Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 06
#محبّت_بازیِ_آخر #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_06 _____ "اقصیٰ بیٹا آج بہت دیر۔۔۔۔۔" "ماما۔۔۔۔"ابھی اُن کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے کہ گھر میں داخل ہوتی اقصیٰ بے ساختہ ان کے گلے سے لگتی ہچکیوں سے رو پڑی۔۔ "اقصیٰ۔۔۔۔کیا ہوا،ایسے کیوں رو رہی ہو۔۔"وہ بوکھلا کر اس کا سسکنا محسوس کر خوف سے بولیں۔۔ جبکہ اقصیٰ خاموشی سے ان کے گلے لگے آنسو ہی بہاۓ جا رہی تھی۔۔شگفتہ بیگم کو اس کے رونا خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔ اقصیٰ!!!مجھے بتاؤ،کیا ہوگیا ہے تمھیں۔۔۔"وہ ضبط سے ایسے خوف سے خود سے جدا کرتیں سخت لہجے میں باز پرس کرنے لگیں۔ہچکیوں سے روتی اقصیٰ فوراً ہوش میں آئی ۔۔ "ک۔۔۔کچھ نہیں ماما۔۔بس وہ باہر بہت اندھیرا تھا۔تو میں ڈر گئی۔۔"اقصیٰ نے جلدی سے آنکھیں پونچھ کر بات بنائی۔۔ جبکہ انکی مشکوک نظریں اقصیٰ کے ہولے ہولے لرزتے سراپے کو بہت گہری نظروں سے جانچ رہی تھیں۔۔ "اقصیٰ۔بات نہ بناؤ مجھ سے۔میں تمہاری ماں ہو۔جلدی بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔"اقصیٰ نے گھبرا کر نظریں چرائیں تھیں۔۔ "اؤ یہاں بیٹھو۔"اقصیٰ کو چارپائی پر بیٹھا کر وہ کچن کی جانب بڑھیں۔جبکہ اب وہ اپنے حواس پر مکمل قابوں پا چکی تھی۔ "لو پانی پیو!!!"اپنے آگے بڑھا پانی کا گلاس تھام کر وہ گھونٹ گھونٹ حلق سے اتارنے لگی۔۔۔جبکہ ڈر اور خوف سے جسم ابھی بھی لرز رہا تھا۔اقصیٰ کا ڈرنا،رونا،سسکنا،اور پھر ان کے سوال پر گھبرا کر نظریں چرانا انکی زیرک نگاہوں سے ہر گز بھی مخفی نہیں رہا تھا۔۔ "اب بتاؤ،کیا ہوا تھا۔دفتر میں کسی نے کچھ کہا ہے؟؟"ان کے سوال پر نظریں نچی کئے بیٹھی اقصیٰ نے نفی میں گردن ہلائی۔۔ "پھر کسی ساتھی امپلاۓ نے بدتمیزی کی ہے۔"اس کا اب بھی نفی میں ہلاتا سر دیکھ۔اب وہ تفشیش میں مبتلا ہوگئی تھیں۔۔ "کیوں مجھے ہولا رہی ہو اقصیٰ۔۔بتاؤ نا کیا ہوا ہے۔"وہ کچھ ناسمجھ آنے پر خوف زدہ لہجے میں بولیں۔ "وہ میں جب آفس۔۔۔سے واپسی آرہی تھی تو گلی کے نکڑ پر کھڑے کچھ لڑکے مجھ سے بدتمیزی کرنے لگے تھے۔۔تو میں ڈر گئی۔۔"اقصیٰ نے اٹکتے اٹکتے بے دردی سے دانتوں سے ہونٹ چبا کر آہستہ سے کہا۔۔ "کون کم بخت تھے۔اسی علاقے کہ تھے۔تم جانتی ہوں انہیں۔"انکے تاثرات یکا تک تبدیل ہوۓ تھے۔ "مجھے نہیں پتہ کون تھے۔نا ہی میں انہیں جانتی ہوں۔اور آپ فکر نا کریں۔پولیس والے انہیں پکڑ چکے ہیں۔عین وقت پر وہاں پولیس موبائل گشت پر ہونے کے باعث وہاں موقعے پر ہی پہنچ گئی تھی۔"اقصیٰ نے انہیں پریشان ہوتا دیکھ تسلی کروائی۔ "چلو اللّه کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔کہ اس مالک پروردگار نے تمھیں اپنے حفظ و آمان میں رکھا۔اسی لئے کہتی ہوں کہ جوان لڑکی ہو۔گھر سے نکلنے سے پہلے سات بار آیات الکرسی لازمی پڑھ کر اپنے گرد حصار باندھ لیا کرو۔جب تک گھر سے باہر سفر میں رہو گی اللّه کی آمان میں رہو گی۔۔کوئی بھی آفت تمہارا بال تک بیکا نہیں کر سکے گی۔مگر تم کہاں میری باتوں پر کان دھرتی ہو۔۔"شگفتہ بیگم نے اللّه کا شکر بجالاتے اسے نصحیت کرنا ضروری سمجھا۔۔اقصیٰ کو اچانک یاد آیا کہ وہ آج افس جلدی پہنچنے کے چکر میں آیات الکرسی کا اپنے گرد حصار باندھنا ہی بھول گئی تھی۔۔ "جی۔۔آج میں بھول گئی تھی۔پر آئندہ خیال رکھوں گی۔"اقصیٰ کو یکدم مایوسی نے آن گھیرا تھا۔ ہاں!!تم بیٹھو میں ذرا تمہارا صدقہ دے اؤ۔اور اپنے بابا سے مل لو۔کمرے میں ہی موجود ہیں۔آج صبح سے انکی طبیعت ذرا نا ساز ہے۔۔"شگفتہ بیگم سر پر چادر ڈالتیں۔جمشید صاحب کے بابت اطلاح دیتیں صحن عبور کر گئیں۔۔ "کیا ماما۔آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔اقصیٰ خفگی سے بڑبڑآتی ان کے کمرے کی جانب بھاگی۔۔ ______ "بابا کیا ہوگیا آپ کو۔"اقصیٰ ان کے سرہانے کے قریب بیٹھی پریشانی سے بولی۔۔ ارے آگئیں تم۔۔کیسا رہا آج کا دن۔"وہ کھانسی پر قابوں پاکر اٹھ بیٹھتے نرم لہجے میں بولے۔۔ "اچھا رہا۔۔آپ یہ بتائیں آپ کو کیا ہوا۔۔"اقصیٰ ہنوز پریشان تھی۔ "کچھ نہیں،یہ تو بس اس عمر کے چونچلے ہیں بیٹا۔۔تم پریشان نا ہو،۔"جمشید صاحب ملائم سے لہجے میں مسکرا کر بولے۔۔ "پھر بھی بابا،صبح تک تو آپ بالکل ٹھیک تھے۔۔"اقصیٰ نے سامنے سائیڈ ٹیبل پر پڑیں دوائیوں پر نظر دوڑا کر کہا۔۔ "کہا تو ہے سب ٹھیک ہے۔بس ذرا سی تھکن ہے۔اور موسم بھی تو بدل رہا ہے۔"نیم درازی کی پوزیشن سے اب وہ باقاعدہ اٹھ بیٹھے تھے۔جو ان کا اترا اترا سا چہرہ دیکھ ،منہ لٹکا کر بیٹھی تھی۔۔ "پھر بھی۔۔ "چلو جاؤ اٹھو شاباش،اپنے کمرے میں جا کر فریش ہو۔پھر ہم اکھٹے ڈنر کریں گے۔"جمشید صاحب نے ایسے اپنے پاس سے اٹھا کر زبردستی کمرے سے باہر نکالا۔۔تو وہ بھی مطمئن سی مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ جبکہ وہ آنے والے وقت کا سوچتے بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئے۔دل میں کتنی ناکام خواہشیں دفن تھیں۔بے بسی سے آنکھوں سے چپکے سے نکلتے آنسو یونہی گال پر بہ گئے تھے۔۔ _____ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ہر سو سورج کی ٹھنڈی کرنیں بکھر گئیں۔۔ہر طرف ایک خوبصورت سا سماں بندھا ہوا تھا۔آج کا ترو تازہ دن خود میں ایک الگ ہی جاذبیت سمیٹے ہوا تھا۔ایسے میں ایل ٹی وی کی شیشوں سے چمچماتی بیس منزلہ بلڈنگ کے بالائی حصہ میں سورج کی تیز کرنیں پڑتے ہی وہ مزید چمچمانے لگی تھی۔۔ "مس نرمین۔۔ایک بار پھر سوچ لیجئے آپ اپنی مرضی سے اس پوسٹ سے استعفیٰ دے رہی ہیں؟"تھری پیس میں ملبوس زمان صاحب، رعب دار شخصیت کے مالک، وہ اپنے مقابل چیئر پر بیٹھی نرمین کو سخت نظروں سے دیکھتے سوال گو تھے۔ "جی سر!!میں اپنی مرضی سے اس پوسٹ سے استعفیٰ دے رہی ہوں۔میں جو کام پہلے کرتی تھی۔اب بھی وہی کرنے کی خوا ہوں۔مگر اب یہ آپ پر منحضر کرتا ہے۔کہ آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔"سادہ سے لان کے سوٹ میں ملبوس نرمین شیفون کا دوپٹہ سر پر لئے دهیمے لہجے میں گویا ہوئی۔۔ زمان صاحب نے "اوہ اچھا"والا تاثر دینے والے انداز میں طنزیہ ابرو اچکاۓ.. "میں تو آپ کو کافی بہادر سمجھتا تھا مس نرمین جبھی اقصیٰ جمشید کی جگہ آپ کو سونپی تھی۔مگر افسوس میں غلطی پر تھا۔"ان کے لہجا جتاتا ہوا تھا۔۔ "بالکل صحیح سمجھے آپ سر!!آپ واقعی غلطی پر تھے۔میں کبھی اقصیٰ کی جگہ نہیں لے سکتی۔اس کی جگہ لینے کی کوشش کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔"نرمین نے بے لچک لہجے میں جواب دیتے انہیں حیران کر دیا۔۔ "واٹ۔۔مس نرمین!!آپ ہوش میں تو ہیں؟جانتی بھی ہیں کیا کہ رہی ہیں؟کیا کرنے جارہی ہیں۔"وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن حیرت کی زیادتی سے چونک اٹھے۔یہ بات قطعی قابل قبول نہیں تھی۔کہ وہ اُن کے فیصلے کو غلط گردان رہی تھی۔جو مسُتقبل میں اُس کے کیریئر کو پیک پر لیجانے کا سبب بننے والا تھا۔ "یس سر آئی نو۔۔"نرمین کے لہجہ اطمینان بخش تھا۔جبکہ وہ ابھی بھی کشمکش میں مبتلا تھے۔۔ "دس از ماۓ فائنل ڈسیجن سر۔ڈونٹ وری!!"نرمین دھیمے لہجے میں اپنے اٹل فیصلے کی تصدیق کرتی انہیں چند پل کے لئے حیرت زدہ کر گئی۔۔ "ٹھیک ہے۔مس نرمین۔اگر یہی آپ کا آخری فیصلہ ہے تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔ویسے تو یہ بات رولز کے خلاف ہے کہ ہم آپ کے استعفیٰ دینے کے بعد بھی اپنے چینل میں آپ کو جگہ دیں۔۔مگر۔۔یہ آپکا لاسٹ چانس ہوگا۔خود کو ثابت کرنے کے لئے۔"زمان صاحب کچھ ثانیوں کے توقف کے بعد کافی سوچ بیچار کرکہ ماپ تول کر بولے۔جبکہ اس کا ریزگنیشن لیٹر اب تک ان کے ہاتھ میں موجود تھا۔ "آپ اپنی سیٹ پر کل سے جوائننگ دے سکتی ہیں۔جس طرح پہلے آپ اپنا
