Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/06/2026
1 Views
Last Episode
تازہ نہ کریں۔۔ایک ہفتے سے برداشت کر رہی تھی۔۔اب نہیں ہوا مجھ سے۔۔انسان ہوں میں۔۔‘‘وہ ناراضی سے بولتی چہرے پھیر گئی۔۔مصطفیٰ نے انگلیوں سے رخ اپنی جانب کیا تھا۔ ’’میں نے آپ سے کتنی بار پوچھا کہ کوئی ایشو ہے تو بتائیں، آپ نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔پوچھ سکتا ہوں کیوں؟‘‘اس بار وہ سختی سے باز پرس کر رہا تھا۔وہ خاموش رہی۔ ’’کچھ پوچھا ہے ثمرہ۔۔۔‘‘اس نے لفظ دہرائے تھے۔ ’’کیا بتاتی آپ کو۔۔کہ یہ جو عورت آپ کی دوست کی بی لوڈ ماں بن کر آئی ہے۔ یہی میری وہ ماں ہے۔۔میری وہی ماں،جو چھوٹی سی عمر میں ہم دونوں بہن بھائیوں کو رُوتا بِلکتا چھوڑ گئی تھی۔۔جس کے کردار کو ہمیشہ میرے باپ نے میرے کردار سے تولا۔۔۔‘‘ ایک بار پھر سے دہراتے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔اس بار اس نے بغیر کچھ کہے اسے سینے سے لگایا تھا۔۔اور وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔ ’’ثمرہ کچھ چیزوں کو ہم کبھی نہیں بدل سکتے۔۔۔ جو ہوگیا سو ہوگیا۔۔۔مگر آئندہ کچھ بھی ہو،آپ نے سب سے پہلے مجھے بتانا ہے۔۔اپنے دل میں نہیں رکھنا۔اور یوں تماشہ تو ہر گز نہیں کرنا۔۔۔ اچھا ہوا کہ ماں صحیح وقت پر چلی گئیں۔۔ثمرہ مین نہیں چاہتا کہ ماں کے دل میں آپ کی طرف سے مزید کوئی بدگمانی پیدا ہو۔۔آپ سمجھ رہی ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔‘‘ اسکا سر تھپکتا ہوا وہ روم میں لے آیا تھا۔تو ثمرہ آنسو پونچھتی ہوئی پیچھے ہوئی تھی۔۔ ’’آپ شاور لے لیں۔۔میں الماس خالہ سے کہہ کر کھانا لگواتی ہوں۔۔‘‘ اسے یکدم خیال آیا کہ وہ اتنی دیر سے اپنے ہی ڈرامے کئے جا رہی تھی۔۔ ’’نہیں ابھی نہیں! پہلے میں اپنا کام کر کہ آجاؤں،پھر ڈنر کرتے ہیں ساتھ میں۔۔۔‘‘وہ کپڑے اٹھاتا واشروم کیا جانب بڑھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجتبیٰ کسی کی آمد پر چونک گیا تھا۔۔ ’’مجتبیٰ میں ہوں!‘‘وہ حیران ہوا۔۔اور دروازہ کھولا ،سامنے وہ بیگ لئے کھڑی تھی،ساتھ ہی اسکی ماں بھی تھیں۔۔ ’’آندر نہیں بلاؤ گے؟‘‘ ’’آجائیں۔۔‘‘وہ فوری رستہ سے ہٹا تھا۔۔ ’’السلام علیکم آنٹی!‘‘ ’’وعلیکم السلام! عریشہ نے مجھے بتایا کہ آپ بہت اچھے بچے ہیں۔تو میں نے سوچا کچھ دن اپنے بیٹے کے پاس رہ لیتی ہوں۔۔‘‘ ’’جی ضرور آنٹی ! کیوں نہیں۔۔۔‘‘ وہ ہولے سے مسکرایا۔۔عریشہ اسے دیکھ کر مسکرائی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدالت میں گہری خاموشی طاری تھی۔ جج اپنی نشست پر بیٹھا تھا، اور کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص کی نظریں شارق پر جمی ہوئی تھیں۔ شارق کے چہرے پر ندامت، شکست اور خوف کے ملے جلے آثار نمایاں ہیں۔ اس کے وکیل نے آخری دلیل دے دی ہے۔ اب جج فیصلہ سُنانے کے لیے تیار ہے۔۔ ’’عدالت کے سامنے پیش شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملزم شارق جبران نے کار ریسنگ میں شکست کے بعد جان بوجھ کر مزمل وجدان مصطفیٰ کو اپنی گاڑی سے کچل کر قتل کیا۔‘‘ کمرہ عدالت میں سرگوشیاں گونجنے لگی تھیں، مگر جج کی آواز سب پر حاوی تھی۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت یہ فعل قتل عمد کے زمرے میں آتا ہے، جس کی سزا سزائے موت یا عمر قید ہے۔ عدالت اس سنگین جرم کے تحت ملزم شارق جبران کو عمر قید کی سزا سُناتی ہے، اور اسے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مزمل وجدان مصطفیٰ کے ورثا کو دیت کی رقم پانچ کڑوڑ روپے ادا کرے۔عدالت برخاست!" شارق کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔۔ کمرہ عدالت میں موجود زنیرہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے، مگر ان میں ایک سکون کی جھلک واضح تھی۔ مصطفیٰ ہولے سے مسکرایا تھا۔۔۔۔ جبران صاحب ڈھنے کے آنداز میں پیچھے کو ہوکر بیٹھے تھے۔۔۔ جوان بیٹے کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔۔۔بیٹی نے قطع تعلقی کر لی تھی۔۔۔۔ اور فرناز اور قصویٰ اس مشکل وقت میں انھیں اکیلا چھوڑ کر لندن بہن کے گھر شادی میں چلی گئی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیوز دیکھتی ثمرہ کی آنکھوں سے آنسو جھرنے کی مانند بہہ رہے تھے۔۔بھائی اور باپ کو دیکھ اسکا کلیجہ منہ کو آگیا تھا۔۔مگر وہ مصطفیٰ کی واپسی سے پہلے پہلے اپنے سارے آنسو بہالینا چاہتی تھی۔۔ انصاف تو ہونا تھا۔اور برابر ہونا تھا۔۔اس کے باپ اور بھائی نے جو بویا تھا اب اس کے کاٹنے کا وقت آن پہنچا تھا۔مگر وہ کیا کرتی بہن تھی،بیٹی تھی۔ ان کا سوچ سوچ کر دل بند ہو رہا تھا۔۔۔مگر بسا اوقات حالات آپ کے حق میں ہوکر بھی نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچن اپرن پہنے عریشہ مصروف سی کچن میں کچھ بنانے میں مگن تھی،جب وہ پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔ ’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘اس کی گردن چومتا وہ محبت بھرے لہجے میں بولا تھا۔ ’’تمھارے لئے زہر کی کڑھائی پکا رہی ہوں۔۔تم کوئی کک کیوں نہیں رکھ لیتے ہو۔۔‘‘وہ زچ ہوئی تھی۔۔ ’’کک ز ہر کی کڑاہی کی ریپیسی نہیں جانتا بیوی!پھر میں یہ ڈش کیسے کھا سکونگا؟‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولا تو اس نے زور سے کہنی ماری تھی۔ ’’تمھیں میرا ذرا خیال نہیں ہے میرے باڈی گارڈ۔۔‘‘سبزیاں کاٹتے وہ نروٹھے پن سے بولی تھی۔۔۔ عریشہ کی پوسٹ مصطفیٰ نے مجتبیٰ کو دے دی تھی۔کیونکہ عریشہ نے اپنا آفس اس کے حوالے کرتے گھر میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔۔۔ وہ ابھی بھی مجتبیٰ کے گھر میں ہی رہتے تھے۔ مجتبیٰ بزنس کا سارا پروفٹ عریشہ کو دے دیتا تھا۔۔اور انکا گزارہ صرف مجتبیٰ کی واجبی سی تنخواہ میں ہی ہوتا تھا۔۔کیونکہ وہ بیوی کے خرچے پر پلنے والا مرد ہر گز نہیں تھا۔۔عنقریب وہ اس کے لئے سب کچھ کرنے والا تھا۔۔مگر ہر چیز وقت مانگتی ہے۔۔۔ ’’یار تمھارا خیال ہے! جبھی تو اتنی محنت کرتا ہوں۔۔‘‘ ’’محنت کرتا ہوں،لیکن خرچ نہیں کرتا۔۔میرے اکاؤنٹس بھرے جارہے ہو۔۔ میں کیا کرونگی پیسے کا۔‘‘وہ خفا ہوئی۔ ’’اوہ ہو بیوی! تم تو خفا ہوگئی ہو۔۔میں نے تمھارے لئے ایک ملازمہ اور کک کا انتظام کر دیا ہے۔۔اور ایک بات اور میں نے ایک جگہ سائٹ لی ہے۔وہان ہم اپنا آفس الگ سے بنائیں گے!‘‘سائٹ کا سن کر اس کے چہرے پر چمک سی دوڑ گئی تھی۔۔۔ ’’سچ میں!‘‘وہ خوش ہوئی تھی۔ ’’یس سچ میں!‘‘ وہ نرمی سے بولا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔اور مجتبیٰ اُسے مسکراتا دیکھ دل سے مسکرایا تھا۔۔ مہروز صاحب نے جب عریشہ کو اس کے باپ کی حقیقت بتائی تو کتنی ہی دیر وہ خاموش رہی تھی۔۔پھر انکے معافی مانگنے پر وہ خاموشی سے وہاں سے آگئی تھی۔۔دلوں میں اتنی جگہ نہیں تھی کہ ہنسی خوشی ، ایک نئی شروعات کرتے،اہان بیس پرسنٹ پراپرٹی سے دستبردار ہوگیا تھا۔۔۔ مہروز صاحب نے بڑا بن کر، مجتبیٰ کے ساتھ اسے باقاعدہ طور پر رخصت کردیا تھا۔۔وہ اپنے تایا کے گھر جاتی تھی مگر ان کی بھتیجی کی حثیت سے نہیں بلکہ مجتبیٰ کی بیوی کی حثیت سے۔۔کیونکہ کہیں نہ کہیں دل میں خلش باقی تھی۔۔وہ مہروز صاحب اور اہان کا رویہ اتنی جلدی نہیں بھول سکتی تھی۔۔بھلے وہ دنیا دکھاوے کو یا سچ میں کچھ بھی کرتے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مبارک ہو برخواردار! اللہ نے رحمت سے نوازہ ہے۔۔‘‘ مہروز صاحب مسکراتے لہجے میں بولے تو جب سے ٹینشن میں پاگل ہوتے اہان نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔ ’’آئزل ٹھیک ہے؟‘‘وہ فوری ڈاکٹر کی طرف بڑھا تھا۔ ’’جی وہ ٹھیک ہیں۔کچھ دیر میں وارڈ میں شفٹ کردیا جائے گا۔۔‘‘وہ پر سکون ہوگیا تھا۔۔جبکہ سب اسکی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔مگر وہ آئزل کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تھینک یو سوئیٹ ہارٹ! مجھے اتنا پیارا
