Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
گا۔ مگر ابھی تو صرف چار ماہ ہی ہوئے تھے اور سمبل کی پڑھائی بھی نہ مکمل تھی۔ ایسے میں کوئی بھی فیصلہ اس کی زندگی پر بری طرح اثر انداز ہوسکتا تھا۔ایک طرف ماہین تھی جس سے وہ پچھلے تین سالوں سے محبت میں گرفتار تھا۔اور اس کے روز سوال کرنے پر ہمیشہ ٹال جاتا تھا۔تو دوسری طرف سمبل جو بچپن سے اس کے نام کے ساتھ منسوب تھی.۔ ______ سمبل نے آہستہ سے کمرے میں قدم رکھا تو نظر سیدھی سامنے گئی جہاں شایان بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا۔ دھیرے دھیرے چھوٹے چھوٹے سے قدم اٹھاتی نزدیک آئی تو وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے شاید سو رہا تھا۔سمبل کو اچانک ہی شرارت سوجھی تھی۔ ہاتھ اس کی آنکھوں کے سامنے لے جا کر ہلکا سا ہوا میں ہلاآیا اس پر اس نے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا۔ اس کا مطلب وہ سو رہا تھا ابھی وہ قدم اٹھا کر پیچھے موڑنے ہی لگی تھی کہ شایان نے یکدم اٹھ کر اس کی کلائی پکڑ لی تھی جو وہاں سے فرار ہونے کے چکر میں تھی۔بوکھلا کر رہ گئی۔ ”کیا ہوا اسے چوری چھپے کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔“ سمبل یکدم حواس باختہ سی رہ گئی تھی ”وہ میں کچھ نہیں میں تو آپ کو اٹھانے آئی تھی۔۔۔۔ میں نے میز پر کھانا لگا دیا ہے جلدی سے آ کر کھالیں میں انتظار کر رہی ہوں۔ “سمبل گھبرا کر جلدی جلدی بولتی اس کی نرم گرفت سے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑاتی اٹک اٹک کر بولتی دوڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔ شایان نے بھی بالوں میں ہاتھ پھیر کر سر جھٹکا اور فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب بڑھا۔کچھ ہی دیر میں کف فولڈ کرتا روم سے باہر آیا جہاں سمبل میز پر کھانا لگائے شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔ شایان نے ایک نظر اس کے دھلے ہوئےصاف شفاف چہرے کو دیکھا۔اور پھر سر جھٹک کر اپنی کرسی سنبھال کر بیٹھ گیا آج دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔اور اس وقت زورو کی بھوک لگی تھی۔اس وقت پیٹ میں چوہے چال بازی لگا رہے تھے ۔سمبل بھی پلیٹ میں کھانا نکال کر کھانے میں مصروف ہوگئی تھی جب کے شایان کھانا کھاتے ہوئے مسلسل اسکی جانب گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کا دل کسی طور بھی اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔ مگر ماہین کی ضد نے اسے ایک فیصلہ لینے پر ضرور مجبور کر دیا تھا۔ جس پر وہ جلد ہی عمل پیرا ہونے والا تھا.... _ ماہین آر یو شور کیا تم واقعی میں ایسا چاہتی ہوں۔ نومی نے ذرا حیرانی سے تصدیق چاہی ۔ "ماہین کبھی بھی کوئی کام بنا سوچے، سمجھے نہیں کرتی۔ تو اسی لئے تم میری فکر چھوڑ دو اور جیسامیں کہتی ہوں ویسا کرتے جاؤ ۔“ ماہین نے اپنے گھنگھریالے بالوں میں انگلی گھوماتے ہوۓ، عجیب پر اسرار لہجے میں کہا۔جس پر نومی قہقہہ لگا اٹھا۔ “جانتا ہوں،جانتا ہوں۔ویسے شایان کو سبق سکھانے کا یہ انداز بڑا اعلی ہے۔اس ڈرامے میں بڑا مزہ آنے والا ہے۔بڑا مجنوں بنا پھرتا ہے تمہارے پیچھے۔"نومی کی دلی مراد بر آئی تھی جبھی خباثت سے آنکھ کا کونا دبا کر مسکرایا۔ “ہاہاہا۔۔اب بس تم دیکھتے جاؤ کیسا سبق سکھاتی ہوں میں اس خان کو۔چلا ہے ماہین فیاض پر اس دو ٹکے کی لڑکی کو فوقيت دینے۔"ماہین کو اپنی تذلیل ہر گز گوارا نہیں تھی۔نخوت بھرے لہجے میں بولتی وہ اپنا شیطانی منصوبہ تیار کر چکی تھی۔ “مجھے اس شو کا انتظار رہے گا۔”نومی نے آنکھ دبا کر قہقہہ لگایا۔ “شو آرہا ہے بہت جلد۔“ماہین نے نزاکت سے بالوں کی لٹ انگلی پر لیپیٹے آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں لئے طنزیہ لہجے گویا ہوئی۔ _______ ”کہاں جا رہی ہو تم۔"آج شایان چھٹی پر تھا۔اور صبح سے گھر میں ہی موجود تھا۔ “کہیں نہیں!!قریب ہی میری دوست کا گھر ہے۔ بس اس سے ملاقات کرنے جا رہی ہوں۔ڈارک بلیو رنگ کی سلک کی پرنٹڈ شرٹ اور سادہ ٹراؤزر پر ہلکے آسمانی رنگ کا سٹولر لیپیٹے وہ اس سادگی میں انتہا کی حسین لگ رہی تھی۔ ”اچھا جاؤ۔“شایان نے آئبرو اٹھا کر جائزہ لیتی نظروں سے اجازت دی۔جو اپنی چادر کا کونا سمبھالتی دروازہ کی جانب بڑھی تھی۔ ”سنو !!جاؤ گی کیسے۔“شایان نے کمرے سے باہر آکر ایک سوال کیا ۔ ”رکشے میں۔“سمبل نے ذرا چونک کر جواب دیا۔شایان ناگواری سے ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر خشک لہجے میں گویا ہوا۔ ”کوئی ضرورت نہیں۔روکو ذرا دو منٹ،میں چینج کر کے آتا ہوں۔“شایان سخت لہجے میں بولتا جلدی سے واشروم کی اور بڑھا تھا۔جبکہ سمبل ایک سرد سانس خارج کرتی لاونج میں پڑے سوفے پر ہی بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔ _______ ”ام اتنے دن ہوگئے ہیں۔آپ کو نہیں لگتا۔اب سمبل اور شایان کو ٹھوڑے دن ہمارے ساتھ حویلی میں بھی گزارنے چاہئے۔“ آغا جان نے اپنی ماں سے کچھ دوری پر رکھے سوفے پر بیٹھ کر سوالیہ انداز میں ہلکے پھلکے لہجے میں شایان کی اب تک کی غیر موجودگی کی جانب توجہ دلوائی۔ ”ہاں بچہ۔سہی کہتا ہے تم بھی۔ہماری سمبل بچے سے بات ہوئی تھی۔وہ کہتا ہے کچھ دن میں اس کا امتحان ہیں۔تو وہ اب پیپرز کے بعد ہی آئے گا۔"ام خانم نے اپنے مخصوص انداز میں آگاہ کیا۔تو وہ محض سر ہلا کر رہ گئے۔وہ ان دونوں سے لاتعلق ہر گز نہیں تھے۔شایان اب تک ماہین سے رابطے میں تھا۔اور یہی بات انہیں کھٹک رہی تھی۔نا جانے سمبل کو اس بات کا علم تھا بھی یا نہیں۔ ________ بلیک جینز کے ساتھ ہلکے آسمانی رنگ کی ٹی شرٹ پہنے اپنے سلکی نم بالوں میں ہاتھ پھیرتا شایان اگلے دس منٹ میں اپنی پوری تیاری کے ساتھ اس کے سامنے موجود تھا۔جبکہ سمبل کی نظر ایک منٹ کو ٹھٹھک پر اس پر آکر ٹھہر گئی تھی۔جو سمبل کی محویت کو بھانپ گیا تھا۔اور اب کرسٹل گرے آنکھوں میں عجیب سی چمک لئے قدم قدم چلتا اس کے مقابل آیا تھا۔ “اگر مجھے نظر لگانے کا کام بھرپور طریقے سے سر انجام دے دیا ہو تو کیا ہم چلیں ؟ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔"شایان کی اتنی قریب سے آواز ابھری تھی وہ جو اپنے ہی خیال میں ارد گرد سے فراموش سی تھی۔یکدم ڈر کر خوف سے اچھل پڑی تھی۔جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔وہ اس کا حواس باختہ سا انداز دیکھتا اپنی مسکراہٹ ضبط کر رہا تھا۔ "جی۔۔جی۔۔چلیں۔۔سمبل نے ہڑبڑا کر کھڑے ہوتے جلدی سے فلیٹ کے باہر ڈور لگا دی تھی۔جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتا مسکراتا ہوا۔اس کے پیچھے ہم قدم ہوا تھا۔ ________ ”آرام سے جاؤ تم۔میں شام تک تمھیں لینے آؤنگا۔اکیلے آنے کی ضرورت نہیں۔سمجھ آگئی بات۔“شایان نے اس کی دوست کے گھر کے عین سامنے گاڑی کو بریک لگا کر اس کی جانب رخ پھیر کر تنبیہہ کی۔سمبل خاموشی سے سر ہلا گئی۔پھر ایک سمائل پاس کرتی گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکلی جہاں اس کی دوست پہلے ہی اس کے استقبال کے لئے دروازہ کھولے بیچ میں استاذہ ہوۓ کھڑی تھی۔۔ شایان نے اس کی پشت پر نظر ڈال ایک گہری سانس بھری۔ کار اسٹیئرنگ گھوما کر گاڑی کا رخ موڑا جو اب گیٹ سے اندر جا چکی تھی۔ابھی وہ آدھے راستے میں ہی تھا۔جب اس کا موبائل بلنک کرنے لگا۔ شایان نے ماہین کا نمبر دیکھ کر گاڑی سائیڈ میں لگا کر فوری کال پک کی تھی۔ایک ہفتے سے دونوں کے درمیان بات چیت نا ہونے کے برابر تھی۔شایان اسے منانے کی
