Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 06
سب انہیں تسلی کرانے کے لئے گمراہ کیا جا رہا تھا۔تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی کے عین موقع پر انہیں دھرنے میں کامیاب ہوجائیں۔۔یقیناً یہ کوئی بیچ کا بندھ تھا جو خاموشی سے انکی تاک لگا کر بیٹھا تھا۔۔ "چھوٹے میری بات دھیان سے سنو۔اس وقت جاکہیں بھی موجود ہو۔اپنے کان اور آنکھیں کٌھلی رکھو سمجھے۔دهیان رہے کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔پلین بی۔۔۔۔"ٹائیگر مخصوص لہجے میں دهیمی سرگوشی کرنے والے انداز میں ہدایات دیتا گاڑی کی رفتار بڑھا چکا تھا۔دوسری جانب چھوٹا ڈرائیورز کو اشارہ کرتا سنسان علاقے کی جانب موڑ گیا۔۔ ٹائیگر کی خستہ ہال سی مہران اپنی مطلوبہ سڑک بدل کر اب ہائی وے کی بل کھاتی لمبی سی سڑک پر تیز رفتاری سے بھاگتی فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔وہ اپنا روٹ ہی چینج کر چکے تھے۔اب وہ پورٹ کے راستے پر جانے کی بجاۓ سنسان علاقوں کی جانب گامزن تھا۔وہ چاہتا تو محض ایک فون کال پر اپنا راستہ صاف کرواسکتا تھا۔مگر ابھی ایسا نہیں کرنا تھا۔اس کا دماغ بہت تیزی سے چلتا آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا۔جس پر بس ابھی عمل پیرا ہونا تھا۔۔ سیف بہت خاموشی سے کنٹینرز سے ذرا فاصلہ پر پولیس موبائل میں انکا پیچھا کر رہا تھا۔۔۔ایک مقام پر جا کر وہ سارے ایک کھنڈر سے ایریا میں جاکر ٹھر گئے۔وہ دور سے ہی دیکھ سکتا تھا۔کہ ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرائیورز کے علاوہ کوئی اور زی روح موجود نہیں تھی ۔جن پر شک کیا جاسکے۔۔۔۔ وہاں کھڑے کھڑے قریب آدھا گھنٹا بیت چکا تھا۔مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔وہ دوسری جانب سے پہل کا منتظر تھا۔۔۔ کچھ وقت مزید بیت گیا۔سیف نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑآئی ،شپ کے سفر پر نکلنے کاوقت قریب تھا۔ وہ کافی دیر سے خاموشی سے پولیس موبائل کی مخالف سمت میں خاموشی سے نشان تاک کر کہ بیٹھا ہوا تھا۔ فلحال کوئی بھی ترکیب لڑا کر انہیں وہاں سے نکالنا ضروری تھا۔۔۔۔ سیف لوڈڈ گن کو سختی سے ہاتھ میں لے کر ابھی جیپ سے باہر آیا ہی تھا کہ جبھی اچانک پیچھے سے ایک خاموش نامعلوم گولی سیدھی پولیس موبائل پر لگی۔۔ سیف کے ساتھ ہمراہی میں موجود تینوں پولیس اہلکار فوراً چوکنا ہوگئے۔وہ ہاتھ میں گولیوں سے بھری میگزین گنز میں ڈال کر پولیس موبائل سے باہر آگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔۔دور دور تک پھیلے اندھیرے میں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ گولی آ کس طرف سے رہی ہے۔۔ان پر مسلسل گولیوں کی بارش جاری تھی۔رات کی تاریکی میں شہر سے دور اس سن سان سے علاقے میں ایک الگ ہی خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ سیف کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔مخالف سمت میں آتی غیر متوقع گولیوں کے باعث دو پولیس اہلکار بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔۔وہیں دوسری جانب موقع کا فائدہ اٹھا کر چھوٹا خاموش رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر ،کنٹینرز لیکر وہاں سے روانا ہو چکا تھا۔سیف وائرلیس پر مقامی پولیس اسٹیشن میں اطلاع دے چکا تھا۔تمام پولیس آفسران کو ناچاہتے ہوۓ بھی حرکت میں آنا پڑا۔۔ سیف اور باقی کے ساتھی پولیس اہلکار اپنا بچاؤ کرنے کے لئے جھاڑیوں میں چھپ گئے ۔یکدم ماحول میں سناٹا سا چھاگیا۔سیف نے ماحول کی خاموشی دیکھ چیک کرنے کے لئے بغیر نشانہ لئے ایک ہوائی فائر کیا۔۔مگر کوئی ردعمل نہیں آیا۔ہر جانب سے مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مزید لمحے وقت کی بھاگتی ڈورتی رفتار میں کہیں گم سے ہو گئے۔چند ثانیوں کے توقف کے بعد ہی سیف کو بہت قریب سے پولیس موبائل کے سائرن کی آواز سنائی دی۔ دشمن کی جانب سے خاموشی کا دورانیہ طویل ہوتا دیکھ جلدی سے باہر کو آیا۔۔ارد گرد کی وحشت زدہ خاموشی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر ابھی وہ پلٹنے کو ہوا جہاں سے اب وہ کنٹینرز غائب تھے کہ اچانک ہی ایک تیز رفتار گاڑی بغیر کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے ایسے ہٹ کرتی فراٹے بھرتی وہاں سے سے غائب ہوتی اسی تاریکی کا حصّہ بن گئی۔۔۔۔ گاڑی سے ایک زور دار ٹکر کے باعث سیف شدید زخمی ہوا تھا۔وہ تو شکر تھا کا ایسے کار کی صرف سائیڈ ہی ہٹ کر سکی تھی۔مگر پھر بھی چوٹ شدّت کی آئی تھی۔جو اس کے حواس تک معطل کر گئی۔خاموش ماحول کو چیرتی پولیس موبائل کے سائرن نے توڑا۔ٹائیگر کی گاڑی تیز رفتاری سے شہر جانے والے راستے کی جانب نکلی تھی۔آفسرز کی کمانڈ پر ساتھ ہی دو پولیس موبائل اس کے پیچھے گئیں۔۔ جبکہ سیف کی گرتی حالت دیکھاایسے فوری ہسپتال میں پہنچایا گیا تھا۔جو ہوش و حواس سے بیگاناروڈ کے بیچ و بیچ خون سے لت پت پڑا تھا۔۔۔۔ ______ "چھوٹے میرا انتظار مت کرنا،نادر سے کہو۔کہ راستہ صاف کرواۓ میں جب تک انہیں سنبھالتا ہوں۔"ٹائیگر اپنے پیچھے ایک کے بعد ديگر پولیس موبائل کی گاڑیاں آتا دیکھ۔۔گاڑی کو فل ریس دیتا تیز لہجے میں ہدایت کر رہا تھا۔جبکہ نظریں مسلسل سائیڈ ویو مرر پر مرکوز تھیں۔۔۔ دوسری جانب وہ اپنے مقام سے بہت قریب تھے۔نادر کو اطلاع جا چکی تھی۔چند لمحوں میں اُپر تک کالز گھوم گئے تھےان کے لئے راستہ صاف ہوگیا۔۔پورٹ پر پہنچتے ہی فوراً سے مال شپ میں لوڈ کروایا گیا۔ "جلدی کرو،جلدی کرو۔۔"وہ مزدوروں کے قریب آتا غرآیا۔تو ان کے ہاتھوں کی پھرتی میں مزید تیزی آگئی۔۔ ______ پولیس اس کے پیچھے گاڑی پر مسلسل فائرنگ کر رہی تھی۔۔شہر میں افراتفری سی چھاگئی تھی۔نیوز چینلز پر شہر کے بگڑتے حالات سے لمحہ لمحہ تازہ ترین خبروں سے باخبر کرتے میڈیا رپورٹر خاصے پرجوش تھے۔خوف سے گھروں میں دپک کر بیٹھے لوگ معاملات کی سنگینی دیکھ مسلسل دعا گو تھے۔اقصیٰ اب تک گھر نہیں پہنچی تھی۔شگفتہ بیگم اور جمشید صاحب بہت پریشان تھے۔اس سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔۔ ٹائیگر نے رخ موڑ کر گردن پیچھے گھمائی جہاں سے مسلسل اس پر فائرنگ جاری تھی۔شہر کے بہت سے راستوں میں بئیریر لگا کر روڈ بند کر دیے گئے تھے۔ہر طرف سے ایسے گھیر نے کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ بہت مشکل سے اپنا بچاؤ کرتا ایک کھنڈر پڑی سڑک پر گاڑی ڈالتا ابھی آگے آیا ہی تھا۔کہ اسے سامنے سے ایک موبائل اپنی جانب آتی دکھائی دی۔دائیں جانب نگاہ ڈالی وہاں سے بھی ایک موبائل قریب آرہی تھی۔شہر کی ان تنگ گالیوں میں گاڑی لے جاکر اس نے اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی ماری تھی۔"۔اوہ شٹ۔۔۔ٹائیگر اس وقت برا پھنسا تھا۔۔کون جانتا تھا کہ اس خستہ حال گاڑی میں بیٹھا شخص ٹائیگر تھا۔۔ وہ گاڑی گھما کر ایک پتلی سی گلی میں موڑنے لگا تھا کہ مخالف سمت سے آتی گاڑی سے ایک زور دار تصادم ہوا۔۔ اقصیٰ جو گاڑی میں پہلے ہی بوکھلائی سی بیٹھی تھی۔زوردار تصادم پر سر نیچے کر کے خوف سے چیخ پڑی۔۔یکایک شہر کے بگڑتے حالات کی باعث كيب والا اب تک راستے کی تلاش میں ایسے گلیوں گلیوں میں ہی لے کر گھوم رہا تھا۔۔ پولیس موبائل لمحہ با لمحہ قریب آرہی تھیں۔اگر اب بھی وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب نا ہوا تو پھر اس کے مقدر میں ہمیشہ کی قید ہی آنی تھی۔۔۔ ٹائیگر اس قدر گھمبیر صورتحال میں ایک نسوانی زور دار چیخ پر چونک کر متوجہ ہوا۔سامنے نگاہ ڈالی۔مگر کار ڈرائیور کو خود بہت زیادہ گھبرایا ہوا دیکھ ۔۔وہ گاڑی کو فل ریس دے کر اقصیٰ کی كيب کو ٹکرا کر پیچھے دھکیلاتا فوراً موڑ سے موڑتا گاڑی اندر لے گیا۔۔دوسری جانب چار پولیس موبائلز ایک ساتھ وہاں آکر ایک جھٹکے سے رکی تھیں۔تینوں
