر میں ایک سیکنڈ برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔آگر یہ یہاں رہیں گی تو میں یہاں نہیں رہونگی۔۔‘‘دوسری طرف مصطفیٰ حیران و پریشان سا رہ گیا تھا۔۔آخر اس کی بیوی اتنی بڑی بات کیسے کر سکتی تھی۔۔ ’’واٹ؟؟ْثمرہ آر یو اوکے؟ ہوا کیا ہے؟؟‘‘وہ تیزی سے اٹھتاکرسی کی پشت سے اپنا کوٹ اٹھا کر پہن چکا تھا۔۔ثمرہ کی سانس اب بُری طرح سے پھول رہی تھی۔گویا ضبط جواب دے گیا ہو۔ ’’بس میں جو کہہ رہی ہوں آپ وہ سُن لیں۔۔۔مجھے عریشہ اور اسکی ماں دونوں ہی اس گھر میں برداشت نہیں ہیں۔۔یہ دونوں اب میرے گھر میں نہیں رہ سکتیں۔اور آگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو مجھے بتا دیں،میں یہاں سے چلی جاؤنگی۔۔۔‘‘وہ اب رونا بھی شروع کر چکی تھی۔۔مصطفیٰ کو ٹینشن نے آن گھیرا تھا۔۔وہ دوڑاتا ہوا آفس سے نیچے آیا تھا۔۔ جہاں گاڑی کے ساتھ ڈرائیور بھی کھڑا تھا۔۔اس نے خود ڈرائیو کرنے کے بجائے ڈرائیور کو اشارہ کیا تھا۔ ’’ریلیکس! ایسا کیا ہوگیا؟ جو آپ ایسی باتیں کر رہی ہیں۔۔ڈانٹ پینک۔۔میں گھر آرہا ہوں۔۔ رونا بند کریں۔۔‘‘وہ پیشانی مسلتا اچھا خاصہ پریشان ہوا تھا۔کیونکہ ثمرہ کبھی اتنا ہائیپر نہیں ہوتی تھی۔۔یقیناً کوئی بڑی بات تھی۔۔۔وہ راستے سے عریشہ کو بھی گھر پہنچنے کا میسج کر چکا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چہرے پر سنجیدگی سجائے،تیز قدموں سے گھر میں داخل ہوا تھا۔اور الماس بی بی سے ثمرہ کا پوچھتا سیدھا رُوم میں داخل ہوا تھا۔۔ ’’ثمرہ کیا ہوا میری جان! اس طرح کیوں رُو رہی ہیں آپ؟‘‘وہ ذراَ پریشان ہوا تھا۔۔ ’’مصطفیٰ! یہ عورت۔۔۔یہ عورت مجھے اپنے گھر میں نہیں چاہئے۔۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔مجھے کچھ ہوجائے گا۔۔انھیں یہاں سے باہر نکالیں۔۔ان سے بولیں یہ وہیں چلی جائیں جہاں سالوں پہلے چلی گئی ہیں۔۔انھیں بولیں یہ میرے گھر سے جائیں۔۔۔میں ان کی شبیہ نہیں ہوں۔۔۔میں ان جیسی نہیں دکھتی،میں ان کی طرح ہلکے کردار کی نہیں ہوں۔۔۔انھیں بولیں یہ یہاں سے۔۔۔یہاں سے۔۔۔جائیں اور کبھی۔۔۔کبھی واپس لوٹ کر نہ آئیں۔۔۔‘‘وہ ہزیانی کی سی کیفیت میں بے ربط جملے ادا کر رہی تھی،مصطفیٰ کا ماتھا ٹھنک گیا تھا۔۔اس کے الفاظ غیر
