Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
تھا۔۔ _______ ماہین کے ساتھ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں لگا تھا۔شایان سمبل کو بلکل فراموش کر چکا تھا۔ماہین کو گھر چھوڑنے کے بعد جب اس نے ایک سرسری سی نظر موبائل پر ڈالی تو سمبل کی ان گنت کالز دیکھ یکدم دماغ میں جهماکا ہوا تھا۔بیشتر سے پہلے مزید وقت کا ضیاع کئے بغیر گاڑی کا رخ اس کی دوست کے گھر کی جانب کیا تھا۔ ساتھ ہی سمبل کے نمبرز پر کال بھی ملائی۔مگر جانے کیوں وہ اٹھاہی نہیں رہی تھی۔پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتا وہ گھر کے نزدیک ہی تھا۔کہ اپنی گاڑی کے قریب سے گزرتے کسی وجود اور پھر چیخ پر چونک سا گیا۔پہلے تو سمبل کی پریشانی میں سوچا کے اگنور کردے۔مگر کسی خیال کے تحت دور جا کر گاڑی موڑ کر واپس وہیں لایا۔بلیک چادر میں کھڑی لڑکی کو دیکھ شایان فوری اس کی جانب لپكا۔جو شاید نہیں یقیناً سمبل تھی۔۔ “سمبل اتنی رات کو اکیلے یہاں کیا کر رہی ہو۔"حواس باختہ سا سمبل کو چہرہ چھپاتے دیکھ وہ الٹا اسی سے سوال کر گیا تھا۔۔ اس کی آواز کی رسائی کانوں کو میسر آتے ہی جیسے سمبل کی جان میں جان آئی تھی۔مگر اس کے سوال پر اس کے ماتھے پر تیوری چڑھ گئی تھی۔۔ ”کیا مطلب ہے۔ظاہر ہے اتنی رات کو اپنے گھر جا رہی ہوں۔دوسروں کے گھروں میں تو رکنے سے رہی۔۔"سمبل نے غصّہ میں یکدم پھاڑ کھاتے لہجے میں کہا۔شایان کو ایک بار پھر اپنی غلطی کا احساس ہوا۔جبکہ اس کی آواز آنسو کے باعث رندھ سی گئی تھی۔۔ "اچھا۔۔خاموش ہوجاؤ۔میں آگیا نا۔بس چلو گھر۔۔"شایان نے اطمینان سے کہتے جلدی سے اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ہاتھ کا سہارا دیا۔سمبل بھی ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتی غصّے سے کھولتے ہوۓ انداز میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔ شایان گھوم کر دوسری جانب سے ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا۔۔ "چوٹ زیادہ تو نہیں لگ گئی نا؟۔۔"شایان نے اسے پیر سیٹ پر رکھتے دیکھ پریشانی سے پوچھا۔جو اپنا پیرا سہلاتی نفی میں سر ہلا گئی۔۔ "اتنی رات گئے اس ایریا میں اکیلے نکلنے کی ضرورت کیا تھی۔میں بس آہی رہا تھا۔۔"شایان نے آہستہ سے اپنی صفائی دی۔۔ سمبل نے اس پر ایک غصّے بھری نظر ڈال کر رخ پھیر لیا تھا۔مطلب وہ اس کی لاپرواہی پر خفا ہوگئی تھی۔جبکہ شایان تاسف سے ایک گہری سانس کھینچ کر رہ گیا تھا۔ایک کو مناؤ تو دوسری ناراض ہو جاتی ہے۔۔ _______ فلیٹ میں داخل ہوتے ہی سمبل بغیر کچھ کھائے یا اس سے رات کا کھانا پوچھے بغیر ہی بستر پر دراز ہوتی غصّے میں کڑتی۔ جانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔ شایان نے ایک نظر کچن میں ڈالی۔جہاں افغانی پلاؤ پکا رکھا تھا۔جو یقیناً سمبل نے دوپہر میں بنایا تھا۔اب اسے کھانا کھانا ہو یا نا ہو شایان کی وجہ سے وہ روز کھانے کا احتمام ضرور کرنے لگی تھی۔ شایان نے آگے بڑھ کر پلاؤ مائیکرو ویو میں گرم کر کے خود ہی اپنی پیٹ پوجا کا انتظام کیا۔سمبل بی بی تو اب یقیناً اسے منہ نہیں لگانے والی تھیں۔ ویسے کبھی کبھی وہ سمبل کے انداز و اطوار دیکھ کر حیران ہی رہ جاتا تھا۔پہلے حویلی میں اس کی جب بھی اس کی سمبل سے ملاقات ہوئی وہ اسے کم گو،سیدھی سادھی شریف سی لگی تھی ۔مگر نکاح کے وقت اس کے شایان کو دوسری شادی کی اجازت نا دینے پر شایان کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ وہ صرف شکل سے ہی شریف ہے۔ _______ "سمبل اٹھ جاؤ۔اور کتنا سو گی۔صبح کے دس بج رہے ہیں۔"آج اتوار کا چھٹی کا دن تھا۔شایان کو اٹھے گھنٹہ ہونے کو آیا تھا۔مگر سمبل کا فلحال جاگنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اس کے پیٹ میں تو چوہے دوڑنے لگے تھے۔ مگر جب سے سمبل یہاں آئی تھی شایان نے تمام کام کرنا ترک کر دیے تھے۔اور ابھی بھی سستی سے بیزار سا بھوکا ہی بیٹھا ہوا تھا۔ “سمبل اٹھ جاؤ بھئی۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔“شایان نے اس کا کندھا پکڑ کر تقریباً جهنجھوڑ ہی ڈالا تھا۔ ”نیند آرہی ہے۔مجھے سونے دیں۔"سمبل نے ایک آنکھ کھول کر جمائی روکتے کہہ کر کروٹ بدل لی۔ شایان کو تو جیسے پتنگے لگ گئے تھے۔وہ یکدم ہی غصّے میں آیا تھا۔اور پاس رکھا پانی سے لبالب جگ اٹھا کر اس کے سر پر انڈیل دیا تھا۔۔ “یہ کیا بد تمیزی ہے۔“سمبل ہڑبڑا کر اٹھتی گہرے گہرے سانس لیتی غصّہ سے تلملا کر چیخ اٹھی تھی۔ ”کوئی بد تمیزی نہیں ہے۔انسانوں کی طرح اٹھو فورا اور ناشتہ بناؤ۔یہ کیا ہر ہفتے نیستیوں کی طرح دن چڑھے تک سوتی رہتی ہو۔”شایان نے بوڑھی اماؤں کی طرح جھڑکا تھا۔ “کیا مطلب ہے۔یہ کونسا طریقہ ہے کسی کو اٹھانے کا۔”اس کا غصّہ ہنوز برقرار تھا۔ انسانوں والے طریقے سے تو تم اٹھتی نہیں۔اب آئندہ بھی یہی طریقہ استعمال میں لایا جائے گا۔“شایان نے طنزیہ کہتے۔شیشے کا خالی جگ اس کی نظروں کے سامنے لہرا کر کہا۔ ”میں۔۔۔ ”اٹھو جلدی ناشتہ بناؤ۔پھر مجھے اپنے ایک دوست سے ملنے بھی جانا ہے۔”سمبل کچھ کہنے ہی لگی تھی جب شایان نے تیز لہجے میں کہتے اسے خاموش کروادیا۔ سمبل غصّہ سے جلتی بھنتی بڑبڑا کر کھڑی ہوتی سلیپر پیر میں اڑاس کر باتھ روم میں بند ہوگئی۔ جبکہ شایان نے گیلے بستر کو دیکھ بڑی مشکل سے اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا۔ ________ جاری ہے۔۔۔۔ بھئی کوئی تبصرہ ہوجاے
