Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/06/2026
1 Views
Last Episode
معمولی بالکل بھی نہیں تھے۔۔۔ اس کا دماغ اسے جو سگنل دے رہا تھا،اس نے اسے حیران و پریشان کر دیا تھا۔۔ ’’ثمرہ ریلیکس! اٹھیں پہلے یہاں اُپر بیٹھیں۔پھر مجھے بتائیں کہ ہوا کیا ہے۔۔ فریحہ آنٹی نے کچھ کہا ہے۔۔‘‘وہ حقیقت اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔ ’’نہیں مصطفیٰ آپ ابھی جائیں اور اُنھیں بولیں کہ میرے گھر سے چلی جائیں۔۔ثمرہ کے گھر سے چلی جائیں۔میرے گھر میں،میرے دل میں اس عورت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، جو ماں کیا عورت کہلانے کے بھی لائق نہیں ہے۔۔انھیں کہیں کہ یہ یہاں سے چلی جائیں۔۔‘‘اس بار وہ شدت سے گریہ سے چلائی تھی۔۔جبکہ ثمرہ کی رونے کی آوازیں سن کر الماس کی اطلاع دینے پر زنیرہ بیگم کی ہمراہی میں شرمندہ سی فریحہ بھی ساتھ ہی آئی تھیں،ان کے عین پیچھے عریشہ تھی۔۔۔جو ابھی ایمرجنسی میں آفس سے آئی تھی۔فریحہ چاہ کر بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پارہی تھیں کہ احد مصطفیٰ کی بیوی ثمرہ ہی انکی بیٹی ثمرہ تھی۔۔جیسے وہ پانچ برس کی عمر میں رُوتا ہوا چھوڑ گئی تھیں۔۔ ’’مصطفیٰ کیا ہوا ہے اسے!‘‘وہ اسے ہی سنبھال رہا تھا کہ زنیرہ نے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔۔ ’’کچھ نہیں مام بس ویسے ہی۔۔‘‘اُسے سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا جواز پیش کرتا۔۔ ’’مصطفیٰ یہ پھر آگئیں۔۔۔انھیں کہو کہ جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔آپ جائیں یہاں سے۔۔۔نکل جائیں میرے گھر سے۔۔۔۔آپ کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ مصطفیٰ کے حصار میں ہی شدت سے غرائی تھی۔۔۔ جسم کانپ رہا تھا۔۔تھوڑی لرز رہی تھی۔۔بال بکھر ے ہوئے تھے۔آنکھیں سرخ پڑ گئی تھیں۔۔چہرہ بُری طرح دہک رہا تھا۔۔ ’’مصطفٰی یہ میرا گھر ہے نا۔۔۔میرا گھر۔۔۔‘‘اس بار اس نے پاگلوں کی طرح مصطفیٰ سے پوچھا تھا۔۔بچپن سے لے کر اب تک کی تمام دھتکار نگاہوں کے سامنے کسی فلم کی طرح گھوم گئی تھی۔ ’’ہاں ثمرہ،یہ آپ کا گھر ہے۔یہ ہمارا گھر ہے۔۔۔‘‘مصطفیٰ اس کے دل میں بیٹھا خوف بہت اچھے سے جانتا تھا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ بچے بچپن کی باتیں بھول جاتے ہیں مگر شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ کچھ الفاظ ناسور کی طرح دل و دماغ میں ہمیشہ پنجے گاڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔۔ سگے باپ کی دھتکار وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔۔سوتیلی ماں کا اسکے باپ کے گھر سے نکال دینا ،بے یارو مددگار چھوڑ دینا وہ کبھی بھول سکتی ہی نہیں تھی۔۔وہ شوہر کے گھر سے ساس کے دھکے مارنا شاید مر کر بھی نہ بھولتی،آگر مصطفیٰ نہ ہوتا تو شاید وہ اب تک پاگل ہو چکی ہوتی۔ ’’یہ میرا گھر ہے۔۔اور یہ میرے گھر میں نہیں رہیں گی مصطفیٰ! عریشہ تم جاؤ یہاں سے۔۔اپنی اس ماں کو لے کر کہیں دور چلی جاؤ۔۔۔یہ تمھاری سوتیلی ماں میرے گھر میں نہیں رہ سکتی۔۔۔بالکل نہیں رہ سکتی۔۔چلی جائیں آپ یہاں سے۔۔‘‘وہ چاہ کر بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں پا سک رہی تھی۔۔۔عریشہ اپنی جگہ پتھر کی ہوگئی تھی۔۔۔یہ سب کیا تھا؟ ’’مصطفیٰ ہوا کیا ہے؟‘‘عریشہ کی کپکپاتی ہوئی آواز برآمد ہوئی تھی۔۔ ’’ یہ لڑکی پاگل ہوگئی ہے۔۔روز کا ایک نیا تماشہ ہے۔۔‘‘زنیر ثمرہ پر ایک نخوت ذدہ نظر ڈال کر بولی تھیں۔ ’’مام پلیز!‘‘مصطفیٰ نے انھیں باز رکھا تھا۔ ’’الماس خالہ! مام کو ان کے رُوم میں لے کر جائیں۔‘‘زنیر بیٹے پر ایک خفا سی نگاہ ڈالتی کمرے سے نکلتی چلی گئی تھیں۔اس بار وہ ثمرہ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ ’’ثمرہ۔۔۔بس۔۔۔بہت ہوگیا۔۔۔ قابو رکھیں خود پر۔۔‘‘وہ سختی سے بولا تھا،کیونکہ وہ کسی صورت قابو نہیں آرہی تھی۔۔اب وہ اپنی بیوی کی وجہ سے اپنے منہ سے تو مہمانوں کو جانے کا نہیں بول سکتا تھا۔۔ ’’نہیں۔۔۔۔آپ انھیں یہاں سے نہیں بھیجیں گے نا۔۔۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔۔‘‘مصطفیٰ سے دور ہوتے اس نے ہچکیاں لی تھیں۔۔فریحہ بس بغور اسکا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔۔ہاں وہ انہی جیسی نظر آتی تھی۔۔۔ ایک ماں کی نظر اپنی پیدا کی ہوئی اولاد کو نہیں پہچان سکی تھی؟؟فریحہ کا دل ہول رہا تھا۔۔ سارا غرور ،تنفر خاک میں مل گیا تھا۔۔آج سالوں بعد اولاد مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔۔وہ اس کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں تھی۔۔۔ ’’ثمرہ۔۔۔۔‘‘ مصطفیٰ نے اسے پکڑنا چاہا تھا۔۔ ’’میں۔۔میں یہاں نہیں رہونگی۔۔جھوٹ جھوٹ بولا آپ نے۔۔۔یہ بھی میرا گھر نہیں ہے۔۔نہیں میرے باپ کا گھر میرا نہیں تھا تو یہ گھر میرا کیسے ہو سکتا ہے۔۔میں یہاں نہیں رہونگی۔۔۔میں چلی جاؤنگی یہاں سے۔۔‘‘ وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔۔جبکہ مصطفیٰ نے تیزی سے آگے بڑھ کر اِسے پکڑا تھا۔ورنہ اِب اس کے قدم باہر کی جانب بڑھنے تھے۔۔ ’’ثمرہ! ہوش کریں کیا ہوگیا ہے۔۔۔ زندگی میں سب کچھ ہوتا ہے۔۔ لیکن اس طرح خود پر سے کنٹرول نہیں کھویا جاتا۔۔۔۔ بچوں جیسی حرکتیں کیوں کر رہی ہیں آپ؟‘‘اس با ر مصطفیٰ نے اسے پوری طرح سے جھنجھوڑ دیا تھا۔۔ جبکہ اسے بس اتنا یاد تھا کہ مصطفیٰ نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ ثمرہ یہ تمھارا گھر ہے۔۔تم یہاں سے کیوں جاؤگی،یہاں سے عریشہ اور اسکی ماں جائیں گی۔۔مگر بیوی سے زیادہ اسے دوستی عزیز تھی۔۔اور اپنے ہی خیالوں میں استہزائیہ مسکرائی تھی۔۔ ’’میں یہاں نہیں رہونگی۔۔۔یہ عورت ۔۔۔۔یہ۔۔عورت دشمن ہے میری۔۔۔یہ ماں نہیں ہے۔۔یہ ماں نہیں۔۔۔یہ ماں کے نام پر۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس نے ٹوٹی سانسوں میں بمشکل اپنے لفظوں پر قابو کیا تھا۔۔جبکہ عریشہ کے ارد گرد دھماکے ہونے لگے تھے۔۔ ’’تمھارے باپ نے ایک دو بچوں کی ماں کو پھنسایا تھا۔۔۔ایک شادی شدہ عورت کو ورغلایا تھا۔۔۔‘‘ ’’نہیں عریشہ تم ہی میری بیٹی ہو۔۔میری کوئی اولا د نہیں ہے،میں نے ہمیشہ تمھیں ہی اپنی اولاد سمجھا ہے چندہ۔۔۔۔‘‘عریشہ کو لگا وہ پاگل ہوجائے گی۔۔یہ کیسی بھیانک حقیقت تھی۔۔اس نے اہان کی باتوں پر ذرا یقین نہیں کیا تھا۔۔۔ اور اب۔۔۔۔ ’’میں۔۔۔۔یہاں سے چلی جاؤنگی۔۔بہت دور چلی جاؤنگی۔۔جہاں یہ نہیں ہونگی،،کوئی مجھے ان سے نہیں ملائے گا۔۔۔کوئی مجھے ان کی طرح بدکردار نہیں کہے گا۔۔کوئی مجھے دھتکارے گا نہیں ۔۔میں یہاں نہیں رہونگی۔۔‘‘وہ زیر لب دھیمی آواز میں بڑبڑاتی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔آواز حلق میں دب گئی تھی۔۔۔جبکہ وہاں کھڑا شاید کوئی بھی شخص اس کی ازیت کو سمجھ نہیں سک رہا تھا۔۔۔ ’’عریشہ تم آنٹی کو لے کر جاؤ،میں ثمرہ کو دیکھتا ہوں۔۔‘‘عریشہ جو خود صدمے کی کیفیت سے دوچار تھی۔۔ خاموشی سے کمرے سے نکل گئی تھی۔۔جبکہ فریحہ بھی اس کی پیروی میں باہر کی جانب بڑھی تھیں۔کہنے اور سُننے کو کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ثمرہ!‘‘وہ ایک گہری سانس بھرتا اس کے ساتھ آکر بیٹھا تھا۔۔اور اسے اپنے حصار میں لینا چاہا تھا،وہ اسکو بری طرح جھٹک چکی تھی،اور یہ شاید پہلی بار تھا۔۔۔ ’’ثمرہ!‘‘وہ حیران ہوا۔۔۔ اور ایک بار پھر اسکا ہاتھ پکڑ ناچاہا۔۔اور اس بار بھی سابقہ عمل دہراتی وہ مصطفیٰ کو لب بھینچ لینے پر مجبور کر گئی تھی۔۔ ’’جو کچھ ہوا ٹھیک نہیں تھا۔۔آگر آپ نے پہچان لیا تھا کہ وہ آپ کی مما ۔۔۔‘‘ ’’اس عورت کو میری ماں مت کہیں، میری ماں سالوں پہلے مر گئی،وہ صرف میری زندگی کی بُری حقیقت ہیں بس۔۔‘‘وہ اس کی بات کاٹتی شدت سے چلائی تھی۔۔۔اسکا یہ آنداز مصطفیٰ کے لئے حیران کنُ تھا۔۔ ’’اوکے اوکے ریلیکس! یہ پانی پیجئیے!‘‘اس نے اٹھ کر پانی کا گلاس بھر کر اس کی جانب بڑھایا۔جو ہاتھ سے پیچھے کر گئی۔ ’’ثمرہ اب آپ مجھے سختی پر مجبور کر رہی ہیں۔۔آپ کوئی چھوٹی بچی نہیں ہیں،جیسے اپنے جذبات پر قابو نہیں ہے۔‘‘اس بار مصطفیٰ کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔۔مگر وہ یونہی اسکی طرف سے رُخ پھیر کر بیٹھ گئی تھی۔اس نے ایک تاسفی سانس خارج کی تھی۔۔ ’’اچھا یہاں میری طرف
