Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 06
بیسٹ دے رہی تھیں۔امید ہے کہ اب آپ ہمیں مزید کسی شکایت کا موقع نہیں دیں گی۔"وہ لیٹر ایک طرف کو ڈال کر سنجیدگی سے بولے۔تو نرمین انکا شکریہ ادا کرتی آفس کا گلاس ڈور دھکیل کر باہر نکل گئی۔فل حال یہ جاب کرنا اس کی بھی مجبوری تھی۔جیسے مدِ نظر رکھتے ہوۓ زمان صاحب نے یہ فیصلہ لیتے ہوۓ اس کی بات مانی تھی۔۔ جبکہ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتے نرمین سے خاصے بدظن نظر ارہے تھے۔۔جو انکی امیدوں پر پورا اترنا تو دور کی بات ان کی امیدوں پر کچھ فیصد بھی نہیں اتری تھی۔۔ _______ آج ٹائیگر کی جانب سے چھائی خاموشی کو مہینوں ہوگئے تھے۔ہر جانب راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ٹائیگر اور اس کی گینگ کی جانب سے آج کوئی بڑا دھماکا نہیں ہوا تھا۔مگر آج اس خاموشی کا گہرا سکوت ٹوٹنے کو تھا۔آج وقت کی بازی پلٹنے کو تھی۔جو کسی معصوم کی اپنی لیپیٹ میں لینے کو بے تاب سی تھی۔۔ "چھوٹے شیرزار سیٹھ کا سارا مال اپنی نگرانی میں گودام سے لوڈ کروا لیو۔کچھ دنوں سے یہ سالے وردی والے کچھ زیادہ ہی جوش میں آۓ ہوۓ ہیں۔خیال رہے۔آج کی مال کی سمگلنگ کی خبر باہر نہیں جانی چاہیے۔ورنہ نادر کو کڑوڑوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔"لائٹر سے سیگرٹ سُلگا کر ایک گہرا کش بھر کر دھواں فضا کے سپرد کرتا اپنے ازلی سرد لہجے میں بولا۔۔ "سب تیاریاں ہو گئیں ہیں۔پورٹ تک مال پہنچانے کی ذمہ داری میری۔باقی تمام صورتحال کا شپ کے عملے کو اپنی زبان میں اچھے سے سمجھا دینا۔"چھوٹا سنجیدگی سے یاد دہانی کروانے لگا۔جبکہ اس کا چہرہ اس وقت ہر جذبات سے آری تھا۔۔ "همم۔۔"وہ ایک گہرا ہنکار بھر کر خاموش ہوگیا۔دماغ میں مختلف سوچوں کا ایک طوفان امڈ آیا۔۔۔ زندگی کی ناؤ ایک بار پھر گہرائی میں ہچکولے لینے لگی تھی۔اس بار پھر وقت اس کو آزمانے کو تھا۔ وقت کی یہ بازی جانے اس زندگی کو ایک موقع اور دینے والی بھی تھی یا نہیں۔اس کا فیصلہ اب ناؤ کی کنارے پر پہنچنے یا بیچ میں ہی ڈوب جانے کے بعد ہی ہونا تھا۔ آج کا دن خاصی اہمیت کا حامل باقی دنوں کی بانسبت ذرا رسکی تھا۔آج بہت بڑے پیمانے پر مال سمندری روٹ کے ذریعہ تجارتی جہازوں میں غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجا جا رہا تھا ،جو دنیا کے بیشتر ممالک میں سمگل ہونے والا تھا۔نادر کے انڈر ورلڈ مافیہ سے اچھے تعلقات تھے۔ ٹائیگر کا کام شیرزار کے گودام سے مال اپنی نگرانی میں پورٹ تک لیجانے کی ذمہ داری تھی۔جیسے نادر اور اس کے بندے سمندر کے اس پار طلب کرنے والے تھے۔اور پھر جرائم کی دنیا میں ٹائیگر کا ایک نیا ریکارڈ وجود میں انے والا تھا۔جہاں صرف وحشت ہی وحشت تھی۔۔۔ _______ اقصیٰ کو اس چینل میں کام کرتے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تھا۔ابھی تک سب سیٹ چل رہا تھا۔اقصیٰ آہستہ آہستہ اپنی روٹین پر واپسی آرہی تھی۔گھڑی کو چھے کا ہندسہ عبور کرتا دیکھ وہ اپنا سامان سمیٹ کر گھر روانگی کی تیاری پکڑنے لگی۔آج کام سمیٹتے سمیٹتے خاصی دیر ہوگئی تھی۔۔ "اقصیٰ آج کیا فری ہو تم۔"ابھی وہ اپنا لیپ ٹاپ اف کر کے بیٹھی ہی تھی کہ نرمین کی آتی کال دیکھ اس جانب متوجہ ہوئی۔ "ہاں۔۔بس گھر کے لئے نکل رہی ہوں۔خیریت۔"اقصیٰ نے مصروف انداز میں دریافت کیا۔۔۔ "ہاں۔۔سب ٹھیک ہے۔میں سوچ رہی تھی آج کی کافی ساتھ نا پیئے۔"نرمین کے خوشگوار لہجے پر اقصیٰ ہلکا سا سی مسکرائی۔۔ "یس!!شور وائے ناٹ۔۔"اقصیٰ نے خوش دلی سے حامی بھری۔۔ "اوکے ڈن!!! پھر تم مجھے ٹھیک بیس منٹ بعد وہیں کافی شاپ پر ملو۔جہاں ہم پہلے کافی پیا کرتے تھے۔"نرمین نے فوری پروگرام ترتیب دیا۔ "اوکے۔۔اللّه حافظ!!"اقصیٰ نے حامی بھر کر کر کال کاٹ دی۔۔ _____ " میں بس نکل رہا ہوں۔اب بھی تیاری پکڑیں۔"چھوٹے نے کال پر کوڈ ورڈ کا استعمال کر اطلاع دی۔۔ "هممم۔۔۔وہ ہنکار بھر کر موبائل اف کرتا ،بلیک ہڈی سے سے اپنا چہرہ کور کرتا اپنے مشن پر جانے کے لئے تیار تھا۔۔ ______ "یار بہت دیر ہوگئی ہے۔ آج میں ویسے ہی آفس سے ذرا لیٹ اٹھی تھی۔اور اب باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہیں لگا۔"اقصیٰ نے کلائی پر بندهی گھڑی میں رات کے آٹھ بجتے دیکھ مسکرا کر کہا۔۔ "ہاں!!بہت دیر ہوگئی ہےماما گھر پر انتظار کر رہی ہونگی۔بس نکلتے ہیں۔۔"وہ دونوں ساتھ ہی کافی شاپ سے باہر نکلی تھیں۔نرمین رکشہ پکڑ کر اپنے گھر روانہ ہو چکی تھی۔جبکہ اقصیٰ فوٹ پاتھ پر کھڑی اپنی کیب کا انتظار کر رہی تھی۔جیسے آیپ کے تھرو ابھی بک کیا تھا۔۔ "گرمیوں کے اختتامی دن چل رہے تھے۔موسم میں خنکی سی محسوس ہو رہی تھی۔تیز ہوا کے باعث اب ہلکی ہلکی ٹھنڈ سی محسوس ہونے لگی تھی۔روڈ پر ٹریفک جام دیکھ وہ ایک جھرجھری سی بھر کر رہ گئی۔۔ موبائل کو ایک نظر دیکھنے کے لئے کھولا تو اچانک آن نان نمبر سے ایک پیغام موصول ہوتا دیکھ چونک گئی۔جو کچھ عجیب تھا۔۔اقصیٰ نے تعجب سے نوٹیفیکشن دیکھ پیغام کھولا۔۔وہ یہ عجیب و غریب سی عبارت پڑھ کر وہ دنگ رہ گئی۔۔ "آخر میسج کرنے والا کون تھا۔۔اور جو بھی تھا ایسے کیا پیغام دینا چاہتا تھا۔آخر اس پیغام کے پیچھے کا مطلب کیا تھا۔"اقصیٰ وہیں روڈ پر پریشانی کے عالم میں گہری کھڑی تھی۔ بُک کی ہوئی كيب کے ٹائر اس کے قدموں کے قریب چرچراہٹ کی آواز ٹھرے تو اقصیٰ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔ پھر فی الحال تمام سُوچوں کو ایک طرف کر،سر جھٹک کر پیچھے کا دروازہ کھولتی گاڑی میں سوار ہوگئی۔۔ گاڑی فل سپیڈ میں فراٹے بھرتی اپنے راستے کی جانب گامزن تھی۔جبکہ پیچھے سیٹ پر دروازہ سے چپک کر بیٹھی اقصیٰ کسی گہری سُوچ میں محو تھی۔۔ ________ آصف کیا خبر ہے۔"ایس پی سیف پولیس سٹیشن میں کبین میں موجود تھا۔جبھی کونسٹبل آصف کو سلوٹ مار کر اندر داخل ہوتا دیکھ استفسار کرنے لگا۔۔ سر!!ہماری خبر کے مطابق وہ لوگ اپنے لوڈنگ کرواکر بندرگاہ کے لئے نکل چکے ہیں۔"گردن اکڑا کر تن کے کھڑے ہوتے سنجیدگی سے جواب دیا۔ "بہت خوب،تو پھر سواگت کی تیاری کریں۔"سیف مسکرا کر کھڑا ہوتا زومعنی لہجے میں بولا۔۔ "یس سر !!!"وہ سلوٹ کرتا باہر نکل گیا۔۔ کچھ ہی دیر میں سیف وائر لیس پر بندرگاہ کے مقامی پولیس سٹیشن کو اپڈیٹ کرتا ایک بھاری نفری اپنے ہمراہ لئے، اپنی وردی کا فرض ادا کرنے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے منزل مقصود کی جانب چل پڑا۔۔۔ _______ "چیتے مجھے لگتا ہے یہاں ضرور کچھ گڑبڑ ہے۔۔"چھوٹے نے سائیڈ مرر کو فوکس میں لئے آہستہ سی آواز میں باخبر کیا۔دهیمی رفتار سے گاڑی سڑک پر دوڑاتے ٹائیگر کے کان میں لگے ایئر پوڈ میں چھوٹے کی گونجتی آواز سن کر وہ چونک کر متوجہ ہوا۔ "تمھیں اپنی منزل تک پہنچنے میں مزید کتنا وقت درکار ہے۔"ٹائیگر نے اپنی خستہ حال سی مہران کی رفتار کم کر دہیمی مگر سرد آواز میں دریافت کیا۔جبکہ اس کی تیز نگاہیں ارد گرد کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔۔۔ "چیتے مجھے یہاں کچھ گڑ بڑ کا احساس ہو رہا ہے۔ہر چوکی پر پولیس کی ایک بھاری نفری موجود ہے۔اور حیران کُن بات یہ ہے کہ ،یہ لوگ چیکنگ میں نرمی برت رہے ہیں۔یہ نادر کی ہدایات پر عمل ہو رہا ہے۔یا پھر ہمیں گمراہ کرنے کی کوئی نئی سازش ہے۔"وہ تعجب زدہ لہجے بولتا ٹائیگر کو گھبرایا ہوا محسوس ہوا۔اب وہ مزید چوکس انداز میں انہی کے پیچھے جا رہا تھا۔ ٹائیگر اچھے سے سمجھ رہا تھا۔یہ
