Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 06
گلیوں کا راستہ بند ہوگیا تھا۔۔بزنس کلاس ٹوئیٹا کرولا وہاں کے کچے ،اور تنگ گلیوں میں پھنس کر رہ گئی تھی۔نا آگے جا سک رہی تھی۔نا پیچھے۔پولیس والے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر پیچھے سے گھوم کر واپسی کے راستے سے اس کے پیچھے گئے۔جو عین موقع پر انہیں چکما دے کر فرار ہوگیا تھا۔۔ اقصیٰ وہاں مزید کوئی ہلچل نا محسوس کر ہوش میں آتی ارد گرد میں دیکھنے لگی۔ڈرائیور کے ماتھے پر گہری چوٹ لگی تھی۔مگر اطمینان کی بات یہ تھی کہ ڈرائیور ہوش میں تھا۔اقصیٰ کا خوف سے برا حال تھا۔اس پر لرزا سا طاری ہوگیا۔گھبراہٹ میں موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر گرتا گاڑیوں کے آپس میں تصادم کے باعث جانے کہاں چلا گیا تھا۔۔ "پلیز یہاں سے جلدی چلو۔"اقصیٰ خوف سے رات کے گہرے ہوتے ساۓ دیکھ گھبرا کر بولی۔۔ "میڈم شہر کے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں۔میں کوشش کر تو رہا ہوں۔گاڑی نکالنے کی۔آپ پریشان نا ہوں۔۔وہ خود بہت بوکھلایا ہوا تھا۔مگر شاید وہ خدا کا کوئی نیک بندہ تھا۔۔ اقصیٰ نے ارد گرد سن سان سے علاقے میں پھیلے گہرے اندھیرے کو دیکھ خوف سے تھوک نگلا۔اللّه جانے اس کی قسمت اس سے کیا چاہتی تھی۔روز کوئی نئی مصیبت۔۔۔ _____ "چھوڑو مجھے۔۔۔" "سر آپ کہیں نہیں جا سکتے۔۔آپ کو بہت سی چوٹیں لگی ہیں۔آپ بیڈ ریسٹ پر ہیں۔"سیف کو ہاتھ سے ڈرپ نوچتا دیکھ نرس بوکھلا کر قریب آئی۔۔ تقریباً تین گھنٹوں بعد وہ بہت دیر سے ہوش میں آیا تھا۔چند لمحے ہسپتال کے روم کی چھت کو گھورتا رہا۔جبھی آہستہ آہستہ سارے لمحات ذہن کے پردوں پر لہرانے پر تیزی سے اٹھ بیٹھا۔۔ ہسپتال کا سارا عملا اسے بار بار لیٹ جانے کی تاقید کر رہا تھا مگر وہ کس کی بھی بات کو خاطر میں لاۓ، ایک سخت گھوری سے نوازتا لنگڑا کر کھڑا ہوتا وارڈ سے باہر نکل گیا۔جہاں پولیس کے دو جوان اہلکار ویٹنگ ایریا میں ہی موجود تھے۔۔ اپنے سر کو ایسی حالت میں دیکھ وہ دونوں ڈور کر قریب آۓ۔جبکہ وہ انہیں نظرانداز کرتا خود بازپراست پر اتر آیا ۔۔ "کیا وہ لوگ پکڑے گئے۔۔"گھومتے ہوۓ سر کو تھام کر سرخ آنکھیں میچ کر سوال کیا تو وہ لوگ نظریں چرا گئے۔۔ سیف تاسف سے نفی میں سر ہلاتا بغیر اپنے زخموں کی پروا کئے۔پیچھے کو قدم اٹھاتا ہسپتال کا کوریڈور عبور کرتا باہر نکل گیا۔۔ سیف کے والد صاحب جو سیف کی ہسپتال میں ہونے کی اطلاح ملنے پر ابھی وہاں پہنچے ہی تھے۔کہ دور سے ہی سیف کو پولیس موبائل میں ببیٹھتا دیکھ گھبرا کر اس کی جانب بڑھے۔جبکہ وہ اپنے پیچھے سے آتی تمام آوازیں نظرانداز کرتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ _____ "جلدی چلو پلیز!!!!۔کہاں لے جارہے ہو تم مجھے۔۔"آدھے گھنٹے کی جان توڑ محنت کے بعد کیب ڈرائیور اپنی گاڑی اس کچے علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوا۔۔ "میم جہاں اتنا صبر کیا ہے۔وہاں تھوڑا اور کرلیں۔پچھلے چار گھنٹوں سے میں بھی تو آپ کے ساتھ ان راستوں میں گھوم رہا ہوں۔تمام راستے بند ہیں۔شہر میں ہائی الرٹ جاری ہے۔میں کیا کروں اب۔۔"ڈرائیور جھنجھلا کر تیز لہجے میں کوفت سے بولا۔اسے ویسے ہی گاڑی کی فکر کھاۓ جا رہی تھی۔جو بری طرح ڈیمج ہو چکی تھی ۔۔ اقصیٰ کے چہرے پر ہنوز پریشانی واضح تھی۔۔گھبراہٹ کے مارے اچھے خاص موسم میں بھی پسینے آرہے تھے۔دل تیز سی دھڑک رہا تھا۔گھر پہنچنے کی بھی جلدی تھی۔یقیناً اس کے ماں باپ بہت پریشان ہو چکے ہونگے۔پریشان نظروں سے ارد گرد میں دیکھتی وہ رات کی اس وحشت زدہ خاموشی کو ایک طرف رکھ کر اڑکر اپنے گھر پہنچنا چاہتی تھی۔مگر بے بسی ایسی تھی کہ وہ بار بار آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔۔ گاڑی نا جانے کون سے نامعلوم راستوں پر چل رہی تھی۔ہر طرف ہوکا اعلم تھا۔قریب ہی کتوں اور لومڑیوں کی خوفناک آوازیں کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔اقصیٰ مسلسل دعاؤں کا ورد کرتی گھر پہنچنے کی جلدی میں تھی۔۔۔ "کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی۔۔"گاڑی کو ایک جھٹکے سے رُکتا دیکھ خوف سے گھبرا کر پوچھا۔۔ "ٹائیر پنکچر ہوگیا ہے۔"ڈرائیور گاڑی کاڈولنا کافی دیر سے محسوس کر رہا تھا۔مگر اب لگتا تھا ٹائر میں مزید دم خم باقی نہیں رہا۔۔ "کیا کیسے؟؟"وہ حواس باختہ سی بہت فضول سوال کر گئی تھی۔۔ "میرا مطلب اب کیا ہوگا۔"ڈرائیور کے باقاعدہ پیچھے موڑ کر دیکھنے پر وہ بوکھلا کر پریشانی سے بولی۔۔ اس نے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔اور خاموشی سے باہر اگیا۔اقصیٰ بھی پریشانی سے اس کے پیچھے ہی باہر آئی تھی۔ڈرائیور آگے کے دائیں طرف والے ویل پر جھکا چیک کر رہا تھا۔جو اچھا خاصہ ہیٹ اپ اب بلکل ٹھس ہو چکا تھا۔ٹائیر میں جگہ جگہ سوراخ ہوگئے تھے۔۔ "اب تو کچھ نہیں ہو سکتا میم۔۔گاڑی کی کنڈیشن بہت بری ہے۔میرا اپنی کمپنی سے رابطہ بھی نہیں ہو پارہا۔۔اور یہاں کسی مدد کا ملنا بھی ناممکنات میں سے ہے۔۔"وہ اقصیٰ کا ڈرا سہما سا چہرہ دیکھ تاسف سے بولا۔۔ "وہ تو شکر تھا کہ ڈرائیور کوئی نیک تھا۔ورنہ اب تک جانے کیا سے کیا ہوجاتا۔اقصیٰ خوف سے اب کانپنے لگی تھی۔جبکہ وہ ڈرائیور پیدل سڑک کے اس پار جاتا کوئی راہ تلاش کر رہا تھا۔۔ اقصیٰ خوف سے کپکپاتی گاڑی سے ٹیک لگاۓ ،خوفزدہ نظروں سے ارد گرد کا جائزہ لیتی ڈرائیور کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔حدِ نگاہ تک اندھیرا ہی اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔شاید یہاں کوئی نئی بسیت بس رہی تھی۔ارد گرد میں چند ایک گھر زیر تعمیر نظر ارہے تھے۔مگر آدھی رات کو یہاں آدم تھا اور نا ہی آدم کی ذات۔۔آسمان پر چھاۓ گہرے بادلوں میں آج چاند کہیں غائب سا ہوگیا تھا۔وہ آسمان پر نظریں جماۓ مایوس سی شکستہ حالی سے آسمان تک رہی تھی۔آج ستارے بھی آسمان پر چھاۓ گہرے بادلوں میں چھپ سے گئے تھے۔ہر طرف تاریکی کا راج تھا۔۔بوکھلاہٹ میں چند پل نظریں ٹکاۓ خود کو پرسکون کر نے کے لئے آسمان کی جانب ہی چہرہ کئے۔آنکھیں موند گئی۔ابھی سکون کے چند لمحے ہی سرک سکے تھے کہ اقصیٰ نے قریب سے آواز محسوس کر رخ موڑا،آنکھیں چندھیاں کر غور سے دیکھنے کی کوشش کی مگر جب تک سامنے سے آتی تیز رفتار گاڑی کی تیز روشن ہیڈ لائٹ نے اسے آنکھیں میچنے پر مجبور کر دیا۔اس کے قریب سے گزرتی گاڑی آگے جاکر پلٹیتی ،زمین پر گھسٹتی ہوئی کئی فٹ دور جا گری۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ اقصیٰ کی خوف سے چیخیں بلند ہوگئیں۔سانس حلق میں اٹکتا محسوس ہوا۔اس گاڑی سے کوئی شخص پہلے ہی پلٹی کھا کر باہر نکل چکاتھا۔جب کہ سر پر دونوں ہاتھ رکھتی اقصیٰ خوف سے زور زور سے چیختی اونچی آواز میں رو رہی تھی۔۔خاموش ماحول کو قریب آتی پولیس موبائل کی سائرن کی تیز آواز نے توڑا۔ٹائیگر نے حیرانی سے اس انجان سن سان علاقے میں گاڑی سے ٹیک لگا کر اونچا اونچا روتی لڑکی کو دیکھا۔پھر دوسری طرف اگ کے بھڑکتے شعلوں کو جو پوری گاڑی کو اگ کی لپیٹ میں لے چکے تھے۔پھر قریب سے قریب تر آتی پولیس وین کو۔اچانک ہی دماغ میں ایک خیال سا کوندتے ہی وہ تیزی سے اقصیٰ پر جهپٹا۔۔اونچا اونچا روتی اقصیٰ جھٹپٹا کر چیخ اٹھی۔جس کی آواز وہ اپنا بھاری مضبوط ہاتھ اس کے منہ پر رکھتا حلق میں ہی ڈبا گیا۔۔۔۔ "ششش لڑکی خاموش۔۔۔آواز نہیں۔۔"کان کے پاس سے ابھرتی جانی پہچانی سی سرد آواز پر اقصیٰ نے پٹ سے آنکھیں کھول کر اُپر کی جانب دیکھا۔جہاں بلیک ہڈی میں چہرے پر ماسک لگاۓ شخص شاید نہیں یقیناً وہ ٹائیگر ہی
